غیر سیاسی حکومت میں سیاسی تقرریاں غیر ضروری اعتراضات کو جنم دیں گی
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا میں واضح اکثریت سے مسلسل تیسری بار قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج اور ہنگامی انتظام نافذ کرنے کے بعد گیارہ رکنی خصوصی مشاورتی کونسل کا قیام محض انتظامی تبدیلی نہیں، بلکہ اس طرزِ حکمرانی کے اصولوں کا امتحان بھی ہے جس کے تحت اب صوبے کے معاملات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم حکومت کی تبدیلی کے اسباب اور اس کے آئینی و سیاسی جواز کی بحث میں نہیں جائیں گے، کیونکہ اس وقت ہمارا موضوع کونسل کی تشکیل، اس کے ارکان کے انتخاب اور اس انتظام کے دعووں اور عملی اقدامات کے درمیان مطابقت کا سوال ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کونسل کے ارکان کا اعلان کرتے ہوئے انہیں تجربہ کار اور اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین قرار دیا۔ اگر اس انتظام کا مقصد سیاسی کشمکش سے نکل کر صوبے میں امن و امان، مالی نظم و ضبط، انتظامی اصلاحات اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے ضروری تھا کہ تقرریوں میں پیشہ ورانہ اہلیت، غیر جانب داری اور متعلقہ تجربے کو بنیادی اہمیت دی جاتی۔ لیکن جب غیر منتخب انتظام کے تحت بننے والی کونسل میں فعال جماعتی سیاست سے وابستہ شخصیات کو اہم قلمدان سونپے جائیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اس بندوبست کی ترجیح انتظامی اصلاحات ہیں یا سیاسی صف بندی اور جماعتی سیاست کا تسلسل؟
ثمر ہارون بلور کی شمولیت اس سوال کو خاص طور پر اہم بناتی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہیں، خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن اور اے این پی کی صوبائی ترجمان کے طور پر سیاسی کردار ادا کیا، پھر جولائی 2025 میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئیں۔ اب وہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں اور انہیں صوبائی مشاورتی کونسل میں اطلاعات و نشریات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ان کا سیاسی سفر کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں؛ یہ ان کے عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک موجودہ رکن قومی اسمبلی کو غیر منتخب صوبائی انتظام میں ایک اہم قلمدان دینے کی انتظامی ضرورت کیا تھی؟ کیا صوبائی حکومت کے اطلاعاتی نظام کی اصلاح کے لیے یہی موزوں ترین انتخاب تھا، یا اس تقرری سے جماعتی سیاست کو ایک نئی انتظامی جگہ فراہم کی گئی ہے؟
کسی سیاسی جماعت سے وابستگی بذاتِ خود کسی شخص کی اہلیت کو ختم نہیں کرتی، لیکن ہر تقرری کو اس کے مقصد اور ضرورت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اطلاعات و نشریات کا محکمہ سرکاری پالیسیوں، انتظامی فیصلوں اور عوامی معلومات کی ترسیل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام حکومت کے اقدامات کو درست اور غیر جانب دارانہ انداز میں عوام تک پہنچانا ہے، نہ کہ سیاسی مخالفین کے خلاف مہم چلانا یا کسی جماعت کے مؤقف کو سرکاری آواز بنانا۔ جب اطلاعاتی ذمہ داری ایک فعال سیاسی شخصیت کو سونپی جائے تو یہ وضاحت اور بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ اس منصب پر سرکاری ترجیحات غالب رہیں گی یا جماعتی سیاست کا رنگ نمایاں ہوگا۔
