خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا کے بچے صرف اس وقت ہمارے بچے نہیں ہوتے جب ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس کی خبر بن سکے۔ وہ اس وقت بھی ہمارے بچے ہوتے ہیں جب وہ گھر سے نکل کر کسی دکان، ورکشاپ، مدرسے، بازار، حجرے، اڈے، ہوٹل یا کسی ایسے مکان میں جاتے ہیں جہاں ان کی نگرانی اور حفاظت ہمارے اجتماعی نظام کی ذمہ داری بنتی ہے۔ وہ اس وقت بھی ہمارے بچے ہوتے ہیں جب غربت انہیں کم عمری میں روزی کمانے پر مجبور کرتی ہے، جب والدین انہیں کسی بااثر شخص کے سپرد کرتے ہیں، جب کوئی بڑا آدمی انہیں پیسے، تحفے، روزگار یا سرپرستی کے نام پر اپنے قریب کرتا ہے، اور اس وقت بھی جب بچہ کسی ایسے ظلم کے خلاف زبان کھولنے کی کوشش کرتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے اس کے پاس نہ الفاظ ہوتے ہیں نہ طاقت۔ خیبر پختونخوا میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال اور دوسرے جرائم کی موجودہ صورت حال کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا، کیونکہ یہ کسی ایک شہر، ایک ضلع، ایک طبقے، ایک جنس یا ایک مخصوص معاشرتی گروہ کا مسئلہ نہیں بلکہ بچے اور بالغ طاقت کے درمیان اس عدم توازن کا مسئلہ ہے جس میں کمزور فریق اکثر اپنی حفاظت بھی خود نہیں کر سکتا۔
اس مسئلے کی پہلی مشکل یہی ہے کہ ہمارے پاس جو اعداد و شمار موجود ہیں وہ حقیقت کا پورا حجم نہیں بتاتے۔ جو مقدمہ درج ہو گیا وہ ہمارے ریکارڈ میں آ گیا، جو خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہا وہ اعداد و شمار سے باہر چلا گیا، جو بچہ کسی بااثر شخص کے دباؤ میں رہا اس کی آواز کہیں درج نہیں ہوئی، اور جو واقعہ خاندان، مدرسے، محلے یا جرگے کی سطح پر دبا دیا گیا وہ ریاستی ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنا۔ خود خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے 2020 میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات کے حوالے سے کہا تھا کہ پہلے بہت سے واقعات سماجی ممنوعات اور بدنامی کے خوف سے چھپائے جاتے تھے اور رپورٹنگ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں صوبے میں بچوں کے جنسی استحصال کے 182 مقدمات درج ہوئے اور 235 ملزمان گرفتار کیے گئے۔ ان مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان 34 واقعات کے ساتھ سب سے اوپر تھا، پشاور 26، مردان 19 اور سوات 17 واقعات کے ساتھ نمایاں تھے۔ لکی مروت میں چار اور بنوں میں تین مقدمات درج ہوئے۔ اسی عرصے میں جنسی تشدد کے بعد قتل کے چار مقدمات بھی سامنے آئے۔
یہ صرف پانچ یا چھ سال پرانا عدد سمجھ کر نظر انداز کرنے والی بات نہیں، کیونکہ اس کے بعد بھی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ 2022 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کو پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے 2021 کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 127 مقدمات سامنے آئے، جبکہ پشاور میں 120 واقعات ریکارڈ ہوئے۔نوشہرہ میں بھی اسی عرصے میں 84 مقدمات سامنے آئے۔ 2019 کے دستیاب پولیس اعداد و شمار میں صوبے کے 20 اضلاع میں بچوں کے جنسی استحصال اور قتل کے 188 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان میں 137 متاثرہ بچے لڑکے اور 51 لڑکیاں تھیں۔ اسی رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے کمزور استغاثے اور ملزمان کے سزا سے بچ نکلنے کی نشاندہی بھی ہوئی تھی۔
