خالد خان۔ کالم نگار
ملک بھر اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث سیاسی سرگرمی 27 ستمبر کا اسلام آباد لانگ مارچ ہے، جبکہ اسی صوبے میں پینے کے پانی کے معیار کے بارے میں دستیاب سرکاری نگرانی کا آخری جامع قومی پروگرام 2020 کے نمونوں پر مبنی ہے۔ اس کے بعد پانی پر سائنسی تحقیق اور حکومتی جانچ اور نگرانی پانی کا بلبلہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت کو اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ 2020 کے بعد کوئی سائنسی مطالعہ اور سروے کرتی۔ نئی تحقیق تو دور کی بات، کم از کم 2020 کی ریسرچ پر تو صحتِ عامہ کے مفاد میں کام کرتی۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل کے مطابق سال 2020 کی اس نگرانی میں خیبر پختونخوا کے پشاور، مردان، مینگورہ اور ایبٹ آباد شامل تھے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کونسل کی 2021-22 کی سالانہ رپورٹ میں ان چاروں شہروں کے زیرِ نگرانی پانی کے ذرائع میں کیمیائی آلودگی کی صورت میں لوہے کی زیادہ مقدار ایک نمایاں مسئلہ نکلی۔ پشاور کے 50 فیصد، ایبٹ آباد کے 55 فیصد، مردان کے 45 فیصد اور مینگورہ کے 20 فیصد زیرِ نگرانی ذرائع میں لوہے کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ تھی۔
اس سرکاری تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے حقائق بالکل واضح ہیں، اگرچہ یہ نمونے مخصوص شہروں اور مخصوص ذرائع سے لیے گئے تھے۔ لیکن یہی محدودیت اصل سوال کو مزید اہم بناتی ہے کہ اگر بڑے شہروں کے پانی میں چند سال پہلے کیمیائی مسئلہ موجود تھا تو 2026 میں صوبے کے پاس پینے کے پانی کے معیار کی تازہ ترین، مسلسل اور عوامی سطح پر دستیاب صورتِ حال کیا ہے؟
پانی کے معیار کو صرف اس بنیاد پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ سرکاری پائپ لائن سے آ رہا ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل پانی کی جانچ میں جراثیمی آلودگی کے ساتھ آئرن، آرسینک، سیسہ، فلورائیڈ، نائٹریٹ، نمکیات اور دوسرے کیمیائی اجزا کی جانچ بھی کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی فراہمی اور پانی کی حفاظت دو الگ انتظامی ذمہ داریاں ہیں۔ ایک حکومت پائپ لائن بچھا سکتی ہے، منصوبہ مکمل کر سکتی ہے اور پانی گھر تک پہنچا سکتی ہے، لیکن شہری کو محفوظ پانی دینے کی ذمہ داری اس وقت مکمل ہوتی ہے جب آخری صارف تک پہنچنے والے پانی کے معیار کی بھی باقاعدہ تصدیق ہو۔
یہاں سے معاملہ خیبر پختونخوا کی مجموعی حکمرانی سے جڑتا ہے۔ صوبے میں 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے سیاسی تیاری کئی دنوں سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس مارچ کی قیادت کرنے کی بات کر چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 ستمبر کو واضح ہدایت دی کہ کسی مارچ، جلوس یا احتجاج کے لیے سرکاری وسائل، سرکاری اہلکار، گاڑیاں، مشینری یا دوسرے سرکاری وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی اس امر کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وفاقی سطح پر اس احتجاج کے لیے سکیورٹی انتظامات کا حجم بھی سامنے آ چکا ہے۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں امن و امان کے لیے پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے 8 ہزار اور بلوچستان سے 500، مجموعی طور پر 23 ہزار 500 پولیس اہلکار طلب کیے ہیں۔ یہ اعداد اس بات کا اندازہ ضرور دیتے ہیں کہ ایک بڑے سیاسی اجتماع کے لیے ریاستی مشینری کس پیمانے پر انتظامی تیاری کرتی ہے۔
