افسر شاہی: پاکستان کے استحصالی ڈرامے کا مستقل کردار
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان کی تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم نے اس ملک کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار تلاش کیا، مگر اس مستقل کردار کو کبھی پوری سنجیدگی سے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ریاست کے اندر اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔ ہم نے کبھی سیاست دانوں کو برا بھلا کہا، کبھی فوجی حکمرانوں کو، کبھی سیاسی جماعتوں کو، کبھی عدلیہ کو،کبھی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو، کبھی مذہبی جماعتوں کو، کبھی ابلاغ عامہ کے ذرائع کو اور کبھی عوام کو لیکن اس افسر شاہی سے بہت کم سوال کیا جو حکومتیں آنے سے پہلے بھی موجود تھی، حکومتیں جانے کے بعد بھی موجود رہی، فوجی ادوار میں بھی ریاست چلاتی رہی، سیاسی حکومتوں میں بھی ریاست چلاتی رہی اور ہر نئے حکمران کو وہی فائلیں، وہی قواعد، وہی دفتری اختیار اور وہی انتظامی نظام ورثے میں دیتی رہی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی ڈرامے میں سیاست دان زیادہ تر عارضی کردار دکھائی دیتے ہیں، جبکہ افسر شاہی مستقل کردار ہے۔ چہرے بدلتے رہے، جماعتیں بدلتی رہیں، وزرائے اعظم آتے جاتے رہے، اسمبلیاں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، مگر وہ انتظامی ڈھانچہ اپنی جگہ موجود رہا جس کے ہاتھ میں ریاست کے روزمرہ فیصلوں کی ایک بہت بڑی طاقت رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر ہمیں ایک دن رک کر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ آخر پاکستان میں اصل طاقت صرف ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جو انتخابات جیت کر اقتدار میں آتے ہیں یا ان لوگوں کے پاس بھی ہوتی ہے جو اقتدار کے بدلتے چہروں کے پیچھے بیٹھ کر ریاستی مشینری کو مسلسل چلاتے رہتے ہیں؟
یہ سوال کسی ایک افسر کے خلاف نہیں، پوری افسر شاہی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے لیے بھی نہیں۔ اس ملک میں بے شمار دیانت دار، فرض شناس اور اصول پسند سرکاری افسر گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں ریاست کی خدمت کی ہے۔ لیکن کسی ادارے کی دیانت داری کا فیصلہ صرف اس کے اچھے افراد سے نہیں بلکہ اس کے مجموعی نظام، اختیار کے استعمال، احتساب کے طریقہ کار اور اس کے پیدا کردہ نتائج سے بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک نظام میں اچھا آدمی اپنی دیانت بچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا رہے اور طاقت کا غلط استعمال نسبتاً آسان ہو تو مسئلہ فرد سے زیادہ نظام کا بن جاتا ہے۔
پاکستان میں ریاست اور عام آدمی کا سب سے براہ راست واسطہ سیاست دان سے نہیں بلکہ افسر شاہی سے پڑتا ہے۔ ایک عام شہری کو نہ وزیر اعظم کے دفتر میں روز جانا ہوتا ہے، نہ کابینہ کے اجلاس میں بیٹھنا ہوتا ہے، نہ اسمبلی کے ایوان میں اس کا روزمرہ کام ہوتا ہے۔ نہ جی ا8چ کیو میں عرضی لیکر جاتا ہے۔ اسے اپنے بچے کا داخلہ، زمین کا معاملہ، کاروبار کا اجازت نامہ، تعمیر کی منظوری، پنشن، انتقال، فرد، لائسنس، ٹیکس، پولیس، مقامی انتظامیہ، صحت، تعلیم یا کسی دوسری سرکاری خدمت کے لیے جس دروازے پر جانا پڑتا ہے، وہ سرکاری دفتر کا دروازہ ہے۔ وہاں اس کا واسطہ جس نظام سے پڑتا ہے، وہ افسر شاہی کا نظام ہے۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