اس کے بعد صورت حال میں کمی کی کوئی ایسی تصویر سامنے نہیں آتی جس سے معاشرہ مطمئن ہو سکے۔ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے پہلے چھ ماہ میں صوبے میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے 402 واقعات ریکارڈ ہوئے، جبکہ پورے 2024 میں یہ تعداد 392 تھی۔ ان چھ ماہ کے 402 واقعات میں 40 بچے لاپتا ہونے، 40 جنسی استحصال، 17 چائلڈ لیبر، 16 جبری بھیک منگوانے، 13 جسمانی تشدد، سات قتل اور دو بچوں کی فحش تصاویر سے متعلق واقعات شامل تھے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اعداد و شمار رپورٹ شدہ واقعات کے ہیں، پورے صوبے میں ہونے والے تمام واقعات کے نہیں۔
یہاں لڑکوں کے مسئلے کو الگ سے سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال پر ہونے والی بحث طویل عرصے تک لڑکیوں کے گرد گھومتی رہی، حالانکہ دستیاب اعداد و شمار بار بار یہ دکھاتے ہیں کہ لڑکے بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوتے ہیں۔ 2024 میں ملک بھر میں بچوں کے جنسی استحصال، اغوا، لاپتا ہونے اور کم عمری کی شادی کے 3,350 سے زیادہ رپورٹ شدہ واقعات میں 1,573 متاثرین لڑکے تھے، یعنی مجموعی تعداد کا تقریباً 47 فیصد۔ جنسی استحصال کے 1,828 مقدمات میں دونوں جنسیں تقریباً برابر متاثر ہوئیں۔ اسی سال پاکستان کے رپورٹ شدہ بچوں کے استحصال کے واقعات میں خیبر پختونخوا کا حصہ چار فیصد تھا۔
خیبر پختونخوا کے بارے میں حالیہ علمی تحقیق اس مسئلے کو مزید سنجیدہ بناتی ہے۔ مئی 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی مطالعے میں مینگورہ، سوات میں 45 خواجہ سرا افراد کے انٹرویوز کیے گئے جنہوں نے اپنی کم عمری کے تجربات بیان کیے۔ تحقیق نے بچہ بازی کو غربت، معاشی غیر یقینی، عمر، طبقے، جنس اور طاقت کے عدم توازن سے جوڑا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ بعض کم عمر لڑکے بڑے مردوں کے ساتھ ایسے لین دین پر مبنی جنسی تعلقات میں دھکیلے گئے جن میں ان کے پاس حقیقی اختیار بہت محدود تھا۔ اس تحقیق کا دائرہ جنوبی اضلاع یا پورے صوبے کا شماریاتی سروے نہیں تھا، اس لیے اسے پورے خیبر پختونخوا میں بچہ بازی کی شرح قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ لیکن یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ کم عمر لڑکوں کے جنسی استحصال کا مسئلہ خیبر پختونخوا میں علمی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے اور اسے محض افواہ یا کسی ایک حالیہ دعوے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اسی سلسلے میں 2023 کی ایک تحقیقی کاوش نے پشاور میں بچوں کے جنسی استحصال کے سماجی و معاشی عوامل کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں 50 بچوں کے نمونے میں 96 فیصد انتہائی غریب تھے، 78 فیصد سکول میں داخل نہیں تھے، 98 فیصد روزگار کی تلاش یا آمدنی کے لیے گھروں سے باہر نکلتے تھے اور 76 فیصد نے والدین کی مناسب توجہ سے محرومی بیان کی۔ یہ ایک محدود تحقیقی نمونہ ہے اور اسے پورے صوبے کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن یہ اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ غربت، سکول سے باہر ہونا، کمزور خاندانی نگرانی اور کم عمری میں معاشی سرگرمی بچے کو ایسے ماحول میں پہنچا سکتی ہے جہاں طاقتور بالغ کے لیے اس کا استحصال آسان ہو جاتا ہے۔
