اللہ داد صدیقی
محبت کے رشتے
وقت کے دریا میں بہتے ہوئے بھی
ڈوبتے نہیں،
وہ کسی پوشیدہ چشمے کی طرح
دل کی زمین سے پھوٹتے رہتے ہیں۔
وقت
اپنے قدموں سے صدیوں کی گرد اُڑاتا ہے،
مگر محبت
کسی درویش کے چراغ کی مانند
ہوا کے ہر جھونکے میں بھی
روشن رہتی ہے۔
یادیں
دل کی کتاب کے وہ ورق ہیں
جن پر وقت کی انگلیاں
گرد تو بکھیر دیتی ہیں،
مگر تحریرِ محبت
مٹ نہیں پاتی۔
کبھی کسی خاموش رات میں
جب ماضی کی گلیوں سے
ہوا آہستہ آہستہ گزرتی ہے،
تو یوں لگتا ہے
جیسے کسی پرانی خانقاہ میں
چراغ ابھی تک جل رہا ہو۔
محبت کے رشتے
در اصل وقت کے نہیں ہوتے،
وہ تو روح کے قافلے ہیں
جو ازل سے ابد تک
ایک ہی سفر میں رہتے ہیں۔
اور جب دل
تنہائی کی دہلیز پر بیٹھ کر
یادوں کے چراغ جلاتا ہے،
تو معلوم ہوتا ہے
کہ محبت کا نور
کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
✍️ اللہ داد صدیقی
واپس کریں