دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسمبلی کے فلور پر ڈاکٹر امجد کی تقریر
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
کیا دیوانے کی بڑبڑ ہے یا ناکام احتجاج کا ملبہ ریاست اور عدلیہ کے سر ڈالنے کی ایک ناکام کوشش؟
سیاست میں بعض اوقات اصل کہانی وہ نہیں ہوتی جو الفاظ میں کہی جارہی ہوتی ہے بلکہ وہ ہوتی ہے جو ان الفاظ کے ذریعے آنے والے واقعے کے لیے پہلے سے تیار کی جارہی ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے فلور پر ڈاکٹر امجد کی حالیہ تقریر کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ محض لاہور کے ایک واقعے، پولیس کے رویے، عدلیہ کے فیصلوں یا 27 ستمبر کے احتجاج پر ایک سیاسی تقریر دکھائی نہیں دیتی بلکہ ایک ایسے بیانیے کی بنیاد رکھتی محسوس ہوتی ہے جسے 27 ستمبر کے بعد بھی استعمال کیا جاسکے گا۔
27 ستمبر کی تحریک کا اعلان کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پہلے ہی اسے اپنی قیادت میں چلانے، خیبرپختونخوا سے لوگوں کا سمندر اسلام آباد کی طرف لے جانے اور عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن سیاسی دباؤ پیدا کرنے کی بات کرچکے ہیں۔ اس لیے اس احتجاج کی کامیابی یا ناکامی کا سوال صرف ایک جلسے یا ایک مارچ کی تعداد کا سوال نہیں رہا۔ اس کے ساتھ خود وزیراعلیٰ کی سیاسی حیثیت، صوبائی حکومت کی ساکھ اور پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں مسلسل احتجاجی سیاست کا مستقبل بھی جڑ گیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو ایک غیر معمولی سیاسی موقع ملا۔ ایک ہی جماعت کو مسلسل تین حکومتیں ملیں، اسمبلی میں ایسی عددی پوزیشن رہی جس میں اسے اپنے سیاسی پروگرام کے لیے دوسری جماعتوں کی مستقل محتاجی نہیں تھی، مگر اس طویل اقتداری موقع کا بڑا حصہ احتجاجی سیاست میں صرف ہوتا رہا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران وفاقی حکومت کے خلاف صوبائی احتجاج موجود نہیں تھا جو اس سے پہلے اور اس کے بعد دکھائی دیتی رہی، کیونکہ اس وقت وفاق اور صوبہ ایک ہی سیاسی جماعت کے پاس تھے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاج دوبارہ مرکزی سیاسی راستہ بن گیا اور اب اس کا بنیادی ہدف عمران خان کی رہائی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس احتجاجی سیاست نے اب تک حاصل کیا کیا؟
عمران خان جیل میں ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے ہونے والی متعدد کوششیں اپنے مطلوبہ سیاسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ خیبرپختونخوا میں اس دوران قیادت بھی بدلتی رہی۔ علی امین گنڈاپور کے بعد سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنے اور اب موجودہ وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت اور اپنی سیاسی شناخت دونوں کو عمران خان کی رہائی کی تحریک کے ساتھ بہت مضبوطی سے جوڑ دیا ہے۔ چنانچہ 27 ستمبر اب محض پی ٹی آئی کا ایک احتجاج نہیں بلکہ سہیل آفریدی کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی امتحان بن چکا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹر امجد کی اسمبلی تقریر کو محض ایک احتجاجی تقریر سمجھنا شاید اس کی اصل سیاسی اہمیت کو کم کردینا ہوگا۔
لاہور میں سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی دو مختلف تعبیرات سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ نے اسے اغوا قرار دیا جبکہ پنجاب حکومت نے اس کی تردید کی۔ دوسری طرف دستیاب رپورٹنگ میں یہ بھی سامنے آیا کہ سہیل آفریدی پولیس گاڑی میں خود سوار ہوئے تھے اور ایک خیبرپختونخوا حکومتی اہلکار کے مطابق وہ گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس گاڑی میں بیٹھے تھے۔
