دہشت گردوں کا پنجابی نسب نامہ: ایک وائرل دعوے کی تحقیقی پڑتال
خالد خان۔ کالم نگار
سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کر رہی ہے جس میں پاکستان کی معروف عسکریت پسند تنظیموں کے سربراہان اور اہم کمانڈروں کی ایک طویل فہرست پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا اصل تعلق پنجاب سے تھا۔ تحریر میں کسی کو آرائیں، کسی کو راجپوت، کسی کو گجر، کسی کو کھوکھر، کسی کو بھٹی، کسی کو کھوسہ اور کسی کو تارڑ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کئی ایسے افراد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے جنہیں عام طور پر پشتون قبائل، خیبرپختونخوا یا سابق قبائلی اضلاع سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل پنجاب سے آئے تھے، انہوں نے پشتو سیکھی، پشتون حلیہ اختیار کیا اور مقامی شناخت کے پردے میں اپنی اصل چھپاتے رہے۔ تحریر کا آخری اور سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا تعلق بنیادی طور پر پنجاب اور پنجابیوں سے ہے۔
چونکہ یہ محض کسی ایک فرد کی شناخت کا سوال نہیں بلکہ ایک پوری قوم اور ایک پورے خطے کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش ہے، اس لیے اس دعوے کو جذبات کے بجائے شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ ہم اس وائرل تحریر کو نہ درست مان کر آگے بڑھیں گے اور نہ اسے ابتدا ہی میں غلط قرار دیں گے۔ ہر نام کے بارے میں الگ سے یہ دیکھیں گے کہ معتبر تاریخی، تحقیقی، صحافتی اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کیا کہتے ہیں۔ جہاں دعویٰ ثابت ہوگا، اسے تسلیم کیا جائے گا، جہاں غلط ہوگا، اسے غلط کہا جائے گا اور جہاں قابل اعتماد ثبوت نہیں ملے گا، وہاں اسے غیر ثابت شدہ قرار دیا جائے گا۔
فہرست کا آغاز تحریک نفاذ شریعت محمدی کے بانی مولانا صوفی محمد سے ہوتا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق لاہور کے آرائیں خاندان سے تھا۔ دستیاب معتبر ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔ وائس آف امریکہ کے مطابق صوفی محمد 1933 میں لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مذہبی تعلیم صوابی کے پنج پیر مدرسے سے حاصل کی۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے بھی انہیں میدان، دیر کا رہنے والا قرار دیا ہے، جبکہ اس کے ایک تفصیلی پروفائل میں ان کے خاندانی پس منظر کو تاجک بتایا گیا ہے۔ اس لیے لاہور کے آرائیں ہونے کا دعویٰ دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور درست ہے کہ صوفی محمد نے تحریک نفاذ شریعت محمدی قائم کی، افغان جنگ میں اپنے پیروکاروں کو لے کر گئے اور بعد میں ان کے داماد فضل اللہ نے سوات میں ایک مسلح تحریک کی قیادت کی۔
صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ کے بارے میں بھی وائرل تحریر یہی تاثر دیتی ہے کہ وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شخص تھے۔ تحقیق یہاں بھی مختلف تصویر دکھاتی ہے۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق فضل اللہ 1975 میں سوات کے مام ڈھیری گاؤں میں پیدا ہوئے، وہ ایک کسان خاندان سے تعلق رکھتے تھے، سوات میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں اپنے سسر صوفی محمد کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی۔ ایک اور پاکستانی پروفائل میں ان کی پیدائش امام ڈھیری، سوات اور تعلیم سوات و دیر میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ انہیں گوجر خان کا جٹ یا پنجاب سے تعلق رکھنے والا شخص قرار دینے کے لیے ہمیں کوئی معتبر ثبوت نہیں ملا۔
لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کے بارے میں وائرل تحریر کا دعویٰ اس سے بھی زیادہ مخصوص ہے کہ وہ گوجرانوالہ کے راجپوت تھے۔ یہاں دستیاب شواہد اس دعوے کی براہ راست نفی کرتے ہیں۔ منگل باغ باڑہ سے تعلق رکھتے تھے اور تحقیق میں انہیں سپاہ آفریدی قبیلے سے منسوب کیا گیا ہے۔ مرکز برائے گورننس ریسرچ کے مطابق وہ باڑہ کے نسبتاً چھوٹے سپاہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، ابتدائی زندگی میں بسوں کے کلینر اور ڈرائیور رہے اور بعد میں مفتی منیر شاکر کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ اس لیے گوجرانوالہ کا راجپوت ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ دستیاب ریکارڈ اس کے برعکس مقامی آفریدی قبائلی پس منظر کی نشان دہی کرتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کے بارے میں بھی وائرل فہرست میں جڑانوالہ پنجاب، آرائیں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ معتبر پاکستانی ذرائع اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق مفتی منیر شاکر 1969 میں ضلع کرم کے گاؤں ماخی زئی میں پیدا ہوئے اور کراچی سے دینی تعلیم حاصل کی۔ اردو نیوز بھی انہیں ضلع کرم میں پیدا ہونے والا شخص قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ بعد میں باڑہ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے لشکر اسلام کی بنیاد رکھی۔ اس لیے جڑانوالہ کے آرائیں ہونے کا دعویٰ فی الحال غیر ثابت شدہ نہیں بلکہ دستیاب پیدائشی ریکارڈ کے ساتھ متصادم نظر آتا ہے۔
انصار الاسلام کے رہنما پیر سیف الرحمن کے بارے میں وائرل تحریر میں ایک دلچسپ تضاد ہے۔ اس میں انہیں چکوال کا اعوان پنجابی قرار دیا گیا ہے، جبکہ معتبر ذرائع انہیں افغان قرار دیتے ہیں۔ جیمز ٹاؤن سے وابستہ تحقیقی مواد میں انہیں افغان بتایا گیا ہے جو خیبر میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ ڈان کی 2006 کی رپورٹ بھی واضح طور پر انہیں افغان شہری قرار دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ 1977 سے باڑہ میں مقیم تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈان کی اسی خبر میں ان کے 28 حامیوں کو پنجاب سے تعلق رکھنے والا بتایا گیا ہے؛ ممکن ہے بعد میں اسی نوعیت کی کسی معلومات کو الٹ کر خود پیر سیف الرحمن کی شناخت بنا دیا گیا ہو۔ مگر دستیاب شواہد میں پیر سیف الرحمن خود چکوال کے اعوان نہیں نکلتے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ حاجی نامدار کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ راولپنڈی کے گجر تھے۔ تحقیق یہاں بھی وائرل دعوے کو سہارا نہیں دیتی۔ کومبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق حاجی نامدار خیبر کے مقامی قبائلی رہنما تھے جنہوں نے تیراہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر قائم کی۔ ڈان کی پرانی رپورٹ انہیں قمبرخیل کے حاجی نامدار کے طور پر بیان کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ان کی تنظیم نے تیراہ اور باڑہ میں اثر قائم کیا۔ بعد کی ایک رپورٹ میں بھی تنظیم کے قیام کو باڑہ کے قمبرخیل علاقے سے جوڑا گیا ہے۔ راولپنڈی کے گجر ہونے کا دعویٰ ان معتبر حوالوں میں موجود نہیں۔
جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان نیٹ ورک کے دو اہم نام نیک محمد اور حاجی عمر کے بارے میں وائرل تحریر شاید سب سے زیادہ حیران کن دعویٰ کرتی ہے کہ دونوں جنوبی پنجاب کے کھوکھر تھے۔ اس کے برعکس دستیاب ریکارڈ نیک محمد کو جنوبی وزیرستان کے کالوشہ کا رہنے والا اور احمد زئی وزیر قبیلے کی یارگل خیل شاخ سے وابستہ قرار دیتا ہے۔ ایک تحقیقی کتاب میں نیک محمد اور حاجی عمر دونوں کو یارگل خیل کے نمایاں عسکری رہنما بتایا گیا ہے اور نیک محمد کی پیدائش کالوشہ کے قریب 1975 میں درج ہے۔ حاجی عمر کے بارے میں جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کا تفصیلی پروفائل بھی صاف لکھتا ہے کہ وہ وزیر قبیلے کی یارگل خیل شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور نیک محمد کے بعد جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے قائم مقام سربراہ بنے۔ چنانچہ دونوں کو جنوبی پنجاب کا کھوکھر قرار دینے کا دعویٰ شواہد سے نہیں ملتا۔
ملا نذیر کے بارے میں وائرل فہرست کہتی ہے کہ وہ وانا یا جنوبی وزیرستان کے نہیں بلکہ پنجاب کے چھٹہ خاندان سے تھے۔ یہاں بھی تحقیق اس کے برعکس ہے۔ کریٹیکل تھریٹس کے تفصیلی پروفائل کے مطابق ملا نذیر کا خاندان احمد زئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی شاخ زلی خیل اور ذیلی شاخ کاکاخیل تھی۔ ان کی مذہبی تعلیم وانا کے مدرسے سے ہوئی اور وہ جنوبی وزیرستان میں طالبان کے اہم رہنما بنے۔ دوسرے ریکارڈ بھی انہیں وزیر قبائلی پس منظر سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے پنجاب کے چھٹہ ہونے کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔
حافظ گل بہادر کے بارے میں دعویٰ اس سے بھی زیادہ قطعی انداز میں کیا گیا ہے کہ میرانشاہ سے منسوب کیا جانے والا یہ شخص دراصل فیصل آباد کا بھٹی پنجابی تھا۔ لیکن دستیاب معتبر ریکارڈ حافظ گل بہادر کو شمالی وزیرستان کے عثمان زئی وزیر قبیلے کی مادہ خیل شاخ سے منسوب کرتا ہے۔ ڈان کے حالیہ تفصیلی پروفائل میں یہی قبائلی شناخت دی گئی ہے، جبکہ فارن پالیسی کی تحقیقی رپورٹ اسے مادہ خیل، عثمان زئی وزیر قبیلے کا فرد اور شمالی وزیرستان کے علاقے کا رہنے والا بتاتی ہے۔ البتہ ایک اہم بات ضرور سامنے آتی ہے: حافظ گل بہادر نے ملتان کے ایک دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اگر کوئی شخص باقی معلومات سے کاٹ کر پیش کرے تو ایک غلط تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم کا مقام اور آبائی قبائلی شناخت دو الگ چیزیں ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے بانی بیت اللہ محسود کے بارے میں وائرل فہرست کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوبی وزیرستان سے نہیں بلکہ چکوال کے بھٹی پنجابی تھے۔ اس دعوے کے برعکس متعدد ریکارڈ بیت اللہ محسود کو محسود پشتون قبیلے سے جوڑتے ہیں۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق وہ بنوں کے لندی ڈھوک میں پیدا ہوئے تھے، ان کا خاندانی تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے تھا اور وہ شبی خیل کی برومی خیل شاخ سے وابستہ تھے۔ ان کی تعلیم کے بارے میں یہ ضرور ملتا ہے کہ انہوں نے پنجاب میں بھی کچھ تعلیم حاصل کی، لیکن پنجاب میں تعلیم حاصل کرنا انہیں چکوال کا بھٹی نہیں بنا دیتا۔ اس دعوے کے لیے کوئی معتبر ثبوت سامنے نہیں آتا۔
