دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نام کے کبیر، کام کے صغیر
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
حیات آباد پشاور کے فیز پانچ میں قائم شوگر جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کا نام ہی اس کے بنیادی مقصد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ محض ایک عام نجی ہسپتال نہیں بلکہ اپنی تاریخی دستاویزات کے مطابق ایک ایسے خیراتی ادارے سے نکلا ہوا طبی مرکز ہے جس کا بنیادی مقصد ذیابیطس کے مریضوں کو علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق، عوامی آگاہی، بیماری سے بچاؤ اور مستحق مریضوں کو مفت یا انتہائی رعایتی طبی سہولتیں دینا تھا۔ ذیابیطس ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا اپنے تاریخی تعارف میں بتاتی ہے کہ یہ ادارہ 1985ء میں ایک خیراتی تنظیم کے طور پر قائم ہوا اور ابتدا ہی سے کمیونٹی ہیلتھ ایجوکیشن، صحت مند طرز زندگی کے فروغ اور مفت یا انتہائی رعایتی تشخیصی و علاجی خدمات اس کے بنیادی کاموں میں شامل رہے۔ حیات آباد کا ذیابیطس ہسپتال و تحقیقی مرکز اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے نظام کا مرکزی حصہ تھا۔
یہاں تک کہ ادارے کی اپنی تحقیقی دستاویز میں تحقیق کو محض ایک اضافی سرگرمی نہیں بلکہ بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ ہسپتال لکھتا ہے کہ اس کے پاس دس ہزار سے زیادہ مریضوں کی فائلیں موجود تھیں اور اس ڈیٹا کو استعمال کرکے مقامی سطح پر ایسی تحقیق تیار کرنا مقصد تھا جو طبی خدمات بہتر بنانے، مقامی بیماریوں کے اعدادوشمار پیدا کرنے، طبی جرائد میں نتائج شائع کرنے اور حکومت و پالیسی سازوں کو خیبرپختونخوا اور پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں سے متعلق حکمت عملی بنانے میں مدد دے سکے۔ اسی دستاویز میں صاف لکھا ہے کہ ادارہ مقامی آبادی میں تحقیقی مطالعات، طبی و خدماتی آڈٹ، تحقیقی نتائج کی اشاعت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ان کی پیشکش کا ارادہ رکھتا تھا۔
لہٰذا اس ادارے کے بارے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ یہاں ڈاکٹر بیٹھتے ہیں یا مریض آتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جس مقصد اور مینڈیٹ کے نام پر یہ ادارہ قائم ہوا، آج اس مقصد کا کتنا حصہ عملی طور پر باقی ہے اور کتنا حصہ باقاعدہ کمرشل طبی سرگرمیوں میں تبدیل ہوچکا ہے؟
موجودہ صورت حال اس سوال کو مزید اہم بناتی ہے۔ ہسپتال کی اپنی موجودہ فیس فہرست کے مطابق جنرل او پی ڈی کی فیس 100 روپے ہے، لیکن اسی ادارے میں مختلف ماہر ڈاکٹروں کی فیس 1000 سے 1500 روپے تک ہے۔ جنرل سرجن کی فیس 1200 روپے، اینڈوکرائن و ذیابیطس کے ماہر کی فیس 1500 روپے، بعض ذیابیطس ماہرین کی فیس 1500 روپے، جلد کے ماہر کی فیس 1000 روپے، ماہر امراض نسواں کی فیس 1200 روپے اور آنکھوں کے ماہر کی فیس 1500 روپے درج ہے۔ آنکھوں کی بعض خدمات 500 روپے، پاؤں کے علاج کی بعض خدمات 500 سے 800 روپے اور دانتوں کی مشاورت 500 روپے مقرر ہے۔ اسی فہرست میں مختلف لیبارٹری ٹیسٹوں کی باقاعدہ فیسیں بھی موجود ہیں، جن میں ایچ بی اے ون سی 1200 روپے، لپڈ پروفائل 1400 روپے، ایل ایف ٹی ایک ہزار روپے، آر ایف ٹی 700 روپے اور کریاٹینین 350 روپے شامل ہیں۔
