مہنگائی صرف جیب نہیں کاٹ رہی، عوام کا ریاست پر اعتماد بھی کھا رہی ہے
خالد خان۔ کالم نگار
ایک تازہ ترین سروے کے مطابق،پاکستانی عوام کے سب سے بڑے مسائل کی فہرست میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کا سرفہرست آنا محض ایک سروے کا عدد نہیں، یہ اس ملک کے عام گھرانے کی معاشی زندگی کی وہ تصویر ہے جسے کسی سرکاری بیان، بجٹ تقریر یا اعداد و شمار کی خوبصورت زبان سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ جب 19 فیصد پاکستانی بجلی اور گیس کی قیمتوں کو اپنی سب سے بڑی پریشانی قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بل زیادہ آ رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کا بنیادی نظامِ زندگی مہنگا ہو چکا ہے۔ روشنی، پنکھا، پانی، چولہا، بچوں کی پڑھائی، دکان کا کاروبار، چھوٹی صنعت، حتیٰ کہ ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی بھی اب توانائی کی قیمت سے بندھی ہوئی ہے۔
اس کے بعد 17 فیصد شہری روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی معمولی بات نہیں۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، دودھ، گوشت، دوا، بچوں کی ضروریات اور گھر کے دوسرے اخراجات جب ہر ماہ پہلے سے زیادہ رقم مانگیں تو تنخواہ وہی رہ کر بھی حقیقت میں چھوٹی ہوتی جاتی ہے۔ مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتی، یہ انسان کی قوت خرید کم کرتی ہے، اس کی ترجیحات بدلتی ہے، اس کے خواب چھوٹے کرتی ہے اور آخرکار اس کے اندر مستقبل کے بارے میں بے یقینی پیدا کرتی ہے۔
سروے میں 16 فیصد پاکستانیوں نے بیروزگاری کو ملک کا اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ یہاں معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ مہنگائی کا سب سے بڑا علاج آمدن میں اضافہ ہے، لیکن جس شخص کے پاس روزگار ہی نہ ہو وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کیسے کرے؟ ایک طرف بجلی کا بل بڑھتا ہے، دوسری طرف گھر کا راشن مہنگا ہوتا ہے اور تیسری طرف روزگار کا دروازہ بند ہوتا ہے۔ یہ تینوں مل جائیں تو مسئلہ صرف معاشی نہیں رہتا، پورا خاندان دباؤ میں آ جاتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ 10 فیصد پاکستانیوں کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ شرح بظاہر بجلی اور گیس سے کم ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو تو صرف گاڑی چلانے والا متاثر نہیں ہوتا۔ اس کا اثر سبزی کے ٹھیلے سے لے کر فیکٹری، کھیت، بازار، سکول اور ہسپتال تک پہنچتا ہے۔ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی لاگت بڑھتی ہے، کرایے بڑھتے ہیں، کاروباری اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر اس اضافی بوجھ کا ایک حصہ پھر عام صارف کی جیب سے نکلتا ہے۔
صحت کی سہولیات تک عدم رسائی کو 7 فیصد پاکستانیوں کا اہم مسئلہ قرار دینا بھی ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایک غریب یا متوسط گھرانے کے لیے بیماری صرف بیماری نہیں ہوتی، یہ معاشی بحران بھی بن سکتی ہے۔ ایک بڑی بیماری گھر کی جمع پونجی ختم کر سکتی ہے، بچوں کی تعلیم رک سکتی ہے، قرض لینا پڑ سکتا ہے اور بعض اوقات برسوں کی محنت چند ہفتوں کے علاج میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے صحت کو صرف ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کا معاملہ سمجھنا بنیادی غلطی ہے؛ یہ براہ راست معاشی تحفظ کا مسئلہ ہے۔
لیکن ان تمام اعداد و شمار کے پیچھے ایک اور سوال چھپا ہوا ہے جس پر شاید ہی کوئی سنجیدگی سے بات کرتا ہے: پاکستانی شہری کی آمدن اور اس کے اخراجات کے درمیان فاصلہ آخر کہاں جا رہا ہے؟
