دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ستاروں کی قطار، مچھروں کا فسانہ اور سوشل میڈیا کا جھوٹ
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
سوشل میڈیا پر ان دنوں تین منٹ دس سیکنڈ کی ایک ویڈیو کے ساتھ ایک اردو تحریر گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گوگل اور ایلون مسک مل کر ایسے مچھر تیار کر رہے ہیں جن کی جنس تبدیل کی گئی ہے، انہیں کسی کیمیائی مادے کے ذریعے انسانوں کو مارنے کے قابل بنایا گیا ہے اور پھر سیٹلائٹ کے ذریعے پاکستان، بھارت اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلایا جا رہا ہے۔ اس دعوے کے ساتھ آسمان پر ایک قطار کی شکل میں گزرتی روشنیوں کا بھی ذکر ہے اور تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ دراصل انہی مچھروں کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔ بظاہر یہ ایک خوفناک کہانی ہے، لیکن جب اس ویڈیو اور اس کے ساتھ لکھی گئی اردو تحریر کو الگ الگ دیکھا جائے تو معاملہ بالکل مختلف سامنے آتا ہے۔
اصل ویڈیو میں نہ ایلون مسک کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسے منصوبے کی ویڈیو ہے جس میں مچھروں کو انسانوں کو مارنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہو۔ یہ ویڈیو بل گیٹس کے پلیٹ فارم ’’گیٹس نوٹس‘‘ پر شائع ہوئی تھی اور اس میں کولمبیا کے شہر میڈیلین میں قائم ورلڈ موسکیٹو پروگرام کی مچھر فیکٹری دکھائی گئی ہے۔ اس مرکز میں ہر ہفتے تین کروڑ سے زیادہ مچھر تیار کیے جاتے تھے اور ان مچھروں پر وولباچیا نامی قدرتی بیکٹیریا کے اثرات پر کام کیا جاتا ہے۔ مقصد بیماری پھیلانے والے مچھروں کی صلاحیت کو کم کرنا ہے تاکہ ڈینگی، زیکا، چکن گنیا اور زرد بخار جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
یہاں اس اردو تحریر کی سب سے اہم تحریف سامنے آتی ہے۔ جس ویڈیو کو ایلون مسک سے جوڑا جا رہا ہے، اس کا معتبر اصل ماخذ ایلون مسک نہیں ہے۔ ویڈیو ’’گیٹس نوٹس‘‘ پر شائع ہوئی اور اس میں ورلڈ موسکیٹو پروگرام کی میڈیلین فیکٹری دکھائی گئی ہے۔ دستیاب معلومات میں اس مخصوص منصوبے اور ایلون مسک کے درمیان ایسا کوئی تعلق سامنے نہیں آتا جس کی بنیاد پر اسے ایلون مسک کا منصوبہ قرار دیا جا سکے۔ اسی طرح اسے بل گیٹس کی ذاتی فیکٹری کہنا بھی درست نہیں؛ فیکٹری ورلڈ موسکیٹو پروگرام کی سہولت ہے، البتہ بل گیٹس کے پلیٹ فارم نے اس کے بارے میں ویڈیو اور معلومات شائع کی تھیں۔
مچھروں کے بارے میں یہاں ایک اور بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا میں واقعی ایسے سائنسی منصوبے موجود ہیں جن میں مچھروں کی جینیاتی ساخت یا افزائش کے عمل میں مداخلت کی جاتی ہے تاکہ ان کی آبادی کم کی جا سکے یا ان کے ذریعے بیماریوں کی منتقلی روکی جا سکے۔ بعض منصوبوں میں جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے نر مچھر استعمال کیے جاتے ہیں، بعض میں جراثیم یا شعاعی عمل کے ذریعے نر مچھروں کو بانجھ کرکے ماحول میں چھوڑا جاتا ہے، جبکہ ورلڈ موسکیٹو پروگرام کا وولباچیا طریقہ ایک قدرتی بیکٹیریا کے ذریعے بیماری پھیلانے والے وائرسوں کی منتقلی کم کرنے پر مبنی ہے۔
لیکن مچھروں پر ہونے والی اس حقیقی سائنسی تحقیق کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنا کہ کوئی خفیہ طاقت مچھروں کو انسانوں کے قتل کے لیے تیار کرکے خلا سے دنیا میں اتار رہی ہے، بالکل الگ دعویٰ ہے۔ اس دعوے کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت درکار ہے اور دستیاب معتبر معلومات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ خود میڈیلین کی جس فیکٹری کی ویڈیو کو اس دعوے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہاں وولباچیا کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کیا جا رہا تھا، نہ کہ انسانوں کو ہلاک کرنے کے لیے مچھر تیار کیے جا رہے تھے۔ ورلڈ موسکیٹو پروگرام بھی اس طریقۂ کار کو غیر جینیاتی تبدیلی پر مبنی قرار دیتا ہے۔
