قومِ لوط کے قبیح فعل،بچہ بازی اور امرد پرستی میں مبتلا قوم
خالد خان۔ کالم نگار
بچہ بازی کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک خاص جغرافیہ، ایک خاص قوم اور ایک خاص سماجی ماحول کا تصور ابھرتا ہے۔ پاکستان میں اس برائی کا سب سے زیادہ ذکر پختون معاشرے کے حوالے سے کیا گیا ہے اور اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ بعض پختون علاقوں میں لڑکوں کے جنسی استحصال کی ایک قابلِ ذکر اور شرمناک روایت موجود رہی ہے۔ اس مسئلے پر پردہ ڈالنے، اسے محض مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دینے یا پختون معاشرے کو ہر الزام سے بری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اتنی ہی دیانت داری کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ کیا بچہ بازی صرف پختون سماج کا مسئلہ ہے؟ کیا یہ مسئلہ صرف ان علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں عورت اور مرد کے اختلاط پر زیادہ سماجی پابندیاں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے بڑے شہری مراکز میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مسلسل واقعات کی کیا توجیہ پیش کی جائے گی؟
پختون معاشرے کے بارے میں ایک روایتی توجیہ یہ پیش کی جاتی رہی ہے کہ عورتوں تک محدود رسائی، پردے کی سخت روایت اور مرد و عورت کے درمیان سماجی فاصلہ بعض مردوں کو لڑکوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ مخصوص تاریخی اور سماجی حالات میں اس عامل نے کوئی کردار ادا کیا ہو، لیکن اسے مکمل وضاحت سمجھ لینا انسانی رویوں کی انتہائی پیچیدہ حقیقت کو ایک ہی وجہ میں بند کردینا ہے۔ پاکستان کے ان بڑے شہروں میں جہاں عورتیں تعلیم، ملازمت، بازار، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں نسبتاً زیادہ نمایاں ہیں، وہاں بھی بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات مسلسل سامنے آتے ہیں۔ یہاں کسی شہر کی پوری خواتین آبادی کو جنسی دستیابی کے تصور سے جوڑنا نہ درست ہے نہ منصفانہ۔ لاہور کی ہیرا منڈی، کراچی کی لی مارکیٹ اور مختلف شہروں میں موجود قحبہ خانے یا گھروں میں قائم ایسے اڈے اپنی جگہ ایک الگ سماجی حقیقت ہیں، مگر ان کا وجود یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان شہروں کی خواتین عمومی طور پر مردوں کے لیے جنسی طور پر دستیاب ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان شہری معاشروں میں مجموعی طور پر پختون معاشرے کی روایتی بندشوں کے مقابلے میں مرد و عورت کے میل جول پر نسبتاً کم سماجی پابندیاں موجود ہیں، اس کے باوجود بچے محفوظ نہیں ہیں۔
یہیں سے ہماری پوری بحث کا رخ بدل جاتا ہے، کیونکہ اگر عورت تک رسائی کو ہی مرد کے لڑکے کی طرف جانے کی بنیادی وجہ سمجھا جائے تو پھر پنجاب اور سندھ کے بڑے شہری مراکز اس مفروضے کو خود چیلنج کرتے ہیں۔ 2024 میں پاکستان بھر سے بچوں کے خلاف 3,364 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں جنسی زیادتی، اغوا، لاپتا ہونے اور کم عمری کی شادی کے واقعات شامل تھے۔ ان میں 1,573 لڑکے اور 1,791 لڑکیاں تھیں، جبکہ جنسی زیادتی کے 1,828 واقعات الگ سے رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سب سے لیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے خاص طور پر خطرے میں رہے اور اس عمر کے گروپ میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ تھی۔