ایک واقعہ، دو بیانیے۔ لیکن سیاست میں اہم بات صرف یہ نہیں کہ واقعہ کیا تھا؛ اہم بات یہ بھی ہے کہ اس واقعے کو آئندہ کس سیاسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اسی واقعے کو ریاستی طاقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے، پھر پولیس کی تعیناتی کو حکومت کے خوف سے جوڑا جائے، پھر عدالتی فیصلوں کو سیاسی راستہ روکنے کے تناظر میں رکھا جائے اور ان تمام واقعات کو ایک ہی سلسلے کا حصہ بنا دیا جائے تو 27 ستمبر سے پہلے ایک ایسا فریم تیار ہوجاتا ہے جس میں احتجاج کے نتیجے کی تعبیر پہلے ہی طے کردی گئی ہو۔
14 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدے دار کو اسلام آباد کی سڑکیں یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کا قانونی اختیار نہیں، جبکہ تمام وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی کہ احتجاج میں سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری استعمال نہ ہو۔
یہ عدالتی حکم اپنی جگہ ایک قانونی معاملہ ہے۔ احتجاج کا حق بھی موجود ہے اور دوسرے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ریاستی مشینری کے غیر سیاسی استعمال کا حق بھی۔ مگر سیاسی بیانیے کے اعتبار سے یہی عدالتی حکم ایک اور کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر اسے پہلے ہی ریاستی رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جائے تو بعد میں احتجاج کی کمزور شرکت یا ناکامی کی ایک سیاسی تشریح تیار ہوجاتی ہے۔
یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 27 ستمبر سے پہلے صرف لوگوں کو احتجاج کے لیے تیار کیا جارہا ہے یا احتجاج کے بعد کی سیاسی صورت حال کے لیے بھی ذہنی زمین ہموار کی جارہی ہے؟
اگر 27 ستمبر کو واقعی وہ عوامی سمندر نکل آتا ہے جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو اس بیانیے کو کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پی ٹی آئی کہے گی کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود عوام نکل آئی۔ لیکن اگر مطلوبہ تعداد نہ نکلی، اگر کارکنوں کی شرکت محدود رہی، اگر خیبرپختونخوا سے وہ سیاسی قوت اسلام آباد تک نہ پہنچ سکی جس کا مسلسل اعلان کیا جارہا ہے تو پھر سوال بہت سخت ہوگا: کیا مسئلہ ریاستی طاقت تھی یا عوامی حمایت کی کمی؟
ایسے میں پہلے سے تیار کیا گیا بیانیہ ایک سیاسی حفاظتی راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ لوگ نکلنے کے لیے تیار تھے مگر ریاست نے طاقت استعمال کی، راستے بند کیے، گرفتاریاں کیں، پولیس تعینات کی اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے سیاسی سرگرمی کا راستہ محدود کردیا۔ یوں ناکامی کی ذمہ داری براہ راست تحریک کی کمزور عوامی پذیرائی پر نہیں آئے گی بلکہ اسے ریاستی رکاوٹوں کے کھاتے میں ڈالنے کی گنجائش موجود رہے گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر امجد کی اسمبلی تقریر غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ جلسے کے میدان میں کہی ہوئی بات سیاسی نعرہ بن سکتی ہے، مگر اسمبلی کے فلور پر کہی ہوئی بات پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس طرح ریاست کے خلاف الزامات اور عدلیہ کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات صرف کارکنوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انہیں پارلیمانی کارروائی، ذرائع ابلاغ اور بیرونی سیاسی مباحث میں بھی حوالہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر امجد کی تقریر نے ایک ایسا سیاسی میدان تیار کردیا ہے جس میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی قیادت کو 27 ستمبر کے بعد اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ایک تیار شدہ زبان میسر آسکتی ہے۔