یہ فیسیں خود بخود کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی کا ثبوت نہیں بنتیں۔ ایک خیراتی ہسپتال بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیس لے سکتا ہے، اور خود ادارہ اپنے موجودہ ماڈل کو کم قیمت یا رعایتی علاج کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن یہاں تحقیقاتی سوال یہ ہے کہ اگر ادارے کا بنیادی مقصد فلاحی خدمت تھا تو اس کے کمرشل شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حجم کتنا ہے، اس میں سے کتنی رقم مستحق مریضوں پر خرچ ہوتی ہے، کتنے مریض واقعی مفت علاج حاصل کرتے ہیں، کتنے رعایتی علاج پر ہیں اور کتنے مکمل فیس ادا کرتے ہیں؟ کیا اس آمدنی اور فلاحی اخراجات کا باقاعدہ سالانہ حساب عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہسپتال خود آج بھی اپنے آپ کو مفت اور انتہائی رعایتی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ قرار دیتا ہے۔ موجودہ ویب سائٹ کے مطابق دو ہزار سے زیادہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض مفت ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ اور مشاورت حاصل کر رہے ہیں جبکہ پانچ سو سے زیادہ ٹائپ ون مریضوں کو مفت انسولین، گلوکومیٹر، ٹیسٹ اور مشاورت فراہم کی جاتی ہے۔ ادارہ 2026-27ء کے لیے فلاحی خدمات کا ہدف 2 کروڑ 28 لاکھ 60 ہزار روپے بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس کے مطابق 160,000 سے زیادہ افراد کی سکریننگ، دس سے زیادہ اضلاع میں 250 سے زائد طبی کیمپ اور ہزاروں مریضوں کو مختلف فلاحی خدمات فراہم کی جاچکی ہیں۔
اگر یہ اعدادوشمار درست اور دستاویزی ہیں تو یہ ادارے کے حق میں اہم شواہد ہیں۔ لیکن یہی اعدادوشمار ایک دوسرا سوال بھی پیدا کرتے ہیں کہ مجموعی مریضوں میں مفت مریض کتنے ہیں اور فیس دینے والے کتنے؟ روزانہ یا ماہانہ کتنی رقم کمرشل خدمات سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے مقابلے میں فلاحی مد میں کتنی رقم خرچ کی جاتی ہے؟ کیا کمرشل سرگرمیوں کا مقصد صرف فلاحی سرگرمیوں کو مالی سہارا دینا ہے یا ہسپتال اب ایک ایسا طبی مرکز بن چکا ہے جہاں فلاحی اور کمرشل دونوں ماڈل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں؟ اگر دونوں ماڈل ساتھ چل رہے ہیں تو ان کی مالی حدود اور حساب کتاب عوام کے سامنے کیوں نہ ہو؟
سو روپے کی او پی ڈی بھی اسی تحقیق کا اہم حصہ ہے۔ پرانی ہسپتال ویب سائٹ پر ’’سرکل آف کیئر‘‘ کے تحت ذیابیطس کی خدمات صرف 100 روپے میں فراہم کرنے کا اعلان موجود رہا ہے۔ لیکن موجودہ فیس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل او پی ڈی اور بعض مخصوص ذیابیطس خدمات 100 روپے ہونے کے باوجود اسی ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی الگ الگ فیسیں وصول کی جارہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ 100 روپے کی فیس کیوں ہے؛ سوال یہ ہے کہ 100 روپے کس خدمت کا معاوضہ ہے، اس میں کیا شامل ہے، اس کے بعد مریض کو کن کن خدمات کے لیے الگ رقم ادا کرنا پڑتی ہے اور ایک عام ذیابیطس مریض کا مکمل علاج دراصل کتنے روپے میں پڑتا ہے؟ اگر مریض کو ڈاکٹر، آنکھ، پاؤں، دانت، لیبارٹری، ادویات اور دیگر ضروری خدمات الگ الگ فیسوں پر حاصل کرنا پڑیں تو ’’100 روپے علاج‘‘ کی عملی تعریف بھی واضح ہونی چاہیے۔
یہاں تک کہ ادارے کے ایک پرانے مالی ریکارڈ کی عوامی طور پر دستیاب نقل میں بھی 100 روپے او پی ڈی کے ساتھ اسپیشلسٹ او پی ڈی، آنکھوں، دانتوں، لیبارٹری، فارمیسی اور مختلف طبی خدمات سے الگ الگ وصولیوں کے اندراجات موجود ہیں۔ اس ریکارڈ کو اصل حسابات سے مزید تصدیق کی ضرورت ہے، اس لیے اسے حتمی مالی ثبوت نہیں بلکہ مزید تحقیق کا سراغ سمجھنا چاہیے۔
