دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یہ اپنی اپنی جنتیں
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
یہ اپنی اپنی جنتیں”
زندگی
حقیقت میں
کسی ایک خواب کا نام نہیں،
یہ تو
ہر دل کے اندر
بسی ہوئی الگ الگ دنیاؤں کا سفر ہے۔
کوئی
اونچی عمارتوں کی کھڑکی سے
شہر کو دیکھ کر
اپنی جنت تلاش کرتا ہے،
اور کوئی
مٹی کے صحن میں
ماں کے ہاتھ کی روٹی کھا کر
بادشاہ ہو جاتا ہے۔
کسی کو
محفلوں کی روشنی اچھی لگتی ہے،
جہاں
تعریف کے جملے
شراب کی طرح بہتے ہیں،
اور کوئی
خاموشی کے ایک کونے میں
اپنی تنہائی کے ساتھ
اتنا مطمئن ہوتا ہے
کہ
اسے پوری دنیا کی ہنگامہ آرائی
بے معنی لگنے لگتی ہے۔
کچھ لوگ
وقت کے پیچھے بھاگتے ہیں،
گھڑی کی سوئیوں میں
اپنی عمر قید کر دیتے ہیں،
اور کچھ
ایک لمحے کو
اتنی محبت سے جیتے ہیں
کہ
وہی لمحہ
ان کی پوری زندگی بن جاتا ہے۔
جنتیں
صرف آسمانوں میں نہیں ہوتیں،
کبھی
کسی کے لہجے میں اتر آتی ہیں،
کبھی
کسی دعا میں،
کبھی
کسی سچے رشتے میں،
اور کبھی
کسی شکست خوردہ انسان کی
خاموش مسکراہٹ میں۔
مگر
المیہ یہ ہے
کہ
انسان
اپنی جنت چھوڑ کر
دوسروں کی جنتوں میں جھانکتا رہتا ہے،
اور پھر
موازنوں کی آگ میں
اپنی ہی خوشیوں کو جلا دیتا ہے۔
حالانکہ
سکون
دولت سے نہیں،
دل کے موسم سے پیدا ہوتا ہے۔
کسی کے لیے
ایک چھوٹا سا گھر
کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہے،
اور کسی کے لیے
محلات بھی
ویران سرائے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
زندگی
اصل میں
خواہشوں کا نہیں،
احساس کا نام ہے۔
جسے
اپنی چائے کی بھاپ میں
خوشبو آ جائے،
جسے
اپنے بچوں کی ہنسی میں
جنت سنائی دے،
جسے
رات کی تنہائی میں
اپنا رب یاد آ جائے،
وہ
فقیر ہو کر بھی
دنیا کا امیر ترین انسان ہوتا ہے۔
اور شاید
اسی لیے
قدیم درویش
محلوں کے دروازوں پر نہیں،
اپنے دل کے اندر
چراغ جلایا کرتے تھے۔
کیونکہ
ہر انسان
آخرکار
اپنی اپنی جنت میں ہی
رہتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔دادصدیقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپس کریں