اللہ داد صدیقی
میری معصوم ماہا
میری بیٹی،
میری معصوم ماہا!
ایک بات
تمہاری گھٹی میں
بٹھانا چاہتا ہوں—
اپنے گھر کی
پھیکی دال بھی
میٹھا سمجھ کر کھا لینا،
اپنے گھر کی
سوکھی روٹی کو بھی
نعمت جان کر کھا لینا۔
اپنے گھر کے
سادہ سے دسترخوان پر
شکر کا چراغ جلائے رکھنا،
جو مل جائے
اس پر خوش رہنا،
جو نہ ملے
اس کا غم نہ کرنا۔
اور بیٹی!
باہر کسی کے
مزید پکے ہوئے کھانے پر
کبھی نظر نہ رکھنا،
کسی کے دسترخوان کو دیکھ کر
اپنے نصیب کو
چھوٹا نہ سمجھنا،
کسی کے گھر کی چمک دیکھ کر
اپنے گھر کی روشنی
مدھم نہ ہونے دینا۔
نہ رال ٹپکانا،
نہ حسرت پالنا،
نہ کسی کی آسائش کو
اپنی خواہش بنانا۔
کہ بیٹی،
رزق صرف
کھانے کا نام نہیں،
رزق تو
وہ سکون بھی ہے
جو ایک سادہ نوالے میں
مل جاتا ہے۔
رزق وہ ہاتھ ہیں
جو اپنے ہوں،
رزق وہ دل ہے
جو تمہیں سمجھتا ہو،
رزق وہ چھت ہے
جس کے نیچے
تم بے خوف سو سکو،
اور رزق وہ گھر ہے
جہاں تمہاری ہنسی
کسی کو بوجھ نہ لگے۔
ماہا!
زندگی میں
بہت سے دسترخوان آئیں گے،
بہت سے گھر دیکھو گی،
بہت سے لوگ ملیں گے،
کچھ کے پاس
بہت کچھ ہوگا،
کچھ کے پاس
تم سے بھی کم۔
تم نے مگر
اپنی نظر
دوسروں کے نصیب پر نہیں،
اپنے رب کی عطا پر رکھنی ہے۔
کبھی کسی کے
زیادہ پکے ہوئے لقمے کے لیے
اپنے گھر کی
سادہ روٹی کو حقیر نہ سمجھنا۔
کیونکہ بیٹی،
جو انسان
اپنی روٹی میں
برکت تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے،
وہ ساری عمر
دوسروں کے ٹکڑوں کا محتاج نہیں رہتا۔
تمہیں
دولت ملے تو شکر کرنا،
نہ ملے تو صبر کرنا،
اور اگر کبھی
دونوں میں سے کچھ بھی
کم پڑ جائے
تو دعا کا دامن
مضبوطی سے تھام لینا۔
اپنے گھر کو
محل بنانے کی ضد نہ کرنا،
بس ایسا گھر بنانا
جہاں دلوں میں
کدورت نہ ہو،
باتوں میں
زہر نہ ہو،
آنکھوں میں
حسد نہ ہو،
اور دروازے پر
آنے والا
خالی دل واپس نہ جائے۔
ماہا!
تم جب کبھی
اپنا گھر بساؤ
تو وہاں
صرف سامان نہ رکھنا،
سکون بھی بسانا۔
صرف پردے نہ لگانا،
حیا بھی رکھنا۔
صرف دسترخوان نہ سجانا،
محبت بھی بچھانا۔
صرف چراغ نہ جلانا،
دل بھی روشن رکھنا۔
اور اگر کبھی
گھر میں کچھ کم ہو جائے
تو ایک دوسرے کو
کم نہ سمجھ لینا۔
یاد رکھنا—
گھر چیزوں سے نہیں،
لوگوں سے بنتا ہے؛
اور گھر کی خوشی
مہنگے کھانوں سے نہیں،
میٹھے رویوں سے پکتی ہے۔
میری بیٹی!
کبھی ایسا دن بھی آئے
کہ تمہارے پاس
صرف ایک روٹی ہو،
تو اسے
دو حصوں میں بانٹ لینا؛
مگر محبت کو
کبھی دو حصوں میں نہ بانٹنا۔
کبھی گھر میں
پانی کی طرح سادہ زندگی ہو،
تو اسے
دل سے قبول کرنا؛
کیونکہ بعض اوقات
سادگی کے پیالے میں
وہ سکون ہوتا ہے
جو دنیا کے
سونے کے جاموں میں بھی نہیں ملتا۔
میں تمہارے لیے
بہت کچھ مانگ سکتا ہوں،
دولت، شہرت،
اونچا مقام،
بڑی حویلی،
لمبی گاڑی—
مگر میری دعا
ان سب سے پہلے یہ ہے:
اے اللہ!
میری ماہا کو
ایسا دل عطا کرنا
جو ملنے پر شکر کرے،
نہ ملنے پر صبر کرے،
اور دوسروں کو دیکھ کر
اپنا نصیب نہ بھولے۔
اس کے گھر میں
رزق کم ہو تو
برکت زیادہ ہو،
بات کم ہو تو
محبت زیادہ ہو،
آنسو آئیں تو
پونچھنے والے ہاتھ ہوں،
اور خاموشی اترے تو
سمجھنے والا دل ہو۔
اے اللہ!
میری بیٹی کو
کسی کے در کا محتاج نہ کرنا،
اس کے ہاتھ میں
حلال رزق رکھنا،
اس کے دل میں
اپنا ذکر رکھنا،
اس کی آنکھ میں
حیا رکھنا،
اس کی زبان میں
مٹھاس رکھنا،
اور اس کے نصیب میں
گھر کا اطمینان لکھ دینا۔
ماہا!
بس اتنا یاد رکھنا—
دنیا میں
سب سے بڑی آسائش
وہ گھر ہے
جہاں انسان
اپنے آپ کو
محفوظ محسوس کرے۔
اور سب سے بڑی دولت
وہ دل ہے
جو اپنے پاس موجود
نعمتوں کو پہچان سکے۔
تم اپنے گھر کی
سادہ روٹی کو
محبت سے کھانا،
اپنے گھر کے
پھیکے سالن میں بھی
رب کی نعمت تلاش کرنا،
اور دوسروں کے
پکے پکائے پر
کبھی اپنی نظر
نہیں رکھنا۔
اپنا نصیب
اپنی آنکھ سے دیکھنا،
اپنی خوشی
اپنے دل سے مانگنا،
اور ہر حال میں
اپنے رب سے کہنا—
یا اللہ!
جو دیا، اس پر شکر؛
جو نہ دیا، اس پر صبر؛
اور جو میرے لیے لکھا،
اس پر دل کا اطمینان۔
اللہ تمہیں
گھر دے تو سکون والا،
رزق دے تو برکت والا،
ساتھ دے تو وفا والا،
اور زندگی دے تو
اپنی رضا والی۔
میری معصوم ماہا!
تم ہمیشہ خوش رہو،
اپنے گھر میں خوش رہو،
اور کسی دوسرے کے گھر کی خوشی
تمہاری آنکھ میں
حسرت نہ بنے۔
اللہ تمہیں
گھر پہ بھی اطمینان دے،
گھر کا بھی اطمینان دے،
اور تمہارے دل کو
ہر حال میں
اپنے رب سے جوڑے رکھے۔
آمین ثم آمین۔
تمہارا بابا جانی
اللہ داد صدیقی
واپس کریں