اللہ داد صدیقی
ایک عرض ہے
اے چہرۂ والضحیٰ والے!
ہمیں بھی ایسا کر دے
کہ جہاں سے گزریں ہم
لوگ بے ساختہ کہہ اٹھیں
یہ آئے ہیں مصطفیٰ ﷺ والے
تیرے صدقے
ہر شب ہمارے لیے شبِ نور ہو جائے
اے زلفوں کی گھٹا والے!
تیری زلفوں کے صدقے
ہماری ساعتیں بھی مہک اٹھیں
درود و سلام کی چہل پہل سے آباد
ہماری سانسوں میں بسے
تیرا ذکرِ جمیل
ہمارے دل کی گلیوں میں جلتی رہے
مدحت کی قندیل
ہر دھڑکن سے اٹھے
صلِّ علیٰ کا سنگیت
ہر آنکھ میں لہرا جائے
مدینے کی نعتی ریت
اے رحمتِ دو عالم ﷺ!
ہم پر بھی اک نگاہِ کرم ہو
ہماری خطاؤں کے صحرا میں
عفو کا سا موسم ہو
جو تیرے در کا ہو جائے
وہ خالی کب رہتا ہے
تو جسے اپنا کہہ دے
وہی مقدر کہلاتا ہے
ہماری صبحیں تیری سنت سے روشن
ہماری شامیں تیری یاد سے شاد
ہمارا جینا تیری نسبت میں ڈھلا
ہماری موت تیری فریاد
دادؔ کی بس اتنی تمنا
دل درود کی دھڑکن ہو
آخری سانس لبوں پر ٹھہرے
اور نامِ محمد ﷺ روشن ہو
۔۔۔۔۔۔دادؔ صدیقی۔۔۔۔۔۔
واپس کریں