دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہلاکت اور شہادت میں فرق: مردوں پر زندہ رہنے والے حکمران
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
میں کوئی مفتی نہیں، ایک عام گناہگار مسلمان ہوں۔ میں کوئی فتویٰ صادر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا، لیکن چیزوں کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے کا احساس ضرور رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک اسلام موم کی وہ ناک ہے جسے ریاست، سیاست، حکومت، افسر شاہی اور مذہبی گروہ جس طرف اپنی مرضی کے مطابق موڑنا چاہیں، آرام سے موڑ دیتے ہیں۔ اسی دستیاب سہولت سے مذکورہ بالا قوتوں نے ایک لفظ ’’شہادت‘‘ بھی نکالا ہوا ہے، جو ہمہ وقت ان کی جیبوں میں پڑا رہتا ہے اور بوقتِ ضرورت فوری طور پر کام میں لایا جاتا ہے۔
روڈ حادثے میں کسی کو مارا جائے، ہسپتال میں ڈاکٹر کوتاہی کرتے ہوئے کسی کو قتل کرے، کسی دور دراز گاؤں میں زچگی کی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے کسی خاتون کو ہلاک کیا جائے، راہزن اور جرائم پیشہ افراد کسی کی جان لے لیں، بروقت لگی ہوئی آگ بجھانے میں ناکامی سے کوئی عبرت ناک موت مرے، ہوائی فائرنگ کسی کی زندگی ختم کر دے یا سکول کی چھت گر کر درجنوں گھرانوں کو ماتم کدوں میں تبدیل کر دے، ان سارے قتال کو شہادت کا نام دے کر فی الفور ہر ذمہ دار خود کو بری الذمہ کر دیتا ہے۔ میں شہید ان فوج، پولیس اور تمام سکیورٹی اداروں کے جوانوں اور افسروں کو سمجھتا ہوں جو ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر سے لڑتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ یہ شہدا اور غازی ہیں۔ ان کے ساتھ وہ تمام عام پاکستانی بھی، جو سیکورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دشمنوں کے خلاف لڑتے ہوئے جانیں قربان کرتے ہیں، شہدا اور غازی ہیں۔ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کو بھی میں شہید نہیں سمجھتا۔
حکمرانوں نے جان خلاصی اور عوام کی زبان بند رکھنے کے لیے ’’شہید‘‘ اور ’’شہدا‘‘ کے الفاظ ایجاد کیے ہیں، جن کے پیچھے قتال کے بعد پناہ لیتے ہیں۔ بے شک زندگی اور موت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہر انسان کے آنے اور جانے کا وقت مقرر ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی تمام ذمہ داریاں تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر معصوم بن جائیں۔
روڈ پر مارا گیا تو روڈ کی حالت، گاڑی کی کنڈیشن، ڈرائیور کی عمر، لائسنس، نشہ کرنے کی لت، نیند کی کمی اور ٹریفک نظام کو اس قتل کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے شہادت کا نام دے کر جرم پر پردہ ڈالا جائے۔ ہسپتال میں ڈاکٹر کی غفلت، آپریشن کے دوران نشے کی زیادتی یا دیگر طبی حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کو جانچا جائے، اور مسیحا کے ہاتھوں قتل کو شہادت کا نام دے کر طبی قتال کی پردہ پوشی نہ کی جائے۔ زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی ماں اور بچے کے قاتل صحت کے نظام اور حکومت کو اس قتلِ عمد کو شہادت کا نام دے کر بچانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہوائی فائرنگ سے مرنے والے کو شہید قرار دیتے ہوئے متعلقہ پولیس تھانے اور مقامی عمائدین کو تحفظ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایسی تمام اموات کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ یہ قتل و قتال ہیں، کوئی شہادتیں نہیں۔
اور اگر یہ شہادتیں ہیں تو ہماری دعا ہے کہ ریاست، سیاست، حکومت اور افسر شاہی کے اہل و عیال اور پورے خاندانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ شہادتیں عطا فرمائے۔
پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے تادمِ تحریر 27 بچوں اور ایک استانی کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ 52 سے زیادہ بچے زخمی ہیں۔ خدارا، یہ بچے اور استانی مقتول ہیں، شہید نہیں۔ انہیں شہید کہہ کر ان کے قاتلوں کو جانے مت دیجیے۔
واپس کریں