ایک عام آدمی کے لیے ریاست دراصل وہی ہے جو اسے سرکاری دفتر میں ملتی ہے۔ اگر وہاں اس کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے، قانون کے مطابق اس کا کام مقررہ وقت میں ہوجائے، اسے کسی سفارش کی ضرورت نہ پڑے اور اس سے ایک روپیہ بھی ناجائز نہ مانگا جائے تو اس کے لیے ریاست اچھی ریاست ہے۔ لیکن اگر وہی آدمی ایک معمولی کام کے لیے دفتر کے چکر لگاتا رہے، اس کی فائل میز سے میز تک گھومتی رہے، ہر دروازے پر اسے کسی تعلق، سفارش یا رقم کی ضرورت پڑے تو اس کے ذہن میں ریاست کی جو تصویر بنتی ہے وہ آئین، پارلیمان یا جمہوریت کی نہیں ہوتی، وہ ایک ایسے دفتر کی تصویر ہوتی ہے جہاں اس کا حق کسی دوسرے کی مرضی کا محتاج ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فائل محض کاغذ نہیں رہتی، طاقت بن جاتی ہے۔
ہم نے فائل کو ہمیشہ ایک دفتری چیز سمجھا ہے، لیکن دراصل فائل ریاست اور شہری کے درمیان اختیار کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ اس میں لکھا ہوا ایک جملہ کسی شخص کا حق روک سکتا ہے، ایک دستخط کسی منصوبے کو زندگی دے سکتا ہے، ایک اعتراض مہینوں کا وقت لے سکتا ہے، ایک منظوری کروڑوں روپے کا راستہ کھول سکتی ہے اور ایک تاخیر کسی غریب آدمی کی پوری زندگی کو انتظار میں ڈال سکتی ہے۔ اس لیے جس شخص کے ہاتھ میں فائل ہے، اس کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں، ریاستی اختیار کا ایک حصہ ہے۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فائل قانون اور عوامی مفاد کے بجائے ذاتی، ادارہ جاتی یا گروہی مفاد کے تناظر میں دیکھی جانے لگے۔ جب فائل کو چلانے سے زیادہ اسے روکنے کی طاقت اہم ہوجائے، جب ایک دستاویز کو شامل کرنے یا نکالنے کی اہمیت بڑھ جائے، جب ایک ہی معاملے کی کئی فائلیں بن جائیں، جب فیصلہ اس انداز سے لکھا جائے کہ ذمہ داری کسی اور کے سر چلی جائے اور اختیار کا فائدہ کسی اور کو پہنچے، تو پھر دفتری کارروائی ایک بے ضرر انتظامی عمل نہیں رہتی بلکہ اختیار کے کھیل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اور یہی وہ پہلو ہے جس پر پاکستان میں بہت گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پچھلے کئی عشروں میں سرکاری فائلوں نے صرف فیصلوں کا ریکارڈ محفوظ کیا یا ان کے ذریعے ریاستی اختیار کے استعمال کا ایک ایسا طریقہ بھی تشکیل پایا جس نے عوامی مفاد کو پیچھے دھکیل دیا۔ ہمیں فائلوں کی صرف آخری منظوری نہیں پڑھنی چاہیے، پوری فائل پڑھنی چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ معاملہ کہاں سے شروع ہوا، کس نے کیا لکھا، کس نے کیا اعتراض اٹھایا، کون سا کاغذ کب شامل ہوا، فیصلہ کس بنیاد پر بدلا، تاخیر کیوں ہوئی اور آخرکار فائدہ کس کو پہنچا۔
پاکستان میں افسر شاہی کی طاقت کا ایک بڑا سبب اس کی ادارہ جاتی یادداشت بھی ہے۔ ایک حکومت پانچ سال کے لیے آتی ہے، ایک وزیر چند سال کے لیے ہوتا ہے، ایک رکن اسمبلی اگلے انتخاب کا محتاج ہوتا ہے، لیکن ایک تجربہ کار افسر کو ریاست کے قواعد، طریقہ کار، سابقہ فیصلوں اور دفتری راستوں کا برسوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ علم ریاست کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، مگر یہی علم اگر شفافیت اور جواب دہی سے آزاد ہوجائے تو طاقت کا ایسا ذریعہ بھی بن سکتا ہے جسے عام شہری سمجھ ہی نہیں سکتا۔
