دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
200 روپے کا وظیفہ اور اربوں کی ہیرا پھیری، سب گول مال ہے
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں حکمرانی کے معیار کو جانچنے کے لیے ہمیشہ بڑے منصوبوں، بلند و بانگ اعلانات اور سیاسی جلسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایک غریب طالبہ کا چند سو روپے کا وظیفہ پوری حکومتی مشینری کی کارکردگی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ جماعت ششم سے دہم تک سرکاری سکولوں کی طالبات کے لیے قائم وظائف کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جہاں چند سو روپے کی رقم کے پیچھے بجٹ سازی، محکمہ تعلیم، محکمہ خزانہ، ڈاک کا نظام، مالیاتی نظم و ضبط، نگرانی، جواب دہی اور بالآخر طرز حکمرانی کے بڑے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اپنی ویب سائٹ پر طالبات وظیفہ پروگرام آج بھی باقاعدہ موجود ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ پروگرام جماعت ششم سے دہم کی طالبات کے لیے ہے، کم از کم 80 فیصد حاضری اس کی اہلیت کی شرط ہے، سال میں دو اقساط دی جاتی ہیں اور طلبہ کی حاضری میں شفافیت کے لیے پروگرام کو تعلیمی انتظامی معلوماتی نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ محکمہ خود بتاتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں اس پروگرام کے لیے 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ نئے تعلیمی سال میں وظیفہ 200 روپے سے بڑھا کر 500 روپے ماہانہ کرنے اور ضم اضلاع کے 32 ہزار طلبہ کے لیے ایک ہزار روپے ماہانہ کا نیا پروگرام شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ آج سرکاری ویب سائٹ پر پروگرام موجود ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس پروگرام کے مستحق بچوں کے ساتھ عملی طور پر کیا ہوا؟
آڈیٹر جنرل پاکستان کی ایک رپورٹ اس سوال کو انتہائی سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے طالبات کے وظائف کی ادائیگی کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 27 لاکھ 86 ہزار 993 روپے متعلقہ جنرل پوسٹ آفسوں کو جاری کیے تھے۔ آڈٹ کے مطابق جون 2022 سے ان وظائف کے منی آرڈر طالبات میں تقسیم نہیں ہوئے۔ مزید یہ کہ رقم وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گئی اور متعلقہ انتظامیہ مطلوبہ رقم کے اجرا کا مسئلہ بروقت حل نہ کر سکی۔ آڈیٹر جنرل نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی اور مالیاتی بے ضابطگی قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس صورتحال سے طالبات کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملہ نومبر 2024 میں انتظامیہ اور مجاز افسر کے سامنے بھی اٹھایا گیا، جبکہ جنوری 2025 کی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس پر کارروائی ہوئی۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ یہ کہنا ابھی درست نہیں کہ یہ رقم کسی فرد نے خردبرد کی۔ آڈٹ رپورٹ ایسا الزام ثابت نہیں کرتی۔ دستاویزی حقیقت یہ ہے کہ رقم جاری ہوئی، مگر آڈٹ کے مطابق جون 2022 سے منی آرڈر مستحق طالبات تک تقسیم نہیں ہوئے اور رقم ایک دوسرے مالیاتی کھاتے میں چلی گئی۔ اس لیے اصل سوال خردبرد سے پہلے مالیاتی انتظام، نگرانی اور جواب دہی کا ہے۔
اس مسئلے کی دوسری آزادانہ تصدیق اکتوبر 2025 میں شائع ہونے والی رپورٹ سے ہوتی ہے جس کے مطابق تقریباً چھ لاکھ مستحق طالبات تین سال تک وظائف سے محروم رہیں۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کو تقریباً 3.8 ارب روپے سالانہ درکار تھے، جبکہ 2022-23 سے ادائیگی رکنے کی شکایات سامنے آئیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ہر مالی سال کے آغاز پر مطلوبہ دستاویزات تیار کرکے محکمہ خزانہ کو بھیجی جاتی رہیں، مگر فنڈز جاری نہ ہوئے۔ ایک جانب محکمہ تعلیم نے تاخیر کی ذمہ داری محکمہ خزانہ پر ڈالی، دوسری جانب سرکاری مشینری کے اندر یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ مستحق طالبات کے لیے منظور شدہ پروگرام مسلسل ادائیگی کے بغیر کیسے چلتا رہا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی معمولی نہیں کہ وظیفہ محض چند سو روپے کی نقد رقم نہیں تھا۔ پروگرام کا مقصد لڑکیوں کو سکول میں برقرار رکھنا، حاضری بہتر بنانا اور سکول چھوڑنے کی شرح کم کرنا تھا۔ یعنی حکومت نے خود ایک پالیسی بنائی، اہلیت کا معیار مقرر کیا، سکولوں سے حاضری کا ریکارڈ لیا، مستحق طالبات کی فہرستیں تیار کیں، بجٹ رکھا اور پھر ادائیگی کے مرحلے پر نظام میں تعطل پیدا ہوگیا۔ ایک غریب گھرانے کی طالبہ کے لیے چند سو روپے شاید حکومتی بجٹ میں معمولی رقم ہوں، مگر یونیفارم، کاپی، کتاب، جوتے یا سفری اخراجات کے لیے یہی رقم والدین کے لیے معنی رکھ سکتی ہے۔
یہاں قانون بھی حکومت سے سوال کرتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ خیبر پختونخوا نے اسی آئینی ذمہ داری کو عملی شکل دینے کے لیے خیبر پختونخوا مفت لازمی ابتدائی و ثانوی تعلیم ایکٹ 2017 نافذ کیا، جس کے تحت حکومت پر پانچ سے سولہ سال کے بچوں کو مفت لازمی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ قانون میں جماعت دہم تک کی تعلیم اس دائرے میں شامل ہے۔
وظیفہ بذات خود شاید آئینی طور پر ہر بچے کا الگ اور براہ راست حق قرار نہ دیا گیا ہو، لیکن جب حکومت کسی مخصوص طبقے کے لیے باقاعدہ سرکاری پروگرام، اہلیت کا معیار، بجٹ اور ادائیگی کا طریقہ مقرر کر دیتی ہے تو اس پروگرام کے نفاذ میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور جواب دہی کے تقاضے پیدا ہوتے ہیں۔ سرکاری پروگرام کو کاغذ پر زندہ رکھنا اور اس کے مستحقین تک اس کا فائدہ نہ پہنچانا اچھی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے متعلق سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
مالیاتی نگرانی کے معاملے میں آئین مزید واضح ہے۔ آرٹیکل 170 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حسابات کا آڈٹ آڈیٹر جنرل پاکستان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جبکہ آرٹیکل 171 کے تحت صوبے سے متعلق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ گورنر کے ذریعے صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آڈٹ اعتراض محض اخباری تبصرہ نہیں؛ اس کے بعد منتخب ایوان میں جواب دہی اور اصلاح کا ایک آئینی راستہ موجود ہے۔
یہاں سے معاملہ صرف وظائف کا نہیں رہتا بلکہ طرز حکمرانی کا بن جاتا ہے۔
اگر ایک حکومت تین سال تک ایک تعلیمی پروگرام کی ادائیگی بحال نہیں کر پاتی، اگر محکمہ تعلیم اور محکمہ خزانہ ایک دوسرے کی طرف ذمہ داری منتقل کرتے رہیں، اگر ایک ارب روپے سے زیادہ کے وظائف کی رقم مستحق طالبات تک نہ پہنچ سکے، اگر آڈٹ اعتراض کے بعد بھی معاملہ برسوں تک انتظامی کارروائی میں پھنسا رہے، تو سوال یہ نہیں رہتا کہ مسئلہ صرف پیسوں کی کمی کا تھا۔ سوال یہ بنتا ہے کہ ترجیحات، نگرانی، فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی جواب دہی کا نظام کس حد تک مؤثر تھا؟
یہ سوال موجودہ مالی سال کے تناظر میں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق 2026-27 میں تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 468.379 ارب روپے مختص کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال سے 48.64 ارب روپے زیادہ ہیں۔ حکومت نے 23 ہزار سے زائد سکولوں میں فرنیچر، 10 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتی، 72 چیف منسٹر ماڈل سکولوں، سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے 5 ارب روپے اور مفت نصابی کتب کے لیے 8.5 ارب روپے سمیت متعدد اعلانات کیے ہیں۔ اسی بجٹ میں تعلیم کارڈ اور دیگر تعلیمی اقدامات کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔
ایسے میں سوال مزید سادہ ہو جاتا ہے کہ اگر صوبہ تعلیم کے لیے سینکڑوں ارب روپے مختص کر سکتا ہے تو چند لاکھ مستحق طالبات کے وظائف کی ادائیگی کا انتظام کیوں مسلسل مسئلہ بن جاتا ہے؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کا سیاسی تناظر بھی سامنے آتا ہے۔