تحقیق کے معاملے میں بھی تصویر یک طرفہ نہیں۔ ہسپتال کی اپنی تحقیقی دستاویز کے مطابق دسمبر 2021ء میں اس نے گیارہ رکنی تحقیقی اخلاقیات کمیٹی قائم کی اور اس کمیٹی نے بارہ تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی۔ ان میں آٹھ ایم فل اور ایم ایس سی طلبہ کے منصوبے خیبر یونیورسٹی سے، دو زرعی یونیورسٹی سے اور دو پشاور یونیورسٹی کے شعبہ غذائیت سے متعلق تھے۔ ہسپتال کے مطابق یہ منصوبے بنیادی طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے ڈیٹا پر کیے گئے اور عام طور پر چار سے چھ ہفتوں میں مکمل ہوئے۔
یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ شوگر ہسپتال میں کوئی تحقیق ہوئی ہی نہیں۔ اصل سوال اس سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ اس تحقیق کا حجم اس ادارے کے دعویٰ کردہ تحقیقی مینڈیٹ کے مقابلے میں کتنا ہے؟ دس ہزار سے زیادہ مریضوں کی فائلوں اور سالانہ بڑی تعداد میں مریضوں کے ڈیٹا سے کتنے بڑے مطالعات تیار ہوئے؟ کتنے تحقیقی منصوبے مکمل ہوئے؟ ان کے نتائج کہاں شائع ہوئے؟ کتنے مقالے معتبر، باقاعدہ علمی جرائد میں شائع ہوئے؟ کتنے مقالات بین الاقوامی اشاریہ شدہ جرائد تک پہنچے؟ ان تحقیقات کے نتائج سے صوبے کے صحت کے نظام، ذیابیطس پالیسی یا عام مریض کو کیا عملی فائدہ پہنچا؟
دستیاب ریکارڈ میں کچھ اہم تحقیقات واقعی سامنے آتی ہیں۔ 2018ء میں شوگر ہسپتال میں آنے والے ذیابیطس کے مریضوں پر ایک تحقیق ’’جرنل آف رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ‘‘ میں شائع ہوئی جس میں 363 مریضوں کے اعدادوشمار استعمال کیے گئے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بغیر علامات کے پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا جائزہ لیا گیا۔ 2004ء میں اے آئی ایم ایس سے وابستہ محققین کی ایک تحقیق پاکستان جرنل آف میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی جس میں دیہی شمال مغربی پاکستان کے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں بیماری سے متعلق آگاہی کا جائزہ لیا گیا۔
2022ء میں شوگر ہسپتال کے تعاون سے رمضان کے دوران ذیابیطس کے مریضوں میں پیچیدگیوں سے متعلق ایک کثیر مرکزی تحقیق بھی شائع ہوئی، جس میں اے آئی ایم ایس شوگر ہسپتال پشاور سے وابستہ ڈاکٹر شگفتہ ضیا سمیت مختلف اداروں کے محققین شامل تھے۔ یہ تحقیق ’’جرنل آف ڈائبیٹس اینڈ کلینیکل پریکٹس‘‘ میں شائع ہوئی۔ ہسپتال اپنی ویب سائٹ پر 2022ء کی اس تحقیق کو بھی اپنی تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اس لیے سوال یہ نہیں کہ تحقیق ہوئی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ تحقیق کے لیے مختص ادارے کا تحقیقی آؤٹ پٹ کیا ہے اور اس کا عوامی فائدہ کیا ہے؟ اگر تحقیق کا مقصد حکومت کو پالیسی سازی کے لیے مستند مقامی شواہد فراہم کرنا تھا تو کتنی تحقیقی سفارشات حکومت تک پہنچیں؟ کتنی پالیسی میں شامل ہوئیں؟ اگر مقصد مریضوں کے علاج کو بہتر بنانا تھا تو کتنی تحقیق کے نتیجے میں علاج کا طریقہ تبدیل ہوا؟ اگر مقصد عالمی سطح پر علمی کام پیش کرنا تھا تو گزشتہ دس یا بیس برس کے تمام مقالوں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے کیوں نہ ہو؟
