پنجاب کی 500 لاپتہ بچیاں: جب پولیس کو بچی نہیں، پہلے اس کا کردار نظر آتا ہے
خالد خان۔ کالم نگار
ایک لمحے کے لیے 500 کا عدد بھول جائیے اور صرف ایک بچی کا تصور کیجیے۔ ایک گھر کی وہ بیٹی جو صبح گھر سے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ دروازے پر نظریں جمائے ماں، بار بار موبائل دیکھتا باپ، ہر آہٹ پر چونک جانے والے بہن بھائی، رشتہ داروں کے فون، تھانے کے چکر، افسران کے سامنے درخواستیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہوا خوف۔ اب اسی منظر کو 500 گھروں میں ایک ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ تب شاید سمجھ آئے کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیوں کہا کہ 500 بہت بڑا نمبر ہے اور کبھی سوچا ہے ان بچیوں کے والدین پر کیا گزرتی ہوگی۔
یہ محض ایک عدالتی ریمارکس نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام کے لیے ایک سوال ہے۔
تازہ سماعت کا پس منظر اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔ فیصل آباد کی 16 سالہ سکینہ بی بی 2024 میں لاپتہ ہوئی تھیں۔ والدہ نے مقدمہ درج کرایا، پولیس کی طرف سے بازیابی کی یقین دہانیاں ہوتی رہیں، مگر دو سال گزر گئے اور بچی بازیاب نہ ہوسکی۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا تو چیف جسٹس نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھایا، آئی جی پنجاب کو طلب کیا اور بچی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ اگلے مرحلے میں پولیس نے بچی کو عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت کا سوال بالکل سادہ تھا: اگر ایک بچی دو سال تک لاپتہ رہی اور عدالت کی مداخلت کے بعد بازیاب ہوسکتی ہے تو پولیس نے ان دو برسوں میں کیا کیا؟
یہ سوال صرف سکینہ بی بی کے معاملے تک محدود نہیں رہتا۔ اپریل 2026 میں لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پنجاب پولیس کی ایک رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق 2021 سے 2025 تک صوبے میں خواتین کے اغوا سے متعلق ایک لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ مقدمات درج ہوئے۔ اسی رپورٹ میں 20 اپریل 2026 تک 3,256 خواتین کے لاپتہ ہونے کا ذکر تھا۔ بعد میں عدالت کو دی گئی ایک اور رپورٹ میں 3,258 خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کا عدد سامنے آیا، جن میں 1,405 بازیاب ہوچکی تھیں جبکہ 1,853 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ابھی غیر متعین تھیں۔ اعدادوشمار کے معمولی فرق کی وجہ رپورٹ کے وقت اور شمار کے طریقے کا فرق ہوسکتا ہے، لیکن دونوں صورتوں میں اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین اور لڑکیاں لاپتہ ہوں تو ریاستی نظام ان کی تلاش کو کس سطح کی ترجیح دے رہا ہے؟
یہاں ایک اور پہلو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صرف پولیس کو قصوروار قرار دے دینا بھی مکمل تصویر نہیں۔ جون کی سماعت میں پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ بازیاب ہونے والی خواتین اور لڑکیوں میں تقریباً 80 فیصد نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، جبکہ تقریباً 15 فیصد خود گھر واپس آئی تھیں اور والدین کے حق میں بیانات دیے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر لاپتگی اغوا یا جرم نہیں ہوتی۔ کچھ لڑکیاں اپنی مرضی سے گھر چھوڑتی ہیں، کچھ شادی کرتی ہیں اور کچھ خاندانی تنازعات کے باعث چلی جاتی ہیں۔ لیکن یہی حقیقت پولیس کی ذمہ داری کو کم نہیں بلکہ زیادہ اہم بناتی ہے، کیونکہ کسی شخص کے گھر سے چلے جانے اور اس کے اغوا یا کسی جرم کا شکار ہونے کے درمیان فرق معلوم کرنا بھی تفتیش ہی کا حصہ ہے۔
اصل خرابی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں تفتیش، تلاش سے پہلے کردارکشی بن جائے۔