موجودہ صوبائی حکومت کے سربراہ سہیل آفریدی خود 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں میں جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اور اسے فیصلہ کن سیاسی سرگرمی قرار دے رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو تیاری کی ہدایات دی گئی ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق مارچ کے پہلے دن کے اخراجات کا تخمینہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد روزانہ کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 1 کروڑ 45 لاکھ روپے لگایا گیا ہے؛ اس لیے صرف اعداد کا ذکر کرتے ہوئے بھی اصل رپورٹ کے سیاق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
یہاں تقابل کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں فیصلہ نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کی طرف اشارہ ہے کہ ایک صوبائی حکومت کے پاس سیاسی احتجاج کی تیاری کے لیے وقت، تنظیم، کارکنوں کی نقل و حرکت اور کروڑوں روپے کے تخمینے پر بات کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تو اسی حکومت کے انتظامی نظام میں غریب طالبات کے چند سو روپے کے وظائف کی بروقت ادائیگی کیوں یقینی نہیں بن سکی؟
لانگ مارچ کرنا کسی سیاسی جماعت کا آئینی اور قانونی حق ہو سکتا ہے، بشرطیکہ قانون اور عدالتی احکامات کی پابندی کی جائے۔ لیکن احتجاج کی سیاسی آزادی اور حکومت کی انتظامی ذمہ داری دو الگ معاملات ہیں۔ صوبائی حکومت کا ایک حصہ سیاسی جماعت کے طور پر احتجاج کر سکتا ہے، مگر حکومت کے ادارے اسی وقت سکول، ہسپتال، پولیس، خزانہ اور عوامی خدمات چلانے کے ذمہ دار رہتے ہیں۔ سیاسی سرگرمی انتظامی جواب دہی کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اسی لیے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے ایک اور سوال خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کے سامنے ہونا چاہیے کہ کیا عوام سے اسلام آباد جانے کی اپیل کرنے سے پہلے صوبے کے ان بچوں کو جواب دیا گیا ہے جن کے نام پر سرکاری ریکارڈ میں وظیفہ موجود ہے مگر جن کے ہاتھ میں رقم نہیں پہنچی؟
یہ سوال صوبے کے پورے سیاسی نظام سے ہے۔کیونکہ اس منصوبے کا مقصد لڑکیوں کو سکول میں برقرار رکھنا ہے اور اس کی ادائیگی میں رکاوٹ کئی مالی سالوں پر محیط مسئلہ بن چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے 13 سالہ حکومتوں کے لیے یہ سوال موجود ہے کہ سرکاری پروگرام کی نگرانی کہاں تھی، بجٹ کی ترجیح کہاں تھی، آڈٹ اعتراض کے بعد اصلاح کہاں تھی اور اسمبلی کی نگرانی کہاں تھی؟
سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ جب سرکاری ویب سائٹ 2026 میں پروگرام کے لیے 3.6 ارب روپے کا بجٹ دکھا رہی ہے تو حکومت کو عوام کے سامنے انتہائی واضح اعداد دینے چاہئیں کہ کتنی طالبات مستحق ہیں، کتنی رقم مختص ہوئی، کتنی جاری ہوئی، کتنی تقسیم ہوئی، کتنی طالبات کے اکاؤنٹس یا مقررہ ادائیگی کے ذریعے رقم پہنچی اور گزشتہ برسوں کی بقایا رقم کا کیا ہوا؟ محکمہ تعلیم کے تعلیمی انتظامی معلوماتی نظام میں موجود ڈیٹا، خزانے کے اجرا کے ریکارڈ اور ادائیگی کے ثبوت کو ملا کر یہ پوری تصویر چند دن میں سامنے لائی جا سکتی ہے۔
حکمرانی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ حکومت کتنے بڑے جلسے کر سکتی ہے یا کتنے بڑے سیاسی مارچ کی تیاری کر سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ حکومت اپنے بجٹ میں رکھی ہوئی رقم کو صحیح مستحق تک، صحیح وقت پر اور قابلِ تصدیق طریقے سے پہنچا سکتی ہے یا نہیں۔ ایک غریب طالبہ کے پانچ سو روپے اور اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے سیاسی قافلے کے کروڑوں روپے کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ ایک رقم مستقبل بنانے کے لیے ہے اور دوسری سیاسی طاقت کے اظہار کے لیے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو دونوں معاملات میں جواب چاہیے۔ مگر حکومت سے سب سے پہلے اس بچی کا جواب بنتا ہے جو سکول جاتی ہے، 80 فیصد حاضری پوری کرتی ہے، حکومت کے ریکارڈ میں مستحق قرار پاتی ہے، اس کا نام فہرست میں آتا ہے، مگر کئی برس بعد بھی پوچھتی ہے کہ میرا وظیفہ کہاں ہے؟
یہ سوال کسی لانگ مارچ سے چھوٹا نہیں۔ شاید اس لیے کہ لانگ مارچ چند دن کا سیاسی واقعہ ہوتا ہے، جبکہ ایک بچی کی تعلیم پوری زندگی کا مسئلہ ہوتی ہے۔
واپس کریں