آگاہی بھی اسی معیار پر پرکھی جانی چاہیے۔ ہسپتال کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق 2020ء میں غذائیت اور ذیابیطس کے حوالے سے اردو زبان میں ایک مختصر تعلیمی ویڈیو اور تحریری مواد تیار کیا گیا، جبکہ اس کام کو 2021ء میں انٹرنیشنل ڈائبیٹس فیڈریشن کی کانگریس میں پیش کیے جانے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ موجودہ ویب سائٹ 2024ء میں ایک بڑے مفت طبی سکریننگ کیمپ کا ذکر کرتی ہے جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کی سکریننگ کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ 2025ء میں تعلیمی اداروں میں آگاہی اور صحت کی سرگرمیوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ 2026ء میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے تعاون سے ذیابیطس و اینڈوکرائن بیماریوں پر ایک طبی کانفرنس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
یہ سرگرمیاں موجود ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ لیکن اگر عوامی آگاہی ادارے کے بنیادی مینڈیٹ میں شامل ہے تو پھر سالانہ بنیاد پر یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ کتنے سیمینار ہوئے، کتنی واکس ہوئیں، کتنے سکولوں، کالجوں، مساجد یا کمیونٹی مراکز میں آگاہی پروگرام ہوئے، کتنے افراد تک پیغام پہنچا، کتنی رقم اس مقصد پر خرچ ہوئی اور ان سرگرمیوں کے نتیجے میں کیا قابلِ پیمائش تبدیلی آئی۔ صرف تصویری سرگرمی یا تقریب کا انعقاد آگاہی کے اثرات کا مکمل پیمانہ نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح مفت علاج کے دعوے کی بھی مکمل تصویر سامنے آنی چاہیے۔ موجودہ ویب سائٹ 2500 سے زیادہ مفت علاج حاصل کرنے والے مریضوں اور 22.86 ملین روپے کے سالانہ فلاحی بجٹ کا ذکر کرتی ہے۔ دوسری جانب بیرونی اے آئی ایم ایس پلیٹ فارم 140,000 مریضوں کو ہسپتال اور کمیونٹی آؤٹ ریچ میں خدمات دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ دونوں اعدادوشمار اپنی جگہ دعوے ہیں، مگر عوامی احتساب کے لیے ان کی تعریف واضح ہونی چاہیے کہ ’’مریضوں کی خدمت‘‘ سے مراد ایک مرتبہ سکریننگ ہے یا مستقل علاج؟ ’’مفت علاج‘‘ سے مراد مکمل علاج ہے یا صرف مشاورت، ایک ٹیسٹ یا دوا؟ 2500 مریضوں کو سال بھر میں کتنی خدمات ملیں؟ کتنے مریض مسلسل فلاحی پروگرام میں شامل ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں خیراتی اور کمرشل ماڈل ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ہسپتال عطیات اور زکوٰۃ بھی طلب کرتا ہے۔ اس کی موجودہ ویب سائٹ پر انسولین، گلوکومیٹر، خون کے ٹیسٹ، آنکھوں، پاؤں اور دانتوں کی دیکھ بھال کے لیے مخصوص عطیات کی رقوم مقرر کی گئی ہیں اور ایک طبی کیمپ کے لیے دو لاکھ روپے تک کا عطیہ تجویز کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسی ادارے میں ڈاکٹرز، لیبارٹری، فارمیسی، آنکھوں، دانتوں اور دیگر خدمات کی باقاعدہ فیسیں بھی موجود ہیں۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت چل سکتی ہیں، لیکن تب عوام کا حق بنتا ہے کہ فلاحی رقم اور کمرشل آمدنی کا حساب الگ الگ اور شفاف انداز میں دیکھ سکے۔
یہ سوال مزید اہم اس لیے ہوجاتا ہے کہ دستیاب ادارہ جاتی ریکارڈ کے مطابق ذیابیطس ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا حیات آباد کے شوگر ہسپتال کی زمین اور عمارت کی مالک ہے جبکہ اے آئی ایم ایس انتظامی شراکت دار ہے اور دونوں ادارے ایک طویل مدتی مفاہمتی یادداشت کے تحت کام کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس زمین کی اصل سرکاری الاٹمنٹ یا لیز کی شرائط کیا تھیں؟ زمین کس مقصد کے لیے دی گئی تھی؟ کیا تحقیق اس مقصد یا شرط کا حصہ تھی؟ کیا مفت علاج کی کوئی مخصوص تعداد مقرر تھی؟ کیا عوامی آگاہی کے لیے کوئی لازمی پروگرام تھا؟ اور کیا موجودہ انتظامی معاہدہ اصل الاٹمنٹ یا لیز کی شرائط کے مطابق ہے؟