بچے کے استحصال کا مسئلہ صرف جنسی عمل تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ دھمکی، بلیک میلنگ، اغوا، تشدد، فحش مواد بنانا، پیسے کا لالچ، روزگار یا سرپرستی کا جھانسہ، خاندان کو دباؤ میں لانا اور بعض صورتوں میں قتل بھی جڑ سکتا ہے۔ 2025 میں پشاور کی ایک چائلڈ پروٹیکشن عدالت نے ایک کم عمر لڑکے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں ملزم کو سزائے موت اور اغوا کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی۔ مقدمے کی تفصیلات میں بچے کی گمشدگی، لاش کی برآمدگی اور طویل تفتیش کا ذکر موجود ہے۔ ایسے مقدمات ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ بچے کے خلاف جرم کبھی صرف ایک لمحے کا تشدد نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے اغوا، ثبوت چھپانا، خاندان کی بے بسی اور انصاف تک پہنچنے کا طویل راستہ بھی ہو سکتا ہے۔
بعض حالات میں بچے کی مزاحمت بھی خطرہ بن جاتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر قتل یا تشدد کا سبب بچے کا انکار ہوتا ہے، لیکن انسانی حقوق کے ریکارڈ میں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں جنسی تعلق یا استحصال سے انکار، مزاحمت یا مخالفت کے بعد تشدد ہوا۔ 2022 میں پشاور میں خواجہ سرا افراد پر حملے کے بارے میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی تحقیق کے مطابق متاثرین میں سے ایک نے ملزم کو اپنی ٹیم کے ایک کم عمر رکن کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد فائرنگ میں چار خواجہ سرا اور ایک شخص زخمی ہوئے۔ انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعے کو خواجہ سرا افراد کے خلاف وسیع تر تشدد کے تناظر میں دیکھا اور پولیس کے رویے، تحفظ اور تحقیقات پر بھی سوال اٹھائے۔
یہاں سے ہمیں اقبال پلازہ پشاور کی طرف آنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ عمارت صرف ایک عمارت نہیں رہی۔ برسوں سے یہ خواجہ سرا برادری کے رہنے کی ایک نمایاں جگہ، سماجی تنہائی، روزگار، صحت، تشدد، پولیس کارروائی اور شہری تعصب کے سوالات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ 2016 کی ایک تفصیلی رپورٹ میں اقبال پلازہ اور اس کے قریب واقع علاقوں میں بڑی تعداد میں خواجہ سرا افراد کی رہائش، کم عمر نوجوانوں کی موجودگی اور ایچ آئی وی کے بارے میں سنگین دعوے رپورٹ ہوئے تھے۔ اس رپورٹ میں دعووں اور سرکاری اعداد و شمار کے درمیان واضح فرق بھی موجود تھا، اس لیے اس وقت کے تمام دعووں کو آج کی ثابت شدہ حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بات اہم ہے کہ اقبال پلازہ کے بارے میں صحت، جنسی استحصال اور پولیس نگرانی کے سوالات آج کے نہیں بلکہ کم از کم ایک دہائی سے موجود ہیں۔
اس جگہ کے بارے میں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت بھی یہی ہے۔ اقبال پلازہ میں رہنے والے تمام خواجہ سرا افراد کو کسی جرم، جنسی کاروبار، منشیات یا کسی غیر قانونی سرگرمی سے جوڑ دینا نہ قانونی طور پر درست ہے نہ انسانی طور پر۔ 2024 میں پشاور کی بلدیاتی حکومت میں اقبال پلازہ کو خالی کرانے کی قرارداد کی بات سامنے آئی، جبکہ اسی دوران خواجہ سرا نمائندوں نے کہا کہ انہیں معاشرے میں دوسری جگہ رہائش نہیں ملتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمارت خود مسئلے کا مکمل نام نہیں؛ اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسا طبقہ جسے عام رہائشی علاقوں میں قبولیت نہیں ملتی، وہ محدود جگہوں میں مجتمع ہو جاتا ہے اور پھر وہی جگہیں پولیس، مقامی سیاست، شہری شکایات، روزگار اور انسانی حقوق کے تنازع کا مرکز بن جاتی ہیں۔