یہاں کسی احتجاج کے حق یا مخالفت کا سوال نہیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں سیاسی احتجاج ایک الگ معاملہ ہے۔ سوال اس سے زیادہ بنیادی ہے کہ ایک صوبائی حکومت کی ترجیحات کو اس کے شہری روزمرہ زندگی میں کس طرح محسوس کرتے ہیں؟
پانی اسی سوال کا ایک واضح پیمانہ ہے۔
پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل کے مطابق قومی سطح پر پانی کے معیار کی نگرانی میں ہزاروں ذرائع اور بڑی تعداد میں نمونوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ ادارہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ پانی میں جراثیمی اور کیمیائی آلودگی الگ الگ نوعیت کے مسائل ہیں اور صرف پانی ابال لینا ہر قسم کی کیمیائی آلودگی ختم نہیں کرتا۔ اس لیے پانی کا مسئلہ محض فلٹریشن پلانٹ لگانے یا پائپ لائن بچھانے تک محدود نہیں؛ مستقل جانچ، آلودہ ذرائع کی نشاندہی، پائپ لائنوں کی نگرانی اور شہریوں کو نتائج سے آگاہ کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہر بڑے شہر کے پانی کے معیار کا تازہ نقشہ حکومت کے پاس موجود ہے؟ پشاور میں کتنے سرکاری پانی کے ذرائع باقاعدگی سے جانچے جاتے ہیں؟ مردان میں آخری جامع جانچ کب ہوئی؟ ایبٹ آباد اور مینگورہ میں جن ذرائع میں لوہے کی مقدار زیادہ پائی گئی تھی، ان کی موجودہ کیفیت کیا ہے؟ اگر کسی علاقے کے پانی میں کیمیائی آلودگی مقررہ حد سے زیادہ نکلتی ہے تو شہریوں کو کتنے وقت میں مطلع کیا جاتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان سوالات کے جوابات عوامی سطح پر کہاں دستیاب ہیں؟
یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک گلاس پانی اور ایک لانگ مارچ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں، حالانکہ دونوں کا تعلق مختلف دنیاؤں سے ہے۔ ایک سیاسی سرگرمی ہے جس کا اپنا آئینی، قانونی اور سیاسی پس منظر ہے، جبکہ دوسرا روزمرہ شہری زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ مگر دونوں کے درمیان ایک مشترک چیز ضرور ہے اور وہ ہے ریاستی ترجیحات اور انتظامی صلاحیت۔
27 ستمبر کا مارچ اپنی جگہ سیاسی واقعہ ہوگا۔ اس کے لیے سیاسی جماعتیں اپنے کارکن متحرک کریں گی، انتظامیہ اپنے انتظامات کرے گی، پولیس اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی اور عدالتوں کے احکامات اپنی جگہ موجود ہوں گے۔ لیکن 28 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے سرکاری نل بھی کھلیں گے۔ سکول، ہسپتال، بازار اور سرکاری دفاتر بھی معمول کی طرف واپس آئیں گے۔ اس وقت شہری کا سوال سیاسی جلسے کی تعداد نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ اسے جو پانی دیا جا رہا ہے، وہ کتنا محفوظ ہے۔
حکومت کے لیے اصل امتحان شاید یہی ہے کہ بڑے سیاسی واقعات کے شور میں وہ ان چھوٹے دکھائی دینے والے مسائل کو نظرانداز نہ کرے جو دراصل کروڑوں لوگوں کی زندگی کا مستقل حصہ ہیں۔ سیاسی سرگرمی ایک دن کی خبر بن سکتی ہے، لیکن ناقص پانی اگر موجود ہو تو اس کے اثرات کسی ایک دن تک محدود نہیں رہتے۔
اسی لیے سوال لانگ مارچ کے مقابل پانی کو کھڑا کرنے کا نہیں، بلکہ یہ دیکھنے کا ہے کہ حکمرانی کے وسیع دائرے میں ایک گلاس پانی کے معیار کو وہ جگہ کہاں ملتی ہے جس کا شہری اپنے بنیادی حق کے طور پر مطالبہ کرتا ہے اور جو حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
واپس کریں