اسی لیے پاکستان میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ منتخب حکومت کو یہ گمان رہتا ہے کہ اختیار اس کے پاس ہے، جبکہ عملی طور پر اختیار کے استعمال کے بہت سے راستے اس کے دفتری نظام کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ سیاست دان حکم دے سکتا ہے، مگر حکم کو قواعد، سمری، فائل، اعتراض، منظوری اور عمل درآمد کے مراحل سے گزارنے والا نظام وہی رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود ریاستی رویے میں بنیادی تبدیلی بہت کم آتی ہے۔
ہم نے اس صورت حال کو سمجھنے کے بجائے ہر ناکامی کا بوجھ سیاست دان کے سر رکھ دیا۔
سیاست دان یقیناً جواب دہ ہیں۔ سیاسی مداخلت، سفارش، اقربا پروری، اختیارات کا غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں ہماری سیاسی زندگی کے حقیقی مسائل ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی مداخلت اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب انتظامی نظام میں اس کی گنجائش موجود ہو۔ اگر ادارہ مضبوط، شفاف، قانون کا پابند اور جواب دہ ہو تو کسی سیاست دان کے لیے بھی اسے اپنی مرضی سے چلانا آسان نہیں رہتا۔ اس لیے سیاست دان اور افسر شاہی کو ایک دوسرے کے متبادل دشمن سمجھنا غلط ہے؛ کئی مواقع پر دونوں ایک دوسرے کے اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نقصان عوام کا ہوتا ہے۔
لیکن یہاں پاکستان کی تاریخ کا ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری فوج کے بارے میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہوسکتے ہیں، فوجی ادوار پر مختلف آرا بھی موجود ہیں، مگر ریاستی نظم و نسق کے بعض تجربات ایسے ہیں جنہیں دیانت داری سے تسلیم کرنا چاہیے۔ جب واپڈا شدید بدانتظامی اور خرابی کا شکار ہوا اور اسے فوج کے حوالے کیا گیا تو بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ عام صارف کا براہ راست واسطہ ایک ایسے انتظامی نظام سے پڑا جہاں سفارش اور رشوت کی گنجائش نہیں تھی۔ اسی طرح جب خیبرپختونخوا میں اٹے کا بحران پیدا ہوا اور خوراک کے انتظام سے متعلق ذمہ داریاں فوج کے سپرد کی گئیں تو لوگوں نے ایک ایسا نظم دیکھا جس میں معمول کی دفتری رکاوٹوں اور ناجائز مطالبات کے بجائے فوری فیصلے اور جواب دہی نمایاں تھی۔ قدرتی آفات کے موقع پر بھی ہم نے بارہا دیکھا کہ جب ریاستی انتظامیہ کی معمول کی رفتار ناکافی ثابت ہوئی تو فوج نے آگے بڑھ کر نظم و نسق، امداد اور بحالی کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عوام تک براہ راست پہنچی۔ مارشل لا کے ادوار میں بھی، تمام سیاسی اختلافات سے قطع نظر، ضلع اور تحصیل کی سطح پر ایسے انتظامی تجربات سامنے آئے جنہیں محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فوجی حکومتوں کے زمانے میں ہوئے تھے۔
یہاں اصل موضوع فوج یا سیاست میں سے کسی ایک کو اچھا یا برا ثابت کرنا نہیں بلکہ حکمرانی کے فرق کو سمجھنا ہے۔ جب ایک ہی ملک، ایک ہی قانون اور ایک ہی عوام کے ساتھ ایک انتظامی کام ایک نظام میں نسبتاً تیزی، نظم اور جواب دہی سے ہوسکتا ہے اور دوسرے نظام میں سفارش، تاخیر اور ناجائز مطالبات کا شکار ہوجاتا ہے تو ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ فرق کہاں ہے؟
