جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے جمہوریت کے ساتھ کیا کیا؟
خالد خان۔ کالم نگار
مارشل لا جمہوریت کا متبادل نہیں تھا اور نہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، اقتدار کا اصل راستہ آئین، انتخابات، پارلیمان اور عوامی مینڈیٹ ہونا چاہیے۔ غیر جمہوری بندوبست کسی بھی دلیل، ضرورت یا وقتی مصلحت کے نام پر جمہوریت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سوال ایسا ہے جس سے ہم مسلسل نظریں چراتے رہے ہیں۔ اگر مارشل لا غلط تھا تو اس غلط بندوبست کو سیاسی زندگی، پارلیمانی جواز، حکومتی چہرہ اور شہری قبولیت دینے والے کون تھے؟
یہ سوال فوج کے کردار پر بحث کے بغیر بھی پوچھا جا سکتا ہے، بلکہ شاید زیادہ دیانت داری سے پوچھا جانا چاہیے۔ کیونکہ جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں اور سیاستدانوں کا بنیادی فریضہ ہی جمہوریت کا تحفظ تھا۔ اگر وہی کبھی غیر جمہوری بندوبست کا حصہ بنے، کبھی اس کے تحت اقتدار قبول کیا، کبھی اس کے بنائے ہوئے سیاسی ڈھانچے میں شریک ہوئے، کبھی آئینی ترمیم کے ذریعے اسے قانونی تحفظ دیا اور کبھی اس کے خاتمے کے بعد دوبارہ جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار بن گئے تو پھر تاریخ کا حساب صرف ایک طرف سے کیوں لیا جائے؟
پاکستان کے پہلے بڑے فوجی دور کو دیکھیں تو 1958 میں آئین منسوخ ہوا، اسمبلیاں توڑی گئیں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد ہوئی۔ یہ جمہوری نظام کے لیے ایک واضح شکست تھی۔ لیکن اس کے بعد جو سیاسی تاریخ بنی، اس میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار ہمارے لیے ایک غیر معمولی سبق رکھتا ہے۔ بھٹو ایوب خان کے دور میں ان کے اہم ساتھی اور حکومت کے نمایاں سیاسی چہرے بنے۔ بعد میں وہ ایوب خان سے الگ ہوئے، ان کے خلاف سیاسی جدوجہد کی قیادت کی اور خود پاکستان کی سب سے بڑی عوامی سیاسی قوتوں میں سے ایک کے سربراہ بن گئے۔ یعنی ایک ہی شخص کی سیاسی زندگی میں ہمیں اقتدار کے غیر جمہوری بندوبست میں شمولیت، پھر اسی بندوبست سے علیحدگی اور پھر جمہوری سیاست کی قیادت، تینوں مراحل ملتے ہیں۔
یہاں سوال بھٹو کی ذات کو ایک لفظ میں اچھا یا برا قرار دینے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ سیاستدان جب غیر جمہوری اقتدار کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ وقتی طور پر جو سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہیں، اس کی قیمت پورا جمہوری نظام ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی سیاستدان کسی آمر کے اقتدار میں وزیر بنتا ہے تو کیا اسے صرف اس لیے جمہوریت کا محافظ سمجھا جائے کہ چند برس بعد وہ اسی آمر کا مخالف بن گیا؟ اور اگر کسی سیاسی جماعت نے پہلے غیر جمہوری نظام کو مضبوط کیا اور بعد میں خود اس کی مزاحمت کی تو تاریخ میں دونوں کردار ایک ساتھ کیوں نہیں لکھے جائیں؟
ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کے دور میں معاملہ قدرے مختلف تھا، اس لیے یہاں ہمیں آسان نعرے سے بچنا ہوگا۔ 1970 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم جمہوری مرحلہ تھے۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں 162 میں سے 160 نشستیں حاصل کیں اور قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں 84 نشستیں جیتیں۔ اس کے بعد ملک کی سیاسی تقدیر تین بڑے سیاسی کرداروں، یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو، کے درمیان مذاکرات اور اقتدار کی منتقلی کے بحران سے جڑ گئی۔
یہاں بھٹو کو یحییٰ کا محض سیاسی مہرہ کہنا تاریخی سادگی ہوگی، لیکن انہیں مکمل طور پر بری الذمہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ بھٹو اور یحییٰ کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں، مجیب اور بھٹو کے درمیان مذاکرات ہوئے، مگر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہو سکا اور سیاسی بحران بڑھتا گیا۔ تاریخی ریکارڈ یہ بھی بتاتا ہے کہ یحییٰ نے ایک مرحلے پر مجیب کو مستقبل کا وزیراعظم قرار دیا تھا، جبکہ بعد کی پیش رفت نے اس سیاسی امکان کو ختم کر دیا۔ اس پورے بحران میں ہر سیاسی کردار کے اپنے فیصلے تھے، اور انہی فیصلوں کا الگ الگ حساب ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر جمہوریت میں اکثریت فیصلہ کرتی ہے تو اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں کس حد تک تیار تھیں؟ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اپنے صوبائی یا جماعتی مفادات کو قومی مینڈیٹ سے بالاتر رکھیں تو کیا صرف غیر جمہوری قوتوں کو ذمہ دار قرار دے کر مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ مشرقی پاکستان کا سانحہ اس لیے ہماری تاریخ کا سب سے حساس باب ہے کہ یہاں صرف ایک ادارے یا ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے سیاسی بندوبست کے ٹوٹنے کا مطالعہ ضروری ہے۔
