اللہ داد صدیقی
نظم
شروع میں
زندگی
واقعی بہت سادہ تھی—
دو وقت کی روٹی،
تھوڑی سی تھکن،
اور
شام کے وقت
کسی اپنے کی آواز۔
ہم
معمولی چیزوں میں بھی
خوشی ڈھونڈ لیتے تھے۔
ماں کی دعا،
باپ کے ہاتھ کی شفقت،
دوست کی بےتکلف ہنسی،
اور
گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس
ہمیں
امیر محسوس کروا دیتا تھا۔
پھر
دنیا نے
ہمیں ایک نیا سبق پڑھایا—
“اپنی خوشی نہیں،
دوسروں کی خوشی دیکھو۔”
اور
اسی دن سے
انسان نے
اپنے نصیب سے زیادہ
دوسروں کے نصیب گننے شروع کر دیے۔
جو شخص
اپنی زندگی سے مطمئن تھا،
اچانک
اداس ہونے لگا—
صرف اس لیے
کہ کسی اور کی زندگی
زیادہ خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔
سوچو،
کتنی بار
ہم نے
اپنی ہی نعمتوں کی توہین کی ہے،
صرف اس لیے
کہ کسی اور کے پاس
ہم سے زیادہ تھا۔
حالانکہ
ضرورتیں کم ہی رہتی ہیں،
بےچینی
صرف موازنہ بڑھاتا ہے۔
اب
لوگ
ضرورت سے زیادہ
نمائش کے دور میں زندہ ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس عہد میں
ہر شخص
اپنی زندگی کی “ہائی لائٹس” دکھاتا ہے،
زخم نہیں۔
کوئی
مسکراہٹ پوسٹ کرتا ہے،
تنہائی نہیں۔
کوئی
مہنگی گاڑی دکھاتا ہے،
قرض نہیں۔
کوئی
خوبصورت رشتہ دکھاتا ہے،
رات بھر کی خاموش لڑائیاں نہیں۔
اور
ہم
ان ادھورے مناظر کو
مکمل حقیقت سمجھ کر
اپنی زندگی سے بدگمان ہونے لگتے ہیں۔
یہی
موازنہ کا زہر ہے۔
یہ
روٹی کم نہیں کرتا،
مگر
ذائقہ چھین لیتا ہے۔
یہ
گھر چھوٹا نہیں کرتا،
مگر
دل تنگ کر دیتا ہے۔
یہ
نعمتیں ختم نہیں کرتا،
مگر
شکر ختم کر دیتا ہے۔
حالانکہ
سکون
کبھی بھی
مارکیٹ ویلیو سے نہیں ملا کرتا۔
ورنہ
سب سے امیر لوگ
سب سے زیادہ پُرسکون ہوتے۔
مگر حقیقت یہ ہے
کہ
کئی محلوں میں نیند نہیں،
اور
کئی جھونپڑیوں میں سکون آباد ہے۔
اے انسان!
زندگی
مقابلہ نہیں،
امانت ہے۔
یہاں
ہر شخص کا سفر الگ ہے،
وقت الگ،
آزمائش الگ،
اور
رزق بھی الگ۔
اس لیے
اپنی رفتار کو
کسی اور کی منزل سے مت ناپو۔
کبھی
اپنے ہاتھوں کی نعمتیں بھی گنو۔
وہ آنکھیں
جو دیکھ رہی ہیں،
وہ سانس
جو چل رہی ہے،
وہ لوگ
جو تم سے محبت کرتے ہیں—
یہ سب
کسی اور کی دعاؤں کا مرکز ہیں۔
رب نے
سورۂ ابراہیم میں
بہت پہلے
انسان کے نفسیاتی زخم کا علاج بتا دیا تھا:
“اگر تم شکر کرو گے
تو میں اور عطا کروں گا۔”
مگر
ہم نے
شکر سے زیادہ
موازنہ سیکھ لیا۔
ہم
دوسروں کی چمکتی ہوئی زندگیوں کو دیکھتے دیکھتے
اپنے حصے کی روشنی بھول گئے۔
اب بھی وقت ہے—
اپنی زندگی کو
حسرت کے ترازو میں رکھنا چھوڑ دو۔
کیونکہ
اصل کامیابی
دوسروں سے آگے نکلنا نہیں،
بلکہ
اپنے اندر کے شور پر
قابو پا لینا ہے۔
اور
اصل امیری
زیادہ رکھنے میں نہیں،
بلکہ
جو ہے
اس میں سکون پا لینے میں ہے۔
۔۔۔داد صدیقی۔۔۔
واپس کریں