دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
“خاموش قلم”داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
صحافت
صرف خبر نہیں،
وقت کے چہرے پر
سچ کا رکھا ہوا آئینہ ہے۔
یہ وہ آواز ہے
جو طاقت کے اندھیروں میں
مظلوم کے حق میں بولتی ہے،
مگر
کبھی کسی نے سوچا؟
جو سب کے دکھ لکھتا ہے
وہ خود کس حال میں جیتا ہے؟
وہ صحافی
جو رات بھر
سچ کی تلاش میں جاگتا ہے،
صبح
اپنے بچوں کی ضرورتوں سے ہار جاتا ہے۔
آزادیٔ صحافت کے نعرے
تب تک ادھورے رہتے ہیں
جب تک
قلم معاشی زنجیروں میں قید ہو۔
جب تنخواہیں رُک جائیں،
اشتہار دباؤ بن جائیں،
اور نوکری
صرف ایک حکم کی محتاج ہو—
تب
خبریں نہیں،
ضمیر مرتے ہیں۔
ریاست اگر واقعی
آزاد صحافت چاہتی ہے
تو اسے
صحافی کو صرف بولنے کا حق نہیں،
بلکہ
باوقار جینے کا حق بھی دینا ہوگا۔
ورنہ
“آزاد میڈیا”
صرف ایک خوبصورت نعرہ رہے گا،
اور اس کے پیچھے
ایک تھکا ہوا صحافی
خاموشی سے مرتا رہے گا۔
۔۔۔ داد صدیقی ۔۔۔
واپس کریں