دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قربانی کس کی؟
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
جب بھی
دنیا کے کسی کونے میں
جنگ کی آگ بھڑکتی ہے،
یا معیشت کے آسمان پر
بحران کے بادل گھرتے ہیں—
سب سے پہلے
اعلان ہوتا ہے
قربانی کا۔
مگر عجیب بات ہے،
یہ قربانی
ہمیشہ اُن لوگوں سے مانگی جاتی ہے
جن کے گھروں میں
پہلے ہی چولہے
ادھورے جلتے ہیں۔
دفاتر بند ہو جاتے ہیں،
تعلیمی اداروں پر تالے پڑ جاتے ہیں،
اور کہا جاتا ہے
پٹرول بچانا ہے۔
مگر شہر کی شاہراہوں پر
اب بھی دوڑتی رہتی ہیں
سفید نمبر پلیٹ والی گاڑیاں،
جن کے شیشوں کے پیچھے
طاقت کا سکون
اور مراعات کی خاموش مسکراہٹ
بیٹھی ہوتی ہے۔
سیکیورٹی کے نام پر
گاڑیوں کے قافلے
یوں گزرتے ہیں
جیسے سڑکیں
کسی اور ہی قوم کی ملکیت ہوں۔
اور اسی لمحے
کسی گلی میں
ایک مزدور
اپنی سائیکل کو دھکیلتے ہوئے سوچتا ہے—
جنگ آخر
ہمیشہ میرے حصے میں کیوں آتی ہے؟
میری جیب کیوں ہلکی ہوتی ہے
جب فیصلے
ایوانوں کے بھاری دروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں؟
میری روٹی کیوں چھوٹی ہو جاتی ہے
جب عالمی منڈیوں میں
تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں؟
کیا قربانی
صرف اُن لوگوں کا مقدر ہے
جو پہلے ہی
ضرورتوں کی سرحد پر زندہ ہیں؟
یا پھر
یہ ایک ایسا اصول ہے
جو طاقتوروں کی کتاب میں لکھا ہے
کہ قربانی کا درس
ہمیشہ کمزور کو دیا جائے؟
وقت شاید یہ سوال
کسی دن
تاریخ کے سامنے رکھ دے—
کہ اگر واقعی
قربانی قوم کی بقا کا نام ہے،
تو پھر
اس کا آغاز
محلات کی روشنیوں سے کیوں نہیں ہوتا؟
اور اگر انصاف
ایک زندہ تصور ہے
تو اسے
سب سے پہلے
ایلیٹ کے دروازے پر دستک دینی چاہیے۔
کیونکہ قومیں
تب مضبوط ہوتی ہیں
جب قربانی
ایک طبقے کا بوجھ نہیں
بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری بن جائے
۔۔۔۔۔۔۔دادصدیقی۔۔۔۔۔۔۔۔
واپس کریں