سہیل آفریدی: نام نہاد انقلابی کی چائے کی پیالی میں طوفان، اغوا برائے بہتان
خالد خان۔ کالم نگار
رات گئے مردان کے تحصیل تخت بھائی کے سری بہلول پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ دستی بم سے کیا گیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ایک حملہ آور کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور ہلاکت کی حتمی تصدیق کا انتظار ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہ وہ پولیس ہے جس کے اہلکار روزانہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں اور جس کے سیاسی و انتظامی سربراہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہیں۔
یہ واقعہ کسی ایک پولیس چوکی پر حملے تک محدود نہیں۔ اسی رات صوبے کے دوسرے علاقوں سے بھی دہشت گردی اور سکیورٹی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی میں مبینہ طور پر مطلوب دہشت گرد قاری راجد عرف زید کی ہلاکت کی اطلاع ملی، جبکہ بنوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک مبینہ دہشت گرد کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ان واقعات کی بعض تفصیلات ابھی ابتدائی نوعیت کی ہیں، اس لیے حتمی سرکاری تصدیق کا انتظار ضروری ہے، مگر مجموعی تصویر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان آج بھی ایک سنگین اور فوری مسئلہ ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب صوبے کے وزیراعلیٰ کی ترجیحات سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور میں تھے، جہاں وہ تحریک انصاف کی پنجاب سٹریٹ موومنٹ کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے پہلے تحریک انصاف کے کارکن اشتیاق احمد کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی، اس کے بعد 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں لاہور میں احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق لکشمی چوک میں کارکنوں کی گرفتاری پر وہ پولیس وین میں جا بیٹھے اور پولیس سے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
یہاں تک بھی اسے ایک سیاسی احتجاج سمجھا جا سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کسی جماعت کا سیاسی کارکن بھی ہوتا ہے، اسے سیاسی مؤقف رکھنے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اصل مسئلہ اس کے بعد پیدا ہوا جب پولیس وین میں خود بیٹھنے کے واقعے کو بعد میں مبینہ اغوا کے طور پر پیش کیا گیا۔ سامنے آنے والی ویڈیو اور متعدد رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھے اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے باہر آنے کی درخواست کے باوجود اندر بیٹھے رہے۔ بعد میں پولیس پر انہیں اغوا کرنے اور سڑک پر چھوڑنے کا الزام لگایا گیا۔
اب سوال یہ نہیں کہ سہیل آفریدی کو لاہور میں احتجاج کا حق تھا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک وزیراعلیٰ کے منصب کی سنجیدگی کہاں گئی؟ اگر پولیس وین میں بیٹھنا احتجاج کا حصہ تھا تو اسے احتجاج ہی کہا جاتا، اگر پولیس نے واقعی اغوا کیا تھا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ایک ہی واقعے میں خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھنا، کیمروں کے سامنے بیٹھنا، پولیس اہلکاروں کی منت سماجت کے باوجود نہ اترنا اور پھر اسے اغوا قرار دینا سیاسی سنجیدگی کے لیے ایک بڑا سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
یہاں "اغوا برائے بہتان" کی اصطلاح اپنی جگہ معنی رکھتی ہے، کیونکہ بہتان الزام کو کہتے ہیں، اور اگر کسی واقعے کی تصویری حقیقت اور بعد کا سیاسی دعویٰ ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو عوام کو سوال کرنے کا پورا حق ہے۔ البتہ اگر کوئی حقیقی اغوا ہوا تھا تو اس کی غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ سیاسی منصب رکھنے والے شخص کے دعوے کو صرف اس لیے حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا کہ دعویٰ وزیراعلیٰ نے کیا ہے۔
لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت کے مبینہ غیر آئینی ہتھکنڈوں کے پیش نظر 27 ستمبر سے پہلے کسی بھی وقت اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جا سکتی ہے۔ یعنی ایک طرف 27 ستمبر کا احتجاج پہلے ہی سیاسی ایجنڈے پر موجود ہے، دوسری طرف اسے مقررہ تاریخ سے پہلے شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سیاست کس طرف جا رہی ہے؟ صوبے میں دہشت گردی ہے، پولیس چوکیوں پر حملے ہو رہے ہیں، پولیس اہلکار زخمی ہو رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کارروائیاں کر رہی ہیں، عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور اسی وقت صوبائی حکومت کی قیادت کی سب سے نمایاں سرگرمی لاہور کی سڑکوں پر احتجاجی سیاست اور اسلام آباد مارچ کی تیاری بن رہی ہے۔
