خالد خان۔ کالم نگار
کئی دنوں سے ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے اور جتنا اس پر غور کرتا ہوں اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ سوال صرف پاکستان، مذہب یا سیاست کا سوال نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی بنیادی ساخت سے متعلق سوال ہے۔ ہم اپنے آپ کو ایک مذہبی معاشرہ کہتے ہیں، اسلام کے نام پر ریاست قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مسجدیں آباد ہیں، دینی اجتماعات ہوتے ہیں، تبلیغی جماعتیں گھر گھر جاتی ہیں، مذہبی تعلیم عام ہے، حلال و حرام پر گفتگو ہوتی ہے، نیکی اور بدی کی تمیز سمجھائی جاتی ہے اور حقوق العباد کے بارے میں بھی ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود ہماری اجتماعی زندگی میں جھوٹ، دھوکا، ملاوٹ، رشوت، سفارش، خیانت، قبضہ، ظلم، قانون شکنی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے واقعات معمول کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اگر مذہب انسان کو برائی سے روکتا ہے تو مذہبی معاشرے میں برائی اتنی عام کیوں ہے؟ اور اگر مذہبی تعلیم اخلاق پیدا نہیں کرتی تو پھر اخلاق پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ آخر کیا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے مذہب، اخلاق اور قانون کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ مذہب انسان کے اندر ایک اخلاقی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ سچ کیا ہے، جھوٹ کیا ہے، عدل کیا ہے، ظلم کیا ہے، امانت کیا ہے، خیانت کیا ہے، حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ مذہب انسان کے ضمیر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی عدالت سے بچ بھی جاؤ تو ایک بڑی عدالت باقی ہے۔ یہ انسانی کردار کی تعمیر کا ایک نہایت طاقتور تصور ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت بھی ہے کہ انسان صرف ضمیر سے نہیں چلتا۔ انسان خواہشات، مفادات، خوف، لالچ، طاقت، سماجی ماحول اور اپنے فوری فائدے سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر معاشرے نے اخلاقی اصولوں کے ساتھ قوانین بھی بنائے ہیں۔
ایک شخص کو یہ سمجھایا جاسکتا ہے کہ چوری گناہ ہے، لیکن ریاست اس کے ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ چوری کرو گے تو سزا ہوگی۔ اسے بتایا جاسکتا ہے کہ جھوٹی گواہی حرام ہے، لیکن عدالت یہ بھی کہتی ہے کہ جھوٹی گواہی دینے پر قانونی کارروائی ہوگی۔ اسے بتایا جاسکتا ہے کہ رشوت حرام ہے، مگر ریاست یہ بھی کہتی ہے کہ رشوت لینا اور دینا جرم ہے۔ یوں مذہب انسان کے اندر سے برائی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اور قانون باہر سے اس کے عمل کو محدود کرتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں دونوں کی اپنی اپنی جگہ ہے۔
یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی نجی زندگی میں کوئی ایسا اخلاقی فیصلہ کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان کا حق متاثر نہیں ہوتا تو وہ بنیادی طور پر اس کے ضمیر اور ذاتی زندگی کا معاملہ ہے۔ ریاست کو ہر گناہ کا پولیس کیس نہیں بنانا چاہیے۔ ہر اخلاقی کمزوری کو جرم قرار دینا بھی نہ آزادی کے لیے اچھا ہے اور نہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے۔ لیکن جب کسی انسان کا عمل دوسرے انسان کی جان، مال، عزت، آزادی یا جائز حق کو نقصان پہنچاتا ہے تو معاملہ محض ذاتی اخلاق کا نہیں رہتا۔ وہاں حقوق العباد سامنے آجاتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری شروع ہوجاتی ہے۔