اقبال پلازہ کا دوسرا رخ صحت کا ہے۔ جولائی 2026 میں خیبر پختونخوا کے وزیر صحت نے بتایا کہ صوبے میں 10,655 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جبکہ حکومتی اندازے کے مطابق اصل تعداد تقریباً 39 ہزار ہو سکتی ہے۔ رجسٹرڈ افراد میں 7,721 مرد، 2,684 خواتین اور 250 خواجہ سرا شامل تھے۔ دوسری طرف 2026 میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک خیبر پختونخوا میں 111 بچے ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے؛ 2025 میں 90، جن میں 52 لڑکے اور 38 لڑکیاں تھیں، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 21 بچے رجسٹرڈ ہوئے، جن میں 14 لڑکے اور سات لڑکیاں تھیں۔
ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ایک ضروری احتیاط بھی کرنی ہوگی۔ ایچ آئی وی کی موجودگی کسی مخصوص جنسی جرم کا ثبوت نہیں ہوتی۔ یہ وائرس متعدد طبی راستوں سے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی علاقے میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد کو وہاں ہونے والے جنسی جرائم کا براہ راست ثبوت قرار دینا سائنسی اور صحافتی دونوں اعتبار سے غلط ہوگا۔ لیکن یہی اعداد و شمار حکومت کے لیے یہ سوال ضرور پیدا کرتے ہیں کہ زیادہ خطرے والے علاقوں، کم عمر افراد، خواجہ سرا برادری، منشیات استعمال کرنے والوں، جنسی استحصال کے ممکنہ متاثرین اور عام آبادی کے درمیان صحت کی نگرانی، تشخیص، علاج اور آگاہی کا نظام کتنا مؤثر ہے۔ اقبال پلازہ کے بارے میں 2025 میں رپورٹ ہونے والے سرکاری پروگرام سے متعلق اعداد و شمار میں وہاں 197 خواجہ سرا افراد کے ایچ آئی وی مثبت پائے جانے کا ذکر بھی ہوا تھا۔ یہ ایک مخصوص پروگرام کے دوران سامنے آنے والی تعداد تھی، اسے اقبال پلازہ کی پوری آبادی یا پورے صوبے کے لیے شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا، مگر اسے نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
اقبال پلازہ کا تیسرا رخ تشدد ہے۔ مارچ 2024 میں پلازے کے باہر فائرنگ میں ایک خواجہ سرا قتل اور دو زخمی ہوئے جبکہ ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا۔ پولیس نے قریبی عمارتوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ حاصل کرکے تحقیقات شروع کیں۔ اس سے دو دن پہلے بھی اسی علاقے میں ایک خواجہ سرا پر فائرنگ کی اطلاع دی گئی تھی۔ اپریل 2026 میں اقبال پلازہ کے قریب ایک خواجہ سرا کو مبینہ بھتہ طلبی کے بعد فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی، جبکہ مختلف رپورٹس میں واقعے کے محرک کے بارے میں مختلف باتیں سامنے آئیں، اس لیے حتمی عدالتی نتیجے سے پہلے کسی ایک محرک کو قطعی حقیقت کہنا درست نہیں۔
یہ سلسلہ صرف قتل تک محدود نہیں۔ 2025 میں اقبال پلازہ کے رہائشی خواجہ سرا افراد نے پولیس پر ہراساں کرنے، رقم چھیننے، لوگوں کو روکنے، کمروں میں داخل ہونے اور جسمانی و ذہنی بدسلوکی کے الزامات لگائے۔ دوسری طرف پولیس کارروائی کے پس منظر میں علاقے میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کی شکایات کا ذکر ہوا۔ یہاں بھی دونوں طرف کے دعووں کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی جگہ جرم ہو رہا ہے تو پولیس کو کارروائی کا قانونی اختیار ہے، لیکن کسی پوری برادری کو مجرم سمجھ لینا قانون کی حکمرانی نہیں۔ اسی طرح اگر پولیس کے کسی اہلکار پر زیادتی کا الزام ہو تو اس الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی کسی عام شہری کے جرم کی تحقیقات۔
