خالد خان۔ کالم نگار
سندھ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عموماً کراچی کی معیشت، سمندر، بندرگاہ، صنعت، تجارت اور بڑے کاروباری مراکز کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن سندھ کی اصل تصویر کراچی سے بہت دور ان بستیوں میں نظر آتی ہے جہاں زمین زرخیز ہے، زمین کے نیچے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، دریائے سندھ صدیوں سے زندگی بانٹ رہا ہے، مگر انہی بستیوں میں ایسے خاندان بھی آباد ہیں جن کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم ایک خواب، علاج ایک مشکل سفر اور روزگار ایک مسلسل جدوجہد بنا ہوا ہے۔ یہی تضاد سندھ کو محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے ترقیاتی نظام کے سامنے ایک سنجیدہ سوال بنا دیتا ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے کے عام انسان کی زندگی میں اس دولت کا اثر آخر کیوں پوری طرح دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان کی توانائی کی تاریخ سندھ کے وسائل کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ ماری فیلڈ سے 1967 میں گیس کی پیداوار شروع ہوئی اور اس کے بعد سندھ میں تیل اور گیس کی تلاش کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا گیا۔ مختلف ادوار میں سندھ ملکی تیل کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتا رہا جبکہ گیس میں اس کا حصہ کئی برسوں تک دو تہائی سے بھی زیادہ رہا۔ 2006-07 میں تو سندھ کا ملکی گیس پیداوار میں حصہ تقریباً 71 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ یہ اعداد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سندھ نے پاکستان کی صنعتی اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں کتنا بڑا کردار ادا کیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس صوبے کے وسائل نے ملک کے دوسرے حصوں میں صنعتیں چلائیں اور گھروں کے چولہے جلائے، اس صوبے کے اپنے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کیوں برقرار رہی۔
اس سوال کا جواب صرف یہ کہہ کر نہیں دیا جاسکتا کہ وسائل مرکز کے اختیار میں رہے یا سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں ملا، اگرچہ وسائل کی ملکیت، رائلٹی، محصولات اور آئینی حقوق کا سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ سندھ کی موجودہ حالت کو سمجھنے کے لیے صوبائی حکمرانی کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا، کیونکہ تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، زرعی ترقی، دیہی انفراسٹرکچر اور مقامی سطح کی بہت سی بنیادی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ اگر کئی دہائیوں تک حکومتیں بدلتی رہیں، بجٹ بڑھتے رہے اور ترقیاتی منصوبے بنتے رہے لیکن عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آسکی تو مسئلے کی جڑ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان وسائل کے استعمال، ترجیحات اور نگرانی میں بھی تلاش کرنا ہوگی۔
سندھ کی محرومی کا سب سے نمایاں چہرہ تعلیم ہے۔ یونیسف کے مطابق صوبے میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 74 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کا تقریباً 44 فیصد بنتے ہیں۔ اس تعداد کو صرف ایک تعلیمی اعدادوشمار سمجھنا دراصل مسئلے کی سنگینی کو کم کرنا ہے، کیونکہ سکول سے باہر ہر بچہ آنے والے برسوں میں کم روزگار، کم آمدنی اور زیادہ غربت کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔ جب ایک بچہ تعلیم سے محروم رہتا ہے تو اس کا اثر صرف اس کے اپنے مستقبل تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے خاندان اور اگلی نسل تک منتقل ہوتا ہے، اور یوں غربت ایک وقتی معاشی مشکل کے بجائے نسل در نسل چلنے والی زنجیر بن جاتی ہے۔
یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سندھ میں اتنی بڑی تعداد میں بچے سکول سے باہر کیوں ہیں۔ بعض علاقوں میں سکول دور ہیں، کہیں عمارت موجود نہیں، کہیں عمارت ہے تو استاد یا بنیادی سہولتیں پوری نہیں، بعض خاندان غربت کے باعث بچوں کو کام پر بھیجتے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم کے راستے میں سماجی رکاوٹیں موجود ہیں اور بہت سے علاقوں میں سیلاب، پانی کی تباہ کاری اور کمزور انفراسٹرکچر نے پہلے سے موجود مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اس لیے صرف نئے سکول بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو ہر ضلع میں سکول سے باہر بچوں کی مکمل نشاندہی کرکے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ کون سا بچہ غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہے، کون سا سکول کی عدم دستیابی کے باعث اور کون سا سماجی یا جغرافیائی رکاوٹ کی وجہ سے۔ ہر مسئلے کا علاج بھی اسی کے مطابق مختلف ہوگا۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی محض بڑے ہسپتالوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کا مضبوط نظام موجود نہ ہو تو معمولی بیماری بھی غریب خاندان کے لیے بڑا معاشی بحران بن سکتی ہے۔ ایک دیہاتی مریض کو اگر بنیادی علاج کے لیے ضلعی مرکز تک کئی گھنٹے سفر کرنا پڑے تو دوا سے پہلے ہی سفر کا خرچ اس کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے۔ زچہ و بچہ کی صحت، بچوں کی ویکسین، غذائی کمی، متعدی بیماریوں کی روک تھام اور عام بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے دیہی سطح پر فعال مراکز صحت ضروری ہیں، کیونکہ ہر مریض کو بڑے شہر کے ہسپتال تک پہنچانا کسی بھی صحت کے نظام کا قابل عمل حل نہیں ہوسکتا۔
سندھ کی غربت کا دوسرا بڑا سبب اس کی دیہی معیشت کی ساخت ہے، جہاں زمین، پانی، قرض، منڈی اور پیداوار کے وسائل تک رسائی سب کے لیے یکساں نہیں۔ ہاری کی محنت سے فصل پیدا ہوتی ہے لیکن اگر اس کے پاس مناسب مالی سہولت، جدید زرعی طریقوں تک رسائی اور اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے کی طاقت نہ ہو تو زرعی پیداوار میں اضافہ بھی اس کے گھر کی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ قرض اور محتاجی کا یہ چکر بعض علاقوں میں جبری مشقت جیسی سنگین صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سندھ میں تقریباً 17 لاکھ افراد کو جبری مشقت کا شکار قرار دیتے ہوئے ان میں سات لاکھ سے زیادہ بچوں کا تخمینہ پیش کیا ہے، اگرچہ یہ سرکاری مردم شماری نہیں بلکہ ایک غیر سرکاری تنظیم کا تخمینہ ہے، اس لیے اسے اسی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ لیکن جبری مشقت کے خلاف برسوں سے عدالتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی مداخلت اس بات کو ضرور ظاہر کرتی ہے کہ یہ مسئلہ محض کسی ایک واقعے یا چند خاندانوں تک محدود نہیں۔
اس صورتحال میں حکومت کا کام صرف متاثرہ افراد کو آزاد کرانا نہیں بلکہ وہ معاشی حالات ختم کرنا بھی ہے جو انہیں دوبارہ کسی طاقتور شخص کے سامنے محتاج بنا دیتے ہیں۔ ہاری کو قانونی شناخت، بینک اکاؤنٹ، آسان قرض، فصل کی مناسب قیمت، زمین کے ریکارڈ تک رسائی اور قانونی مدد فراہم کیے بغیر جبری مشقت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں۔ اسی طرح زرعی اصلاحات کا مطلب صرف زمین کی ملکیت کی بحث نہیں بلکہ پانی کی منصفانہ تقسیم، چھوٹے کسان کے لیے جدید بیج اور ٹیکنالوجی، ذخیرہ کرنے کی سہولت اور منڈی تک براہ راست رسائی بھی ہے۔
