انکوائریوں کے بعد دوبارہ اہم عہدہ، محکمہ صحت میں احتساب کا معیار سوال بن گیا
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت میں بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائریوں کا سامنا کرنے والے ایک افسر کو دوبارہ اہم انتظامی عہدے پر تعینات کیے جانے کے معاملے نے محکمہ صحت کے احتسابی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق متعلقہ افسر کو لوئر و سینٹرل کرم اور شمالی وزیرستان میں خدمات کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی معاملات پر محکمانہ تحقیقات کا سامنا رہا، جس کے بعد اسے معطل بھی کیا گیا تھا۔
حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے باوجود مذکورہ افسر کو دوبارہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شمالی وزیرستان جیسے اہم انتظامی منصب پر تعینات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ تعیناتی اپنی جگہ کسی افسر کو قصوروار ثابت نہیں کرتی، تاہم اس سے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر متعلقہ افسر کے خلاف انکوائریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اسے الزامات سے بری قرار دیا گیا ہے تو اس فیصلے کو واضح کیوں نہیں کیا گیا، اور اگر انکوائریاں ابھی زیر التوا ہیں تو پھر اسے دوبارہ اہم انتظامی ذمہ داری دینے کی بنیاد کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ محکمہ صحت کے سابق قبائلی اضلاع سے متعلق معاملات میں ماضی میں متعدد افسران کے خلاف بدعنوانی، غیر قانونی تقرریوں، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات ہوتی رہی ہیں۔ 2023 میں بھی سابق قبائلی اضلاع سے وابستہ متعدد افسران کے خلاف باقاعدہ محکمانہ تحقیقات کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ ایسے حالات میں کسی افسر کی معطلی یا انکوائری کے بعد دوبارہ اہم منصب پر تعیناتی کے لیے شفاف طریقہ کار اور واضح وجوہات سامنے آنا ضروری ہے۔
احتساب کا تقاضا یہ نہیں کہ محض کسی افسر کے خلاف الزام یا انکوائری کی بنیاد پر اسے ہمیشہ کے لیے کسی عہدے سے محروم کر دیا جائے۔ اگر تحقیقات میں افسر بے قصور ثابت ہوتا ہے تو اسے عہدہ دینے میں اصولاً کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انکوائری کا نتیجہ باقاعدہ طور پر سامنے آئے۔ دوسری صورت میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ محکمانہ انکوائریاں صرف وقتی کارروائی ہیں اور ان کا افسران کی مستقبل کی تعیناتیوں پر کوئی واضح اثر نہیں پڑتا۔
شمالی وزیرستان جیسے ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا منصب محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ صحت کے پورے ضلعی نظام کی نگرانی سے متعلق اہم ذمہ داری ہے۔ ایسے منصب پر تعیناتی کرتے وقت افسر کی انتظامی کارکردگی، سابقہ ریکارڈ، محکمانہ کارروائیوں اور انکوائریوں کی موجودہ حیثیت کو پیش نظر رکھنا محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے۔
اس معاملے میں اصل ضرورت کسی افسر کے خلاف فیصلہ صادر کرنا نہیں بلکہ محکمہ صحت سے وضاحت طلب کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سیکرٹری صحت کو واضح کرنا چاہیے کہ متعلقہ افسر کے خلاف کون کون سی انکوائریاں ہوئی تھیں، ان کا نتیجہ کیا نکلا، معطلی کس بنیاد پر ہوئی، آیا تمام محکمانہ کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں یا نہیں، اور موجودہ تعیناتی کس انتظامی بنیاد اور کس مجاز حکم کے تحت کی گئی ہے۔
اگر افسر تمام الزامات سے بری ہو چکا ہے تو محکمہ صحت کو یہ حقیقت ریکارڈ کے ساتھ سامنے لانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر انکوائریاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ زیرِ تحقیقات افسر کو دوبارہ اسی نوعیت کے اہم انتظامی منصب پر تعینات کرنے کا جواز کیا ہے۔ یہی وضاحت اس معاملے میں افواہ، الزام اور حقیقت کے درمیان فرق واضح کر سکتی ہے۔
محکمہ صحت میں احتساب کی ساکھ صرف کارروائی کرنے سے نہیں بلکہ کارروائی کے منطقی انجام اور اس کے شفاف اظہار سے قائم ہوتی ہے۔ اگر انکوائری کے بعد افسر کو دوبارہ اہم ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس فیصلے کی بنیاد بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے جتنی اس کے خلاف کارروائی کی بنیاد تھی۔ بصورت دیگر سوال صرف ایک افسر کی تعیناتی کا نہیں رہتا بلکہ پورے محکمانہ احتساب کے معیار کا بن جاتا ہے۔
