خالد خان۔ کالم نگار
ہماری روزمرہ خوراک میں تیل اور چکنائی ایک لازمی حصہ ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم جس چکنائی کو اپنی غذا میں شامل کرتے ہیں وہ ہمارے جسم کے لیے کس حد تک مفید یا نقصان دہ ہے۔ بازار میں کھانے کے لیے مختلف قسم کے تیل دستیاب ہیں اور ہر تیل کے بارے میں مختلف دعوے بھی سننے کو ملتے ہیں۔ ان میں زیتون کا تیل ایک ایسا تیل ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں صحت مند غذا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بارے میں بھی بہت سی مبالغہ آمیز باتیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیتون کا تیل صحت مند غذا کا حصہ تو بن سکتا ہے، لیکن اسے ہر بیماری کی دوا سمجھنا درست نہیں۔
زیتون کا تیل زیتون کے پھل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایسی چکنائیاں زیادہ ہوتی ہیں جنہیں دل کے لیے نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اچھے معیار کے زیتون کے تیل، خصوصاً اضافی خالص قسم، میں قدرتی نباتاتی مرکبات بھی پائے جاتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ آکسیڈی عمل اور سوزش کے خلاف کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دل کی صحت کے حوالے سے زیتون کے تیل کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اگر اسے مکھن، گھی یا ایسی چکنائیوں کی جگہ استعمال کیا جائے جن میں سیر شدہ چکنائی زیادہ ہوتی ہے تو مجموعی غذائی معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ یعنی فائدہ صرف اس بات میں نہیں کہ زیتون کا تیل استعمال کیا جائے، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ اسے کس چیز کی جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی معمول کی غذا کے علاوہ روزانہ کئی چمچ زیتون کا تیل پینا شروع کر دے تو وہ لازماً زیادہ صحت مند نہیں ہو جائے گا، کیونکہ زیتون کا تیل بھی توانائی سے بھرپور غذا ہے۔
کولیسٹرول کے معاملے میں بھی یہی اصول سمجھنا ضروری ہے۔ زیتون کے تیل میں موجود صحت مند چکنائیوں کو غذا میں شامل کرنے سے بعض لوگوں کے خون میں نقصان دہ کولیسٹرول کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر جب اسے مکھن یا دوسری سیر شدہ چکنائیوں کی جگہ استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر کسی شخص کا کولیسٹرول بہت زیادہ ہے تو صرف زیتون کا تیل استعمال کرنا کافی نہیں۔ اسے اپنی مکمل غذا، وزن، جسمانی سرگرمی اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ علاج پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
بلڈ شوگر کے حوالے سے بھی زیتون کا تیل ایک مفید غذائی انتخاب ہو سکتا ہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹ نہیں ہوتا، اس لیے خود زیتون کا تیل خون میں شکر کو روٹی، چاول، میٹھے یا شکر والی غذا کی طرح براہ راست نہیں بڑھاتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذیابیطس کے مریض جتنا چاہیں زیتون کا تیل استعمال کریں۔ مقدار پھر بھی اہم ہے۔ اصل فائدہ اس وقت زیادہ ہے جب مجموعی غذا متوازن ہو اور تیل مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے۔
زیتون کے تیل کے بارے میں ایک اور بات قابل ذکر ہے۔ اچھے معیار کے اضافی خالص زیتون کے تیل میں ایسے قدرتی نباتاتی اجزا پائے جاتے ہیں جنہیں جسم میں سوزش اور خلیوں کو نقصان پہنچانے والے عمل کے حوالے سے مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیتون کے تیل کو سبزیوں، سلاد، دالوں اور دوسری صحت مند غذاؤں کے ساتھ استعمال کرنا ایک اچھا غذائی انتخاب ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے کسی بیماری کا باقاعدہ علاج قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔
گردوں کے مریضوں کے لیے معاملہ کچھ زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ زیتون کا تیل بذاتِ خود پیشاب میں آنے والے پروٹین کا علاج نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو پروٹین یوریا ہے تو اسے اس مسئلے کی وجہ معلوم کرانے اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریض اپنی مرضی سے نمک، پروٹین، پانی یا کسی مخصوص غذا کی مقدار میں بڑی تبدیلی نہ کریں، کیونکہ گردوں کی بیماری کی نوعیت اور شدت کے مطابق غذائی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔
زیتون کا تیل استعمال کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے غذا کا حصہ بنایا جائے، دوا کا متبادل نہ بنایا جائے۔ اسے سلاد پر ڈالا جا سکتا ہے، سبزیوں اور دالوں میں مناسب مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا ایسی چکنائی کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے جو صحت کے لیے کم موزوں ہو۔ عام طور پر ایک یا دو کھانے کے چمچ روزانہ بہت سے لوگوں کے لیے مناسب مقدار ہو سکتی ہے، لیکن یہ مقدار ہر شخص کے لیے یکساں نہیں۔ جس شخص کو وزن کم کرنے، شوگر، دل، جگر یا گردوں کا مسئلہ ہو اسے اپنی مجموعی غذا کو سامنے رکھنا چاہیے۔
زیتون کا تیل خریدتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ بازار میں مختلف معیار اور قیمت کے تیل دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر مقصد زیادہ سے زیادہ غذائی فائدہ حاصل کرنا ہو تو اچھی شہرت رکھنے والے برانڈ کا اضافی خالص زیتون کا تیل لینا بہتر ہے۔ بوتل پر درج معلومات، اجزا، تاریخِ پیداوار اور میعادِ استعمال کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ صرف مہنگا ہونا کسی تیل کے اعلیٰ معیار کی ضمانت نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ زیتون کے تیل کو کسی جادوئی نسخے کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ کوئی شخص زیتون کا تیل استعمال کرتا رہے لیکن ساتھ ہی بہت زیادہ شکر، نمک، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ خوراک لیتا رہے تو صرف تیل تبدیل کرنے سے اس کی صحت میں کوئی غیر معمولی تبدیلی متوقع نہیں۔ صحت کا تعلق پوری طرزِ زندگی سے ہے، کسی ایک غذا سے نہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی ملتے ہیں کہ زیتون کا تیل ہر قسم کے دل کے مرض، شوگر، گردے، جگر، جوڑوں کے درد یا دوسری بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے۔ ایسے دعووں سے محتاط رہنا چاہیے۔ قدرتی غذا مفید ہو سکتی ہے، لیکن مفید غذا اور دوا میں فرق ہے۔ جس بیماری کے لیے باقاعدہ طبی علاج ضروری ہو، وہاں زیتون کے تیل کو دوا کا متبادل بنانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اصل بات بہت سادہ ہے۔ اگر کسی شخص کی غذا میں گھی، مکھن یا دوسری کم صحت مند چکنائی زیادہ ہے تو ان میں سے کچھ کی جگہ مناسب مقدار میں معیاری زیتون کا تیل شامل کرنا صحت مند غذائی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لیکن زیتون کا تیل بھی تیل ہی ہے؛ اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے اضافی کیلوریز جسم میں پہنچیں گی۔ صحت کا اصول یہ نہیں کہ تیل بالکل چھوڑ دیا جائے یا زیتون کا تیل جتنا زیادہ ہو اتنا ہی اچھا ہے، بلکہ اصل اصول مناسب مقدار، متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی ہے۔
عوامی مفاد میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ زیتون کے تیل کو نہ تو معمولی سمجھا جائے اور نہ معجزاتی دوا۔ یہ اچھی غذا کا ایک مفید حصہ بن سکتا ہے، خصوصاً جب اسے غیر صحت مند چکنائیوں کی جگہ مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے۔ لیکن صحت مند دل، بہتر شوگر، مناسب وزن اور صحت مند گردوں کے لیے پوری زندگی کے معمولات کو درست کرنا ضروری ہے۔ ایک بوتل زیتون کا تیل خرید لینا صحت مند زندگی کی ضمانت نہیں؛ البتہ اسے درست مقدار اور درست غذا کے ساتھ استعمال کرنا صحت مند طرزِ زندگی کی طرف ایک اچھا قدم ضرور ہو سکتا ہے۔
واپس کریں