یہ وہ دستاویز ہے جو اس پوری تحقیق کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے۔ موجودہ عوامی ویب ریکارڈ میں ہمیں وہ اصل پی ڈی اے الاٹمنٹ یا لیز دستاویز دستیاب نہیں ہوئی جس سے یہ حتمی طور پر ثابت ہو کہ زمین کن مخصوص شرائط پر دی گئی تھی۔ اس لیے یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ تحقیق یا ستر غریب مریضوں کا علاج قانونی لیز کی لازمی شرط تھی۔ لیکن اگر ایسا کوئی معاہدہ، لیز یا الاٹمنٹ آرڈر موجود ہے تو اسے سامنے لانا ضروری ہے، کیونکہ اسی سے معلوم ہوگا کہ ادارے کی موجودہ سرگرمیاں اس کے اصل قانونی مینڈیٹ سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
یہاں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ حیات آباد ایک منصوبہ بند ٹاؤن شپ ہے اور زمین، استعمال، تعمیرات اور متعلقہ ضوابط کے حوالے سے پی ڈی اے کے پاس بنیادی ریکارڈ اور نگرانی کا دائرہ موجود ہے۔ چنانچہ پی ڈی اے سے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ پلاٹ کس کے نام ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ پلاٹ کس مقصد کے لیے الاٹ ہوا، اس کی شرائط کیا تھیں، کیا شرائط پوری ہوئیں، زمین کے استعمال میں کبھی تبدیلی آئی، کسی دوسرے ادارے کے ساتھ انتظامی یا مالی معاہدے کے لیے اجازت درکار تھی یا نہیں، اور گزشتہ کئی دہائیوں میں پی ڈی اے نے اس زمین کے استعمال کا کوئی معائنہ یا تعمیری و انتظامی آڈٹ کیا یا نہیں۔
اس سوال کا جواب اس لیے بھی اہم ہے کہ ادارے کی اپنی دستاویزات میں اباسین انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور ذیابیطس ایسوسی ایشن کو ایک طویل مدتی مفاہمتی معاہدے کے تحت کام کرنے والا بتایا گیا ہے۔ اگر زمین کی ملکیت ذیابیطس ایسوسی ایشن کے پاس ہے اور ہسپتال کا انتظام اے آئی ایم ایس کے پاس ہے تو اس انتظامی رشتے کی قانونی اور مالی حدود بھی عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔
اب آتے ہیں اس شخصیت کی طرف جس کا نام اس پوری طبی و تعلیمی تاریخ میں نمایاں ہے:۔ پروفیسر سرجن محمد کبیر۔
گندھارا یونیورسٹی کے اپنے مستند تعارفی ریکارڈ کے مطابق سرجن محمد کبیر 7 دسمبر 1935ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ کالج پشاور سے اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کی اور 1959ء میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ بعدازاں برطانیہ گئے جہاں جنرل سرجری میں ایف آر سی ایس مکمل کیا اور 1966ء میں پشاور واپس آکر خیبر میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری مقرر ہوئے۔ 1971ء میں پروفیسر آف سرجری بنے اور 1995ء تک شعبہ سرجری و آرتھوپیڈکس سے وابستہ رہے۔
ان کے سرکاری کیریئر میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامی ذمہ داریاں شامل رہیں اور وہ خیبر میڈیکل کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ گندھارا یونیورسٹی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق وہ 1991ء سے 1992ء تک خیبرپختونخوا کے سیکرٹری صحت رہے، اگرچہ یونیورسٹی کے ایک دوسرے تعارفی صفحے پر یہ مدت 1991ء سے 1993ء لکھی گئی ہے۔ اس لیے حتمی سوانح میں اصل سرکاری سروس ریکارڈ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر کبیر نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں سرجیکل انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا اور لیپروسکوپک سرجری کے مرکز کی ترقی میں کردار ادا کیا۔ گندھارا یونیورسٹی ان کے نام سے 24 اصل تحقیقی مقالات اور تحقیقی تحریروں کا ذکر کرتی ہے اور چار جراحی آلات کے ڈیزائن کو بھی ان کی خدمات میں شمار کرتی ہے۔ دسمبر 1995ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے طبی تعلیم کے شعبے میں نجی ادارہ سازی شروع کی اور اکتوبر 1995ء میں کبیر میڈیکل کالج اور سردار بیگم ڈینٹل کالج قائم کیے، جس کے بعد گندھارا یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔
گندھارا یونیورسٹی کے سرکاری تعارف میں ڈاکٹر کبیر کو اس پورے تعلیمی سلسلے کا بانی قرار دیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے حالیہ پراسپیکٹس میں انہیں گندھارا یونیورسٹی، کبیر میڈیکل کالج، سردار بیگم ڈینٹل کالج، گندھارا کالج آف فارمیسی اور فرخندہ سکول آف نرسنگ کا بانی اور سرجن، ماہر تعلیم و فلاحی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔
نصیر ٹیچنگ ہسپتال کی تاریخ بھی ڈاکٹر کبیر کے طبی تصور کا ایک پہلو سامنے لاتی ہے۔ گندھارا یونیورسٹی کے مطابق یہ ہسپتال 1980ء کی دہائی کے آغاز میں افغان جنگ کے متاثرین، بالخصوص بارودی سرنگوں سے متاثرہ افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ 1990ء کے آغاز میں فنڈز کی کمی اور جنگ کے خاتمے کے بعد یہ بند ہوگیا، پھر 1995ء میں ڈاکٹر کبیر نے اسے افغان کیمپوں اور مقامی آبادی کے لیے عمومی خیراتی ہسپتال میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ یونیورسٹی آج بھی اسے خیراتی ہسپتال کے طور پر بیان کرتی ہے۔
ڈاکٹر کبیر کے خاندانی پس منظر کے بارے میں گندھارا یونیورسٹی کا اپنا تعارف انہیں پشاور کے ایک معروف اعوان خاندان سے منسوب کرتا ہے اور خاندان کی نسبت عرب النسل اعوانوں سے بیان کرتا ہے۔ یہ ادارے کا اپنا تعارف ہے؛ نسب کے بارے میں بنیادی تاریخی دستاویزات کے بغیر اسے قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
ان کی اہلیہ رویدہ کبیر بھی گندھارا یونیورسٹی کے ادارہ جاتی تعارف میں اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے خاندانی اور سماجی روابط کے بارے میں صحافتی مواد میں انہیں سابق صوبائی وزیر یحییٰ جان خان کی صاحبزادی اور خان عبدالغفار خان کی نواسی بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات بنیادی سرکاری خاندانی ریکارڈ کے بجائے صحافتی ماخذ سے آتی ہیں، اس لیے انہیں بھی اسی درجے کے ماخذ کے طور پر دیکھنا چاہیے، حتمی نسب نامے کے طور پر نہیں۔
ڈاکٹر محمد کبیر 2003ء میں لندن میں اپنے خاندان کے ساتھ قیام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ طبی و تعلیمی ادارے چلتے رہے اور ان کا نام ان اداروں کی شناخت کا حصہ بنا رہا۔
یہاں آکر عنوان کا دوسرا حصہ ایک تلخ مگر جائز تحقیقی سوال بن جاتا ہے: نام کے کبیر، کام کے صغیر۔
اس جملے کا مقصد ڈاکٹر کبیر کی طبی یا تعلیمی خدمات کی نفی کرنا نہیں۔ ان خدمات کا بڑا حصہ خود ان کے قائم کردہ اداروں کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے۔ سوال ان کے بعد قائم رہنے والے ادارہ جاتی نظام کا ہے۔ اگر ایک ادارہ خیراتی مقصد کے تحت قائم ہوا، اگر اس کا نام تحقیقی مرکز رکھا گیا، اگر اس نے مقامی تحقیق کو اپنی بنیادی ترجیح قرار دیا، اگر عوامی آگاہی اور مفت یا انتہائی رعایتی علاج کو اپنا مقصد بتایا اور اگر آج بھی وہی ادارہ عطیات اور زکوٰۃ کے لیے عوام سے مدد مانگتا ہے، تو پھر اس کے کمرشل ماڈل کا مکمل حساب بھی اسی شفافیت سے سامنے آنا چاہیے۔
