دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
“اعتراض صرف غریب پر کیوں؟”
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
جب
مزدور کی تنخواہ بڑھانے کی بات ہو،
تو فوراً
فائلوں کی گرد سے نکل آتا ہے
“ملکی معیشت کا بحران”۔
پنشنر
اپنی دوائیوں کا حساب مانگے،
تو جواب ملتا ہے:
“خزانہ خالی ہے!”
کسی چوکیدار،
کسی کلرک،
کسی خاکروب کے لیے
چند ہزار کا ریلیف بھی
آئی ایم ایف کی شرطوں میں الجھ جاتا ہے۔
مگر
ایوانوں میں بیٹھے لوگ
جب اپنی مراعات کے لیے
سو فیصد اضافے منظور کرتے ہیں،
تو نہ کوئی بحران جاگتا ہے،
نہ کوئی معاشی اصول ٹوٹتا ہے،
نہ کوئی عالمی ادارہ
قوم کو دیوالیہ ہونے سے ڈراتا ہے۔
عجیب دستور ہے—
غریب کی روٹی
ہمیشہ معیشت پر بوجھ ٹھہرتی ہے،
مگر اشرافیہ کی عیاشی
“ریاستی ضرورت” کہلاتی ہے۔
یہ کیسا نظام ہے
جہاں
بھوک پر اعتراض ہے،
مگر مراعات پر خاموشی؟
جہاں
ریڑھی والے کی کمائی پر
ٹیکس کا پہرہ ہے،
مگر اقتدار کے ایوانوں میں
فضول خرچی
قانونی حق بن جاتی ہے۔
وہ مزدور
جو دن بھر
دھوپ کے انگاروں میں جلتا ہے،
اینٹ، سیمنٹ اور لوہا اٹھاتے اٹھاتے
اپنی ہڈیاں گھلا دیتا ہے،
شام کو
اپنے بچوں کے لیے
آدھا تھیلا آٹا خریدنے سے پہلے بھی
قیمتیں گنتا ہے۔
وہ ریٹائرڈ بوڑھا
جس نے
اپنی جوانی
دفتر کی میزوں پر رکھ دی،
آج
پنشن کے چند سکّوں میں
اپنی سانسیں خرید رہا ہے۔
مگر
جنہیں کبھی
مہنگائی کا چہرہ دیکھنا نہیں پڑا،
وہی
قوم کو صبر، قربانی
اور کفایت شعاری کے درس دیتے ہیں۔
جبکہ
ان کے اپنے دسترخوان پر
کبھی کمی نہیں آتی،
ان کی گاڑیاں نہیں رکتیں،
ان کے پروٹوکول کم نہیں ہوتے،
ان کے بنگلوں کی روشنیاں
کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔
سوال صرف اتنا ہے—
اگر ملک واقعی بحران میں ہے،
تو قربانی
صرف غریب ہی کیوں دے؟
کیوں
ہر بار مزدور کا چولہا بجھایا جائے؟
کیوں
ہر بار پنشنر کی دوائی چھینی جائے؟
کیوں
ہر بار عوام کو یہی کہا جائے
کہ “صبر کرو”؟
اور کیوں
ہر بار
اشرافیہ کے لیے
قانون بھی نرم ہو جائے،
معیشت بھی خاموش ہو جائے،
اور عالمی ادارے بھی
اندھے بن جائیں؟
یہ خاموشی
زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گی۔
ایک دن
یہی دبے ہوئے سوال
آواز بن جائیں گے،
اور بھوکا آدمی
جب حساب مانگنے نکلے گا،
تو ایوانوں کی دیواریں بھی
کانپ اٹھیں گی۔
کیونکہ
بھوک
جب صبر سے بڑی ہو جائے،
تو تخت نہیں بچتے،
محلات نہیں بچتے،
صرف تاریخ لکھی جاتی ہے۔
۔۔۔داد صدیقی۔۔۔
واپس کریں