دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نظم: پہلی عید آپ کے بغیر
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
ابا جان…
یہ پہلی عید ہے
جو آپ کے بغیر آئی ہے
اور عید نہیں لگتی…
گھر ویسا ہی ہے
در و دیوار وہی ہیں
مگر نہ جانے کیوں
ہر چیز ادھوری سی لگتی ہے
بہت دل چاہتا ہے
کہ فون اٹھاؤں…
آپ کا نمبر ملاؤں…
اور کہوں
"ابا جان، عید مبارک"
پھر آپ کی آواز
دعا بن کر اترے
اور میرے کانوں میں
رس گھول دے…
مگر اب
نمبر تو ہے
آواز نہیں…
ابا جان…
ہوش سنبھالا تو
آپ ہی کے سائے تلے
زندگی کو جانا
آپ کے ہوتے ہوئے
غم بھی ہلکے لگتے تھے
اور اندھیرے بھی
راستہ دے دیتے تھے
میں نے مشکلیں تو بہت دیکھیں
مگر مایوسی؟
وہ تو کبھی قریب بھی نہ آئی…
پھر یہ کیا ہوا ابا جان؟
کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
کچھ بھی نہیں رہا
دسمبر کی وہ سرد شام
جب آپ چلے گئے…
وہ آج تک ختم نہیں ہوئی
میں آج بھی
اسی شام میں کھڑا ہوں
جہاں روشنی آ کر بھی
دل تک نہیں پہنچتی
صبح سے شام تک
میں نہ جانے کس کو ڈھونڈتا ہوں
کس آواز کے پیچھے بھاگتا ہوں
کس سائے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں
اور پھر…
ہر شام
وہی مایوسی
بانہیں پھیلائے
میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے
ابا جان…
آپ کو تو میری
ہر لمحہ فکر رہتی تھی
آپ کی دعائیں
میرے چاروں طرف حصار بنی رہتی تھیں
اب وہ حصار ٹوٹ سا گیا ہے
اور میں
خود کو بے پناہ تنہا پاتا ہوں
ابا جان…
اگر خوابوں کی کوئی دنیا ہے
تو آجائیے کبھی
بس ایک بار…
میں کچھ نہیں مانگوں گا
بس آپ کی ایک نظر
ایک دعا
ایک لمس…
تاکہ میرے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو
ذرا سہارا مل جائے
ابا جان…
یہ پہلی عید ہے
آپ کے بغیر…
اور سچ کہوں تو
عید نہیں ہے…
بس ایک دن ہے
جو گزر جائے گا…
آپ کی یاد کے ساتھ…
واپس کریں