رشوت اسی فرق کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے۔ ایک شخص رشوت لیتا ہے تو بظاہر یہ اس کا ایک ذاتی فعل معلوم ہوسکتا ہے، لیکن رشوت کا اصل نقصان اس شخص تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں کسی شہری کا جائز کام روکا جاتا ہے، کسی نااہل کو ناجائز فائدہ دیا جاتا ہے، کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم کیا جاتا ہے اور ریاستی اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے فروخت کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رشوت محض مذہبی گناہ نہیں بلکہ قانونی جرم بھی ہے۔ ہمارے مذہبی تصور میں بھی رشوت کی سخت مذمت موجود ہے اور ریاستی قانون بھی اسے جرم قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود رشوت کا ناسور کم ہونے کے بجائے بہت سے شعبوں میں بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
یہاں ہماری اجتماعی ناکامی کی ایک نہایت عجیب تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک شخص رشوت لیتا ہے، جانتا ہے کہ یہ غلط ہے، مذہبی اعتبار سے اسے گناہ سمجھتا ہے، شاید اس پر مذہبی بیان بھی سنتا ہے، مسجد بھی جاتا ہے، عبادت بھی کرتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان بھی سمجھتا ہے، لیکن اگلے دن اسی دفتر میں بیٹھ کر دوبارہ کسی شہری سے رشوت لیتا ہے۔ اس کے سامنے دو چیزیں موجود ہیں۔ایک مذہبی اخلاق جو اسے کہتا ہے کہ یہ کام نہ کرو، اور دوسرا قانون جو اسے کہتا ہے کہ یہ کام کرو گے تو سزا ہوگی۔ اگر وہ دونوں کو نظر انداز کرکے رشوت لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اس کا مذہبی شعور اس کے کردار کو روک سکا اور نہ قانون کا خوف اسے روک سکا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری اصل خرابی سامنے آتی ہے۔
ہم نے مذہب کو بڑی حد تک شناخت، عبادت اور وعظ کا معاملہ بنا دیا ہے اور قانون کو کتاب میں لکھی ہوئی دفعات کا۔ دونوں کے درمیان جو عملی پل ہونا چاہیے تھا وہ کمزور پڑ گیا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جھوٹ نہ بولو، مگر جھوٹ بولنے والے کو سماجی طور پر ہمیشہ قابل نفرت نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کرو، مگر سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال میں لانے والے کو ہمیشہ اخلاقی مجرم نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دوسروں کا حق نہ مارو، مگر سفارش کے ذریعے کسی کا حق چھیننے کو ہم اکثر کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ رشوت حرام ہے، مگر رشوت لینے والے کو بعض اوقات معاشرے میں کامیاب، بااثر اور صاحب حیثیت شخص سمجھا جاتا ہے۔ اس مقام پر مذہبی تعلیم اور اجتماعی رویے کے درمیان ایک خطرناک خلا پیدا ہوجاتا ہے۔
یہ خلا صرف مذہبی تعلیم کی کمی سے پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں مذہبی تعلیم اور مذہبی سرگرمی کی کمی نہیں۔ مساجد، مدارس، مذہبی اجتماعات، تبلیغی سرگرمیاں اور دینی خطابات معاشرے کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تبلیغی سرگرمیوں کی بڑی موجودگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مگر اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ جتنی زیادہ مذہبی سرگرمی ہوگی اتنا ہی معاشرہ لازماً اخلاقی ہوجائے گا تو ہمارا تجربہ اس مفروضے کی تائید نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تبلیغ یا مذہبی تعلیم بے فائدہ ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ مذہبی سرگرمی اور اجتماعی اخلاق ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
دنیا کے دوسرے معاشروں کو دیکھیں تو ہمیں ایک دلچسپ صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ فرانس جیسے معاشروں میں مذہبی عبادت اور چرچ سے وابستگی پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ فرانس میں بھی جرائم ہوتے ہیں، تشدد ہوتا ہے، چوری ہوتی ہے، جنسی جرائم ہوتے ہیں اور بہت سے دوسرے سماجی مسائل موجود ہیں۔ وہاں کوئی مثالی جنت قائم نہیں۔ لیکن وہاں ایک غیر مذہبی یا کم مذہبی شخص بھی روزمرہ زندگی میں قانون، شہری حقوق، معاہدے، قطار، ٹریفک، سرکاری نظم اور دوسرے انسان کے حق کا خیال رکھ سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر اخلاقی اصول کو مذہبی عقیدے سے اخذ کرے۔ اس کے پیچھے قانون، ادارے، سماجی تربیت اور ریاستی عمل داری موجود ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یورپ اچانک اخلاقی معاشرہ نہیں بن گیا اور نہ اس کی موجودہ صورت صرف لادینیت کا نتیجہ ہے۔ یورپی معاشروں کی تشکیل میں مذہبی روایت، رومن قانون، فلسفہ، روشن خیالی، انسانی حقوق کی تحریکوں، جمہوری جدوجہد، صدیوں کے سیاسی تجربات اور جدید ریاستی اداروں نے کردار ادا کیا ہے۔ آج وہاں جو شہری اخلاق نظر آتا ہے اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی عمل ہے جس میں اخلاقی اصولوں کو رفتہ رفتہ اداروں اور قوانین میں ڈھالا گیا۔
