اللہ داد صدیقی
ردیف: اور بس
ہو درِ محمدؐ تک دسترس اور بس
سماعتوں میں درودوں کا رس اور بس
محبتِ مصطفیٰؐ میں ڈوبی رہے نس نس
دل میں بس ایک یہی ہو ہَوس—نہیں، شوق و رس اور بس
سرکارؐ کی غلامی ہو سرمایۂ حیات
باقی سب دنیا داری عبث اور بس
دل کو نہ ہو کسی اور طلب کی طلب
درِ پاک کی رہے بس طلب اور بس
گنبدِ خضرا کو دیکھ لوں اک نظر
آنکھوں کی ہے یہی آرزو اور بس
مدینے کی گلی میں ملے اک مقام
زندگی کی یہی ہے طلب اور بس
قدم جب رکھوں شہرِ نبیؐ کی زمیں
دل میں اتر آئے عجب سا سکوں اور بس
لب پر رہے ہمیشہ درودِ مصطفیٰؐ
سانسوں میں گھلتا رہے یہ رس اور بس
نگاہیں اٹھیں جب سوئے روضۂ رسولؐ
دل کہہ اٹھے بس یہی، یہی اور بس
وہ شہر جہاں رحمتیں برستی رہیں
روحوں کو ملتی رہے یہ خوشی اور بس
جہاں دشمن بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں
ایسی ہے اس در کی قدس اور بس
فخرِ جہاں کی نسبت ہی کافی ہے مجھے
اور نہ کوئی تاج و ملبس اور بس
دنیا کے سب رنگ ماند پڑ جائیں یہاں
دل میں رہے ان کی بس جھلک اور بس
زندگی کی حقیقت بھی بس اتنی سی ہے
ان کی رضا، ان کا کرم اور بس
دادؔ کی بس ایک یہی التجا ہے حضورؐ
ہو در پہ حاضری کی دسترس اور بس
دل کی صدا بن کے یہی لفظ نکلتے ہیں
سرکارؐ کا در، ان کا کرم اور بس
۔۔۔۔۔۔داد صدیقی۔۔۔۔۔۔۔
واپس کریں