دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انصاف کے ایوان سے ایک سوال
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
انصاف کے ایوان سے ایک سوال
کس سے پوچھیں؟
کہ اس وطن کی پیشانی پر
یہ کیسا موسم لکھا جا رہا ہے؟
جہاں
بھوک
چولہوں میں راکھ بن کر سوتی ہے،
اور
امید
فٹ پاتھوں پر
ننگے پاؤں چلتی ہے۔
ایک مزدور
اپنے لہو سے
زمین کو سیراب کرتا ہے،
مگر
اس کے بچوں کی ہتھیلیاں
روٹی کی خوشبو سے بھی محروم رہتی ہیں۔
ایک ماں
اپنے حصے کی دوا
دعاؤں میں بدل دیتی ہے،
تاکہ
اولاد کا خواب
سانس لیتا رہے۔
اور
ایک نوجوان...
اپنی ڈگری کو
سینے سے لگائے،
ہر بند دروازے سے
اپنا تعارف کراتا ہے۔
مگر
اقتدار کے ایوانوں میں
موسم الگ ہیں۔
وہاں
فیصلے
اکثر ترازو سے نہیں،
تعلق کے سائے میں تولے جاتے ہیں۔
یہ سوال
کسی گاڑی کا نہیں۔
یہ سوال
اس آئین کا ہے
جو برابری کا وعدہ کرتا ہے۔
یہ سوال
کسی قیمت کا نہیں،
اس اعتماد کا ہے
جو ایک غریب
اپنا پیٹ کاٹ کر
ریاست کے سپرد کرتا ہے۔
اے انصاف!
اگر تیری آنکھوں پر
واقعی پٹی بندھی ہے،
تو
یہ راستے
دو سمتوں میں کیوں بٹتے ہیں؟
ایک طرف
فاقوں کی صلیب ہے،
قرضوں کی زنجیر ہے،
اور
حسرتوں کی طویل قطار۔
دوسری طرف
مراعات کے دروازے ہیں
جو کبھی بند نہیں ہوتے۔
یاد رکھو!
تخت
ہمیشہ طاقت سے نہیں،
اعتماد سے قائم رہتے ہیں۔
اور
اعتماد
اس دن مر جاتا ہے،
جب قانون
چہرے پہچاننے لگے۔
ہمیں
کوئی انقلاب
تلواروں سے نہیں چاہیے۔
ہمیں
صرف اتنا چاہیے
کہ انصاف
کسی نام کا محتاج نہ ہو،
قانون
کسی منصب کے آگے
سر نہ جھکائے،
اور
ریاست کی امانت
کسی کی جاگیر نہ بنے۔
وہ دن
اس دھرتی کا
اصل جشن ہوگا،
جب
اختیار
احتساب کے کٹہرے میں
عام آدمی کی طرح کھڑا ہوگا۔
تب
عدالتوں کی دیواریں نہیں،
دل گواہی دیں گے
کہ
انصاف
اب صرف کتابوں میں نہیں،
زمین پر بھی زندہ ہے۔
اور پھر
یہ مٹی،
یہ دریا،
یہ پہاڑ،
یہ ہوائیں،
ایک ہی صدا بلند کریں گی:
"ریاستیں مراعات سے نہیں، انصاف سے عظیم بنتی ہیں۔"
۔۔۔ اللہ داد صدیقی ۔۔۔
واپس کریں