سول جج بننے کے لیے امیدوار ناکام ہوئے یا امتحانی نظام؟
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں سول ججز کی بھرتی کے لیے ہونے والے حالیہ تحریری امتحان کا نتیجہ محض ایک امتحانی نتیجہ نہیں بلکہ ہمارے قانونی تعلیمی نظام، عدالتی ضرورت اور سرکاری بھرتی کے طریقۂ کار کے بارے میں کئی بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف صوبے کی عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ اور ججوں کی کمی ایک مستقل مسئلہ ہے، دوسری طرف 105 سول ججوں کی آسامیوں کے لیے ہونے والے امتحان میں 1024 امیدواروں کی شرکت کے باوجود صرف تین امیدوار اگلے مرحلے تک پہنچ سکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امتحان میں شریک امیدواروں میں تقریباً 99.7 فیصد امیدوار تحریری مرحلہ عبور نہیں کر سکے۔
یہ نتیجہ یقیناً غیر معمولی ہے، لیکن اس غیر معمولیت کو دیکھتے ہی کسی ایک فریق کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست طریقۂ تحقیق نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نتیجے کے پیچھے امیدواروں کی علمی کمزوری ہے، قانونی تعلیم کا بحران ہے، امتحانی معیار کا مسئلہ ہے، جانچ کے طریقۂ کار میں کوئی دشواری ہے یا ان تمام عوامل کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہے؟
امتحان میں انگریزی، اردو، پشتو، عمومی معلومات، دیوانی قانون، فوجداری قانون، اسلامی فقہ اور قانونِ شہادت جیسے مضامین شامل تھے۔ دستیاب اعداد و شمار میں سب سے نمایاں بات انگریزی کے پرچے کا نتیجہ ہے۔ 1024 امیدواروں میں سے صرف 149 امیدوار انگریزی میں کامیاب ہوئے۔ عمومی معلومات میں بھی 1005 امیدواروں میں سے 318 کامیاب ہوئے۔ اس کے مقابلے میں قانونی مضامین میں کامیابی کی شرح خاصی مختلف رہی۔ دیوانی قانون اول میں 996 میں سے 587، دیوانی قانون دوم میں 537، فوجداری قانون میں 996 میں سے 803، اسلامی فقہ میں 993 میں سے 697 اور قانونِ شہادت میں 995 میں سے 775 امیدوار کامیاب ہوئے۔
پشتو کے پرچے کا نتیجہ تو اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ ہے۔ 340 امیدواروں میں سے 335 کامیاب ہوئے، جبکہ اردو میں 654 میں سے 369 امیدوار کامیاب ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال پیدا کرتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں امیدوار قانونی مضامین کے امتحانات کامیابی سے پاس کر رہے تھے تو کیا ان کی مجموعی ناکامی کو صرف قانونی علم کی کمی قرار دینا درست ہوگا؟ بظاہر ایسا نتیجہ اس سادہ وضاحت سے زیادہ پیچیدہ معلوم ہوتا ہے۔
یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی پرچے میں کامیاب ہونا اور سول جج بننے کے لیے مجموعی طور پر اہل قرار پانا دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک امیدوار قانون کے متعدد مضامین میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود کسی لازمی پرچے میں ناکام ہو کر مجموعی عمل سے باہر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا صرف مختلف مضامین کے پاس ہونے والے امیدواروں کی تعداد دیکھ کر یہ نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امتحانی نظام ناقص تھا۔
لیکن دوسری طرف 105 آسامیوں کے مقابلے میں صرف تین امیدواروں کا تحریری مرحلہ عبور کرنا اتنا غیر معمولی نتیجہ ہے کہ اس کی باقاعدہ جانچ کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ یہ محض چند امیدواروں کا امتحان نہیں تھا بلکہ ایک بڑی تعداد میں قانون کے فارغ التحصیل امیدوار اس عمل کا حصہ تھے۔
یہاں خیبر پختونخوا بار کونسل کا اعتراض بھی اہم ہو جاتا ہے۔ بار کونسل نے اس نتیجے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امتحانی اور جانچ کے عمل کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم بار کونسل کا اعتراض بھی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ امتحان یا جانچ میں کوئی خرابی ہوئی ہے۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے سوالات، مقررہ معیار، پرچوں کی جانچ، پاسنگ مارکس اور امیدواروں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہوگا۔
اسی طرح یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ انگریزی میں کم کامیابی لازماً امتحان کی خامی ہے۔ سول جج کے منصب پر فائز ہونے والے شخص کو قانونی فیصلے، عدالتی نظائر، قوانین اور دیگر قانونی مواد بڑی حد تک انگریزی میں پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لیے انگریزی کا مناسب معیار رکھنا اپنی جگہ قابلِ فہم ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ معیار کیا ہونا چاہیے اور آیا موجودہ امتحان میں اس کا تعین واضح، متناسب اور پہلے سے معلوم اصولوں کے مطابق کیا گیا تھا یا نہیں۔
