دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
واخان کاریڈور: بدخشان کی جنگ اور افغانستان کی نئی معاشی سمت
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں ایک ایسا مرحلہ شروع ہو رہا ہے جس میں سڑک، تجارت، معدنیات، علاقائی سیاست اور مسلح طاقت ایک دوسرے سے الگ موضوعات نہیں رہے۔ طالبان حکومت نے واخان راہداری میں بروغل سے چین کی سرحد کے زیرو پوائنٹ تک 121 کلومیٹر سڑک مکمل کرلی ہے۔ چار اکتوبر 2026 کو اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ افغان حکام کے مطابق سڑک کی تعمیر پر 365 ملین افغانی خرچ ہوئے ہیں۔ یہ ابھی جدید بین الاقوامی تجارتی شاہراہ نہیں بلکہ ایک بجری کی سڑک ہے اور اسے مکمل تجارتی راہداری میں تبدیل کرنے کے لیے مزید بنیادی ڈھانچے، سرحدی سہولتوں اور چین کی جانب سے ضروری انتظامات درکار ہوں گے، تاہم افغانستان کے لیے اس کی سیاسی اور معاشی اہمیت اس کی موجودہ حالت سے کہیں زیادہ ہے۔
واخان راہداری افغانستان کو چین کے ساتھ براہ راست زمینی رابطے کا امکان فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان اپنی بیرونی تجارت کے لیے صرف پاکستان کی بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر انحصار کرنے کے بجائے شمال اور مشرق کی طرف بھی راستے پیدا کرسکتا ہے۔ افغانستان پہلے ہی ایران، وسطی ایشیا اور چین کے ساتھ اپنے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بار بار پیدا ہونے والی سرحدی اور سیاسی کشیدگی، طورخم اور دوسرے گزرگاہوں کی بندش اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی اختلافات نے بھی کابل کو متبادل راستوں کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔
لیکن واخان کو صرف ایک تجارتی منصوبہ سمجھنا بدخشان کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔
جس صوبے میں یہ سڑک تعمیر ہوئی ہے، وہاں طالبان حکومت کو مسلح مخالفت، مقامی طاقت کے مراکز، معدنی وسائل پر تنازعات اور اپنے اہلکاروں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ 2026 میں بدخشان کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ افغانستان فریڈم فرنٹ اور بعض دوسرے مخالف مسلح گروہوں نے طالبان اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔ بعض علاقوں میں مقامی سطح پر مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اسی عرصے میں طالبان کے بعض اہم مقامی عہدیدار بھی ٹارگٹ حملوں میں مارے گئے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان تمام کارروائیوں کا براہ راست مقصد واخان سڑک کو روکنا ہے، کیونکہ ایسے دعوے کے لیے مخصوص واقعات اور ان کے محرکات کا قابل اعتماد ثبوت درکار ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ بدخشان میں ایک طرف چین تک نئی سڑک اور مستقبل کی تجارت و معدنیات کے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف اسی علاقے میں سیاسی اور مسلح کشمکش موجود ہے۔ جب کسی دور افتادہ علاقے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اچانک بڑھنے لگتی ہے تو وہاں ریاستی اختیار، مقامی طاقت اور وسائل پر کنٹرول کے سوال بھی زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔ بدخشان میں معدنیات کے حوالے سے طالبان حکومت اور مقامی طاقت کے مراکز کے درمیان کشمکش اسی وسیع مسئلے کا حصہ ہے۔
بدخشان افغانستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں معدنی وسائل کی بڑی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ سونا، لاجورد اور دوسری معدنیات پہلے ہی مقامی معیشت اور طاقت کے تعلقات پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ طالبان حکومت نے معدنی وسائل کو مرکزی انتظام کے تحت لانے اور ان سے سرکاری آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ مقامی سطح پر کان کنی سے وابستہ افراد اور بااثر گروہوں کے مفادات بھی موجود ہیں۔ اگر کسی علاقے میں معدنی دولت، نئی سڑک اور سرحدی تجارت ایک ہی وقت میں اہم ہوجائیں تو وہاں ریاستی کنٹرول کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کنٹرول کی مخالفت کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بدخشان میں جاری مسلح سرگرمیوں کو صرف ایک روایتی طالبان مخالف شورش کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد بڑے پیمانے کی جنگ میں واضح کمی آئی ہے اور طالبان نے ملک کے بیشتر حصے پر اپنا انتظامی اور عسکری کنٹرول قائم کرلیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام مکمل طور پر قائم ہوچکا ہے۔ داعش خراسان کی کارروائیاں، طالبان مخالف مسلح گروہوں کے حملے، بعض علاقوں میں مقامی تنازعات اور مختلف طبقات کی سیاسی شکایات اب بھی ریاستی نظم کے لیے مسائل پیدا کررہی ہیں۔