میں یہ سوال حکومت کی مخالفت میں نہیں بلکہ حکمرانی کے اصول کے تحت اٹھا رہا ہوں۔ وزیراعلیٰ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہوتا، وہ پورے صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہر شہری برابر ہے، ہر ضلع اس کی ذمہ داری ہے اور پولیس کا ہر اہلکار اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر مردان میں پولیس چوکی پر حملہ ہو تو وزیراعلیٰ کو اس واقعے کی فکر ہونی چاہیے۔ اگر بنوں میں دہشت گردوں کے خلاف مقابلہ ہو تو وزیراعلیٰ کو اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو تو صوبائی حکومت کو اپنی انتظامی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔
لیکن یہاں ہمیں کیا دکھائی دیتا ہے؟ لاہور میں سیاسی ریلی، پولیس وین، کیمرے، گرفتاریوں پر احتجاج، اغوا کا الزام، پھر لانگ مارچ کی نئی دھمکی یا کال کا امکان۔ کیا یہی وہ انقلاب ہے جس کے نام پر خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنی قیادت منتخب کی تھی؟
پی ٹی آئی کے کارکنوں سے میرا سوال اس سے بھی زیادہ بنیادی ہے۔ آپ نے اپنی قیادت کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ وہ صوبہ چلائے یا اس لیے کہ وہ ہر دوسرے دن کسی نئے احتجاج میں نظر آئے؟ آپ کے گھروں کے قریب دہشت گردی ہو تو آپ کا وزیراعلیٰ کہاں ہونا چاہیے؟ آپ کے پولیس اہلکار زخمی ہوں تو آپ کی قیادت کو کس چیز کی فکر ہونی چاہیے؟ آپ کے بچوں کے سکول، ہسپتال، سڑکیں، روزگار اور امن و امان کے مسائل اپنی جگہ موجود ہوں اور آپ کی صوبائی قیادت لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں کو اپنی سیاسی ترجیح بنا لے تو کیا آپ کو ایک لمحے کے لیے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ آپ کی قیادت کر کیا رہی ہے؟
یہ سوال تحریک انصاف کے مخالفین سے نہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہے۔ کیونکہ زندہ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جس کے کارکن اپنی قیادت سے سوال کرتے ہیں۔ اندھی حمایت کسی جماعت کو مضبوط نہیں کرتی بلکہ قیادت کو جواب دہی سے آزاد کر دیتی ہے۔ اگر آپ اپنے وزیراعلیٰ سے یہ پوچھنے کو بھی تیار نہیں کہ وہ صوبے میں دہشت گردی کے دوران دوسرے صوبے میں سیاسی احتجاج کی قیادت کیوں کر رہے ہیں تو پھر آپ نے سیاست کو نظریے کے بجائے شخصیت پرستی بنا دیا ہے۔
جنید اکبر بھی اس سوال سے بچ نہیں سکتے۔ وہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر ہیں اور صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قیادت میں شامل ہیں۔ اگر وہ 27 ستمبر سے پہلے کسی بھی وقت اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دینے کی بات کر رہے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں کیسے پوری کرے گی؟ احتجاج کا حق اپنی جگہ، لیکن حکومت میں رہ کر احتجاج اور حکومت چلانے کے درمیان توازن بھی تو کوئی چیز ہے۔
اپوزیشن میں رہ کر سڑک پر آنا آسان ہے، حکومت میں رہ کر صوبہ چلانا مشکل ہے۔ نعرہ لگانا آسان ہے، دہشت گردی سے لڑنا مشکل ہے۔ کیمرے کے سامنے سیاسی منظر بنانا آسان ہے، شہید پولیس اہلکار کے گھر جا کر خاندان کا دکھ بانٹنا مشکل ہے۔ لاہور میں چند گھنٹے کی سیاسی شہرت حاصل کرنا آسان ہے، لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کو روزانہ امن دینا اصل امتحان ہے۔
سہیل آفریدی کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں یا مستقل احتجاجی تحریک کے قائد۔ جنید اکبر کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ صوبائی حکومت اور سڑکوں کی سیاست کو ایک ہی وقت میں چلانے کی کوشش کہاں لے جائے گی۔ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں صرف نعرے، جذبات اور احتجاج چاہیے یا ایسی قیادت بھی چاہیے جو اقتدار ملنے کے بعد اپنے صوبے کو جواب دہ ہو۔
خیبر پختونخوا کے لوگ دہشت گردی سے تھک چکے ہیں۔ انہیں ہر روز کسی نئے سیاسی معرکے کی خبر نہیں، امن چاہیے۔ انہیں پولیس وین کے اندر اور باہر کے سیاسی مناظر نہیں، محفوظ بازار اور محفوظ سڑکیں چاہئیں۔ انہیں یہ جاننے میں دلچسپی نہیں کہ کون کس شہر میں کس گاڑی میں بیٹھا اور کس نے کس پر کیا الزام لگایا؛ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا وزیراعلیٰ ان کے لیے کر کیا رہا ہے۔
اور یہی اصل سوال ہے جس سے کوئی سیاسی نعرہ، کوئی احتجاجی ریلی، کوئی لانگ مارچ اور کوئی چائے کی پیالی میں اٹھایا گیا طوفان بچ نہیں سکتا:
جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہو، پولیس چوکیوں پر حملے ہو رہے ہوں اور اہلکار زخمی ہو رہے ہوں، اور صوبے کا وزیراعلیٰ لاہور کی سڑکوں پر انقلاب ڈھونڈ رہا ہو تو پی ٹی آئی کے کارکن اپنے آپ سے ایک بار ضرور پوچھیں—یہ ہماری قیادت کر کیا رہی ہے؟
واپس کریں