اس پورے معاملے میں ایک اور خطرناک خلا خواجہ سرا بچوں کا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2022 میں سفارش کی تھی کہ خیبر پختونخوا کا بچوں کے تحفظ کا کمیشن 18 سال سے کم عمر خواجہ سرا افراد کی رجسٹریشن شروع کرے۔ یہ سفارش معمولی نہیں۔ اگر کسی خواجہ سرا بچے کو گھر سے نکال دیا جائے، وہ اقبال پلازہ یا کسی دوسرے شہری مرکز میں پہنچ جائے، تعلیم سے باہر ہو، کسی بالغ کے زیر اثر ہو یا جنسی استحصال کا شکار ہو تو وہ بیک وقت کئی حفاظتی نظاموں سے باہر جا سکتا ہے۔ ایسے بچے کے لیے صرف پولیس کافی نہیں؛ بچوں کا تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش، سماجی بہبود اور قانونی امداد سب کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔
خیبر پختونخوا میں اس مقصد کے لیے قانون پہلے سے موجود ہے۔ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 بچوں کو تحفظ، نگہداشت، بحالی اور دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ 2026 میں منظور ہونے والی صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی نے اسی نظام کو مزید وسیع کرتے ہوئے بدسلوکی، تشدد، غفلت، استحصال، چائلڈ لیبر، بھیک منگوانے، جنسی استحصال، کم عمری کی شادی اور دوسرے خطرات سے تحفظ، بروقت نشاندہی، رپورٹنگ، کیس مینجمنٹ، بحالی اور نگرانی کے نظام کی بات کی ہے۔
وفاقی قانون بھی بچے کی عمر اور تحفظ کے بارے میں واضح ہے۔ انسدادِ زیادتی قانون 2021 میں بچے سے مراد 18 سال سے کم عمر لڑکا یا لڑکی لیا گیا ہے اور اس قانون نے جنسی جرائم کی تفتیش اور سماعت کے لیے خصوصی طریقہ کار، خصوصی تفتیشی ٹیموں اور خصوصی عدالتوں کا نظام فراہم کیا ہے۔ اسی قانون کے دائرے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 371 اے، 371 بی، 377 اے اور 377 بی سمیت متعدد جنسی جرائم شامل کیے گئے ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ میں 371 اے کسی شخص کو جسم فروشی کے مقصد کے لیے فروخت کرنے اور 371 بی خریدنے یا حاصل کرنے سے متعلق ہے، جبکہ 377 اے بچوں سمیت 18 سال سے کم عمر افراد کے جنسی استحصال سے متعلق ہے اور 377 بی اس کی سزا بیان کرتی ہے۔
یہاں قانون کی ایک بنیادی بات ہمارے معاشرتی رویے سے ٹکراتی ہے۔ بچہ کسی بالغ کے سامنے قانونی، معاشی یا جسمانی طور پر برابر فریق نہیں ہوتا۔ اس لیے ’’اس نے خود رضامندی ظاہر کی تھی‘‘ جیسی دلیل کم عمر بچے کے معاملے میں بالغ شخص کو اخلاقی یا قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی۔ پاکستان کا آئین شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور مساوی تحفظ دیتا ہے اور ریاست کو بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 بچوں کے لیے خصوصی تحفظ کی گنجائش دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 25 اے پانچ سے سولہ سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر ڈالتا ہے۔
اسی طرح خواجہ سرا افراد کے لیے بھی پاکستان میں قانون موجود ہے۔ 2018 کے قانون کا مقصد خواجہ سرا افراد کے حقوق کا تحفظ، ان کے خلاف امتیاز کی روک تھام، فلاح، بحالی اور قانونی شناخت کو یقینی بنانا ہے۔ قانون موجود ہونے کے باوجود اگر کوئی خواجہ سرا شخص بار بار حملے کا نشانہ بنے، پولیس کے خلاف شکایت کرے، رہائش سے محروم ہو یا عدالت کو مداخلت کرنا پڑے تو مسئلہ قانون کی عدم موجودگی سے زیادہ قانون کے نفاذ کا بن جاتا ہے۔
اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 2019 سے 2023 تک خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد کے 267 مقدمات درج ہوئے، لیکن ان میں صرف ایک مقدمے میں سزا ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ سال بہ سال مقدمات کی تعداد 2019 میں 17، 2020 میں 40، 2021 میں 61، 2022 میں 88 اور 2023 میں 61 رہی۔ یہ اعداد و شمار کسی برادری کے بارے میں اخلاقی فیصلہ نہیں بلکہ فوجداری نظام کے لیے ایک سوال ہیں۔ اگر مقدمات درج ہوتے ہیں لیکن سزائیں نہ ہونے کے برابر رہیں تو متاثرہ شخص ریاست پر اعتماد کیسے کرے گا؟
2025 میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی رپورٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں بچوں کے خلاف تشدد، جنسی جرائم اور تحفظ کے نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ اسی عرصے میں انسانی حقوق کمیشن نے خواجہ سرا افراد کے خلاف پولیس ہراسانی کے الزامات پر پشاور ہائی کورٹ میں جاری کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ عدالت نے پولیس کے اعلیٰ افسر سے جواب طلب کیا تھا۔ اس سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف سڑک یا بازار تک محدود نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے طرز عمل اور جواب دہی تک بھی پہنچتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں قانون ہے یا نہیں۔ قانون ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ موجود ہے، پاکستان پینل کوڈ موجود ہے، انسدادِ زیادتی قانون موجود ہے، خواجہ سرا افراد کے حقوق کا قانون موجود ہے، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی موجود ہے اور 2026 میں جنسی تشدد کے خلاف صوبائی سطح پر ایک نیا مربوط فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے جس میں پولیس، صحت، استغاثہ، عدلیہ، تعلیم اور سماجی بہبود کے اداروں کو ایک مشترکہ نظام میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس فریم ورک نے خود تسلیم کیا کہ جنسی تشدد کے واقعات کم رپورٹ ہوتے ہیں، مقدمات کی پیروی کمزور رہتی ہے اور متاثرین کو بدنامی اور ادارہ جاتی عدم ربط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنے قانون اور اداروں کے باوجود بچہ محفوظ کیوں نہیں؟
اس کا جواب شاید کسی ایک پولیس افسر، کسی ایک حکومت، کسی ایک خاندان یا کسی ایک ادارے میں نہیں ملے گا۔ مسئلہ اس پورے سماجی ڈھانچے میں ہے جس میں بچے کی آواز کو بالغ کی عزت سے کم سمجھا جاتا ہے۔ جس گھر میں بچہ کہتا ہے کہ فلاں شخص اسے اکیلے بلاتا ہے اور جواب ملتا ہے کہ ’’وہ تو ہمارا محسن ہے‘‘، جہاں بچہ مدرسے یا سکول میں کسی استاد سے خوف محسوس کرتا ہے مگر اسے شکایت کرنے پر بدنامی کا ڈر دکھایا جاتا ہے، جہاں غریب گھر کا لڑکا کسی امیر شخص کے ساتھ رہتا ہے اور خاندان اسے روزگار سمجھتا ہے، جہاں خواجہ سرا بچہ گھر سے نکالے جانے کے بعد کسی ایسے گروہ میں پناہ لیتا ہے جہاں بالغ افراد خود استحصال کا شکار ہیں، وہاں جرم صرف مجرم نہیں پیدا کرتا؛ معاشرہ بھی خاموشی کے ذریعے اس کے لیے جگہ بناتا ہے۔
اسی خاموشی کی ایک شکل یہ ہے کہ ہم بچے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے وہاں جانا کیوں قبول کیا، اس نے پیسے کیوں لیے، اس نے کسی بڑے شخص کے ساتھ وقت کیوں گزارا، اس نے پہلے کیوں نہیں بتایا، اس نے شور کیوں نہیں مچایا۔ ہم یہ سوال کم پوچھتے ہیں کہ ایک بالغ شخص نے بچے کو اپنی طرف کیوں بلایا، اسے الگ کیوں کیا، اس پر اثر و رسوخ کیوں استعمال کیا، اسے ڈرایا کیوں، اسے پیسے کیوں دیے اور اس کی کم عمری کو اپنی طاقت کے لیے کیوں استعمال کیا۔
