دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیدہ کائنات فاطمہ الزہراء کے حضور نذرانہ عقیدت
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
ویسے تو سارے زمانے زہرا کے ہیں
ویسے تو سارے زمانے زہرا کے ہیں
یہ چاند، یہ سورج، اجالے زہرا کے ہیں
جس گھر میں اُتری حیا کی خوشبو بن کر
وہ سارے گھرانے نرالے زہرا کے ہیں
دامن میں جن کے دعا کی خوشبو ٹھہری
وہ آنسو بھی کتنے سنبھالے زہرا کے ہیں
جن ہاتھوں نے چکی پیسی صبر کی خاطر
وہ ہاتھ بھی عرشوں سے نرالے زہرا کے ہیں
دروازے پہ جب صدا آئی سائل کی
روٹی کے وہ آخری نوالے زہرا کے ہیں
وہ بیٹی کہ جس پہ ناز کرے کونین
وہ نسبت کے سارے حوالے زہرا کے ہیں
وہ ماں کہ جن کی گود میں حسنین پلے
وہ صبر کے سب استعارے زہرا کے ہیں
جب حق کی صدا کو سہارا درکار ہوا
وہ حوصلے سب کے سہارے زہرا کے ہیں
ایوانِ وفا میں جو خاموشی بولی
وہ حرف بھی کتنے اُجالے زہرا کے ہیں
دن ایک نہیں، ہر دن اُن کا دن ہے
کیوں کہ سارے زمانے زہرا کے ہیں
دادؔ تری نسبت ہی بس سرمایہ ہے
یہ لفظ، یہ اشک، یہ نغمے زہرا کے ہیں
۔۔۔۔۔۔داد صدیقی۔۔۔۔۔۔
واپس کریں