اصل بحث دراصل یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
پاکستان میں قانونی تعلیم کے معیار پر طویل عرصے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اگر قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بڑی تعداد میں امیدوار ایک مسابقتی عدالتی امتحان میں مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ پاتے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جامعات میں قانونی تعلیم اور عملی عدالتی تقاضوں کے درمیان ایک خلا موجود ہے۔ لیکن اس امکان کو ثابت کرنے کے لیے صرف ایک امتحان کا نتیجہ کافی نہیں۔ مختلف سالوں کے نتائج، مختلف جامعات سے فارغ التحصیل امیدواروں کی کارکردگی اور مختلف مضامین میں کامیابی کی شرح کا تقابلی جائزہ لینا ہوگا۔
دوسری طرف امتحانی نظام بھی خود احتسابی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی امتحان کا مقصد اہل سول ججز کا انتخاب ہے تو اس کے ہر مرحلے کا تعلق اسی بنیادی مقصد سے واضح ہونا چاہیے۔ سوالات کا معیار، نصاب، پاسنگ مارکس، جانچ کا طریقہ اور مختلف مضامین کا مجموعی وزن سب کچھ شفاف ہونا چاہیے۔ ایسا نظام ہی امیدواروں اور عوام دونوں کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔
اس معاملے میں ایک اور سوال بھی اہم ہے۔ صوبے میں 105 سول ججوں کی ضرورت محسوس کی گئی تھی، اسی ضرورت کے تحت آسامیاں مشتہر ہوئیں۔ اگر ان 105 آسامیوں کے لیے صرف تین امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں تو باقی آسامیوں کا کیا ہوگا؟ کیا انہیں خالی رہنے دیا جائے گا؟ کیا نئی بھرتی شروع ہوگی؟ یا موجودہ امتحانی عمل کے کسی حصے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا؟ ان سوالات کا جواب صرف امیدواروں کے لیے نہیں بلکہ زیرِ التوا مقدمات کا سامنا کرنے والے عام سائلین کے لیے بھی اہم ہے۔
یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تین امیدواروں کا کامیاب ہونا آخری تقرری کے مترادف نہیں۔ کامیاب امیدواروں کو مقررہ مدت میں تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے ہیں اور بھرتی کے مزید مراحل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح جن امیدواروں کو اپنے نمبروں کی گنتی پر اعتراض ہے، ان کے لیے دوبارہ گنتی کی درخواست کا راستہ بھی موجود ہے۔ چنانچہ اس مرحلے پر حتمی فیصلے کے بجائے شفاف جائزہ زیادہ مناسب راستہ ہوگا۔
میرے نزدیک اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں کہ تین امیدوار کامیاب ہوئے یا 1021 ناکام۔ اصل اہمیت اس سوال کی ہے کہ کیا ہمارا عدالتی بھرتی کا نظام واقعی اس معیار کے جج منتخب کر رہا ہے جس کی عدالتوں کو ضرورت ہے؟
اگر امیدواروں کی علمی تیاری کمزور ہے تو قانون کی تعلیم کے نظام کو دیکھنا ہوگا۔ اگر امتحانی معیار غیر متناسب ہے تو امتحانی طریقۂ کار کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر جانچ کے عمل پر سوالات ہیں تو اس کی شفافیت بڑھانا ہوگی۔ اور اگر تینوں عوامل کسی حد تک موجود ہیں تو اصلاح بھی تینوں سطحوں پر کرنا ہوگی۔
اس معاملے کو امیدواروں بمقابلہ پبلک سروس کمیشن یا بار کونسل بمقابلہ عدلیہ کی بحث بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ امتحانی پرچوں کے معیار، پاسنگ مارکس، نتائج کی تفصیل اور جانچ کے طریقۂ کار کو سامنے لایا جائے، گزشتہ امتحانات کے نتائج سے تقابل کیا جائے اور قانونی تعلیم کے معیار کا بھی آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
سول جج کا امتحان صرف ایک ملازمت کا امتحان نہیں۔ یہ اس شخص کے انتخاب کا عمل ہے جس کے قلم سے کسی شہری کے حق، آزادی، جائیداد، عزت اور مستقبل سے متعلق فیصلے صادر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے معیار بلند ہونا چاہیے، مگر معیار کی بلندی اور امتحانی عمل کی شفافیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی نظام کے دو لازمی حصے ہیں۔
105 آسامیوں کے مقابلے میں تین کامیاب امیدوار واقعی ایک غیر معمولی نتیجہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس غیر معمولی نتیجے پر شور نہیں، سنجیدہ تحقیق کی جائے۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ ناکام کون ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگر عدالتوں کو 105 جج درکار تھے تو ایسا امتحانی نظام کیوں نہ بنایا جا سکا جس سے اہل امیدواروں کی شناخت بھی ہو اور عدالتی معیار بھی برقرار رہے۔
واپس کریں