ایک عام ملازم کی تنخواہ میں معمولی اضافہ ہو بھی جائے تو بجلی، گیس، پٹرول، خوراک، تعلیم، علاج، کرایہ اور بچوں کی ضروریات میں اضافہ اس اضافے کو نگل جاتا ہے۔ دیہاڑی دار کے لیے صورت حال اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے، کیونکہ اس کی آمدن مستقل نہیں۔ چھوٹا دکاندار گاہک کی کم ہوتی قوت خرید سے پریشان ہے، کسان پیداواری لاگت سے، مزدور روزگار کی غیر یقینی سے اور سفید پوش طبقہ اس خوف سے کہ کہیں کسی ہنگامی ضرورت کے سامنے اس کی مالی کمزوری ظاہر نہ ہو جائے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ مہنگائی کتنے فیصد ہے۔ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ مہنگائی نے شہری کے گھر کے اندر کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ کتنے بچوں کی فیس مؤخر ہوئی؟ کتنے گھروں میں گوشت مہینے میں چند بار رہ گیا؟ کتنے لوگوں نے علاج ملتوی کیا؟ کتنے نوجوانوں نے روزگار نہ ملنے پر بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا؟ کتنے خاندان بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے دوسری ضروریات قربان کر رہے ہیں؟ اور کتنے کاروبار بجلی، گیس اور پٹرول کے اخراجات کے سامنے دم توڑ رہے ہیں؟
اصل بحران یہی ہے کہ ہم مہنگائی کو ایک عدد سمجھتے ہیں جبکہ عوام اسے زندگی کے ہر لمحے میں محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا اثر صرف اس صارف تک محدود نہیں رہتا جو بل ادا کرتا ہے۔ بجلی مہنگی ہوگی تو دکان، کارخانہ، ہسپتال، سکول اور دفتر سب کے اخراجات بڑھیں گے۔ گیس مہنگی ہوگی تو گھریلو صارف کے ساتھ صنعت اور کاروبار بھی متاثر ہوگا۔ پیداوار مہنگی ہوگی تو اشیاء مہنگی ہوں گی۔ اشیاء مہنگی ہوں گی تو حقیقی آمدن کم ہوگی۔ حقیقی آمدن کم ہوگی تو خریداری کم ہوگی۔ خریداری کم ہوگی تو کاروبار متاثر ہوگا اور کاروبار متاثر ہوگا تو روزگار کے مواقع سکڑیں گے۔ یوں ایک قیمت میں اضافہ پورے معاشی پہیے کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس لیے حکومتیں اگر ہر بحران کا حل صرف قیمت بڑھانے میں تلاش کریں گی تو مسئلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک نئے دائرے میں داخل ہو جائے گا۔
ریاست کا کام صرف بل بھیجنا نہیں، شہری کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ اس کی محنت کے بدلے اسے ایک قابلِ برداشت زندگی مل سکتی ہے۔ اگر ایک شخص صبح سے شام تک محنت کرنے کے باوجود بجلی کا بل، گھر کا راشن، بچوں کی فیس، دوا اور سفر کے اخراجات پورے نہیں کر سکتا تو مسئلہ صرف اس شخص کی آمدن کا نہیں، پورے معاشی نظام کی ساخت کا ہے۔
پاکستان میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو چکا ہے۔ ہم معاشی ترقی کے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن عام شہری ترقی کو اپنے گھر کے بجٹ میں تلاش کرتا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے، شہری پوچھتا ہے کہ پھر میرے گھر میں آسانی کیوں نہیں آ رہی؟ حکومت اعداد و شمار پیش کرتی ہے، شہری اپنا بجلی کا بل سامنے رکھ دیتا ہے۔ حکومت مجموعی معاشی اشاریوں کی بات کرتی ہے، مزدور اپنے خالی بٹوہ کی طرف دیکھتا ہے۔
یہ فاصلے کم کرنا ہوں گے۔
عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ بجلی اور گیس کی قیمت کیوں بڑھتی ہے، اس قیمت میں ٹیکس، پیداواری لاگت، ترسیلی نقصانات، چوری، گردشی قرضے اور دیگر عوامل کا کتنا حصہ ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ عوام کو یہ بتایا جائے کہ ان مسائل کے خاتمے کے لیے ریاست کیا کر رہی ہے۔ اگر ہر سال شہری سے قربانی مانگی جائے اور نظام کی خامیوں، بجلی کے نقصانات، انتظامی نااہلی، چوری اور غیر ضروری اخراجات پر مؤثر کارروائی نظر نہ آئے تو شہری کے اندر سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قربانی ہمیشہ وہی کیوں دے؟