سندھ کے وسائل اور عام آدمی کی زندگی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے ایک شفاف نظام ضروری ہے جس میں تیل، گیس، کوئلے اور دیگر قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں عوام کو واضح معلومات دستیاب ہوں۔ وسائل کہاں سے نکل رہے ہیں، کتنی پیداوار ہورہی ہے، حکومت کو کتنا محصول مل رہا ہے، صوبے کو کتنا حصہ ملتا ہے اور پیداوار والے ضلع میں تعلیم، صحت، پانی، سڑک اور روزگار پر کتنا خرچ کیا جارہا ہے، یہ سب اعدادوشمار عوام سے چھپنے نہیں چاہئیں۔ وسائل پیدا کرنے والے علاقوں کے لیے الگ ترقیاتی فنڈ قائم کرکے اس کے استعمال کا سالانہ آزادانہ آڈٹ کرایا جاسکتا ہے اور مقامی آبادی کو بھی نگرانی کے عمل میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ اس سے نہ صرف محرومی کا احساس کم ہوگا بلکہ وسائل کے بارے میں وفاق اور صوبے کے درمیان پیدا ہونے والی بہت سی بداعتمادی بھی کم ہوسکتی ہے۔
یہاں سندھ کے بلدیاتی نظام کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ کسی صوبائی دارالحکومت میں بیٹھ کر پورے صوبے کے ہزاروں دیہات اور شہری آبادیوں کی ضروریات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ جس شخص کو اپنے محلے کے پانی، صفائی، گلی، بنیادی صحت یا سکول کی روزمرہ صورتحال کا علم ہے، فیصلہ سازی میں اس کی شمولیت بھی ہونی چاہیے۔ بااختیار اور مالی وسائل رکھنے والی مقامی حکومتیں صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ترقی کو عوام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔ البتہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ضروری ہے، کیونکہ صرف پیسہ نچلی سطح تک منتقل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک اس کے استعمال کا حساب بھی مقامی لوگوں کے سامنے نہ ہو۔
سندھ کی غربت کو کم کرنے کے لیے خواتین کی معاشی اور تعلیمی شمولیت بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ دیہی علاقوں میں اگر لڑکی کو معیاری تعلیم، محفوظ آمدورفت اور ہنر سیکھنے کا موقع مل جائے اور بالغ خواتین کو چھوٹے کاروبار یا گھریلو صنعت کے لیے مالی سہولت حاصل ہو تو ایک خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور بچوں کی تعلیم و صحت پر بھی براہ راست اثر پڑتا ہے۔ دنیا کے بہت سے غریب معاشروں نے اسی راستے سے اپنے انسانی وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا ہے، سندھ بھی ایسا کرسکتا ہے بشرطیکہ خواتین کو فلاحی منصوبوں کی مستحق سمجھنے کے بجائے معاشی ترقی کی شریک سمجھا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سندھ کی ترقی کو صرف سرکاری ملازمتوں اور امدادی منصوبوں کے ذریعے آگے بڑھانے کے بجائے مقامی صنعت اور نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ تیل اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں میں مقامی نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں، صنعتوں کو مقامی افراد کی تربیت اور روزگار سے جوڑا جائے اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرض فراہم کیے جائیں۔ اس طرح قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت صرف سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے مقامی معیشت میں گردش کرے گی اور روزگار کے مستقل مواقع پیدا ہوں گے۔
سندھ کی محرومی کا ایک پہلو ماحول بھی ہے جسے نظر انداز کرنا آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ہوگا۔ تیل، گیس، کوئلے اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آمدنی اگر پانی، زمین اور ہوا کے تحفظ کے بغیر حاصل کی جائے تو آج کی معاشی پیداوار کل کی ماحولیاتی تباہی بن سکتی ہے۔ وسائل پیدا کرنے والے علاقوں کے لوگوں کو صرف روزگار نہیں بلکہ صاف پانی، محفوظ ماحول اور صحت مند زندگی بھی ملنی چاہیے۔ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے والی ہر بڑی سرگرمی میں مقامی آبادی کے ماحولیاتی حقوق کو بنیادی شرط بنایا جانا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سندھ کے پاس وسائل نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ قدرتی دولت کو انسانی ترقی میں تبدیل کرنے کا نظام کمزور ہے۔ ایک صوبہ تیل اور گیس پیدا کرسکتا ہے لیکن اگر اس کے بچوں کو تعلیم نہیں ملتی تو وسائل انسانی سرمایہ نہیں بن رہے۔ زمین زرخیز ہوسکتی ہے لیکن اگر کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں لے سکتا تو زراعت غربت ختم نہیں کرسکتی۔ بڑے ہسپتال بن سکتے ہیں لیکن اگر دیہات میں بنیادی صحت کا نظام موجود نہیں تو بیماری غریب خاندان کو معاشی طور پر تباہ کرتی رہے گی۔ اسی طرح بڑے ترقیاتی بجٹ رکھے جاسکتے ہیں، مگر اگر ان کی ترجیحات درست نہ ہوں اور نگرانی کمزور ہو تو رقم خرچ ہونے کے باوجود محرومی برقرار رہ سکتی ہے۔
سندھ کے بارے میں سب سے سنجیدہ بات یہی ہے کہ یہاں محرومی کی وجوہات ناقابل علاج نہیں۔ وسائل موجود ہیں، زمین موجود ہے، انسانی صلاحیت موجود ہے، کراچی جیسا معاشی مرکز موجود ہے، زراعت موجود ہے اور توانائی کے بڑے ذخائر موجود رہے ہیں۔ ضرورت ایک ایسی سیاسی اور انتظامی سوچ کی ہے جو پانچ سالہ منصوبے کے بجائے بیس سال بعد کے سندھ کو دیکھے اور ہر حکومت اپنی مدت کے دوران یہ طے کرے کہ اس نے کتنے سکول تعمیر کیے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کتنے بچے تعلیم یافتہ ہوئے، کتنے نئے ہسپتال بنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کتنے مریض بروقت علاج تک پہنچے، کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کتنے خاندان غربت سے باہر نکلے۔
وفاق کو سندھ کے آئینی اور مالی حقوق کے معاملے میں شفافیت اور انصاف یقینی بنانا ہوگا، جبکہ سندھ حکومت کو اپنے اختیار کے اندر موجود شعبوں میں جواب دہی سے بچنے کے بجائے اپنی کارکردگی کا کھلا حساب دینا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی سندھ کے وسائل اور محرومی کو صرف انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے ایک قابل عمل مشترکہ منصوبے پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اگر وسائل کی تقسیم پر اختلاف ہے تو اسے اعدادوشمار اور آئین کی بنیاد پر حل کیا جائے، اگر صوبائی حکومت کی کارکردگی کمزور ہے تو اسے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تنقید کا سامنا کرنا چاہیے، اور اگر کسی علاقے میں غربت زیادہ ہے تو وہاں ترقیاتی ترجیح بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔
سندھ کے لوگوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا ہے اور اس صوبے کے قدرتی وسائل نے پاکستان کی معیشت کو کئی دہائیوں تک سہارا دیا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ سندھ کے وسائل کے بارے میں گفتگو صرف اس بات تک محدود نہ رہے کہ ملک کو وہاں سے کیا ملا۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی مسلسل پوچھا جائے کہ وہاں کے انسان کو کیا ملا، اس کے بچے کو کیا ملا، ہاری کو کیا ملا، بیمار کو کیا ملا اور اس نوجوان کو کیا ملا جو اپنے ہی وسائل سے مالا مال صوبے میں روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کرتا ہے۔
سندھ کی محرومی کو ختم کرنے کے لیے کسی نئے معجزے کی ضرورت نہیں، ایک دیانت دار حساب، مضبوط ادارے، مقامی سطح پر اختیار، وسائل کی شفاف تقسیم، تعلیم اور صحت کو حقیقی ترجیح، ہاری کے معاشی تحفظ اور قدرتی دولت کو انسانی ترقی سے جوڑنے والی مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کام سنجیدگی سے کیا جائے تو سندھ کی زیر زمین دولت پہلی مرتبہ پوری معنویت کے ساتھ زمین کے اوپر بسنے والے انسان کی زندگی میں نظر آسکتی ہے، اور یہی وہ تبدیلی ہوگی جس سے صرف سندھ نہیں بلکہ پورا پاکستان مضبوط ہوگا۔
واپس کریں