دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دہشتگردی کا شکار خیبرپختونخوا اور جوکر قیادت
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کی سیاست میں ان دنوں گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ کبھی صوابی جانے کا چیلنج دیا جاتا ہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف بیان جاری کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے، کبھی لانگ مارچ کو لکی ایرانی سرکس قرار دیا جاتا ہے اور کبھی گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکیوں اور آئینی اختیارات کی بحث خبروں کا موضوع بنتی ہے۔ سیاسی بیانات کا یہ سلسلہ اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ اس سارے غلغلے میں صوبے کے حقیقی مسائل کہاں کھڑے ہیں؟
خیبرپختونخوا اس وقت محض سیاسی اختلافات کا نہیں بلکہ امن و امان، دہشت گردی، پولیس کی استعداد، عوامی تحفظ اور انتظامی کارکردگی جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، ان کے اغوا کی اطلاعات، سکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس ایسے معاملات ہیں جنہیں سیاسی جملوں اور جوابی بیانات کے درمیان گم نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے ماحول میں عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اور آئینی عہدوں پر فائز شخصیات صورت حال کی بہتری کے لیے عملاً کیا کر رہی ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اور عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس سوال کو محض سیاسی مخالفت کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح ہونا چاہیے اور عوام کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ ان کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ تاہم گورنر صاحب کو بھی یہ واضح کرنا چاہیے کہ اپنے آئینی منصب اور دستیاب اختیارات کے تحت وہ اس مقصد کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تنقید کرنا سیاسی حق ہے، لیکن منصب کے تقاضے محض بیانات سے پورے نہیں ہوتے۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں۔ صوبے میں حکومت قائم ہونے کا مطلب صرف سیاسی مخالفین کو جواب دینا یا اپنے مؤقف کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ انتظامی مشینری کو فعال بنانا، پولیس کی صلاحیت بڑھانا، عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور امن و امان کی بہتری کے لیے قابلِ عمل اقدامات کرنا بھی ہے۔ اگر پولیس کی 17 ہزار آسامیاں خالی ہونے کا دعویٰ درست ہے تو حکومت کو اس کی تفصیلات، خالی آسامیوں کی وجوہات اور انہیں پُر کرنے کے منصوبے سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ضم اضلاع میں پولیس لائنز اور دیگر ضروری سہولتوں کی تکمیل کے بارے میں بھی واضح معلومات سامنے آنی چاہییں۔ سکیورٹی کے معاملات میں اعدادوشمار محض تقریروں کا حصہ نہیں بلکہ پالیسی سازی اور جواب دہی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کسی ایک حکومت یا ادارے کے لیے آسان کام نہیں، اور ہر حملے کو محض انتظامی ناکامی قرار دینا بھی درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ لیکن خطرات کے مقابلے کے لیے تیاری، پولیس کی نفری اور وسائل کی فراہمی، انٹیلی جنس رابطوں کی بہتری، متاثرہ علاقوں میں ریاستی عمل داری اور عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کو بھی اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ذمہ داری کا تعین حقائق اور آئینی اختیارات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی وابستگی کے مطابق۔
سیاسی لانگ مارچ، جلسے اور احتجاج جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ ان سرگرمیوں پر اعتراض کرنے سے پہلے ان کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کو دیکھنا چاہیے، لیکن یہ سوال بھی جائز ہے کہ جب صوبے کے متعدد علاقوں میں امن و امان کے مسائل سنگین ہوں تو سیاسی قیادت اپنی ترجیحات میں عوام کے تحفظ کو کس مقام پر رکھتی ہے۔ کیا سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی ضروریات، دہشت گردی کے خطرات، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں پر بھی اسی سنجیدگی سے توجہ دی جا رہی ہے؟ اگر نہیں تو عوام کا سوال اپنی جگہ بالکل درست ہے۔
گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکیاں ہوں یا وزیراعلیٰ اور گورنر کے درمیان اختیارات کی کشمکش، ایسے معاملات کا حل سیاسی اشتعال نہیں بلکہ آئینی طریقۂ کار ہے۔ گورنر کا منصب ہو یا وزیراعلیٰ کا، دونوں ریاستی نظام کا حصہ ہیں اور دونوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو اداروں کے تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ اگر کسی معاملے میں اختیارات کی حدود پر اختلاف ہے تو اسے آئین، قانون اور متعلقہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ عوام کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ ان کے مسائل سے زیادہ اہمیت سیاسی انا اور منصبی برتری کو حاصل ہے۔
اس پوری صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ خیبرپختونخوا میں برسراقتدار جماعت کو اپنے سیاسی مؤقف اور عملی حکمرانی کے درمیان فرق واضح کرنا ہوگا۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور اس کے نمائندوں کو بھی صوبائی حکومت پر تنقید کے ساتھ تعاون اور قابلِ عمل حل پیش کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ اگر ہر فریق ناکامی کا بوجھ دوسرے پر ڈال دے تو نہ پولیس کی نفری پوری ہوگی، نہ سکیورٹی کا نظام بہتر ہوگا اور نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے۔
سیاسی طنز وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن صوبے کے حالات محض طنز سے نہیں بدلیں گے۔ عوام کو یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کیا ہے، پولیس کو درکار وسائل کب فراہم ہوں گے، خالی آسامیوں کے بارے میں حکومت کا منصوبہ کیا ہے، متاثرہ علاقوں میں ریاستی عمل داری کیسے مضبوط کی جائے گی اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاق اور صوبہ کس بنیاد پر تعاون کریں گے۔ ان سوالات کے جواب بیانات کی تعداد سے نہیں بلکہ اقدامات اور ان کے نتائج سے ملیں گے۔
اس وقت خیبرپختونخوا کی سیاست کو ایک دوسرے کو چیلنج دینے سے آگے بڑھ کر عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کی ضرورت ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کو اپنے دعووں اور سیاسی تنقید کے ساتھ اپنے عملی کردار کی وضاحت کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حکومتی کارکردگی اور امن و امان کے اقدامات کے بارے میں واضح جواب دینا چاہیے، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی صوبے کے مسائل کے حل میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ سیاسی سرکس کا تماشا کون دکھا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس تماشے کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری کون پوری کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی نعروں، چیلنجوں اور الزام تراشیوں سے زیادہ امن، مؤثر حکمرانی اور جواب دہ قیادت درکار ہے۔ سیاست دانوں کو یہ حقیقت جتنی جلد سمجھ آ جائے، صوبے اور اس کے عوام کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
واپس کریں