یہاں ہمارے لیے اصل سبق یہ نہیں کہ مذہب چھوڑ دو اور یورپ بن جاؤ۔ اصل سبق اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر ہمارا مذہب عدل، امانت، دیانت، رحم، سچائی اور حقوق العباد کی تعلیم دیتا ہے تو ہمیں ان اصولوں کو اپنی ریاست، عدالت، پولیس، انتظامیہ، بازار، سکول، ہسپتال اور روزمرہ شہری زندگی میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ صرف اس لیے کہ کوئی شخص مسلمان ہے، اس سے یہ ضمانت نہیں مل جاتی کہ وہ لازماً دیانت دار ہوگا۔ اسی طرح صرف اس لیے کہ کوئی شخص مذہبی نہیں، یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ لازماً بدکردار ہوگا۔ انسان کا عملی کردار اس کے عقیدے کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول، تربیت، مفاد، قانون اور سماجی احتساب سے بھی تشکیل پاتا ہے۔
اصل فرق شاید یہ ہے کہ کچھ معاشروں نے اخلاقی اصولوں کو اس حد تک قانون اور اداروں کا حصہ بنا دیا ہے کہ انسان کے ذاتی عقیدے سے قطع نظر اس کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہاں قانون کا خوف بھی کام کرتا ہے اور سماجی رویہ بھی۔ اگر کوئی شخص رشوت کو گناہ نہیں سمجھتا تب بھی اسے معلوم ہے کہ رشوت لینے پر کارروائی ہوسکتی ہے۔ اگر وہ خدا کے سامنے جواب دہی کا تصور نہیں رکھتا تب بھی وہ ریاست کے سامنے جواب دہ ہے۔ یہی قانون کی حکمرانی ہے۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہاں سامنے آتا ہے۔ ہمارے ہاں قوانین کی کمی ہمیشہ اصل مسئلہ نہیں۔ رشوت کے خلاف قانون موجود ہے، چوری کے خلاف قانون موجود ہے، قتل کے خلاف قانون موجود ہے، دھوکے کے خلاف قانون موجود ہے، اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قانون کتنی یقینی، غیر جانب دار اور مسلسل قوت کے ساتھ نافذ ہوتا ہے۔ اگر قانون موجود ہو لیکن طاقتور شخص اس سے بچ جائے، اثر و رسوخ رکھنے والا شخص اپنا راستہ نکال لے، مقدمہ برسوں چلتا رہے، گواہ دباؤ میں آجائے، تفتیش کمزور ہو اور سزا کا امکان غیر یقینی ہو تو قانون اپنی اخلاقی طاقت کھو دیتا ہے۔
انسان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ قانون کی کتاب میں کیا لکھا ہے؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ حقیقت میں قانون کس پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ایک عام آدمی کو معلوم ہو کہ غلطی کی قیمت اسے دینی پڑے گی لیکن بااثر شخص کو معلوم ہو کہ وہ سفارش، پیسے یا طاقت سے نکل سکتا ہے تو معاشرے میں قانون کے احترام کی جگہ قانون سے بچنے کی ذہنیت پیدا ہوتی ہے۔ پھر لوگ قانون کی پابندی کو اصول نہیں بلکہ مجبوری سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی کمزوری خود بد اخلاقی کو پیدا کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قانون کی حکمرانی محض عدالتوں یا پولیس کا مسئلہ نہیں۔ یہ دراصل اخلاقی معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب ریاست شہری کو یقین دلاتی ہے کہ اس کا حق طاقتور شخص بھی نہیں چھین سکتا تو ریاست شہری کے اندر انصاف پر اعتماد پیدا کرتی ہے۔ جب ایک رشوت خور افسر کو واقعی سزا ملتی ہے تو صرف ایک شخص سزا نہیں پاتا بلکہ پورے ادارے کو پیغام جاتا ہے کہ اختیار فروخت کرنے کی قیمت ہے۔ جب کسی بااثر شخص کو بھی وہی قانون بھگتنا پڑتا ہے جو عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے تو معاشرے میں قانون کی اخلاقی حیثیت مضبوط ہوتی ہے۔
