دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شولگرہ میں پانی کا بحران، فصلیں اور کسان خطرے میں
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
چارسدہ: شولگرہ میں آبپاشی کے پانی کی موجودہ قلت محض چند کھیتوں کا مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے زرعی علاقے کے لیے خطرے کی علامت ہے جہاں زمین، پانی اور کاشت کاری ایک دوسرے سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ کسانوں کے مطابق پانی کی مسلسل عدم دستیابی کے باعث گنے سمیت تیار فصلیں متاثر ہورہی ہیں اور اگر صورتحال فوری طور پر بہتر نہ ہوئی تو بعض زرعی زمینوں کے بنجر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
چارسدہ کو خیبر پختونخوا کے اہم زرعی اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق ضلع میں تقریباً 76 ہزار ہیکٹر زمین زیرِ کاشت ہے جبکہ تقریباً 68 ہزار ہیکٹر رقبہ آبپاشی کے نظام سے منسلک ہے۔ ضلع میں گندم، مکئی، چاول، آلو، سبزیاں اور گنے سمیت متعدد اہم فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ گنے کے حوالے سے چارسدہ صوبے کے نمایاں پیداواری علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ پورا زرعی نظام بڑی حد تک نہری پانی پر قائم ہے۔ محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کے مطابق شمالی خطے کے بڑے نہری نظاموں میں اپر سوات کینال، لوئر سوات کینال اور دوآبہ کینال شامل ہیں۔ دوآبہ کینال کی لمبائی 44 کلومیٹر، ڈیزائن سپلائی 350 کیوسک اور کمانڈ ایریا 25,368 ایکڑ درج ہے، جبکہ اپر سوات کینال کا نظام 3,600 کیوسک ڈیزائن سپلائی کے ساتھ 281,000 ایکڑ کے کمانڈ ایریا پر مشتمل ہے۔
چارسدہ کے آبپاشی نظام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں دوآبہ کینال کی بہتری، شولگرہ کینال نظام کی بحالی، نہروں اور آبپاشی چینلز کی بہتری اور ٹیوب ویلوں کی تنصیب جیسے منصوبے پہلے ہی شامل رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی مسئلہ صرف پانی کے وجود کا نہیں بلکہ اس پانی کو آخری کھیت تک بروقت، منصفانہ اور مسلسل پہنچانے کا بھی ہے۔
شولگرہ میں پانی کی کمی کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نہری نظام میں کہیں پانی کی کمی، کہیں شاخوں اور کھالوں کی خرابی، کہیں غیر قانونی کٹاؤ یا تجاوزات اور کہیں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہو تو اس کا آخری اثر چھوٹے اور درمیانے کسان کے کھیت پر پڑتا ہے۔ تیار فصل کو اس وقت پانی نہ ملے جب اسے آبپاشی کی ضرورت ہو تو بعد میں آنے والا پانی بھی اس نقصان کو پوری طرح واپس نہیں لاسکتا۔
اس بحران کا فوری حل یہ ہے کہ محکمہ آبپاشی شولگرہ کے متعلقہ نہری نظام اور ذیلی شاخوں کا ہنگامی موقع معائنہ کرے، پانی کی موجودہ آمد اور تقسیم کی پیمائش کرے اور واضح کرے کہ مسئلہ اوپر سے پانی کی کمی کا ہے، نہری گزرگاہ میں رکاوٹ کا، غیر قانونی موڑ کا یا تقسیم کے نظام میں کسی خرابی کا۔ اس کے بعد پانی کی فراہمی کا باقاعدہ شیڈول مقامی زمینداروں کے سامنے رکھا جائے تاکہ کسی ایک علاقے کا پانی دوسرے علاقے کی قیمت پر نہ روکا جاسکے۔
دوسرے مرحلے میں نہروں، کھالوں اور پانی کے قدرتی راستوں سے تجاوزات اور رکاوٹیں ختم کی جائیں، خراب حصوں کی مرمت کی جائے اور شولگرہ کینال نظام کی سابقہ بہتری کے منصوبوں کی موجودہ حالت کا بھی جائزہ لیا جائے۔
طویل مدت میں مسئلے کا حل صرف شکایات سننے میں نہیں بلکہ آبپاشی کے پورے نظام کو جدید بنانے میں ہے۔ پانی کی پیمائش، نہری شاخوں کی باقاعدہ صفائی و مرمت، پانی کی چوری اور غیر قانونی کٹاؤ کی نگرانی، ضرورت کے مطابق ٹیوب ویل اور متبادل آبپاشی ذرائع، اور کسانوں کو پانی کے استعمال کے بہتر طریقوں کی تربیت اس حکمت عملی کا حصہ ہونی چاہیے۔
چارسدہ کی تقریباً 18 لاکھ سے زائد آبادی اور اس کی وسیع زرعی معیشت کے تناظر میں شولگرہ کا پانی کا مسئلہ ایک معمولی انتظامی شکایت نہیں۔ اگر ایک زرخیز اور آبپاشی پر منحصر علاقے میں تیار فصل پانی کی عدم دستیابی سے سوکھنے لگے تو نقصان صرف ایک فصل یا ایک موسم تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے کسان کی آمدن، آئندہ کاشت کی صلاحیت، مقامی منڈی اور بالآخر غذائی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کے لیے بنیادی مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ شولگرہ میں پانی کی فراہمی فوری بحال کی جائے، مسئلے کی تکنیکی وجہ طے کی جائے اور مستقل بنیادوں پر ایسا آبپاشی نظام قائم کیا جائے جس میں آخری سرے کا کسان بھی اپنے حصے کے پانی سے محروم نہ ہو۔
واپس کریں