اس سے ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسئلہ صرف کسی ایک صوبے، نسل یا ثقافت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔ 2024 کی پہلی ششماہی میں بھی بچوں کے خلاف 1,630 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 862 جنسی زیادتی کے تھے، اور رپورٹ ہونے والے واقعات میں 41 فیصد متاثرین لڑکے تھے۔ اسی عرصے کے جغرافیائی اعدادوشمار میں پنجاب کا حصہ 78 فیصد، سندھ کا 11 فیصد، خیبرپختونخوا کا 3 فیصد جبکہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت باقی علاقوں کا حصہ بھی موجود تھا۔ یہ اعداد اس بات کا ثبوت نہیں کہ جس صوبے میں زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے وہاں لازماً جرم زیادہ ہے، کیونکہ رپورٹنگ، آبادی، پولیس تک رسائی اور سماجی رویے بھی اعدادوشمار پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ ضرور ثابت کرتے ہیں کہ بچے ملک کے ہر حصے میں خطرے سے دوچار ہیں۔
اور اگر ہم لاہور کی طرف دیکھیں تو ہمیں اپنے اجتماعی حافظے میں ایک ایسا نام بھی ملتا ہے جسے بھول جانا شاید ہماری سماجی یادداشت کی سب سے بڑی بے حسی ہوگی۔ جاوید اقبال کا کیس محض ایک قاتل کی داستان نہیں تھا۔ 1999 میں لاہور میں اس نے سو بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا اعتراف کیا، بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ٹھکانے تک لانے، ان پر جنسی حملہ کرنے اور پھر قتل کرنے کی تفصیلات سامنے آئیں۔ عدالت نے مارچ 2000 میں اسے سو قتلوں کے مقدمات میں سزائے موت سنائی۔ بعد میں وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ اس کیس کی تفصیلات میں اس کے اعترافات، ڈائری اور متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی شناخت شامل تھی۔
جاوید اقبال کا واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے بہت پہلے، جب آج کی طرح موبائل فون، سماجی ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا، لاہور جیسے بڑے شہر میں ایک شخص کم سن لڑکوں کو اپنی جنسی خواہش کا شکار بنا رہا تھا۔ اس واقعے کو پختون ثقافت، عورت تک رسائی یا کسی ایک علاقے کی سماجی روایت کے کھاتے میں ڈالنا ممکن نہیں۔ اس کے پیچھے ایک بالغ شخص کی مجرمانہ خواہش، بچوں کی کمزوری، انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیت، سماجی نگرانی کی ناکامی اور ریاستی نظام کی کمزوریاں موجود تھیں۔ آج کے پاکستان میں صورت حال اس لیے بھی زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے کہ جرم کے روایتی طریقوں کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا نے استحصال کے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں۔
لاہور میں حالیہ برسوں میں کم سن لڑکوں کو ایک نجی جگہ سے بازیاب کرانے کا واقعہ سامنے آیا جہاں پولیس کے مطابق بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ایسے مقدمات سامنے آتے رہے ہیں جن میں بچوں کو کھیل، مزدوری یا کسی اور بہانے سے قابو میں لاکر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعض واقعات میں ان کی ویڈیوز بنا کر آگے پھیلانے یا فروخت کرنے کی بات سامنے آئی۔ یوں جرم صرف کسی بند کمرے یا ویران جگہ تک محدود نہیں رہا بلکہ موبائل فون، ویڈیو، انٹرنیٹ اور پوشیدہ ڈیجیٹل نیٹ ورکس نے اس کے دائرے کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔
لیکن یہاں ہمیں ایک اور مشکل اور زیادہ بنیادی سوال کی طرف جانا ہوگا جس پر ہمارے معاشرے میں عام طور پر بات ہی نہیں کی جاتی کہ آخر مرد مرد کی طرف جنسی طور پر کیوں جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف بچہ بازی کے حوالے سے نہیں بلکہ بالغ مردوں کے باہمی جنسی تعلقات کو سمجھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان دونوں مظاہر کو ایک سمجھنا بھی غلط ہے، کیونکہ ایک بالغ انسان کے باہمی رضامندانہ تعلق اور کسی بچے کے جنسی استحصال میں بنیادی اور اخلاقی و قانونی فرق ہے۔ بچے کی کم عمری، اس کی کمزور سماجی حیثیت اور طاقت کے عدم توازن کی وجہ سے اسے بالغ انسان کے برابر رکھ کر ’’رضامندی‘‘ کا تصور استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے باوجود ہمارے ہاں بالغ مردوں کے باہمی جنسی تعلقات کے وجود سے انکار بھی حقیقت سے فرار ہے۔ پاکستان کے چھ بڑے شہروں، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور فیصل آباد، میں 2007 میں 16 سے 45 سال عمر کے 2,400 مردوں پر کیے گئے ایک تحقیقی مطالعے میں 211 افراد، یعنی 9 فیصد، نے زندگی میں کبھی مرد کے ساتھ جنسی تعلق کی اطلاع دی، جبکہ 62 افراد، یعنی 2.6 فیصد، نے بتایا کہ ان کے جنسی تعلقات صرف مردوں کے ساتھ رہے تھے۔ یہ پورے پاکستان کی آبادی کا تخمینہ نہیں بلکہ چھ شہری مراکز کے ایک مخصوص تحقیقی نمونے کا نتیجہ تھا، لیکن اس کے باوجود یہ اعدادوشمار اتنے اہم ہیں کہ ہم اس حقیقت کو محض چند پسماندہ علاقوں کی کہانی قرار دے کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
اس دنیا کی اپنی اصطلاحات بھی ہیں۔ ’’ٹاپ‘‘، ’’باٹم‘‘ اور ’’ورسائل‘‘ جیسی اصطلاحات اب جنسی رویوں پر ہونے والی باقاعدہ عالمی تحقیق میں استعمال ہوتی ہیں اور مردوں کے باہمی تعلقات میں جنسی کردار یا ترجیح کو بیان کرتی ہیں۔ تحقیق یہ بھی دکھاتی ہے کہ یہ شناختیں ہر شخص میں یکساں اور مستقل نہیں ہوتیں بلکہ عمر، تعلق، تجربے اور سماجی ماحول کے ساتھ تبدیل بھی ہوسکتی ہیں۔ آج انٹرنیٹ اور موبائل ایپلی کیشنوں نے بالغ مردوں کے لیے ایک دوسرے کو تلاش کرنا، رابطہ قائم کرنا اور اپنی ترجیحات بیان کرنا بھی آسان کردیا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق میں ایسے آن لائن پلیٹ فارموں کے استعمال اور جنسی ساتھی تلاش کرنے کے لیے ان کے کردار کا باقاعدہ مطالعہ کیا جاچکا ہے۔
یہاں ایک نہایت باریک مگر ضروری فرق کو سمجھنا ہوگا۔ بالغ مردوں کے باہمی رضامندانہ تعلقات کو بچوں کے جنسی استحصال کے ساتھ جوڑ دینا درست نہیں، لیکن بچوں کے استحصال کو سمجھنے کے لیے بالغ جنسی رویوں، جنسی شناخت، طاقت، خواہش، سماجی پابندیوں اور جنسی مواقع کے پورے ماحول کا مطالعہ ضرور ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے نے ان موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کے دروازے بند رکھے، نتیجہ یہ نکلا کہ جس چیز پر علمی اور سماجی تحقیق ہونی چاہیے تھی وہ یا تو خاموشی میں چلی گئی یا پھر صرف اخلاقی نعروں اور تہمتوں کا موضوع بن گئی۔
پختون معاشرے کے حوالے سے بھی یہی دیانت داری ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے میں بچہ بازی یا لڑکوں کے جنسی استحصال کے واقعات موجود ہیں تو انکار نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس کے اسباب کو صرف عورت کی عدم دستیابی قرار دینا بھی درست نہیں۔ طاقت، طبقاتی فرق، غربت، بچوں کی مزدوری، یتیمی، گھریلو غفلت، تعلیم سے محرومی، مذہبی یا سماجی اختیار رکھنے والے افراد پر اندھا اعتماد، پولیس اور عدالت تک کمزور رسائی اور معاشرتی خاموشی ایسے عوامل ہیں جو بچے کو مجرم کے لیے آسان ہدف بناتے ہیں۔ پاکستان کے بچوں کے خلاف جرائم کے اعدادوشمار میں بھی یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ بہت سے مقدمات میں مجرم بچے یا اس کے خاندان کا جاننے والا ہوتا ہے، یعنی خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی سے نہیں آتا۔
میرے اپنے طویل سماجی مشاہدے میں ایک اور خوفناک پہلو بار بار سامنے آیا ہے جسے ہم شاید اس بحث میں سب سے کم بیان کرتے ہیں۔ بعض ایسے لڑکے جو بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہوئے، بڑے ہونے کے بعد خود بھی اسی چکر کا حصہ بنتے دکھائی دیے اور کبھی دوسرے بچوں کو نشانہ بناتے رہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر متاثرہ بچہ مستقبل کا مجرم بن جاتا ہے۔ ایسا کہنا خود ان بچوں کے ساتھ ایک اور ظلم ہوگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بچپن کا جنسی صدمہ بعض افراد میں زندگی بھر کے لیے غصہ، شرمندگی، خوف، طاقت کے بارے میں بگڑا ہوا تصور اور جنسی رویوں کی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے، اور تحقیق میں بعض مرد مجرموں کے درمیان بچپن کے جنسی استحصال کی سابقہ تاریخ زیادہ پائی گئی ہے۔ اس لیے متاثرہ بچے کو صرف اس وقت کے زخم کے ساتھ چھوڑ دینا کافی نہیں؛ اسے علاج، تحفظ، نفسیاتی مدد، سماجی سہارا اور ایسا ماحول بھی دینا ضروری ہے جو اس شیطانی چکر کو اگلی نسل تک منتقل ہونے سے روک سکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بچہ بازی کی بحث محض اخلاقی مذمت سے نکل کر قومی پالیسی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ پاکستان میں 2024 کے دوران بچوں کے خلاف جن جرائم کی رپورٹنگ ہوئی، اس میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ تھا، مگر سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی اس نقشے سے باہر نہیں تھے۔ اس لیے اگر ہم اس مسئلے کو کسی ایک قوم، صوبے، زبان یا ثقافت کے ساتھ مخصوص کرتے رہے تو ہم دراصل اپنے ہی بچوں کے خلاف ہونے والے جرم کی اصل نوعیت کو چھپاتے رہیں گے۔
قومِ لوط کا حوالہ ہمارے مذہبی اور تہذیبی حافظے میں ایک شدید اخلاقی علامت کے طور پر موجود ہے، لیکن آج کے پاکستان کو صرف تاریخی تشبیہ دے کر مسئلے سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے گھروں، مدرسوں، سکولوں، بازاروں، ورکشاپوں، مسافر خانوں، یتیم بچوں کے مراکز، مزدور بستیوں، مزاروں کے اطراف، کھیل کے مقامات اور اب ڈیجیٹل دنیا میں بچے کس حد تک محفوظ ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بالغ جنسی رویوں کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس کتنی علمی تحقیق ہے اور بچوں کے استحصال کو روکنے کے لیے ہمارے پاس کتنے مؤثر ادارہ جاتی بندوبست ہیں۔
پاکستانی معاشرے کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ ہم کسی دوسرے صوبے کے عیب گن کر اپنے آپ کو بہتر ثابت کرلیں۔ اصل آزمائش یہ ہے کہ ہم اپنے ہر صوبے اور ہر علاقے میں موجود اس تاریک حقیقت کو تسلیم کریں۔ پنجاب کا لاہور ہو، سندھ کا کراچی، خیبرپختونخوا کا پشاور یا کوئی دور افتادہ ضلع، بلوچستان کا کوئٹہ یا کوئی پسماندہ بستی، آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقے ہوں یا گلگت بلتستان کی وادیاں، بچہ اگر کمزور ہے، غریب ہے، یتیم ہے، گھر سے دور ہے، مزدوری کرتا ہے یا کسی طاقتور بالغ کے زیر اثر ہے تو اس کی حفاظت ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ہم نے بہت عرصہ اس بحث کو پختونوں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو مطمئن کیا، پھر کبھی پنجاب اور سندھ کی مثالیں دے کر حساب برابر کرنے کی کوشش کی۔ دونوں رویے مسئلے سے فرار ہیں۔ اگر پختون معاشرے میں یہ برائی موجود ہے تو اسے ختم ہونا چاہیے، اور اگر لاہور، کراچی، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، پشاور یا ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں موجود ہے تو وہاں بھی اسے اسی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ بچے کسی قوم کے نہیں ہوتے، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتے ہیں۔ ان کے جسم، ان کی عزت اور ان کا مستقبل کسی بالغ کی خواہش، طاقت، غربت سے فائدہ اٹھانے یا سماجی اثرورسوخ کی ملکیت نہیں ہوسکتا۔
اور شاید اس پورے مسئلے پر سب سے ضروری سوال یہی ہے کہ ہم آخر کب تک ’’بچہ بازی‘‘ کو کسی دوسرے کا مسئلہ سمجھتے رہیں گے؟ یہ سوال پختون سے بھی ہے، پنجابی سے بھی، سندھی سے بھی، بلوچ سے بھی، کشمیری سے بھی، گلگتی سے بھی اور پاکستانی ریاست سے بھی۔ کیونکہ جب ایک بچہ خاموش کردیا جاتا ہے تو خاموشی صرف اس کے گھر میں نہیں اترتی، پورے معاشرے کے ضمیر پر پڑتی ہے۔
واپس کریں