بچے کے لیے غربت جرم نہیں، بھوک جرم نہیں، سکول سے باہر ہونا جرم نہیں، کمزور خاندان سے تعلق جرم نہیں، خواجہ سرا ہونا جرم نہیں اور کسی طاقتور شخص کے سامنے کمزور ہونا بھی جرم نہیں۔ جرم اس بالغ کا ہے جو بچے کی کمزوری کو اپنے اختیار کا راستہ بناتا ہے۔
اسی لیے خیبر پختونخوا کو اب ایک نئے طرز کی تحقیق کی ضرورت ہے۔ صرف اخباری مقدمات گننے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر ضلع میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات، ایف آئی آر، چالان، زیر سماعت مقدمات، بریت، سزا، اپیل، متاثرہ بچوں کی عمر اور جنس، ملزم اور بچے کا تعلق، مقدمے میں تاخیر، طبی معائنے کا وقت، فرانزک شواہد، بچوں کے لاپتا ہونے کی شکایات اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی کارروائی کو ایک مربوط نظام میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہسپتالوں، ایچ آئی وی مراکز، سکولوں، مدارس، صنعتی علاقوں، بس اڈوں، بازاروں اور ایسے مقامات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جہاں کم عمر بچے بڑی تعداد میں موجود رہتے ہیں۔
اور اگر حکومت واقعی جاننا چاہتی ہے کہ ’’چوکرا منڈی‘‘ جیسی اطلاعات میں حقیقت کتنی ہے تو اس کا طریقہ بھی موجود ہے۔ دعوے کرنے والے شخص کے پاس موجود مواد کا فرانزک جائزہ لیا جائے، مقام کی شناخت کی جائے، ویڈیوز میں موجود افراد کی شناخت محفوظ طریقے سے کی جائے، متعلقہ اضلاع کے پولیس ریکارڈ کا موازنہ کیا جائے، بچوں کے لاپتا ہونے کے ریکارڈ دیکھے جائیں، عدالتوں میں ایسے مقدمات تلاش کیے جائیں، صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جائے اور ان علاقوں میں بچوں سے متعلق خفیہ اور محفوظ طریقے سے معلومات جمع کی جائیں۔ اگر دعویٰ غلط ہے تو ریاست اسے ثبوت کے ساتھ غلط ثابت کرے۔ اگر درست ہے تو پھر اسے صرف ایک خبر نہیں بلکہ بچوں کے خلاف منظم جرم سمجھ کر کارروائی کی جائے۔
لیکن اس تحقیق میں سب سے پہلی شرط بچے کی عزت اور شناخت کا تحفظ ہونا چاہیے۔ جس بچے پر ظلم ہوا ہے اسے دوبارہ تماشہ نہ بنایا جائے۔ اس کا نام، تصویر، ویڈیو، سکول، گھر، والدین یا ایسی کوئی علامت ظاہر نہ کی جائے جس سے اس کی شناخت ہو سکے۔ پاکستان پینل کوڈ میں بھی جنسی جرائم کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر قانونی پابندی موجود ہے۔
خیبر پختونخوا نے 2026 میں چائلڈ پروٹیکشن پالیسی منظور کرکے ایک موقع پیدا کیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ نہیں کہ پالیسی کتنی خوب صورت لکھی گئی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ بنوں کے بچے، ڈیرہ اسماعیل خان کے بچے، لکی مروت کے بچے، سوات کے بچے، پشاور کے بچے، مردان کے بچے، قبائلی اضلاع کے بچے اور صوبے کے ہر دور افتادہ علاقے کا بچہ اس پالیسی سے عملی طور پر کیا حاصل کرتا ہے۔ کیا وہ شکایت کر سکتا ہے؟ کیا اس کی بات پر یقین کیا جاتا ہے؟ کیا اسے خطرے سے نکالا جاتا ہے؟ کیا اسے دوبارہ اسی ماحول میں واپس بھیجنے کے بجائے محفوظ کیا جاتا ہے؟ کیا مقدمہ چلتا ہے؟ کیا مجرم کو سزا ملتی ہے؟ اور کیا بچہ اس سارے عمل کے بعد بھی عزت کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ کیونکہ ریاست قانون بنا سکتی ہے، پولیس مقدمہ درج کر سکتی ہے، عدالت سزا دے سکتی ہے اور ہسپتال علاج کر سکتا ہے، لیکن بچے کی پہلی پناہ پھر بھی معاشرہ اور خاندان ہی ہوتے ہیں۔ اگر وہیں اسے خاموشی، خوف اور شرمندگی ملے تو باقی پورا نظام دیر سے پہنچتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی تاریخ میں جنگیں آئیں، دہشت گردی آئی، نقل مکانی ہوئی، غربت بڑھی، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، سیلاب آئے اور معاشرتی ڈھانچے پر مسلسل دباؤ پڑا۔ ایسے حالات میں بچوں کے خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ بے گھر، غریب، سکول سے باہر اور خاندانی تحفظ سے محروم بچے استحصال کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کا تحفظ صرف جرائم کی روک تھام نہیں بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، سماجی بہبود، رہائش، ذہنی تحفظ اور انصاف کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کسی ایک برادری کو قربانی کا بکرا بنا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اقبال پلازہ کو بند کر دینے سے اگر خواجہ سرا افراد بے گھر ہو جائیں تو مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ کسی مدرسے پر الزام لگا کر تمام مدارس کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ کسی سکول کے استاد کے جرم سے پورا تعلیمی نظام مجرم نہیں بنتا۔ کسی حجرے، بازار یا گھر میں جرم ہو تو جرم کرنے والے کو قانون کے سامنے لانا ہوگا۔ اجتماعی شناختوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا انصاف نہیں، بلکہ بعض اوقات اصل مجرم کو بھیڑ کے پیچھے چھپا دینے کا طریقہ بن جاتا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بچے کے بارے میں اپنی پوری سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بچہ خاندان کی ملکیت نہیں، کسی استاد کی ملکیت نہیں، کسی پیر یا سرپرست کی ملکیت نہیں، کسی بااثر شخص کی ملکیت نہیں اور نہ ہی معاشرے کی عزت بچانے کے لیے قربان کیے جانے والی کوئی چیز ہے۔ وہ ایک مکمل انسان ہے، اگرچہ عمر میں چھوٹا ہے۔ اس کا جسم اس کا ہے، اس کی عزت اس کی ہے، اس کا مستقبل اس کا ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔
بچہ جب ’’نہیں‘‘ کہتا ہے تو اس ’’نہیں‘‘ کی اہمیت اس کی عمر سے کم نہیں ہو جاتی۔ جب وہ کسی بڑے شخص سے ڈرتا ہے تو اس خوف کو نافرمانی نہیں کہا جا سکتا۔ جب وہ کسی واقعے کے بعد خاموش رہتا ہے تو اس خاموشی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب غربت اسے کسی کے پاس لے جاتی ہے تو غربت اس بالغ شخص کو کوئی حق نہیں دیتی کہ وہ بچے کی کمزوری خرید لے۔ اور جب ایک بچہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے تو معاشرے کا پہلا کام اسے خاموش کرانا نہیں بلکہ اس کے گرد حفاظت کا حصار بنانا ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں بڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں طاقتور آدمی بچے سے اپنی مرضی منوا سکے اور خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہے، یا ایسی دنیا میں جہاں بچے کی ایک شکایت پورے نظام کو حرکت میں لے آئے؟
اگر ہم واقعی مہذب معاشرہ ہیں تو اس سوال کا جواب تقریروں سے نہیں، اعداد و شمار سے، ایف آئی آر سے، عدالتوں کے فیصلوں سے، سزا کی شرح سے، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی کارکردگی سے، ہسپتالوں کے ریکارڈ سے، سکولوں میں تحفظ کے نظام سے اور سب سے بڑھ کر اس بچے کی محفوظ زندگی سے ملنا چاہیے جو آج بھی شاید کسی کمرے، دکان، مدرسے، بازار، حجرے یا کسی بااثر شخص کے سائے میں خاموش بیٹھا ہے اور صرف اس انتظار میں ہے کہ کوئی بالغ اس کی بات سن لے۔
وہ بچہ ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کب بولے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے بولنے سے پہلے اسے محفوظ کر سکتے ہیں؟
واپس کریں