چیف جسٹس کا یہ مشاہدہ کہ پولیس کے اندر ایک ذہنیت موجود ہے کہ لڑکی کا معاملہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ لڑکی ایسی ہوگی یا ویسی ہوگی، دراصل ایک خطرناک سماجی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک لڑکی لاپتہ ہوتی ہے تو بعض اوقات پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ اسے کہاں تلاش کیا جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ گھر سے کیوں نکلی، کس سے بات کرتی تھی، اس کا کردار کیسا تھا، کس کے ساتھ تعلق تھا اور اس نے والدین کی بات کیوں نہیں مانی۔ یوں ایک ممکنہ جرم کی تفتیش، متاثرہ شخص کے کردار کی تفتیش میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
اگر ایک بچی اغوا ہوئی ہے تو اس کے کردار کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ اپنی مرضی سے گھر سے گئی ہے تو بھی اس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کسی شخص کے ساتھ گئی ہے تو بھی پولیس کا کام پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ محفوظ ہے یا نہیں، اس پر کوئی دباؤ تو نہیں، اسے زبردستی تو نہیں لے جایا گیا، کہیں وہ انسانی سمگلنگ، جنسی استحصال یا کسی دوسرے جرم کا شکار تو نہیں ہوئی۔ اور اگر وہ بالغ ہے اور اپنی آزاد مرضی سے کسی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے تو قانون اس کی مرضی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ ریاست کو نہ ہر گمشدگی کو اغوا سمجھنا چاہیے اور نہ ہر گمشدگی کو لڑکی کی اپنی غلطی۔
یہاں قانون اور تفتیش دونوں کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں بچوں کے لاپتہ اور اغوا ہونے کے معاملات کے لیے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے تحت باقاعدہ نظام قائم کیا گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق زینب الرٹ کے اعداد میں پنجاب نے 2025 میں 417 رپورٹ شدہ لاپتہ بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ تعداد ظاہر کی، اگرچہ قومی سطح کے اعداد میں رپورٹنگ کے فرق، آبادی اور صوبوں کے درمیان نقل و حرکت جیسے عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے پولیس ریکارڈ میں پاکستان بھر میں عورت یا لڑکی کے اغوا سے متعلق تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-B کے تحت 8,026 مقدمات درج ہوئے۔
ساحل کی 2024 کی رپورٹ بھی ایک مختلف زاویہ سامنے لاتی ہے۔ ملک بھر میں اخبارات سے جمع کیے گئے اعداد کے مطابق اس سال 241 بچوں کے لاپتہ ہونے کے کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ 1,204 اغوا کے کیس سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق لاپتہ بچوں کے رپورٹ شدہ کیسز میں پنجاب کا حصہ 45 فیصد تھا۔ یہ اعداد سرکاری مجموعی اعداد کا متبادل نہیں کیونکہ یہ اخباری رپورٹنگ اور موصولہ کیسز پر مبنی ہیں، مگر یہ ضرور دکھاتے ہیں کہ بچوں کے لاپتہ ہونے کا مسئلہ کسی ایک خاندان یا ایک ضلع تک محدود نہیں۔
اور پھر سوال آتا ہے کہ اگر نظام موجود ہے تو مسئلہ کہاں ہے؟
پنجاب پولیس خود بتاتی ہے کہ اس کے پاس لاپتہ افراد کے لیے ریکارڈنگ اور نگرانی کا نظام موجود ہے، شکایات کے لیے 1787 مرکز ہے، جبکہ ’’میرا پیارا‘‘ کے ذریعے لاپتہ بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی معلومات اور تصاویر پولیس تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
تو پھر دو سال تک ایک بچی کیوں نہیں ملتی؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف ایک پولیس افسر کی وضاحت سے نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی سے نکلنا چاہیے۔ ایف آئی آر درج ہوجانا کامیابی نہیں، تلاش شروع ہوجانا بھی کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہے جب لاپتہ شخص محفوظ حالت میں مل جائے، اس کا بیان آزادانہ طور پر ریکارڈ ہو، اگر جرم ہوا ہے تو ذمہ دار تک پہنچا جائے اور اگر وہ اپنی مرضی سے گئی تھی تو اس حقیقت کو بھی قانونی طریقے سے ریکارڈ کیا جائے۔
