خالد خان۔ کالم نگار
یہ کون کہتا ہے کہ شراب مارتی ہے؟
مارتا تو عشق ہے، شراب تو زندہ رکھتی ہے!
لوگ مجھے شہر کا بدنام شرابی گردانتے ہیں۔ میں مسکرا دیتا ہوں۔ انہیں کیا معلوم کہ جس آدمی کو وہ ہاتھ میں صراحی لیے دیکھتے ہیں، وہ کبھی عشق کا ایسا نشہ کرتا تھا جس کے سامنے دنیا کا ہر نشہ ہیچ تھا۔
میں نے عشق کیا تھا۔
ایسا عشق جس میں محبوب کی ہر خواہش، بنا کہے، میرے لیے تکمیلِ عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔ میں اس کی آنکھیں پڑھتا تھا، اس کی سانسیں لفظوں میں ڈھالتا تھا۔ میں نے اس کی ہر تمنا پوری کی، سوائے اس ایک کے کہ میں ہر شام اس کے سامنے بیٹھ کر پیوں۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ بعض خواہشیں پوری نہ کرنے کا دکھ انسان کو ہر سانس میں جیتے جی مارتا ہے۔
میں اس وقت بھی عادی نشئی تھا۔ چار مشروب ملا کر پیتا تھا؛ جوانی کا نشہ، اس کے پیار کا نشہ، ذہنی بلوغت کا نشہ اور فطرت سے محبت کا نشہ۔
یہ میرا کاک ٹیل تھا۔
میں درختوں، بارش، پہاڑوں، خوشبو، کتابوں، خیال اور اس کی آنکھوں میں زندگی کے رنگوں سے نہاتا تھا۔ مجھے لگتا تھا دنیا بہت خوبصورت ہے اور محبت اس خوبصورتی کا سب سے مکمل نام ہے۔
پھر عشق ناکام ہو گیا۔
دنیا وہی رہی، مگر میری دنیا ختم ہو گئی۔
میں بکھر گیا۔
بہت بعد میں مجھے سمجھ آیا کہ بعض شکستیں آدمی کو صرف اس شخص سے جدا نہیں کرتیں جس سے وہ محبت کرتا ہے، بلکہ اسے اس شخص سے بھی جدا کر دیتی ہیں جو وہ خود ہوا کرتا تھا۔
میرے پاس ایک ناتمام خواہش رہ گئی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ ہر شام میں اس کے سامنے بیٹھ کر پیوں۔
وہ شامیں کبھی نہیں آئیں۔
پھر ایک دن میں نے وہ شرابی شام برپا کر دی۔
شاید اس لیے کہ انسان بعض اوقات اس درد سے بچنے کے لیے وہی دوا اختیار کر لیتا ہے جسے کبھی اپنے لیے ممنوع سمجھتا تھا۔ جب شراب میری رگوں میں دوڑتی ہے تو وہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔ میرے اندر چودھویں کا چاند اتر آتا ہے۔ دودھیا ملگجی چاندنی میں کھیلتے کھیلتے جب ہماری سانسیں پھول جاتی ہیں تو درد کہیں چلا جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ چلی گئی۔
میں اپنے کاندھے پر سر رکھ کر یوں پرسکون ہو جاتا ہوں جیسے کبھی ماں کی گود اور اس کی بانہوں میں ہوتا تھا۔ شراب بھی مجھے محبوباؤں میں ممتا کی تلاش سے نہیں روک پاتی۔ عشق روٹھ جائے تو شراب بھی پانی بن جاتی ہے۔ ناکام عشق بھی بڑا ستم ظریف ہوتا ہے۔
آج لوگ مجھے شرابی کہتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔
مگر لوگ کیا جانیں کہ میں کیوں پیتا ہوں۔
وہ میرے ہاتھ میں سبو دیکھتے ہیں، میرے اندر کا زخم نہیں۔ وہ میری لڑکھڑاتی چال دیکھتے ہیں، وہ راستہ نہیں دیکھتے جس پر چلتے چلتے میں یہاں تک پہنچا ہوں۔ وہ میری بدنامی دیکھتے ہیں، وہ وہ محبت نہیں دیکھتے جسے میں نے کبھی نیک نام کیا تھا۔ وہ میری بے خودی کو دیکھتے ہیں، مگر میری خودی سے بےخبر ہوتے ہیں۔
میں انہیں کیسے سمجھاؤں کہ میں نے شراب سے محبت نہیں کی؟
میں نے تو شراب کو اس محبت کے بعد قبول کیا جسے میں بچا نہیں سکا۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر میں نہ پیتا تو کیا ہوتا؟
شاید میں زیادہ معزز آدمی ہوتا۔ شاید لوگ میری تعریف کرتے۔ شاید میری شہرت اچھی ہوتی۔ شاید کوئی مجھے بدنام شرابی نہ کہتا۔ شاید میں بیمار بھی نہ ہوتا اور شاید میرے پاس پیسے بھی ہوتے۔
مگر میں جنم جنم خود کو بےوفا سمجھتا، نافرمان تصور کرتا۔ مجھے جگر پر داغ منظور ہوا، لیکن کردار پر نہیں۔ میں اب ہر شام کفارہ ادا کرکے پیتا ہوں۔
اور میں، میرا درد، میرا ناتمام عشق اور زندگی کی جستجو زندہ ہے۔ میرا کاک ٹیل آج بھی مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔
لوگوں کے پاس جب کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ کہتے ہیں، شراب مارتی ہے۔
ارے، مارتا تو عشق ہے۔
شراب تو زندہ رکھتی ہے۔
واپس کریں