دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فکر کس کی؟داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
نظم
“فکر کس کی؟”
مزدور کے بچوں کو
دو وقت کی روٹی میسر نہیں،
ماں
چولہے کی راکھ میں
امید ڈھونڈتی ہے،
اور باپ
پسینے میں بھیگے ہوئے ہاتھوں سے
خالی جیب چھپاتا پھرتا ہے۔
کسی گھر میں
بچے دودھ کے لیے روتے ہیں،
کسی گھر میں
دوائی اور کتاب
ایک ساتھ نہیں آ سکتیں۔
مگر ایوانوں میں
بحث کسی اور شے پر ہے—
کہ
افسران اور پارلیمنٹیرینز کے بچوں کے لیے
بلیو پاسپورٹ کیوں نہ ہو؟
گویا
اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ
بھوک نہیں،
مراعات کا رنگ ہے۔
وہاں
قوم کی خدمت کے دعوے ہیں،
یہاں
قوم کے بچے
فاقوں میں بڑے ہو رہے ہیں۔
عجب دستور ہے—
جس کے ہاتھوں میں
چھالے ہیں
اس کے بچوں کے نصیب میں
بھوک لکھی گئی،
اور جن کے قلم سے
فیصلے نکلتے ہیں
ان کے لیے
پاسپورٹوں کے رنگ بھی
امتیاز مانگتے ہیں۔
کاش!
کبھی ایسا بھی ہو
کہ ایوانوں کی پہلی فکر
روٹی ہو،
تعلیم ہو،
دوائی ہو،
اور مزدور کا بچہ بھی
اپنے خوابوں کے ساتھ
عزت سے جی سکے۔
— داد صدیقی
واپس کریں