1977 میں ایک مرتبہ پھر سیاسی بحران پیدا ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان شدید سیاسی کشمکش، احتجاج اور انتخابات کے تنازع نے ملک کو ایک ایسے بحران میں پہنچایا جس کے بعد مارشل لا نافذ ہوا۔ اس موقع پر بھی ایک طرف بھٹو کی حکومت کے خلاف سیاسی تحریک تھی، دوسری طرف وہ جماعتیں تھیں جو خود جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ لیکن بعد میں انہی سیاسی قوتوں میں سے بعض نے نئے غیر جمہوری بندوبست کے ساتھ تعاون بھی کیا۔ امریکی سفارتی ریکارڈ کے مطابق 1977 میں جماعت اسلامی اور اس کے طلبہ بازو نے فوجی اقتدار کی حمایت کی اور جماعت کے ارکان نے ضیاء حکومت میں وزارتیں بھی قبول کیں۔
یہاں ایک اہم تاریخی فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر سیاسی جماعت ہر مارشل لا کے ساتھ رہی۔ ضیاء کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور کئی دوسری سیاسی جماعتوں نے مزاحمت کی۔ 1980 میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں مرکز اور بائیں بازو کی متعدد جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک قائم کی، جس کا مطالبہ مارشل لا کے خاتمے، انتخابات اور آئین کی بحالی تھا۔ 1984 کے ریفرنڈم اور بعد کے غیر جماعتی انتخابات کا بھی کئی مخالف جماعتوں نے بائیکاٹ کیا۔
لیکن اسی دور میں محمد خان جونیجو کا کردار سامنے آتا ہے۔ وہ مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان تھے جنہیں ضیاء نے وزیراعظم بنایا۔ 1985 میں قومی اسمبلی نے آٹھویں آئینی ترمیم منظور کی، جس نے مارشل لا حکومت کے اقدامات کو آئینی تحفظ دیا اور صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا۔ بعد میں جونیجو اور ضیاء کے درمیان اختلافات بڑھے، جونیجو زیادہ سیاسی خودمختاری کی طرف گئے اور بالآخر 1988 میں ان کی حکومت برطرف کر دی گئی۔
یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا سبق ہے۔ ایک سیاستدان غیر جمہوری بندوبست میں داخل ہو کر اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بعد میں زیادہ سیاسی آزادی کی طرف بڑھ سکتا ہے، لیکن اس سے اس کے ابتدائی کردار کی تاریخی حقیقت ختم نہیں ہو جاتی۔ اسی طرح کسی سیاستدان کا بعد میں غیر جمہوری حکمران سے اختلاف اس کے سابقہ تعاون کو مٹا نہیں دیتا۔ تاریخ کسی کو مستقل مجرم یا مستقل ہیرو بنانے کے بجائے اس کے مختلف ادوار کے مختلف کردار محفوظ رکھتی ہے۔
پھر 1999 کے بعد آنے والے دور کو دیکھیں۔ 2002 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ قاف کی قیادت میں ایک ایسا پارلیمانی بندوبست قائم ہوا جو مشرف حکومت سے قریبی طور پر وابستہ تھا۔ امریکی لائبریری آف کانگریس کے پاکستان مطالعے میں بھی مسلم لیگ قاف کو مشرف حکومت سے قریبی طور پر وابستہ سیاسی جماعت قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسی جماعت کی قیادت میں قومی اسمبلی اور پنجاب و سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں حکومتیں قائم ہوئیں۔
چودھری شجاعت حسین اس سیاسی بندوبست کے نمایاں چہروں میں شامل تھے۔ یوں ایک مرتبہ پھر ہمیں وہی بنیادی سوال دکھائی دیتا ہے کہ اگر ایک طرف غیر جمہوری اقتدار تھا تو دوسری طرف اسے پارلیمانی شکل دینے والے سیاسی کردار بھی موجود تھے۔ بعد میں وہی سیاسی ماحول ختم ہوا، مشرف کا اقتدار ختم ہوا اور سیاسی جماعتیں دوبارہ جمہوریت کی محافظ بن کر سامنے آئیں۔ مشرف کے آخری دور میں ہنگامی حالت، آئینی معطلی اور عدلیہ کے بحران کے خلاف سیاسی مزاحمت بھی ہوئی اور 2008 کے انتخابات کے بعد ان کے سیاسی نظام کو واضح انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں سے ہماری بحث کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں رہتی۔ یہ پاکستانی سیاست کے عمومی رویے کا سوال بن جاتی ہے۔ مسلم لیگ کے مختلف دھڑے مختلف ادوار میں غیر جمہوری بندوبست کا حصہ بنے۔ پیپلز پارٹی نے بعض اوقات مزاحمت کی، لیکن اس کی اپنی تاریخ میں بھی اقتدار، ریاستی اداروں اور سیاسی مخالفین کے ساتھ ایسے تنازعات موجود رہے جنہیں جمہوری معیار پر پرکھنا چاہیے۔ مذہبی جماعتوں میں بھی یکساں رویہ نہیں رہا؛ کسی دور میں مزاحمت ہوئی، کسی دور میں تعاون۔ نئی سیاسی جماعتوں کے سامنے بھی یہی امتحان آتا رہا کہ وہ اصول کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں یا اقتدار کے راستے کے ساتھ۔