کیا سو روپے کی او پی ڈی واقعی مستحق مریض کے لیے جامع علاج کا دروازہ ہے یا صرف ابتدائی مشاورت کی فیس؟ مختلف ماہرین کی ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک فیس کیوں ہے؟ لیبارٹری، آنکھ، دانت، پاؤں، فارمیسی اور دیگر خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی کتنی ہے؟ مفت مریضوں کی اصل تعداد کیا ہے؟ فلاحی مریضوں پر سالانہ کتنی رقم خرچ ہوتی ہے؟ کمرشل آمدنی اور فلاحی اخراجات کا تناسب کیا ہے؟ عطیات اور زکوٰۃ سے کتنی رقم آتی ہے؟ تحقیق پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے؟ گزشتہ دس یا بیس برس میں کتنے تحقیقی مقالے معتبر طبی جرائد میں شائع ہوئے؟ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جن کا تعلق براہ راست شوگر ہسپتال کے اپنے مریضوں اور ڈیٹا سے ہے؟ ان تحقیقات کے نتیجے میں مقامی مریضوں، ڈاکٹروں، صحت کے نظام اور حکومت کو کیا فائدہ پہنچا؟ آگاہی کے نام پر کتنے سیمینار، واک، کیمپ، سکول پروگرام اور میڈیا مہمات ہوئیں اور ان کے قابلِ پیمائش نتائج کیا ہیں؟
یہ سوالات الزام نہیں، حساب کا مطالبہ ہیں۔
اور اس حساب کی آخری کڑی پی ڈی اے کی فائل ہے۔ اگر حیات آباد کی زمین کسی مخصوص فلاحی، طبی یا تحقیقی مقصد کے لیے دی گئی تھی تو اس مقصد کی اصل شرائط سامنے آنی چاہئیں۔ الاٹمنٹ یا لیز کا اصل حکم نامہ، پلاٹ نمبر، رقبہ، الاٹمنٹ کی تاریخ، قیمت یا رعایت، تعمیر کی شرائط، استعمال کی پابندیاں، مفت علاج یا تحقیق سے متعلق شرائط، ملکیت اور انتظامی اختیار کی حیثیت اور بعد میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کی منظوری—یہ سب دستاویزات عوامی سوال کا اصل جواب ہیں۔
اس پوری تحقیق میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی ادارے کو صرف اس لیے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہاں فیس لی جاتی ہے۔ اسی طرح صرف اس لیے اسے مکمل خیراتی ادارہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی ویب سائٹ پر مفت علاج، زکوٰۃ، تحقیق اور عوامی خدمت کے الفاظ موجود ہیں۔ فیصلہ دستاویز کرے گی۔ اگر کمرشل سرگرمیاں فلاحی مینڈیٹ کو مالی طور پر سہارا دے رہی ہیں اور اس کا شفاف حساب موجود ہے تو یہ ماڈل قابلِ وضاحت ہے۔ اگر کمرشل سرگرمیاں اصل فلاحی مقصد پر غالب آچکی ہیں تو پھر اس تبدیلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد بھی سامنے آنی چاہیے۔
آخر میں سوال ڈاکٹر محمد کبیر کے نام کا نہیں، اس زمین، اس ادارے اور اس مینڈیٹ کا ہے جو ایک عوامی مقصد کے نام پر قائم ہوا تھا۔ بانی مر چکا ہے، نام باقی ہے، عمارت باقی ہے، مریض آج بھی آتے ہیں، ڈاکٹر آج بھی بیٹھتے ہیں، فیسیں آج بھی وصول ہوتی ہیں، عطیات آج بھی مانگے جاتے ہیں اور تحقیق و فلاح کے دعوے آج بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اب ضرورت صرف اتنی ہے کہ ان دعووں، فیسوں، عطیات، تحقیق، مفت علاج، آگاہی اور زمین کے استعمال کو ایک ہی میز پر رکھ کر دیکھا جائے۔
اگر سب کچھ قانون، لیز، مینڈیٹ اور عوامی مفاد کے مطابق ہے تو یہی تحقیق ادارے کے لیے سب سے مضبوط صفائی ہوگی۔ لیکن اگر کہیں مینڈیٹ اور عمل کے درمیان فاصلہ موجود ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ فاصلہ کب، کیسے اور کس کی منظوری سے پیدا ہوا۔
واپس کریں