عثمان سیف اللہ خان کی شمولیت بھی اسی اصولی بحث کا حصہ ہے، مگر ان کا معاملہ محض سابق سینیٹر ہونے تک محدود نہیں۔ وہ مارچ 2012 سے مارچ 2018 تک پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رہے۔ ان کا تعلق سیف اللہ خاندان سے ہے، جو کئی دہائیوں سے کاروبار اور سیاست دونوں میں نمایاں رہا ہے۔ ان کے والد انور سیف اللہ خان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن رہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے۔ وہ وفاقی وزیر برائے ماحولیات و شہری امور اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل سمیت اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں۔ انور سیف اللہ خان سابق صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان کے داماد تھے، اس نسبت سے عثمان سیف اللہ خان سابق صدر کے نواسے ہیں۔ ان کے چچا سلیم سیف اللہ خان بھی صوبائی اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر رہنے کے علاوہ وفاقی وزیر اور سینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے دوسرے چچا ہمایوں سیف اللہ خان بھی خیبرپختونخوا اسمبلی اور قومی اسمبلی، دونوں کے رکن رہے۔ یوں سیف اللہ خاندان کے افراد مختلف سیاسی ادوار میں صوبائی اور وفاقی سطح پر نمائندگی کرتے آئے ہیں اور ان کی سیاسی وابستگیاں بھی وقت کے ساتھ مختلف جماعتوں سے رہی ہیں۔ یہ محض ایک فرد کی سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کا پس منظر ہے جس نے کئی دہائیوں تک ملکی سیاست اور حکومتی ڈھانچوں میں مختلف حیثیتوں سے کردار ادا کیا ہے۔
عثمان سیف اللہ خان کا صنعتی اور کاروباری تجربہ بھی موجود ہے۔ وہ سیف گروپ سے وابستہ رہے، ٹیکسٹائل کے کاروبار کی نگرانی کی، پاکستان سٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ میں خدمات انجام دیں اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے خیبرپختونخوا چیپٹر کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ یہ تجربہ اپنی جگہ، لیکن کسی فرد کا کاروباری پس منظر خودبخود اس بات کا جواز نہیں بن جاتا کہ اسے صوبے کے توانائی، منصوبہ بندی اور ترقی جیسے وسیع اور حساس شعبوں کی ذمہ داری بھی دے دی جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس قلمدان کے لیے کون سا معیار مقرر کیا گیا، ان کے متعلقہ تجربے کو کس بنیاد پر ترجیح دی گئی اور ان کے کاروباری مفادات اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے کیا انتظام کیا گیا ہے۔
یہاں اعتراض کسی خاندان کے ہر فرد کی اہلیت پر اجتماعی فیصلہ صادر کرنا نہیں، بلکہ اس سیاسی طرزِ عمل کی نشاندہی کرنا ہے جس میں نسل در نسل سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے خاندانوں کے افراد مختلف جماعتوں اور حکومتی انتظامات میں جگہ بناتے رہے ہیں۔ ثمر ہارون بلور اور عثمان سیف اللہ خان دونوں کا تعلق ایسے پرانے سیاسی خاندانوں سے ہے جن کی سیاسی موجودگی ایک دور یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہی۔ دونوں کے درمیان سابق صدر غلام اسحاق خان کے خاندان کی نسبت سے قریبی خاندانی تعلق بھی ہے اور وہ فرسٹ کزن ہیں۔ جب ایک ایسے انتظام کو غیر سیاسی یا ماہرین پر مشتمل قرار دیا جائے تو اس کے لیے محض تعلیمی اسناد، کاروباری تجربے یا سابقہ عہدوں کی فہرست کافی نہیں۔ یہ بھی دکھانا پڑتا ہے کہ انتخاب میں سیاسی وابستگی، خاندانی اثرورسوخ اور جماعتی ضرورت کے بجائے متعلقہ کام کی اہلیت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک منتخب حکومت کو اس بنیاد پر ہٹایا گیا کہ صوبے کے انتظامی معاملات کو درست کرنا، امن و امان بہتر بنانا اور حکومتی کارکردگی میں بہتری لانا ضروری ہے تو اس کے متبادل انتظام کو بھی اپنے انتخاب اور فیصلوں میں اسی معیار کی پابندی کرنا ہوگی۔ غیر منتخب انتظام کا دعویٰ اگر سیاسی حکومت سے مختلف طرزِ حکمرانی کا ہے تو اس فرق کا ثبوت اس کی تقرریوں، ترجیحات اور نتائج میں نظر آنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ تاثر پیدا ہوگا کہ حکومت بدلی ہے، سیاسی چہرے بدلے ہیں، مگر فیصلہ سازی کا بنیادی طریقہ وہی ہے۔