اس لیے اس بحث کا مقصد کسی جماعت کو ہمیشہ کے لیے مجرم اور کسی دوسری جماعت کو ہمیشہ کے لیے معصوم قرار دینا نہیں۔ مقصد یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو اصول سمجھا یا اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ۔ اگر جمہوریت اصول ہے تو پھر اصول کا تقاضا یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے لیے غیر جمہوری بندوبست کا سہارا نہ لیا جائے، اپنے مخالف کو ختم کرنے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کی مدد نہ لی جائے، اور جب کوئی غیر آئینی نظام قائم ہو تو اس کے اندر اقتدار حاصل کرنے کے بجائے جمہوری راستے کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔
پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ جمہوریت بار بار ٹوٹی؛ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں ہر بار اپنے مفاد کے مطابق اس ٹوٹے ہوئے نظام کے ساتھ تعلق بناتی رہیں۔ کوئی ایک دور میں شریک اقتدار تھا، کوئی دوسرے دور میں مخالف، کوئی پہلے مخالف تھا پھر شریک اقتدار بن گیا، اور کوئی اقتدار میں آ کر جمہوریت کا محافظ بن گیا مگر اپنے مخالف کے لیے وہی جمہوری اصول تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت صرف غیر جمہوری ادوار سے نہیں ہاری، وہ سیاسی جماعتوں کی باہمی عدم برداشت، شخصی سیاست، اقتدار کی ہوس، جماعتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے اور اصولوں کو حالات کے مطابق بدلنے سے بھی کمزور ہوئی۔ سیاسی جماعتوں نے بارہا اپنے مخالف کو شکست دینے کے لیے ایسے راستے تلاش کیے جو بالآخر خود ان کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیاسی بحران کا ذمہ دار سیاستدان تھا، نہ یہ کہ ہر فوجی مداخلت کا جواز سیاسی جماعتوں کے اعمال میں تلاش کیا جائے۔ ایسا کرنا تاریخ کو الٹا پڑھنا ہوگا۔ مارشل لا اپنی جگہ جمہوریت کا خاتمہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ جن لوگوں نے عوام کے نام پر سیاست کی، انہوں نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنے حصے کی ذمہ داری کتنی ادا کی؟
اگر ایک سیاستدان آج جمہوریت کا علم اٹھائے کھڑا ہے تو تاریخ اس سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ کل وہ کہاں کھڑا تھا۔ اگر ایک جماعت آج آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہے تو اس سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ جب آئین کمزور کیا جا رہا تھا تو اس کا اپنا کردار کیا تھا۔ اگر کوئی جماعت آج پارلیمان کو جمہوریت کا مرکز قرار دیتی ہے تو اس سے یہ سوال بھی ہوگا کہ اس نے ماضی میں غیر جمہوری بندوبست کے تحت بننے والی پارلیمان کو کس طرح استعمال کیا۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت ایک مسلسل اخلاقی اور سیاسی عہد ہے کہ اقتدار عوام سے آئے گا، آئین کے مطابق چلے گا، پارلیمان کے ذریعے جواب دہ ہوگا اور مخالف کے سیاسی وجود کو تسلیم کرے گا۔ جو جماعت اقتدار میں رہتے ہوئے اس اصول کو بھول جائے اور اپوزیشن میں آ کر اسی اصول کا مطالبہ کرے، اسے تاریخ کے سامنے اپنے دونوں کرداروں کا حساب دینا ہوگا۔
پاکستان کو جمہوریت بچانے کے لیے کسی نئے نجات دہندہ کی ضرورت نہیں؛ اسے ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو اقتدار سے پہلے بھی جمہوری ہوں، اقتدار میں بھی جمہوری رہیں اور اقتدار سے باہر بھی جمہوری اصولوں سے انحراف نہ کریں۔
اصل سوال اس لیے آج بھی وہی ہے کہ جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے جمہوریت کے ساتھ کیا کیا؟
اس سوال کا جواب کسی ایک جماعت، ایک شخصیت یا ایک دور میں نہیں ملے گا۔ یہ جواب پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں بکھرا ہوا ہے، اور شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے اپنی پسند کے مطابق نہیں بلکہ تاریخ کے اصل ریکارڈ کے مطابق پڑھیں۔
واپس کریں