اللہ داد صدیقی
ایوانوں میں جب بجٹ کی میزیں سجتی ہیں
تو کاغذوں پر قوم کے خواب لکھے جاتے ہیں،
فیصدوں کی بارش ہوتی ہے،
اعداد کی قطاریں بنتی ہیں،
اور مستقبل کو گرافوں میں قید کر دیا جاتا ہے۔
کوئی کہتا ہے: دفاع ناگزیر ہے،
کوئی کہتا ہے: معیشت کو سہارا دو،
کوئی قرضوں کی زنجیریں گنواتا ہے—
مگر کوئی یہ کیوں نہیں کہتا
کہ سب سے پہلی سلامتی
بچپن کی سلامتی ہے؟
ایک باپ
جو خود بھوک پیاس سہہ لیتا ہے،
جب اپنے بچے کی آنکھ میں
روٹی کا سوال دیکھتا ہے
تو اس کی مردانگی ٹوٹ جاتی ہے۔
ایک ماں
جو اپنی نیند بیچ سکتی ہے،
اپنی خواہشیں گروی رکھ سکتی ہے،
مگر بچے کی کھانسی نہیں خرید سکتی—
اس کے دل میں
ایک ایسا زخم بنتا ہے
جو کسی پالیسی کی رپورٹ میں درج نہیں ہوتا۔
بچے کی بھوک
صرف پیٹ کی آگ نہیں ہوتی،
یہ جرم کی پہلی چنگاری بھی ہو سکتی ہے۔
یہ اسکول سے دوری کا پہلا قدم ہے،
یہ ہسپتال کی قطار میں
خاموشی سے مرنے والی امید ہے۔
اگر ریاست
پیدائش سے بارہ برس تک
ہر بچے کی روٹی، کتاب، علاج
اور تحفظ کی ذمہ داری لے لے—
تو جیلوں کے دروازے ہلکے ہو جائیں گے،
عدالتوں کے فیصلے کم ہو جائیں گے،
اور گلیوں میں بھٹکتے قدم
کتابوں کی طرف مڑ جائیں گے۔
سرمایہ اگر
ابتدائی برسوں میں لگا دیا جائے،
تو بعد میں
نفرت، انتقام اور بغاوت کی قیمت
کم ادا کرنی پڑے گی۔
یہ صدقہ نہیں—
یہ سرمایہ کاری ہے۔
یہ احسان نہیں—
یہ آئینی حق ہے۔
ریاست اگر ماں بن جائے
اور باپ کی طرح ذمہ داری اٹھائے،
تو بارہ برس
کسی بچے کی مزدوری نہیں ہوں گے،
کسی معصوم کی جرم کی تربیت نہیں ہوں گے،
بلکہ کھیل، تعلیم اور تحفظ کی عمر ہوں گے۔
کیونکہ کوئی بھی انسان
اپنی تکلیف سہہ لیتا ہے—
مگر اولاد کی بھوک
برداشت نہیں ہوتی۔
اور جب بھوک برداشت نہیں ہوتی
تو قانون بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی
مستقبل محفوظ کرنا چاہتے ہیں
تو سرحدوں سے پہلے
بچپن کو محفوظ کرنا ہوگا۔
ریاست اگر ماں بن جائے—
تو آئین کی دفعات
سانس لینے لگیں گی،
اور قوم
صرف آبادی نہیں رہے گی،
انسان بن جائے گی۔
۔۔۔۔۔داد صدیقی۔۔۔۔۔۔
واپس کریں