یہاں سہیل آفریدی کا معاملہ سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔
ایک وزیراعلیٰ اگر اپنی حکومت کی کارکردگی کے بجائے اپنی سیاسی شناخت کو ایک ایسے احتجاج کے ساتھ جوڑ دے جس کا بنیادی مقصد وفاقی سطح پر عمران خان کی رہائی ہے تو پھر احتجاج کی کامیابی اور ناکامی دونوں کا بوجھ اس کے اپنے سیاسی مستقبل پر آتا ہے۔ سہیل آفریدی خود 27 ستمبر کی قیادت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اسے اپنی سیاسی جدوجہد کا مرکزی مرحلہ بناچکے ہیں۔
اس لیے اگر 27 ستمبر ناکام ہوتا ہے تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنے لوگ آئے۔ سوال یہ بھی ہوگا کہ جس صوبائی حکومت نے اپنی تمام سیاسی اور حکومتی توانائی احتجاجی سیاست پر خرچ کی، وہ عمران خان کی رہائی کے مقصد میں کیا حاصل کرسکی اور صوبے کی حکمرانی میں کیا پیش رفت دکھا سکی؟
یہ سوال سہیل آفریدی کے لیے بھی ہے اور پی ٹی آئی کی پوری خیبرپختونخوا قیادت کے لیے بھی۔
اسی پس منظر میں اسمبلی کے فلور پر ریاست کو چارج شیٹ کرنا، لاہور کے واقعے کو سیاسی جبر کے تناظر میں پیش کرنا، پولیس کی کارروائی کو خوف کی علامت بنانا اور عدلیہ کے فیصلوں کو احتجاجی سیاست کے راستے میں رکاوٹ کے طور پر پیش کرنا ایک بڑے بیانیاتی تسلسل کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ اگر کامیاب احتجاج سے پہلے عوام کو متحرک کرتا ہے تو ایک کام کرتا ہے، اور اگر احتجاج مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرتا تو دوسرا کام کرتا ہے۔
پہلی صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست کی تمام طاقت کے باوجود عوام نکل آئی۔
دوسری صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ عوام نکلنا چاہتی تھی مگر ریاستی طاقت نے راستہ روک دیا۔
دونوں صورتوں میں سیاسی ناکامی کی ذمہ داری قیادت، حکمرانی اور عوامی مقبولیت کے سوال سے باہر منتقل ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر امجد کی تقریر کا اصل وزن اس میں نہیں کہ انہوں نے حکومت یا ریاست کے بارے میں کیا کہا۔ اصل وزن اس بات میں ہے کہ انہوں نے 27 ستمبر کے بعد آنے والی سیاسی صورت حال کے لیے کون سا بیانیاتی راستہ پہلے سے ہموار کردیا۔
اگر احتجاج کامیاب ہوتا ہے تو یہ بیانیہ تحریک کی فتح کی تشریح بنے گا، اور اگر احتجاج ناکام ہوتا ہے تو یہی بیانیہ ناکامی کی وجہ بیان کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
تب سوال یہ نہیں رہے گا کہ عوام کیوں نہیں نکلی بلکہ سوال یہ بنا دیا جائے گا کہ ریاست نے عوام کو نکلنے نہیں دیا۔
اور شاید یہی اس پوری سیاسی مشق کا سب سے اہم پہلو ہے۔ احتجاج ابھی ہوا نہیں، مگر اس کی کامیابی کی کہانی بھی تیار ہے اور ناکامی کی وضاحت بھی۔
27 ستمبر کے بعد اصل امتحان صرف سڑکوں پر نہیں ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ اس دن کے نتائج کو سیاسی طور پر کس طرح بیان کیا جاتا ہے، ذمہ داری کس پر ڈالی جاتی ہے جبکہ سہیل آفریدی کو عزت بچانے کے لیے بہانہ اور جواز ڈاکٹر امجد نے ابھی سے ڈھونڈ لیا۔
27 ستمبر کی ناکامی کے لیے ابھی سے بیرونی ذمہ دار مقرر کر دینے کا مقصد قیادت سے کارکردگی، فیصلوں اور نتائج کا سوال نہ پوچھنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
واپس کریں