اللہ داد صدیقی
آج پھر
کشمیر کی آنکھوں میں
ایک تاریخ جاگ اٹھی ہے،
ستائیس اکتوبر۔۔۔
وہ سیاہ دن
جب وادی کے آسمان پر
خوف کے بادل چھائے،
اور زمین نے
ایک نئے کرب کی داستان لکھی۔
یہ صرف ایک دن نہیں،
ایک زخم ہے
جو نسل در نسل
دلوں میں اترتا رہا۔
یہ اُن ماؤں کی آہیں ہیں
جن کے آنگن اجڑ گئے،
یہ اُن آنکھوں کے خواب ہیں
جو آزادی کی صبح دیکھنے کو
آج بھی بے قرار ہیں۔
مگر سنو!
کشمیر صرف
برف پوش پہاڑوں کا نام نہیں،
یہ لہو میں بھیگے خوابوں،
دریاؤں کی صدا،
اور زندہ ضمیروں کی
ایک لازوال داستان ہے۔
یہاں چناروں کے پتے
موسموں کے ساتھ بدلتے ہیں،
مگر آزادی کی آرزو
آج بھی وہی ہے۔
یہاں دریاؤں کا پانی
سمندر کی سمت بہتا ہے،
اور انسان کا دل
اپنے حق کی سمت۔
ستائیس اکتوبر!
ہم تمہیں بھولے نہیں،
نہ بھولیں گے
اُن قربانیوں کو
جنہوں نے امید کے چراغ
آندھیوں میں بھی جلائے رکھے۔
ہماری آواز
امن کی آواز ہے،
ہمارا مطالبہ
حقِ خودارادیت ہے،
اور ہمارا خواب
ایک ایسا کشمیر
جہاں خوف نہیں، امن ہو،
جہاں نفرت نہیں، محبت ہو،
جہاں ہر انسان
عزت اور آزادی کے ساتھ جی سکے۔
وہ صبح ضرور آئے
جب وادی کے چمن میں
خوشیوں کے پھول کھلیں،
جب ماؤں کی آنکھوں میں
انتظار کے بجائے
اطمینان اترے،
جب ہر گھر میں
امن کے چراغ جلیں۔
سلام اُن شہیدوں کو
جنہوں نے اپنے لہو سے
کشمیر کی تاریخ لکھی،
سلام اُن زندہ دلوں کو
جنہوں نے ہر موسم میں
امید کا دامن تھامے رکھا۔
کشمیر زندہ ہے،
کشمیر کی آواز زندہ ہے،
اور حق کی تلاش میں
اٹھنے والی آوازیں
تاریخ کے سینے میں
ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
داد صدیقی
واپس کریں