حکیم اللہ محسود کے بارے میں بھی یہی نسخہ استعمال کیا گیا ہے۔ وائرل تحریر انہیں چکوال کا بھٹی قرار دیتی ہے، جبکہ دستیاب ریکارڈ انہیں جنوبی وزیرستان کے کوٹ کائی میں پیدا ہونے والا محسود قرار دیتا ہے۔ اس معاملے میں بھی پنجاب سے تعلق ثابت کرنے والی کوئی معتبر دستاویز یا تحقیقی شہادت سامنے نہیں آئی۔ اس کے برعکس ان کی پیدائش اور مذہبی تعلیم دونوں جنوبی وزیرستان کے مقامی ماحول سے جڑی ہوئی ملتی ہیں۔
مفتی نور ولی محسود کے معاملے میں وائرل تحریر نے شاید ایک حقیقی معلومات کو غلط نتیجے میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ نور ولی محسود واقعی فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مدارس میں زیر تعلیم رہے، لیکن دستیاب سوانحی ریکارڈ ان کی پیدائش جنوبی وزیرستان کے تیارزہ علاقے میں اور تعلق محسود قبیلے کی مچیکھیل شاخ سے بتاتا ہے۔ یعنی یہاں پنجاب کا تعلق تعلیم کا ہے، آبائی قومیت کا نہیں۔ کسی مدرسے میں برسوں پڑھنا اور کسی قوم میں پیدا ہونا دو مختلف حقائق ہیں۔ اسی فرق کو مٹا کر تیار کیا گیا دعویٰ بظاہر بہت مؤثر لگ سکتا ہے، لیکن تحقیق کے سامنے اس کی ساخت واضح ہوجاتی ہے۔
جماعت الاحرار کے عمر خالد خراسانی، جن کا اصل نام عبدالولی تھا، کے بارے میں بھی یہی دعویٰ ہے کہ وہ مہمند نہیں بلکہ پنجاب کے کھوسہ تھے۔ اس کے برخلاف امریکی محکمہ خارجہ کے انصاف کے لیے انعامات کے پروگرام میں عبدالولی کو مہمند ایجنسی میں پیدا ہونے والا شخص بتایا گیا ہے۔ ایک پاکستانی اخباری پروفائل میں انہیں مہمند کے صفی قبیلے سے وابستہ اور صفو گاؤں کا رہنے والا قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ انہوں نے کراچی کے مدارس میں تعلیم حاصل کی، لیکن کراچی میں تعلیم حاصل کرنا ان کی مہمند قبائلی شناخت کو پنجاب کے کھوسہ میں تبدیل نہیں کرتا۔
تحریک جہاد پاکستان کے سربراہ مولانا عبداللہ یاغستانی کے بارے میں وائرل تحریر کا دعویٰ ہے کہ وہ کوٹ ادو کے تارڑ تھے اور اس تنظیم کے بیشتر جنگجو بھی پنجاب سے آئے تھے۔ یہاں معاملہ نسبتاً مختلف ہے کیونکہ تنظیم خود بھی نئی اور اس کی قیادت کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ دستیاب تحقیقی رپورٹوں میں تنظیم کے ترجمان کے حوالے سے عبداللہ یاغستانی کو سربراہ بتایا گیا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کراچی کے ایک معروف مدرسے میں زیر تعلیم رہے اور افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج کے خلاف لڑتے رہے۔ لیکن ہمیں کوئی معتبر بنیادی یا تحقیقی ماخذ نہیں ملا جو انہیں کوٹ ادو کا تارڑ ثابت کرتا ہو۔ اس لیے اس دعوے کو حقیقت کے طور پر لکھنا درست نہیں ہوگا۔ البتہ یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ ان کا پنجاب سے کوئی تعلق کبھی رہا ہی نہیں؛ موجودہ شواہد صرف اتنا بتاتے ہیں کہ وائرل تحریر کا مخصوص نسب، قوم اور جائے پیدائش والا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔
