اللہ داد صدیقی
وصل کی دنیا میں
میں بار آور شجر تھا
جس کی شاخوں پر
محبت کے پھول کھلتے تھے
لیے شانوں پہ
یار کا سر تھا میں
جیسے سکون کی خاموش دعا
وقت کے آنگن میں ٹھہر گئی ہو
قرب کے سمندر میں
میں موجزن ایک لہر تھا
جس کا وجود
محبت کے ساحل سے جڑا ہوا تھا
پھر ہوا یوں
کہ ہجر کا وہ لمحہ آیا
جیسے خاموش آسمان پر
درد کا سیاہ پرندہ اتر آیا ہو
داغِ فراق ملا
اور منظر بدل گیا
زمین پر قدم تھے
مگر روح جیسے فضاؤں میں گم تھی
نہ کوئی سایہ تھا
نہ کوئی آسرا
کرب کی گلیوں میں
اک تنہا مسافر کھڑا تھا
جس کے سامنے
اندھیروں کا گہرا کنواں تھا
اور پھر
اس سے پہلے کہ
غم کی گہرائی مجھے نگلتی
سوچ سے ماورا
کرم کا ایک لمحہ اترا
جیسے آسمان نے
زمین کے زخم پر
نور کا مرہم رکھ دیا ہو
وہ مرہم ملا
کہ ٹوٹے ہوئے دل
پھر زندگی کی سمت لوٹ آئے
اور میں نے جانا
کہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی
وہ صرف
صورت بدل کر
دل کے اندر زندہ رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔داد صدیقی۔۔۔۔۔۔۔
واپس کریں