دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا حکومت نے عوام کو جہالت میں رکھنے کی قسم کھائی ہے
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں تعلیم کے شعبے کی اصل تصویر دعووں، اعلانات اور سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ تعمیر ہونے والے کلاس رومز، خرچ ہونے والے فنڈز اور مکمل ہونے والے منصوبوں سے سامنے آتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں ایک ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر کا منصوبہ اسی تصویر کی ایک ایسی مثال ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ ایک ہزار کلاس رومز تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، مگر اب تک صرف 15 کلاس رومز مکمل ہوسکے ہیں۔ یعنی پورے منصوبے کا صرف ڈیڑھ فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ 52 کلاس رومز کی منظوری بھی اب تک نہیں ہوسکی، 587 زیر تعمیر ہیں جبکہ 349 پر ابھی تک کام شروع ہی نہیں ہوسکا۔ یوں ایک ہزار میں سے 985 کلاس رومز یا تو نامکمل ہیں، زیر تعمیر ہیں، شروع نہیں ہوئے یا منظوری کے مرحلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس منصوبے کے لیے ایک ارب 85 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے گئے، مگر اب تک صرف 74 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوسکے ہیں۔ سادہ حساب بتاتا ہے کہ جاری شدہ رقم کا تقریباً 40 فیصد ہی استعمال ہوا، جبکہ تقریباً 60 فیصد رقم ابھی خرچ نہیں ہوسکی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ باقی رقم کہاں ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب کلاس رومز کی ضرورت پہلے سے معلوم تھی، منصوبہ بنایا گیا، رقم جاری ہوئی، تو عملدرآمد کی رفتار اتنی کم اور سست کیوں رہی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی ضرورت معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہے۔ 2023 کی مردم شماری اور صوبائی دستاویزات کے مطابق صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جن میں تقریباً 29 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 2026-27 کو بچیوں کی تعلیم کی بحالی کا سال قرار دینے کی قرارداد سامنے آچکی ہے۔
یہاں حکمرانی کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف حکومت 2026-27 کے لیے تعلیم کے شعبے کو تقریباً 468 ارب روپے دینے کا اعلان کرتی ہے، 524 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام رکھتی ہے اور سرکاری سکولوں میں مزید ہزاروں کلاس رومز تعمیر کرنے کے منصوبے پیش کرتی ہے؛ دوسری طرف ایک ہزار کلاس رومز کے نسبتاً محدود منصوبے میں صرف 15 کلاس رومز مکمل ہوپاتے ہیں۔
دسمبر 2025 میں حکومت نے سکولوں میں ایک ہزار اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے والدین و اساتذہ کونسلوں کے ذریعے اور مزید ایک ہزار کلاس رومز سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ذریعے تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔ دونوں منصوبوں کی مجموعی لاگت 4 ارب 70 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پہلے سے موجود ایک ہزار کلاس رومز کے منصوبے کی رفتار یہ ہے تو مزید ہزاروں کلاس رومز کے وعدوں کو عملی شکل دینے کے لیے انتظامی صلاحیت، نگرانی اور تکمیل کا نظام کہاں ہے؟
مسئلہ صرف کلاس رومز کا نہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 2.17 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں 5,24,292 ملین روپے سے زیادہ ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم کے لیے تقریباً 468 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اتنے بڑے مالی حجم کے باوجود اگر ایک ہزار کلاس رومز کا منصوبہ 15 مکمل کلاس رومز پر کھڑا ہو تو یہ محض ایک تعمیراتی تاخیر نہیں رہتی بلکہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے پورے نظام پر سوال بن جاتی ہے۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ صوبہ ایک طرف سکول سے باہر بچوں کو واپس تعلیمی نظام میں لانے کے بڑے اہداف مقرر کررہا ہے جبکہ عملی اقدامات مفقود ہیں۔ حکومت نے 2026-27 میں 13 لاکھ 28 ہزار 620 نئے بچوں کے داخلے کا ہدف مقرر کیا ہے اور 6 لاکھ 43 ہزار 715 سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے کا ہدف رکھا ہے۔ مگر جب موجودہ سکولوں میں گنجائش بڑھانے کے لیے بنائے گئے کلاس رومز ہی وقت پر مکمل نہ ہوں تو نئے بچوں کے داخلے کا ہدف محض اعدادوشمار کا کھیل بننے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہوجاتا ہے جب حکومت کی سیاسی ترجیحات سامنے رکھی جائیں۔ خیبر پختونخوا کا مجموعی بجٹ 2.17 کھرب روپے ہے، ترقیاتی بجٹ 524 ارب روپے ہے، تعلیم کے لیے تقریباً 468 ارب روپے مختص ہیں، مگر سیاسی سرگرمیوں کا بڑا حصہ احتجاج، جلسوں، سڑکوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاری پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کو حتمی اور ناقابلِ مذاکرات تاریخ قرار دیا ہے، جبکہ تحریک انصاف اسے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے جوڑ رہی ہے۔
سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے اور حکومت سے سیاسی مطالبات کرنا بھی سیاسی جماعتوں کا حق ہے، لیکن حکمرانی کی ذمہ داری بھی اسی آئینی و سیاسی نظام کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ اگر صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں تو ان کے سامنے ایک ہی وقت میں دو سوال کھڑے رہتے ہیں۔ اسلام آباد میں سیاسی مقصد کے لیے کتنی توانائی خرچ ہورہی ہے اور خیبر پختونخوا کے سکولوں میں ایک ہزار کلاس رومز میں سے صرف 15 مکمل کرنے والی انتظامی مشینری کو باقی 985 کلاس رومز مکمل کرنے کے لیے کتنی توانائی دی جارہی ہے؟
یہ تقابل کسی ایک جماعت کے سیاسی حق کو چیلنج کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکمرانی کی ترجیحات کو جانچنے کے لیے ہے۔ صوبے کے تقریباً 49 لاکھ سکول سے باہر بچوں، لاکھوں بچیوں کی تعلیمی محرومی اور سکولوں میں گنجائش کے مسائل کے سامنے ہر نامکمل کلاس روم ایک عدد نہیں بلکہ ایک تعلیمی ضرورت ہے۔
حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ خود حکومت کے تعلیمی منصوبوں میں سکولوں کی بنیادی ضروریات اور کلاس رومز کی کمی کو ترجیح قرار دیا جارہا ہے۔ اپریل 2026 میں وزیراعلیٰ نے صوبے کے سکولوں میں 20 ہزار اضافی کلاس رومز شامل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اگر 20 ہزار نئے کلاس رومز کا ہدف واقعی ترجیح ہے تو پہلے سے جاری ایک ہزار کلاس رومز کے منصوبے کی 1.5 فیصد تکمیل ایک ایسا عدد ہے جس کا جواب محض نئی تقریروں یا نئے اعلانات سے نہیں دیا جاسکتا۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت مزید سیاسی شور سے زیادہ انتظامی رفتار کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں 49 لاکھ بچوں کے سکول سے باہر ہونے کی نشاندہی ہو، جہاں بچیوں کی تعلیم کے بحران پر اسمبلی قرارداد منظور کرے، جہاں حکومت خود لاکھوں بچوں کو دوبارہ سکول لانے کا ہدف مقرر کرے، وہاں ایک کلاس روم بھی محض اینٹ، سیمنٹ اور چھت کا نام نہیں۔ وہ ایک بچے کے لیے سکول کی جگہ، ایک استاد کے لیے تدریس کی جگہ اور ریاست کے لیے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کا عملی ثبوت ہے۔
اعدادوشمار کا سب سے تلخ سوال یہی ہے کہ ایک ہزار کا منصوبہ، 15 مکمل؛ 52 کی منظوری باقی؛ 587 زیر تعمیر؛ 349 پر کام شروع نہیں؛ ایک ارب 85 کروڑ روپے سے زیادہ جاری؛ صرف 74 کروڑ 50 لاکھ خرچ۔ اور اسی صوبے میں 2.17 کھرب روپے کا سالانہ بجٹ، 524 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام اور تقریباً 468 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ۔
یہ اعداد کسی سیاسی تقریر کے نہیں، حکمرانی کے آئینے کے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بچوں کے لیے بننے والے اگلے 985 کلاس رومز کب مکمل ہوں گے۔
واپس کریں