اب ان روشن نقطوں کی طرف آتے ہیں جنہیں اس اردو تحریر میں مچھروں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔رات کے وقت آسمان پر ایک قطار میں حرکت کرتی روشنیاں اکثر سٹارلنک کے سیٹلائٹ کا سلسلہ ہوتی ہیں۔ جب کئی سیٹلائٹ ایک دوسرے کے نسبتاً قریب مدار میں ہوں تو زمین سے دیکھنے والے شخص کو وہ روشنیوں کی ایک لمبی قطار کی طرح دکھائی دے سکتے ہیں۔ ان روشن قطاروں کو مچھروں کو دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلانے کا ذریعہ قرار دینے کے لیے کوئی قابل اعتماد سائنسی یا تکنیکی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا کی ایک بڑی مشکل یہی ہے کہ حقیقی سائنس اور غیر حقیقی کہانی کو اس انداز میں ملا دیا جاتا ہے کہ عام آدمی کے لیے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مچھروں پر جینیاتی تحقیق ہو رہی ہے تو یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی یہ بتائے کہ سائنس دان مچھروں کی آبادی کم کرنے یا ان کے ذریعے بیماریوں کی منتقلی روکنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کر رہے ہیں تو یہ بھی حقیقت ہے۔ لیکن ان حقائق کے ساتھ ایلون مسک اور گوگل کا نام جوڑ دینا، الگ سیٹلائٹ تصاویر کو اسی منصوبے کا حصہ قرار دینا اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ انسانوں کو مارنے کے لیے مچھر تیار کرکے دنیا بھر میں چھوڑے جا رہے ہیں، ایک ایسا اضافی دعویٰ ہے جس کے لیے الگ اور مضبوط ثبوت ضروری ہے۔
اصل مسئلہ مچھروں پر ہونے والی تحقیق نہیں بلکہ اس تحقیق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے۔ ایک حقیقی سائنسی ویڈیو اٹھائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ایک ایسا نام جوڑ دیا جاتا ہے جس کا اس مخصوص منصوبے سے معتبر تعلق ثابت نہیں، پھر آسمان کی الگ تصاویر یا ویڈیوز کو اس فیکٹری کے ساتھ ملا کر ایسی کہانی پیش کر دی جاتی ہے جس میں سائنسی تحقیق کا مقصد ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یوں ایک حقیقی ویڈیو کو ایک غیر ثابت شدہ سازشی دعوے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ بل گیٹس کے نام اور اس ویڈیو کے تعلق کو درست انداز میں سمجھا جائے۔ ویڈیو بل گیٹس کے ’’گیٹس نوٹس‘‘ پلیٹ فارم پر شائع ہوئی تھی، لیکن میڈیلین میں مچھروں پر کام کرنے والی فیکٹری ورلڈ موسکیٹو پروگرام کی سہولت تھی۔ حقائق جانچنے والی رپورٹس نے بھی واضح کیا ہے کہ اسے بل گیٹس کی ذاتی ملکیت قرار دینا درست نہیں، جبکہ ورلڈ موسکیٹو پروگرام کی اپنی معلومات اس منصوبے میں وولباچیا کے استعمال اور بیماریوں کی روک تھام کے مقصد کی وضاحت کرتی ہیں۔
اس معاملے میں عوام کے لیے سب سے اہم احتیاط یہی ہے کہ کسی ویڈیو کے ساتھ لکھی ہوئی تحریر کو ویڈیو کا اصل حصہ نہ سمجھا جائے۔ ویڈیو کیا دکھا رہی ہے، اس کا اصل ماخذ کیا ہے، ویڈیو میں موجود لوگ اور ادارے کون ہیں اور اس کے ساتھ بعد میں کیا دعویٰ شامل کیا گیا ہے، یہ سب الگ الگ چیزیں ہیں۔ کسی معروف شخص، بڑی کمپنی، سائنسی اصطلاح یا خلائی ٹیکنالوجی کا نام کسی دعوے کو خود بخود درست نہیں بنا دیتا۔
مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف سائنسی تحقیق دنیا کے کئی حصوں میں جاری ہے اور اس تحقیق پر سوال اٹھانا یا اس کے ممکنہ اثرات پر بحث کرنا بالکل جائز ہے۔ لیکن سوال اور الزام میں فرق ہوتا ہے اور تحقیق و سازش میں بھی۔ کسی ٹیکنالوجی کے حقیقی وجود سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے لازماً اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو سوشل میڈیا کی ایک تحریر بیان کر رہی ہے۔
اس لیے اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ اصل ویڈیو کیا کہتی ہے اور اس کے ساتھ بعد میں کیا کچھ جوڑ دیا گیا ہے۔ دستیاب معتبر معلومات کے مطابق میڈیلین کی فیکٹری بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مچھروں پر ہونے والی سائنسی تحقیق کا حصہ تھی۔ مخصوص ویڈیو کا تعلق ایلون مسک کے کسی مچھر منصوبے سے ثابت نہیں ہوتا، فیکٹری کو بل گیٹس کی ذاتی ملکیت قرار دینا بھی درست نہیں، اور آسمان پر نظر آنے والی سیٹلائٹ کی روشن قطار کو مچھروں کے پھیلاؤ سے جوڑنے کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر وائرل ویڈیو کو خبر سمجھنے کے بجائے اس کا اصل ماخذ تلاش کرنا، دعوے اور ویڈیو کے درمیان فرق دیکھنا اور سائنسی بات کے لیے معتبر سائنسی حوالہ طلب کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس معاملے میں بھی اصل ویڈیو دیکھنے کے بعد ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ مچھروں پر ہونے والی حقیقی تحقیق کو ایک غیر ثابت شدہ خوفناک کہانی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
واپس کریں