دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماں — ایک زندہ دعا
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
ماں اب بھی
مجھے فراموش کب کر پائی ہے،
میرے نام کی لو
ابھی تک
اُس کی دعاؤں کے چراغ میں
لرزاں ہے۔
میں جہاں بھی رہوں،
جس قدر بھی زمانوں کی گرد
میرے قدموں سے لپٹ جائے،
ماں کی صدا
مرے بخت کے دریچوں پر
رحمت بن کر
دستک دیتی رہتی ہے۔
میری ہر اک کامیابی
آج بھی
ماں کی دعا کا ثمر ہے،
وگرنہ
میں نے تو بارہا
حوصلے کی زینوں سے
اپنے قدم
لغزش کھاتے دیکھے ہیں۔
یہ جو مرے چہرے پر
اطمینان کا ہلکا سا نور ٹھہرا ہے،
یہ کسی زر و مال کی چمک نہیں،
یہ تو
ماں کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی
قبولیت کا صدقہ ہے۔
ماں
محض ایک رشتہ نہیں ہوتی،
وہ انسان کے باطن میں
بستی ہوئی
ایک ایسی دعا ہوتی ہے
جو وقت کے ہر اندھیرے میں
چراغ بن کر جلتی رہتی ہے۔
وہ
اپنے بچوں کے دکھ
خاموشی سے اوڑھ لیتی ہے،
اور ہونٹوں پر
صبر کی تسبیح سجائے رکھتی ہے۔
ماں کی محبت
کسی کتاب کی محتاج نہیں،
یہ وہ مقدس صحیفہ ہے
جسے
اولاد
عمر بھر پڑھتی رہتی ہے،
مگر
اس کے حرفوں کا حق
کبھی ادا نہیں کر پاتی۔
۔۔۔۔ داد صدیقی ۔۔۔۔
واپس کریں