یہ سوال کسی حکومت کے خلاف سیاسی نعرہ نہیں، ریاستی انتظام کے لیے بنیادی سوال ہے۔
ایک فلاحی ریاست کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب معیشت اچھی ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حالات خراب ہوں۔ غریب کی روٹی محفوظ رہتی ہے یا نہیں، بیمار کو علاج ملتا ہے یا نہیں، نوجوان کو روزگار ملتا ہے یا نہیں، مزدور کی اجرت مہنگائی کے ساتھ بڑھتی ہے یا نہیں، گھر کا بجلی اور گیس کا بل قابل برداشت رہتا ہے یا نہیں؛ یہی وہ پیمانے ہیں جن سے ریاستی کارکردگی کو پرکھا جانا چاہیے۔
ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشی پالیسی کا مرکز آخر کون ہے۔ سرمایہ؟ ادارے؟ اعداد و شمار؟ قرض دینے والے؟ یا عام شہری؟
اگر عام شہری مرکز ہے تو پھر ہر معاشی فیصلے کا پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ اس کا اثر ایک عام گھرانے پر کیا ہوگا۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، وزرائے خزانہ بدلتے رہتے ہیں، بجٹ کے اعداد بدلتے رہتے ہیں، مگر عوام کا بنیادی مسئلہ وہی رہتا ہے: آمدن محدود اور اخراجات بے قابو۔
یہ صورتحال ہمیشہ نہیں چل سکتی۔
جب ایک معاشرہ مسلسل معاشی دباؤ میں رہتا ہے تو اس کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ بے روزگاری نوجوان کو مایوس کرتی ہے، مہنگائی گھر کے سکون کو کھا جاتی ہے، علاج کی مہنگائی غریب کو خوفزدہ کرتی ہے اور توانائی کے بل متوسط طبقے کو مسلسل دفاعی حالت میں رکھتے ہیں۔ پھر لوگ صرف حکومت کی پالیسی نہیں دیکھتے، پورے نظام پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔
اس لیے بجلی، گیس، خوراک، روزگار، پٹرول اور صحت کو الگ الگ مسائل سمجھنا بھی غلطی ہے۔ یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں اور اس زنجیر کا دوسرا نام ہے عام پاکستانی کی کم ہوتی معاشی قوت۔
اس سروے کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ عوام اب صرف سستی اشیاء نہیں مانگ رہے؛ وہ قابلِ برداشت زندگی چاہتے ہیں۔ وہ ایسا معاشی نظام چاہتے ہیں جس میں محنت کرنے والا بھوکا نہ رہے، روزگار تلاش کرنے والا در بدر نہ ہو، بیمار ہونے والا گھر کا سامان بیچنے پر مجبور نہ ہو اور بجلی کا بل ادا کرنا کسی خاندان کے لیے ماہانہ خوف کی وجہ نہ بنے۔
ریاست اگر اس آواز کو صرف ایک سروے سمجھ کر نظر انداز کرے گی تو شاید وہ اصل مسئلہ سمجھنے سے محروم رہ جائے گی۔ یہ 19 فیصد، 17 فیصد، 16 فیصد، 10 فیصد اور 7 فیصد صرف اعداد نہیں؛ یہ لاکھوں گھرانوں کی مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے والی ایک ہی شکایت ہے۔
اور وہ شکایت یہ ہے کہ زندگی آمدن سے آگے نکل گئی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی نہیں کہ عوام کو مزید صبر کی تلقین کی جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنے اخراجات، اپنی ترجیحات، اپنی توانائی پالیسی، اپنے ٹیکس نظام، اپنے روزگار کے مواقع اور اپنی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو عام شہری کی زندگی کے آئینے میں دیکھے۔
کیونکہ جس دن ریاست اور شہری کے درمیان سب سے بنیادی رشتہ، یعنی محنت کے بدلے قابلِ برداشت زندگی کا یقین، ٹوٹ جائے تو معاشی بحران صرف معیشت میں نہیں رہتا؛ وہ پورے معاشرے کے مزاج میں اتر جاتا ہے۔
پاکستان کو اسی مقام سے واپسی کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
واپس کریں