معاشی سرگرمی کے لیے یہ فرق بہت اہم ہے۔ ایک ملک میں حکومت کا موجود ہونا اور ایک ایسے ماحول کا موجود ہونا جس میں سرمایہ کار طویل مدت کے لیے سرمایہ لگانے پر آمادہ ہو، دو مختلف چیزیں ہیں۔ چین یا کسی دوسرے ملک کی کمپنی اگر کسی علاقے میں سڑک، کان، بجلی، ریل یا صنعتی منصوبہ بناتی ہے تو اسے صرف مرکزی حکومت کی اجازت نہیں چاہیے ہوتی؛ اسے یہ یقین بھی درکار ہوتا ہے کہ منصوبہ آنے والے برسوں میں محفوظ رہے گا، مقامی طاقت کے مراکز اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے، انتظامیہ تبدیل ہونے سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے اور تجارت کے راستے سیاسی یا عسکری تنازع کی وجہ سے بار بار بند نہیں ہوں گے۔
واخان کے معاملے میں یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ سڑک بنانا ایک مرحلہ ہے، اسے باقاعدہ تجارتی راستے میں تبدیل کرنا دوسرا، اور اس راستے کو مسلسل استعمال کے قابل بنانا تیسرا۔ اگر چین کے ساتھ سرحدی تجارت شروع ہوتی ہے، اگر معدنیات وہاں سے باہر جانے لگتی ہیں، اگر افغانستان میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور اگر وسطی ایشیا کے ساتھ رابطے وسیع ہوتے ہیں تو بدخشان کی معاشی اہمیت موجودہ سطح سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ اس صورت میں ریاست کو مقامی تنازعات، مسلح گروہوں اور وسائل کی تقسیم کے سوالات کو بھی اسی تناسب سے حل کرنا ہوگا۔
افغانستان کے لیے مسئلہ صرف بدخشان تک محدود نہیں۔ طالبان حکومت جس معاشی تصور کو آگے بڑھانا چاہتی ہے اس میں چین، وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان کے ساتھ مختلف زمینی راستوں کا استعمال شامل ہے۔ افغانستان ایک ایسی معیشت بننا چاہتا ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھا سکے۔ لیکن اس مقصد کے لیے صرف سڑکیں اور سرحدی گزرگاہیں کافی نہیں ہوتیں۔ افغانستان کو سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، سرمایہ کاری کا تحفظ، کسٹمز کا مؤثر نظام اور ایسی داخلی صورت حال درکار ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں معاشی منصوبوں کے لیے قابل قبول ماحول موجود ہو۔
یہیں طالبان کی سیاسی حکمت عملی کا اصل امتحان بھی ہے۔ انہوں نے افغانستان پر عسکری قبضہ حاصل کرنے کے بعد ریاستی اقتدار قائم کرلیا، مگر اب انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس اقتدار کو ایک مستحکم سیاسی اور معاشی نظام میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اگر کسی صوبے میں مرکزی حکومت کو اپنے ہی عہدیداروں کی حفاظت، مقامی کمانڈروں کے اختلافات، مسلح مخالفین اور وسائل پر تنازعات سے مسلسل نمٹنا پڑے تو بیرونی سرمایہ کاری اور علاقائی تجارت کے لیے ضروری اعتماد پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
بدخشان کے واقعات اسی بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ واخان کی سڑک چین کی طرف ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے، لیکن اس دروازے کے پیچھے افغانستان کی داخلی سیاست موجود ہے۔ اگر وہ سیاست مسلسل مسلح کشمکش کا شکار رہے تو نئی سڑک افغانستان کی معاشی مشکلات کا مکمل حل نہیں بن سکے گی۔
اس معاملے کا پاکستان سے تعلق بھی براہ راست ہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان کی طرف سے متبادل راستوں کی تلاش محض ایک تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی تبدیلی بھی ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے تک افغانستان کی بیرونی تجارت کے لیے سب سے اہم اور نسبتاً مختصر راستے فراہم کیے۔ کراچی کی بندرگاہوں سے طورخم اور چمن تک رسائی افغانستان کے لیے قدرتی تجارتی راستہ رہی ہے۔ لیکن جب دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی تنازعات بڑھتے ہیں، سرحدی گزرگاہیں بند ہوتی ہیں، ٹرانزٹ تجارت متاثر ہوتی ہے اور دونوں طرف کاروباری طبقہ غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے تو افغانستان کے لیے دوسرے راستوں کی معاشی قدر بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کا سکیورٹی مؤقف اپنی جگہ اہم ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہو تو ریاست کے لیے اپنی سرحد اور شہریوں کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن اس سکیورٹی مسئلے کا ایک معاشی نتیجہ بھی نکلتا ہے۔ جب تجارت مسلسل غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے تو تاجر متبادل راستہ تلاش کرتا ہے۔ ریاستیں بھی یہی کرتی ہیں۔ افغانستان نے ایران کی بندرگاہوں، وسطی ایشیائی راستوں اور اب چین کی سمت کو اسی وسیع تناظر میں اہمیت دینا شروع کی ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے سبق بھی موجود ہے اور افغانستان کے لیے بھی۔
پاکستان اگر افغانستان کو اپنی تجارت کے لیے استعمال ہونے والا راستہ فراہم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں تجارت سکیورٹی کے ساتھ چل سکے۔ افغانستان کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے کم انحصار کا مطلب یہ نہیں کہ چین یا ایران کی طرف جانے والا ہر نیا راستہ خود بخود کامیاب ہوجائے گا۔ اگر افغانستان کے اندر سیاسی کشمکش، مسلح مخالفت، مقامی طاقت کے تنازعات اور کمزور معاشی ادارے موجود رہیں تو نئے راستے بھی مطلوبہ معاشی نتائج نہیں دے سکیں گے۔
اسی لیے بدخشان میں واخان سڑک اور طالبان مخالف مسلح سرگرمیوں کو ایک ہی واقعے کے طور پر بیان کرنا درست نہیں، لیکن انہیں ایک ہی بڑے سوال کے دو پہلوؤں کے طور پر ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔ افغانستان ایک نئے علاقائی معاشی نقشے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس کے اندر ریاستی اختیار اور سیاسی استحکام کے سوال ابھی پوری طرح حل نہیں ہوئے۔ اگر طالبان حکومت ان دونوں مسائل کو بیک وقت حل کرلیتی ہے تو واخان جیسا منصوبہ افغانستان کے لیے ایک اہم معاشی موقع بن سکتا ہے۔ اگر داخلی کشمکش برقرار رہتی ہے تو نئی سڑکیں بننے کے باوجود تجارت، سرمایہ کاری اور معدنیات سے حاصل ہونے والے فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی معاملہ صرف یہ نہیں کہ افغانستان نے چین تک نیا راستہ کیوں بنایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان کو متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور پاکستان اپنے جغرافیائی فائدے کو مستقل معاشی فائدے میں تبدیل کیوں نہ کرسکا۔ اگر پاکستان کے پاس سمندر، بندرگاہیں، افغانستان تک مختصر زمینی راستہ، چین سے رابطہ اور جنوبی و وسطی ایشیا کے درمیان محل وقوع موجود ہے تو صرف نقشے پر اس جغرافیے کا موجود ہونا کافی نہیں۔ تجارت کو راستہ، راستے کو اعتماد، اور اعتماد کو مستقل پالیسی درکار ہوتی ہے۔
واخان کی سڑک ابھی پاکستان کے تجارتی راستوں کا متبادل نہیں بنی، لیکن اس کی اہمیت اسی میں ہے کہ افغانستان نے متبادل کے امکان کو عملی شکل دینا شروع کردیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل مقابلہ سڑکوں کا نہیں بلکہ ان راستوں کی قابل اعتماد حیثیت کا ہوگا۔ جو ملک تاجر کو کم لاگت، محفوظ سفر، تیز کسٹمز، مستحکم قوانین اور مسلسل رسائی دے گا، تجارت اسی راستے کو ترجیح دے گی۔
بدخشان میں آج کی صورتحال اسی بڑے علاقائی عمل کا ایک اہم اشارہ ہے۔ افغانستان اپنی جغرافیائی تنہائی کم کرنے کی کوشش کررہا ہے، چین اپنی معاشی رسائی بڑھانا چاہتا ہے، وسطی ایشیا سمندر تک نئے راستے تلاش کررہا ہے، ایران پاکستان کو بائی پاس کرنے والی تجارت کے لیے اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے اور پاکستان کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی برتری کو دوبارہ کس طرح عملی معاشی طاقت میں تبدیل کرے۔
واخان میں بننے والی سڑک اس عمل کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اس راستے کی اصل کامیابی اس دن معلوم ہوگی جب اس پر صرف گاڑیاں نہیں بلکہ مستقل تجارت، سرمایہ اور معاشی اعتماد بھی چلنے لگے۔ اس کے لیے افغانستان کو بدخشان سمیت اپنے مختلف علاقوں میں سیاسی استحکام اور ریاستی نظم مضبوط کرنا ہوگا، جبکہ پاکستان کو اپنے جغرافیے کو ایسی قابل اعتماد تجارتی سہولت میں تبدیل کرنا ہوگا جس کا متبادل تلاش کرنا پڑوسیوں کے لیے آسان نہ ہو۔
واپس کریں