یہاں ایک اور خطرناک مسئلہ مذہبی اخلاقیات کے نام پر پیدا ہوتا ہے۔ بعض لوگ گناہ کو ایک ایسا ذاتی معاملہ سمجھ لیتے ہیں جسے عبادت کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے، جبکہ انہوں نے جس انسان کا حق مارا ہوتا ہے وہ بدستور محروم رہتا ہے۔ اگر کسی نے کسی کا مال چرایا، کسی کا حق دبایا، کسی کو رشوت کے بغیر جائز کام نہیں کرنے دیا، کسی کی زمین ہتھیا لی یا کسی بے گناہ پر ظلم کیا تو محض اپنی ذاتی عبادت سے دوسرے انسان کا حق واپس نہیں آجاتا۔ حقوق العباد کا تصور اسی لیے انسانی معاشرت میں انتہائی بنیادی ہے۔ جس شخص کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اس کا حق بھی بحال ہونا چاہیے اور ظلم کرنے والے کو، جہاں قانون کا تقاضا ہو، جواب دہ بھی ہونا چاہیے۔
اس مقام پر مذہب اور قانون ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔ مذہب انسان کے اندر یہ احساس پیدا کرے کہ دوسرے انسان کا حق مقدس ہے اور قانون اس حق کی بیرونی حفاظت کرے۔ مذہب انسان کو بتائے کہ ظلم نہ کرو اور ریاست ظالم کو روکنے کی ذمہ داری پوری کرے۔ مذہب امانت کا درس دے اور قانون امانت میں خیانت کو قابل گرفت بنائے۔ مذہب رشوت کو گناہ کہے اور ریاست رشوت خور کو یہ یقین نہ ہونے دے کہ وہ قانون سے بچ سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی اخلاقیات حقیقی اجتماعی اخلاق میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اس کے برعکس اگر ہم صرف مذہبی تقریروں میں اخلاق تلاش کرتے رہیں اور قانون کو کمزور چھوڑ دیں تو ایک عجیب قسم کی دوہری زندگی پیدا ہوتی ہے۔ مسجد میں آدمی کچھ اور ہوتا ہے، دفتر میں کچھ اور، بازار میں کچھ اور، عدالت میں کچھ اور سیاسی یا سماجی مفاد کے وقت کچھ اور۔ پھر مذہب کردار کی مستقل قوت بننے کے بجائے ایک شناخت یا چند مخصوص اعمال تک محدود ہوجاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہبی دعویٰ اور عملی اخلاق ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قانون ہر برائی کا علاج نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں ہر شخص صرف سزا کے خوف سے اچھا بنے، حقیقی معنوں میں اخلاقی معاشرہ نہیں ہوگا۔ اخلاق کی ضرورت ہمیشہ رہے گی، کیونکہ قانون ہر لمحے انسان کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ کوئی قانون کسی شخص کے دل میں رحم پیدا نہیں کرسکتا، اسے مخلص دوست نہیں بنا سکتا، اچھا باپ نہیں بنا سکتا اور اسے اندر سے دیانت دار نہیں کرسکتا۔ یہ کام خاندان، تعلیم، مذہب، ثقافت اور ذاتی ضمیر کرتے ہیں۔ لیکن جب انسان کا عمل دوسرے انسان کے بنیادی حقوق کو نقصان پہنچانے لگے تو ریاست کو خاموش تماشائی بننے کا حق نہیں۔
اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ ہر اخلاقی مسئلے کا حل قانون بنا کر نکالا جائے۔ ریاست کا کام شہریوں کے ضمیر کی پولیسنگ کرنا نہیں بلکہ ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ ایک آزاد معاشرے میں انسان کو اپنے ذاتی عقیدے اور نجی زندگی کے بہت سے معاملات میں آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ لیکن کسی کو یہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے انسان کا حق چھینے، اس کا مال لوٹے، اس سے رشوت لے، اسے دھوکا دے یا اس پر ظلم کرے۔
سوال پھر وہیں آجاتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ کیا ہم کم مذہبی ہیں؟ ہمارے پاس مذہبی تعلیم کم ہے؟ کیا ہمیں مزید تبلیغ کی ضرورت ہے؟ کیا ہمیں مزید قوانین بنانے چاہییں؟ میرے خیال میں اصل مسئلہ ان میں سے کسی ایک چیز کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی تعلیم، عملی کردار اور قانون کی حکمرانی کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ ہے۔ ہم نے اخلاقی اصول تو بہت بیان کیے، مگر انہیں اجتماعی کردار میں تبدیل کرنے کا نظام کمزور رکھا۔ ہم نے قوانین تو بہت بنائے، مگر ان کے بلاامتیاز نفاذ کو یقینی نہیں بنایا۔ ہم نے مذہبی شناخت کو مضبوط رکھا، مگر مذہبی اخلاق کو روزمرہ حقوق العباد سے جوڑنے میں ناکام رہے۔