محکمہ صحت میں احتساب کے اس سوال کو کسی ایک افسر کی تعیناتی تک محدود کرکے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ گزشتہ برسوں کے دوران محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری، ہسپتالوں کے مالی معاملات، صحت کارڈ، غیر قانونی تقرریوں اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق متعدد سنگین مالی بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان میں بعض معاملات کی باقاعدہ تحقیقات ہوئیں جبکہ بعض آڈٹ اعتراضات کی صورت میں سامنے آئے۔
ادویات اور طبی آلات کی خریداری سے متعلق ایک معاملے میں مبینہ طور پر ایک ارب نوے کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ سامنے آیا۔ اسی طرح صحت کارڈ سے متعلق آڈٹ میں 28 ارب 61 کروڑ روپے کے مالی اعتراضات سامنے آئے، جن میں مختلف ہسپتالوں کو ادائیگیوں، ہسپتالوں کی شمولیت اور دیگر مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ان اعدادوشمار کو حتمی خردبرد قرار دینا درست نہیں، کیونکہ آڈٹ اعتراض اور ثابت شدہ جرم دو الگ چیزیں ہیں، تاہم اتنی بڑی مالی رقم سے متعلق اعتراضات کا شفاف جواب اور کارروائی ضرور بنتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بھی 44 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آ چکا ہے، جس پر محکمہ صحت نے اینٹی کرپشن حکام سے رجوع کیا۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے حوالے سے بھی مالی قواعد کی خلاف ورزیوں پر وضاحتیں طلب کیے جانے کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات کو اگر ایک ایک کرکے دیکھا جائے تو ہر معاملہ اپنی الگ وضاحت کا تقاضا کرتا ہے، لیکن جب ایک ہی محکمے میں بار بار مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھیں تو پھر مسئلہ انفرادی واقعات سے آگے بڑھ کر نظام کی نگرانی اور احتساب کا بن جاتا ہے۔
صحت کا محکمہ عام سرکاری محکمہ نہیں۔ یہاں مالی بے ضابطگی کا اثر صرف سرکاری خزانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا براہ راست تعلق مریض، دوا، ہسپتال، ڈاکٹر اور علاج کی سہولت سے ہوتا ہے۔ ادویات کی خریداری میں بے قاعدگی ہو تو اس کا نتیجہ ہسپتال میں دوا کی عدم دستیابی کی صورت میں نکل سکتا ہے، ہسپتال کے مالی وسائل میں بے ضابطگی ہو تو اس کا اثر طبی سہولیات پر پڑتا ہے اور اگر اہل افسران کے بجائے متنازع ریکارڈ رکھنے والے افسران کو اہم انتظامی ذمہ داریاں دی جائیں تو پورے نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی لیے حکومت کو محکمہ صحت میں ہونے والی تمام اہم انکوائریوں، آڈٹ اعتراضات اور مالی بے ضابطگیوں کا جامع جائزہ لے کر یہ واضح کرنا چاہیے کہ کتنے معاملات میں تحقیقات مکمل ہوئیں، کتنے افسران ذمہ دار قرار پائے، کتنی رقم واپس وصول ہوئی اور کتنے معاملات میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ احتساب کا اصل پیمانہ معطلیوں اور انکوائریوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کا منطقی انجام ہے۔
ایک افسر کی دوبارہ تعیناتی سے اٹھنے والا سوال دراصل اسی وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے۔ اگر محکمہ صحت میں کسی افسر کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اس کارروائی کا نتیجہ بھی ریکارڈ پر ہونا چاہیے، اور اگر کسی افسر کو دوبارہ اہم منصب دیا جاتا ہے تو اس فیصلے کی بنیاد بھی واضح ہونی چاہیے۔ شفافیت کا یہی اصول محکمہ صحت کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو ختم کر سکتا ہے۔
معاملہ کسی ایک افسر کو نشانہ بنانے کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی تشکیل کا ہے جس میں الزام لگنے پر منصفانہ تحقیقات ہوں، بے قصور کو بری الذمہ قرار دیا جائے، ذمہ دار کا تعین ہو، سرکاری نقصان کی وصولی ہو اور اہم عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ، اہلیت اور صاف ریکارڈ کی بنیاد پر ہوں۔ محکمہ صحت میں بار بار سامنے آنے والے مالی اور انتظامی سوالات کا جواب بھی اسی اصول کے تحت دینا ہوگا، کیونکہ صحت کے شعبے میں احتساب کی کمزوری کا نقصان بالآخر سرکاری خزانے کے ساتھ ساتھ عام مریض کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
واپس کریں