اللہ داد صدیقی
کنڈل شاہی— میرا گاؤں،جہاں ندیا کا شور ہے، اور اخروٹ کے درخت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں۔جہاں پہاڑوں کی پیشانی پر صبح سنہری دعا لکھتی ہے،اور شام دریا کے پانی میں اپنا چہرہ دیکھتی ہے۔
وہی دریا— جو صدیوں سے میرے گاؤں کی کہانی سناتا ہے،
کبھی سرگم بن کر بہتا ہے،
کبھی درد کی لے میں گاتا ہے،
اور کبھی یوں لگتا ہے جیسے میری ماں کی آواز میں مجھے پکار رہا ہو۔
کنڈل شاہی!
یہ صرف ایک گاؤں نہیں،
یہ میری پہلی بولی ہے،
میری پہلی شناخت،
میری پہلی محبت،
میری پہلی دعا ہے۔
یہاں ماؤں کی لوریوں میں لفظ نہیں ہوتے تھے—
لفظوں میں پوری دنیا سویا کرتی تھی۔
دادی کی کہانیوں میں رات کبھی ختم نہیں ہوتی تھی،
چاند کسی پرانے قصے کا کردار ہوتا،
اور ستارے آسمان پر جلتے ہوئے چراغ۔
پھر صبح ہوتی،
پہاڑ دھوپ اوڑھ لیتے،
ندی اپنی لے بدلتی،
اور اخروٹ کے پتوں سے ہوا یوں گزرتی—
جیسے کوئی پرانا ساز آہستہ آہستہ بج رہا ہو۔
کنڈل شاہی—
تیرے راستوں میں میرے بچپن کے قدم ہیں،
تیرے پتھروں پر میرے خوابوں کے نشان ہیں،
تیرے چشموں میں میری پیاسی آنکھوں کی روشنی ہے،
اور تیرے آسمان میں میرے باپ دادا کی دعائیں۔
یہاں مٹی بھی بات کرتی ہے،
پتھر بھی یاد رکھتے ہیں،
درخت بھی نام جانتے ہیں،
اور دریا—
دریا تو میری زبان سمجھتا ہے۔
میں جہاں بھی گیا،
تیرے پانی کی آواز میرے ساتھ رہی۔
شہر کی اونچی عمارتوں میں بھی مجھے اخروٹ کی چھاؤں یاد آئی،
بے شمار آوازوں کے بیچ مجھے اپنی مادری بولی کی وہ پہلی صدا سنائی دی۔
اور تب مجھے یاد آیا—
زبان صرف لفظوں کا نام نہیں،
زبان ماں کی آواز ہے،
زبان گھر کی دہلیز ہے،
زبان دادی کی کہانی ہے،
زبان پہاڑوں کی گونج ہے،
زبان دریا کا بہاؤ ہے،
زبان وہ رشتہ ہے جو نسلوں کو نسلوں سے جوڑتا ہے۔
اسی لیے کنڈل شاہی!
میں تیری بولی کو صرف بولنا نہیں چاہتا،
میں اسے زندہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
بچوں کے ہونٹوں پر،
کتابوں کے صفحوں پر،
گھروں کی محفلوں میں،
اسکول کی تختی پر،
اور آنے والی نسلوں کے دل میں۔
کہ کوئی بچہ کل اپنی دادی سے پوچھے—
یہ لفظ کیا ہے؟
اور دادی مسکرا کر کہے—
بیٹا!
یہ تمہارے آباؤ اجداد کی آواز ہے۔
یہ کنڈل شاہی ہے۔
یہ تمہارا گھر ہے۔
یہ تمہاری شناخت ہے۔
پھر دریا بجے،
پہاڑ گائیں،
اخروٹ کی شاخیں لہریں،
اور پوری وادی میں ایک ہی نغمہ گونج اٹھے—
کنڈل شاہی!
میرا گاؤں—
میری مٹی،
میری خوشبو،
میری بولی،
میری پہچان،
میری یاد،
میرا خواب،
میری پوری دنیا۔
ندیا کا شور ہے،
اخروٹ کے درخت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں ہے،
پہاڑوں کی گود ہے،
پرندوں کی صبح کی تان ہے—
اور میرے دل میں آج بھی
وہی چھوٹا سا گاؤں ہے۔
کنڈل شاہی—
میرا گاؤں!
اور میں—
تیرا وہی بچہ،
جو دنیا کے ہر شہر سے گزر کر بھی
آخرکار
تیری مٹی کی خوشبو میں
اپنا گھر ڈھونڈ لیتا ہے۔
داد صدیقی
واپس کریں