حل بھی اسی لیے صرف مزید وعظ یا مزید قانون میں نہیں بلکہ دونوں کے درست امتزاج میں ہے۔ گھر میں بچے کو سچائی، امانت اور دوسروں کے حق کا احترام سکھایا جائے؛ سکول میں شہری اخلاق کو صرف نصابی سبق نہ بنایا جائے بلکہ عملی تربیت کا حصہ بنایا جائے؛ مذہبی منبر پر عبادات کے ساتھ حقوق العباد، امانت، دیانت، رشوت، ملاوٹ، جھوٹی گواہی، سرکاری مال اور شہری ذمہ داری کو بھی مسلسل موضوع بنایا جائے؛ اور ریاست ایسا قانون نافذ کرے جس میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ راستے نہ ہوں۔ پولیس، انتظامیہ اور عدالتیں شہری کو یہ یقین دلائیں کہ اس کا حق کسی سفارش، رشوت یا طاقت کے مقابلے میں بے معنی نہیں۔ احتساب سیاسی انتقام نہیں بلکہ مستقل قانونی عمل ہو، اور سزا کا خوف شخص کے منصب، دولت یا تعلقات سے کم یا زیادہ نہ ہو۔
ہمیں یہ بھی قبول کرنا ہوگا کہ معاشرے کی اخلاقی اصلاح کا آغاز دوسروں کو مسلمان یا غیرمسلمان، دیندار یا بے دین قرار دینے سے نہیں ہوگا۔ آغاز اس سوال سے ہوگا کہ میں دوسرے انسان کے حق کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ اگر ایک مسلمان کی نماز اسے جھوٹ سے، اس کا روزہ اسے ظلم سے، اس کا حج اسے خیانت سے، اس کی تبلیغ اسے رشوت سے اور اس کا مذہبی شعور اسے دوسرے انسان کا حق مارنے سے نہیں روکتا تو پھر ہمیں اپنی مذہبیت کے ظاہری مظاہر سے زیادہ اپنے کردار کا احتساب کرنا ہوگا۔ اور اگر ایک غیر مذہبی شہری قانون کی پابندی کرتے ہوئے دوسرے انسان کے حق کا احترام کرتا ہے تو کم از کم اس مخصوص عمل میں وہ شہری اخلاق کا ایک ایسا تقاضا پورا کر رہا ہے جس کی تعلیم ہمارے مذہبی اخلاق میں بھی موجود ہے۔
ایک معاشرے کی اصل عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہاں کتنی مسجدیں ہیں، کتنے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں، کتنے لوگ مذہبی لباس پہنتے ہیں یا کتنے لوگ مذہب کے نام پر تقریریں کرتے ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی کمزور آدمی کا حق ایک طاقتور آدمی کے سامنے آتا ہے۔ اگر ریاست کمزور کے حق میں کھڑی ہوجائے، طاقتور کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنائے اور شہری کو یقین دلائے کہ انصاف خریدنا نہیں پڑے گا تو وہاں اخلاق صرف کتابوں اور تقریروں میں نہیں رہتا، معاشرے کی ساخت کا حصہ بن جاتا ہے۔
ہمیں شاید مذہب اور جدید ریاست میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے مذہبی اخلاق کو قانون کی حکمرانی کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ مذہب ضمیر کو زندہ کرے، خاندان اور تعلیم کردار بنائیں، معاشرہ دیانت کو عزت دے اور ریاست قانون کے ذریعے حقوق العباد کی حفاظت کرے۔ جب یہ چاروں قوتیں ایک سمت میں کام کریں گی تو اخلاق محض تقریر نہیں رہے گا۔
ورنہ صورت حال یہی رہے گی کہ رشوت خور رشوت بھی لے گا، مسجد بھی جائے گا، دعا بھی کرے گا، مذہبی گفتگو بھی کرے گا اور اگلے دن پھر کسی دوسرے انسان کا حق فروخت کرے گا۔ مسئلہ اس کی نماز نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے عمل سے متاثر ہونے والے انسان کا حق کہاں ہے۔ اور اگر ریاست اس حق کی حفاظت نہیں کرتی تو پھر ہماری مذہبی اخلاقیات بھی اس مظلوم کے لیے کافی نہیں رہتیں۔
اسی لیے پاکستان کا اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہم مذہبی ہیں یا غیر مذہبی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اخلاق کو کردار اور قانون کو یقینی طاقت نہیں بنایا۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہبی اخلاق کمزور پڑ جائیں، وہاں قانون کو مضبوط ہونا چاہیے؛ اور جہاں قانون مضبوط ہو، وہاں مذہب اور اخلاق انسان کو قانون کے خوف سے آگے بڑھ کر اچھا انسان بننے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ یہی امتزاج ایک ایسے معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں حقوق العباد صرف مذہبی کتابوں کا تصور نہیں بلکہ ریاست اور شہری زندگی کا زندہ اصول ہوں۔
مسئلہ ایک ہی ہے،کمزور قانون اور جھوٹا مذہبی اخلاق۔ اور علاج بھی دو ہی ہیں، حقیقی اخلاق اور بلاامتیاز قانون کی حکمرانی۔
واپس کریں