دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماہا گل ۔ ایک ننھی سی روح کے نام
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
ماہا گل!

تم آئی—

تو گھر میں
صرف ایک بچی نہ آئی،

ایک دعا
جسم بن گئی،

ایک خواب
آنکھ کھول گیا،

اور محبت نے
میرا ہاتھ تھام لیا۔

ماہا گل!

تم ابھی
نو ماہ کی ہو،

مگر یوں لگتا ہے—

جیسے صدیوں سے
تمہارا انتظار تھا۔

جیسے وقت کی
کسی پوشیدہ کتاب میں

تمہارا نام
پہلے ہی لکھا تھا،

اور ایک دن—

میرے رب نے
اس نام کے آگے

میری قسمت
لکھ دی۔

ماہا!

تم ہنستی ہو—

تو صبح
مسکرا اٹھتی ہے،

رات
چاندنی اوڑھ لیتی ہے،

اور دل کہتا ہے—

یہ ہنسی نہیں،

دعا کی قبولیت ہے۔

تم اپنی
ننھی انگلی

میری انگلی میں
رکھتی ہو،

تو یوں لگتا ہے—

میں نے دنیا نہیں،

اپنی پوری کائنات
تھام لی ہے۔

تمہاری آنکھوں میں

وہ نور ہے—

جو چراغوں سے
نہیں آتا،

وہ نور—

جو شاید
رب کی رحمت کے

کسی ان دیکھے
دریچے سے

دل میں اترتا ہے۔

تم سو رہی ہوتی ہو،

اور میں—

تمہیں دیکھتا ہوں،

پھر سوچتا ہوں—

اتنی معصومیت
کہاں سے آئی؟

دل کہتا ہے—

یہ تمہاری نہیں،

میرے رب کی عطا ہے۔

تم میری بیٹی ہو،

مگر اس سے پہلے—

رب کی امانت ہو۔

اور امانت کے ساتھ

محبت بھی ہے،

خوف بھی،

شکر بھی،

اور دعا بھی۔

سو میری ماہا!

میں تم پر
اپنی خواہشوں کا

بوجھ نہیں رکھوں گا۔

اپنے خوابوں کی
زنجیر نہیں دوں گا۔

بس اتنا چاہوں گا—

تم اپنے رب کو
پہچانو،

دل کو
صاف رکھو،

اور جہاں جاؤ—

تمہارے وجود سے
کسی دل کو

سکون ملے۔

ماہا!

ایک دن—

تم میری انگلی
چھوڑ دو گی۔

اپنے قدموں سے
اپنی راہیں چنو گی۔

اپنی دنیا
خود بناؤ گی۔

شاید—

میں وہاں نہ ہوں،

جہاں تم پہنچو گی۔

مگر میری دعائیں—

تمہارے ساتھ ہوں گی۔

اور میں کہوں گا—

اے میرے رب!

جیسے میں نے
اسے بانہوں میں رکھا،

تو اسے
اپنی رحمت میں رکھ۔

جیسے میں نے
اس کے آنسو پونچھے،

تو اس کی زندگی سے
غم کے موسم چھین لے۔

جیسے اس کی ہنسی نے
میرا گھر روشن کیا،

تو اس کی پوری زندگی
نور کر دے۔

ماہا گل!

اگر کبھی
زندگی سخت ہو جائے،

گھبرانا نہیں۔

آسمان کی طرف
دیکھنا—

وہاں ایک رب ہے،

جو تمہاری
خاموشی بھی سنتا ہے۔

اگر کبھی
تنہائی آ جائے،

تو دل سے کہنا—

میرا رب
مجھے جانتا ہے۔

بس یہی یقین—

انسان کو
ٹوٹنے نہیں دیتا۔

ماہا!

تم میری بیٹی ہو،

مگر صرف
بیٹی نہیں۔

تم—

میری دعا ہو،

میری امانت ہو،

میرے گھر کی
روشنی ہو،

میرے دل کی
نرمی ہو،

میری تھکن کا
سکون ہو،

اور میری زندگی کا
وہ مقام ہو—

جہاں

لفظ ختم ہوتے ہیں،
محبت شروع ہوتی ہے۔

آج—

تم میرے سینے سے
لگ کر سو جاتی ہو۔

کل—

شاید کسی اور گھر کی
رونق بنو گی۔

آج—

میری آواز پر
مسکراتی ہو۔

کل—

شاید دنیا
تمہاری آواز سنے گی۔

آج—

میری بانہوں میں
سمائی ہوئی ہو۔

کل—

اپنی دنیا
خود سنبھالو گی۔

مگر یاد رکھنا—

تم کتنی بھی
بڑی ہو جاؤ،

دنیا تمہیں
جس نام سے پکارے،

جس مقام پر رکھے—

میرے لیے

تم ہمیشہ—

وہی ننھی سی ماہا رہو گی،

جس نے

اپنی ننھی انگلی سے

اپنے ابو کا ہاتھ
تھاما تھا۔

اور میں—

تمہاری زندگی کا
مالک نہیں،

صرف دعا گو ہوں۔

تمہارے راستے میں

اپنی محبت نہیں،

رب کی رحمت مانگتا ہوں۔

تمہارے نصیب میں

اپنا نام نہیں،

خوشیوں کے چراغ مانگتا ہوں۔

تمہاری عمر کے لیے

صرف لمبی زندگی نہیں—

ایسی زندگی مانگتا ہوں

جس میں—

ہر لمحہ
معنی ہو،

ہر قدم
خیر ہو،

ہر سانس
شکر ہو،

اور ہر دل میں
تمہارے لیے

دعا ہو۔

ماہا گل!

تم ابھی
نو ماہ کی ہو،

مگر میرے دل میں—

تمہاری عمر
اس دن سے ہے،

جس دن

میرے رب نے
تمہیں

میرے نصیب میں
لکھا تھا۔

شاید محبت
کی حقیقت یہی ہے—

کچھ رشتے

پیدائش کے بعد
نہیں بنتے،

وہ تو—

آسمانوں پر
پہلے ہی لکھے ہوتے ہیں۔

میری ماہا!

تم میری زندگی کی
وہ نظم ہو—

جس کا

نہ آخری مصرع ہے،

نہ کوئی اختتام۔

تم مسکراتی رہو—

میں دعا کرتا رہوں گا۔

تم چلتی رہو—

میں دعا کرتا رہوں گا۔

تم آسمان چھوتی رہو—

میں دعا کرتا رہوں گا۔

اور زمین پر کھڑا—

تمہارے لیے
بس یہی کہتا رہوں گا:

ماہا!

میری جان—

میری لاڈلی—

میری دعا—

میری روشنی—

میری کائنات—

اللہ تمہیں
ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔

تمہاری ہنسی
کبھی کم نہ ہو،

تمہاری آنکھ
کبھی نم نہ ہو،

تمہارا دل
کبھی مایوس نہ ہو،

اور تمہارا دامن
ہمیشہ

رب کی رحمت سے بھرا رہے۔

آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ داد صدیقی
واپس کریں