باجوڑ طالبان نیٹ ورک کے مولوی فقیر محمد کے بارے میں بھی دعویٰ ہے کہ وہ باجوڑ کے نہیں بلکہ چیچہ وطنی کے رہنے والے اور ’’چودھری‘‘ تھے۔ یہاں دستیاب تاریخی مواد اس دعوے کو تقریباً براہ راست مسترد کرتا ہے۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے تفصیلی پروفائل کے مطابق مولانا فقیر محمد باجوڑ ایجنسی کے چپترہ گاؤں میں پیدا ہوئے، افغان سرحد کے قریب اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی مہمند قبیلے سے وابستہ تھے۔ لہٰذا چیچہ وطنی کا دعویٰ شواہد کے سامنے قائم نہیں رہتا۔
طارق آفریدی عرف طارق گیدڑ کے بارے میں وائرل فہرست اسے اوکاڑہ کا ’’گل‘‘ پنجابی قرار دیتی ہے۔ یہاں بھی تحقیق کا رخ مختلف ہے۔ ڈان کی رپورٹ اسے درہ آدم خیل طالبان کا سربراہ قرار دیتی ہے، جبکہ دیگر تحقیقی مواد درہ آدم خیل کے طالبان نیٹ ورک کو مقامی آفریدی قبائلی ماحول سے جوڑتا ہے۔ درہ آدم خیل خود آدم خیل آفریدیوں کا علاقہ ہے اور طارق آفریدی کا گروہ اسی جغرافیہ میں منظم ہوا تھا۔ ہمیں ایسا معتبر ماخذ نہیں ملا جو طارق گیدڑ کو اوکاڑہ کا پنجابی یا ’’گل‘‘ ثابت کرے۔ البتہ اس گروہ کے بعد کے ارکان میں غیر مقامی اور افغان جنگجوؤں کی موجودگی ایک الگ حقیقت ہوسکتی ہے، جسے اس کے بانی کی نسلی شناخت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
عدنان رشید کے بارے میں وائرل تحریر میں کہا گیا ہے کہ وہ چھوٹا لاہور، صوابی کے نہیں بلکہ بہاولپور کے رہنے والے تھے۔ یہ دعویٰ بھی دستیاب ریکارڈ سے متصادم ہے۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے تفصیلی پروفائل کے مطابق عدنان رشید 1980 میں چھوٹا لاہور، ضلع صوابی میں پیدا ہوئے اور پشتون تھے۔ ڈان نے بھی انہیں چھوٹا لاہور، صوابی کا رہنے والا اور سابق پاکستان ایئر فورس جونیئر ٹیکنیشن قرار دیا ہے۔ البتہ وائرل تحریر میں ایک حقیقت موجود ہے کہ وہ پاکستان ایئر فورس کے سابق اہلکار تھے اور بعد میں طالبان کے اہم کمانڈروں میں شامل ہوئے۔ یہی حقیقی حصہ غلط نسبت کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
سوات طالبان کے مسلم خان اور محمود خان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق سوات سے نہیں بلکہ سرائے عالمگیر پنجاب سے تھا۔ مسلم خان کے بارے میں دستیاب ریکارڈ اس دعوے کی واضح تردید کرتا ہے۔ کومبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق مسلم خان نے خود بتایا تھا کہ وہ سوات کی کوزہ بانڈہ میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی اور بعد میں سوات کی سیاست اور مذہبی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ ایک اور ریکارڈ ان کی پیدائش کبل، سوات میں بیان کرتا ہے۔ محمود خان بھی سوات طالبان کے اہم کمانڈر تھے اور ان کی گرفتاری سوات میں ہوئی۔ معتبر رپورٹس انہیں سوات کا طالبان رہنما قرار دیتی ہیں۔ سرائے عالمگیر پنجاب سے تعلق کا دعویٰ کسی قابل اعتماد ماخذ سے ثابت نہیں ہوا۔
آخر میں وائرل فہرست ’’جنداللہ، احمد مہمند گروپ‘‘ کے نام سے ایک ایسے شخص کو مہمند ایجنسی کے بجائے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا قرار دیتی ہے۔ اس دعوے کی جانچ میں مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ اس نام اور اسی تفصیل کے ساتھ کوئی ایسا معتبر تاریخی ریکارڈ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر اس شخصیت کو یقینی طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا پنجابی قرار دیا جاسکے۔ پاکستان میں جنداللہ نام مختلف ادوار اور مختلف نیٹ ورکس کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس لیے صرف تنظیم کا نام کسی مخصوص شخص کی شناخت کے لیے کافی نہیں۔ دستیاب وسیع تر تحقیقی مواد میں جنداللہ کے مختلف ارکان کے الگ الگ علاقائی پس منظر ملتے ہیں، مگر وائرل فہرست کے ’’احمد مہمند‘‘ کے بارے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ والی مخصوص نسبت کی قابل اعتماد تصدیق نہیں مل سکی۔ چنانچہ اسے بھی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا تحقیق کے اصول کے خلاف ہوگا۔
اس پوری فہرست کو ایک ساتھ دیکھنے سے ایک اہم پیٹرن سامنے آتا ہے۔ متعدد دعوے ایسے ہیں جن میں پنجاب سے تعلق ثابت کرنے کے لیے کسی شخص کی پنجاب میں تعلیم، کسی مدرسے میں قیام، کسی تنظیم کے پنجاب میں رابطوں یا پنجاب سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ لیکن یہ تمام چیزیں کسی فرد کی آبائی قومیت ثابت نہیں کرتیں۔ مفتی نور ولی محسود کا فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کرنا درست ہوسکتا ہے، حافظ گل بہادر کا ملتان میں مدرسے میں پڑھنا بھی درست ہے، عدنان رشید کا پنجاب میں پیشہ ورانہ یا عسکری روابط ہونا بھی ممکن اور بعض صورتوں میں دستاویزی حقیقت ہے، مگر ان معلومات سے ان کی قوم تبدیل نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح اگر کسی پنجابی کا کسی عسکری تنظیم میں شامل ہونا ثابت ہوجائے تو اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکلتا کہ پوری پنجابی قوم دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔
یہاں ایک اور اہم فرق بھی سمجھنا ہوگا۔ پاکستان میں ’’پنجابی طالبان‘‘ ایک حقیقی اصطلاح رہی ہے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض عسکریت پسند گروہوں اور افراد نے قبائلی علاقوں میں طالبان اور دوسرے جہادی نیٹ ورکس کے ساتھ روابط قائم کیے۔ اس حقیقت کو چھپانا بھی تاریخ سے ناانصافی ہوگا۔ لیکن ’’پنجابی طالبان موجود تھے‘‘ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ’’طالبان کے بڑے رہنما بنیادی طور پر پنجابی تھے‘‘ ایک الگ دعویٰ ہے، جس کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں غیر مقامی جنگجوؤں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے، لیکن ہر مقامی پشتون کمانڈر کو پنجاب سے درآمد شدہ شخص ثابت کرنے کے لیے ثبوت چاہیے۔
اس تحقیق کا سب سے نمایاں نتیجہ یہی ہے کہ وائرل تحریر میں بعض حقیقی معلومات ضرور موجود ہیں، مگر انہیں ایک مخصوص نتیجے تک پہنچانے کے لیے کئی ناموں کے بارے میں غلط، غیر ثابت شدہ یا شواہد سے متصادم نسبی دعوے شامل کر دیے گئے ہیں۔ صوفی محمد، فضل اللہ، منگل باغ، مفتی منیر شاکر، نیک محمد، حاجی عمر، ملا نذیر، حافظ گل بہادر، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، نور ولی محسود، عمر خالد خراسانی، فقیر محمد، عدنان رشید اور مسلم خان کے بارے میں دستیاب معتبر شواہد وائرل فہرست کے بنیادی دعوے کی عمومی تائید نہیں کرتے۔ بعض ناموں کے بارے میں تو شواہد براہ راست اس کے برعکس ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر ایسی تحریریں بنتی کیوں ہیں اور لوگ انہیں اتنے یقین سے پھیلاتے کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب خود دہشت گردی کی تاریخ سے زیادہ انسانی نفسیات میں چھپا ہوا ہے۔ جب معاشرے میں سیاسی، علاقائی یا نسلی کشمکش بڑھتی ہے تو لوگ پیچیدہ واقعات کے لیے ایک آسان مجرم تلاش کرنے لگتے ہیں۔ دہشت گردی دراصل متعدد اسباب، تنظیموں، نظریات، ریاستی پالیسیوں، علاقائی تنازعات، سرحدی حالات، مذہبی انتہاپسندی، مالی نیٹ ورکس اور مقامی محرومیوں سے مل کر بننے والا پیچیدہ مسئلہ ہے، لیکن ایک عام سوشل میڈیا پوسٹ اسے چند سطروں میں ’’فلاں قوم ذمہ دار ہے‘‘ کے فارمولے میں بدل دیتی ہے۔ ایسا بیانیہ ذہنی طور پر آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں تحقیق، تاریخ اور پیچیدگی کے بجائے شناخت کو جواب بنا دیا جاتا ہے۔
انسان عموماً وہ معلومات زیادہ آسانی سے قبول کرتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم تصور کی تصدیق کرتی ہوں۔ اگر کسی شخص کے ذہن میں پہلے ہی یہ تصور موجود ہو کہ دہشت گردی کا مرکز فلاں صوبہ یا قوم ہے تو ایسی فہرست جس میں دہشت گردوں کے نام کے ساتھ اسی قوم کا حوالہ دیا گیا ہو، اسے مزید تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں ہونے دیتی۔ دوسری طرف اگر کسی دوسرے شخص کے ذہن میں کسی اور قوم کے بارے میں پہلے سے تعصب موجود ہو تو وہ اسی طرز کی دوسری فہرست کو فوراً قبول کرسکتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا تحقیق کا ذریعہ کم اور پہلے سے قائم تصورات کی تصدیق کا ذریعہ زیادہ بن جاتا ہے۔
مسئلہ صرف غلط معلومات کا نہیں بلکہ شناخت کو جرم کے ساتھ جوڑنے کا بھی ہے۔ ایک مجرم کی شناخت اس کا جرم ہے، اس کی پوری قوم نہیں۔ اگر ایک پنجابی دہشت گرد ہے تو وہ دہشت گرد پنجابی ہے، لیکن اس کی دہشت گردی سے پنجابی قوم دہشت گرد نہیں ہوجاتی۔ اگر ایک پشتون دہشت گرد ہے تو اس کا جرم پشتون قوم کی اجتماعی ذمہ داری نہیں بن جاتا۔ اسی اصول کو کسی بھی زبان، علاقے، مذہب یا برادری پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ فرد اور گروہ کے درمیان یہ بنیادی فرق مٹا دینا تحقیق نہیں بلکہ تعصب کی بنیاد رکھنا ہے۔
اس لیے اس وائرل تحریر کی اصل اہمیت شاید اس بات میں نہیں کہ اس میں کتنے نام درست یا غلط نکلے، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ ہمیں معلومات کو قبول کرنے کا ایک طریقہ سکھاتی ہے۔ ہر وائرل دعویٰ کو پہلے سوال سمجھنا چاہیے، جواب نہیں۔ کسی شخص کا نام، قوم، جائے پیدائش اور تنظیمی کردار الگ الگ حقائق ہیں؛ انہیں ایک ہی جملے میں جوڑ کر ایک پورے صوبے یا قوم کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا۔
دہشت گردی کا مقابلہ بھی اسی وقت سنجیدہ ہوسکتا ہے جب ہم دہشت گرد کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ پہچانیں، مگر اس کی شناخت کو اس کے جرم کا جواز یا پوری قوم کا جرم نہ بنائیں۔ ہماری ذمہ داری کسی قوم کو بچانا یا کسی قوم کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ جھوٹ اور سچ کے درمیان وہ فرق واضح کرنا ہے جو اکثر شور میں گم ہوجاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی فیصلہ کسی جذباتی نعرے کا نہیں بلکہ دستاویز، تاریخ، تحقیق اور قابلِ اعتماد ثبوت کا ہونا چاہیے۔
یہی اس پورے معاملے کا اصل سبق ہے کہ جب شناخت ثبوت پر غالب آجائے تو تحقیق ختم ہوجاتی ہے، اور جب ثبوت شناخت سے بالاتر ہوجائے تو حقیقت سامنے آتی ہے۔
واپس کریں