ایک موجودہ رکن قومی اسمبلی کو صوبائی سطح پر اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دینا بھی محض ایک معمولی تقرری نہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی وفاقی پارلیمانی ذمہ داریوں اور صوبائی انتظامی کردار کے درمیان عملی تقسیم کیا ہوگی؟ کیا اس تقرری کی مدت، اختیارات اور جواب دہی واضح ہیں؟ کیا وہ صوبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے کام کریں گی یا وفاقی اور صوبائی سطح پر جماعتی سیاسی رابطے اور بیانیے کا کردار بھی ادا کریں گی؟ ان سوالات کا اٹھنا کسی فرد کے خلاف الزام نہیں، بلکہ ایسے انتظام کی شفافیت کا تقاضا ہے جسے غیر سیاسی اور کارکردگی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کو اس وقت دہشت گردی، مالی دباؤ، انتظامی کمزوریوں اور عوامی خدمات کے مسائل جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی دھینگا مشتی نہیں، واضح ترجیحات، قابلِ پیمائش اہداف اور جواب دہ انتظامی ڈھانچہ درکار ہے۔ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ کون سا مشیر کس جماعت سے آیا یا کس سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے؛ ان کے لیے اہم یہ ہے کہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہو، صحت اور تعلیم کی سہولتیں بڑھیں، ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوں، سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو اور روزمرہ زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔ لیکن جب تقرریوں میں سیاسی وابستگی نمایاں ہو تو یہ خدشہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ انتظامی ترجیحات دوبارہ سیاسی مفادات کے تابع نہ ہو جائیں۔
اس لیے مشاورتی کونسل کے قیام کے بعد حکومت کی ذمہ داری صرف یہ اعلان کرنا نہیں کہ تمام ارکان اہل اور تجربہ کار ہیں۔ اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ہر رکن کا انتخاب کن شرائط پر ہوا، متعلقہ قلمدان کے لیے اس کی موزونیت کیسے جانچی گئی، سیاسی وابستگیوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ سوالات کا جواب کیا ہے اور کارکردگی کی جانچ کس بنیاد پر ہوگی۔ اگر تقرریاں واقعی میرٹ پر ہوئی ہیں تو اس معیار کو عوام کے سامنے رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
سیاسی حکومت کی جگہ غیر منتخب انتظام قائم کرنے کے بعد سیاسی تقرریاں غیر ضروری اعتراضات کو جنم دیتی ہیں، کیونکہ ان سے خود اسی انتظام کے مقصد پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ اگر ہدف اصلاحات ہیں تو انتخاب بھی اصلاحاتی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے؛ اگر ہدف عوامی خدمت ہے تو ترجیح بھی عوامی ضرورت کو ملنی چاہیے۔ اور اگر حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ اس نے معمول کی جماعتی سیاست سے ہٹ کر انتظامی حل پیش کیا ہے تو اسے اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔
سوال ثمر ہارون بلور یا عثمان سیف اللہ خان کی ذاتی اہلیت کا حتمی فیصلہ کرنے کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ غیر منتخب انتظام میں سیاسی شخصیات کو شامل کرنے کی ضرورت اور جواز کیا ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اس غیر معمولی بندوبست میں میرٹ کا معیار کیا ہے اور آیا اس کا اطلاق سب پر یکساں ہوا ہے۔ حکومت کی تبدیلی کا مقصد اگر بہتر طرزِ حکمرانی ہے تو اسے سیاسی تقرریوں کے ذریعے غیر ضروری شکوک پیدا کرنے کے بجائے شفاف انتخاب، واضح ذمہ داریوں اور قابلِ پیمائش نتائج سے اپنی ساکھ قائم کرنی چاہیے۔ ورنہ یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ سیاسی حکومت ختم کرکے کیا گیا انتظامی تجربہ واقعی اصلاحات کے لیے ہے یا سیاست کو ایک نئے قالب میں جاری رکھنے کے لیے؟
واپس کریں