ہماری پولیسنگ میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کہ لاپتہ لڑکی کو پہلے ’’کردار‘‘ نہیں، پہلے ’’انسان‘‘ سمجھا جائے۔
یہ تبدیلی صرف پولیس کے تربیتی نصاب میں ایک جملہ شامل کرنے سے نہیں آئے گی۔ تفتیشی افسر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ لاپتہ ہونے کے پہلے چند گھنٹے اور دن کتنے اہم ہوسکتے ہیں۔ موبائل فون، کال ریکارڈ، جغرافیائی معلومات، کیمروں کی ریکارڈنگ، سفری معلومات، مالی لین دین، سوشل میڈیا رابطے اور مشتبہ افراد کی فوری جانچ آج کے دور میں تفتیش کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اگر ایک خاندان پولیس کے دروازے پر پہنچتا ہے تو اسے یہ ثابت کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ اس کی بیٹی ’’اچھی لڑکی‘‘ تھی۔ پولیس کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس نے اسے تلاش کرنے کے لیے پوری کوشش کی۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بازیاب ہونے والی لڑکی کو بھی صرف ’’کیس حل‘‘ ہونے کا ایک عدد نہ سمجھا جائے۔ اگر وہ اپنی مرضی سے گئی تھی تو اس کی مرضی کا احترام ضروری ہے۔ اگر وہ جرم کا شکار ہوئی تو اسے تحفظ، طبی امداد، قانونی مدد اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اگر اسے زبردستی لے جایا گیا تھا تو مجرم تک پہنچنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہر صورت میں لڑکی کی عزت، سلامتی اور بنیادی حقوق مرکز میں ہونے چاہئیں۔
پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اغوا کے مقدمات 2023 میں 19,898 سے بڑھ کر 2024 میں 24,225 ہوگئے، یعنی تقریباً 21.74 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعدادوشمار صرف لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کا ڈیٹا نہیں بلکہ وسیع تر اغوا کے مقدمات سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں براہِ راست 500 یا 3,258 کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ مگر یہ اعدادوشمار اس وسیع مسئلے کی سنگینی ضرور ظاہر کرتے ہیں جس میں خواتین اور لڑکیوں کا اغوا ایک نمایاں مسئلہ بنا ہوا ہے۔
اصل چشم کشا حقیقت شاید یہ ہے کہ ہم اعدادوشمار کے ساتھ بہت جلد بے حس ہوجاتے ہیں۔ 500 پڑھتے ہیں تو چند سیکنڈ بعد اگلی خبر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ 3,258 پڑھتے ہیں تو اسے بھی ایک عدد سمجھ لیتے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ مقدمات کا ذکر آتا ہے تو دماغ اس عدد کو قبول ہی نہیں کرتا۔ لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ایک نام ہے، ایک ماں ہے، ایک باپ ہے، ایک گھر ہے اور ایک ایسی رات ہے جو شاید اس گھر نے برسوں سے سکون سے نہیں گزاری۔
ریاست شہری سے ٹیکس لیتی ہے، قانون کی پابندی کا مطالبہ کرتی ہے، اس کے نام پر پولیس، عدالتیں اور انتظامیہ قائم کرتی ہے۔ بدلے میں شہری کا سب سے بنیادی حق یہ ہے کہ جب اس کا کوئی عزیز لاپتہ ہو تو ریاست اسے یہ احساس دے کہ ہم اسے ڈھونڈ رہے ہیں، ہم اسے بھولے نہیں ہیں۔
اور اگر کسی والد کو اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے دو سال بعد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے، پھر عدالت آئی جی سے پوچھے کہ پولیس نے دو سال میں کیا کیا، اور عدالت کے حکم کے بعد وہ بچی سامنے آجائے، تو اس واقعے کو صرف ایک عدالتی خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا کافی نہیں۔
کیونکہ اصل سوال سکینہ بی بی کا نہیں، ان تمام سکینہ بی بیوں کا ہے جو ابھی کسی گھر کے دروازے، کسی تھانے کی فائل، کسی عدالت کی درخواست یا کسی نامعلوم مقام پر ہماری اجتماعی توجہ کی منتظر ہیں۔
500 بہت بڑا نمبر ہے۔ لیکن اصل میں 500 نہیں، 500 زندگیاں ہیں۔ اور ہر زندگی کے پیچھے ایک پورا گھر کھڑا ہے۔
واپس کریں