اگر فوج کے زیر انتظام کسی شعبے میں رشوت اور سفارش کم ہوسکتی ہے تو اس تجربے سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ وہاں کون سا نظم، نگرانی، جواب دہی اور فوری فیصلہ سازی کام کرتی ہے اور اسے مستقل شہری انتظامیہ میں کیوں نافذ نہیں کیا جاسکتا؟ مقصد فوج کو مستقل طور پر شہری اداروں کا متبادل بنانا نہیں ہونا چاہیے؛ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ شہری ادارے بھی ایسی ہی جواب دہ، منظم اور بدعنوانی سے پاک کارکردگی کیوں نہیں دے سکتے۔
یہی سوال افسر شاہی کے سامنے سب سے بڑا سوال ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ صرف سیاست دان بدلنے سے پاکستان نہیں بدلے گا۔
ہم نے حکومتیں بدل بدل کر دیکھ لیں۔
نعرے بدل گئے، منشور بدل گئے، چہرے بدل گئے، لیکن عام آدمی کے لیے سرکاری دفتر کی بہت سی بنیادی حقیقتیں وہیں رہیں۔ اسے آج بھی کام کے لیے دفتر جانا پڑتا ہے، فائل ڈھونڈنی پڑتی ہے، دستخط کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے جائز کام کی راہ میں اصل رکاوٹ کہاں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے جدید ٹیکنالوجی بھی اختیار کرلی، مگر کئی جگہ پرانا دفتری مزاج نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی زندہ رہا۔ جہاں برقی نظام قائم ہوا، وہاں بعض اوقات پرانی دستی فائل بھی ساتھ چلتی رہی۔ سوال یہ نہیں کہ کاغذ رکھنا برا ہے یا برقی نظام اچھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہی معاملے کا ایک راستہ ایسا ہو جس کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہو اور دوسرا ایسا راستہ بھی موجود ہو جہاں تبدیلی، تاخیر یا مداخلت کے امکانات رہیں، تو پھر نظام کو شفاف بنانے کے بجائے اختیار کو دوہرا کیوں کیا گیا؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بدعنوانی صرف رشوت لینے کا نام نہیں۔ جب سرکاری وسائل کو ذاتی استحقاق سمجھا جائے، سرکاری گاڑی، بجلی، گھر، عملہ، وقت اور دوسرے وسائل کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی سہولت سمجھ لیا جائے، ترقیاتی منصوبوں کو مفاد کے لیے استعمال کیا جائے، قواعد کو مخصوص لوگوں کے لیے نرم اور دوسروں کے لیے سخت کیا جائے، زمین، معدنیات اور دوسرے قومی وسائل کے فیصلوں میں شفافیت کم ہوجائے اور ٹیکس و ضابطہ بندی کے اختیارات ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہونے لگیں تو یہ سب بدعنوانی کی وسیع تر شکلیں ہیں۔
یہاں ایک اور خطرناک تبدیلی آتی ہے۔ افسر اپنے دفتر سے نکل کر معاشرے میں جاتا ہے اور وہاں بھی اس کے عہدے کی طاقت اس کے ساتھ جاتی ہے۔ لوگ اس کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں، اسے دعوتوں میں بلاتے ہیں، اس کے سامنے اپنے مسائل رکھتے ہیں، اس سے تعلق قائم کرنا اپنے لیے فائدہ سمجھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ سرکاری عہدہ سماجی مرتبے میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ریاستی اختیار معاشرتی وقار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بدعنوانی ختم کیوں نہیں ہوتی۔
ہمیں اپنے آپ سے بھی سوال کرنا ہوگا۔
اگر معاشرہ کسی بااصول افسر کو اس لیے یاد نہ رکھے کہ اس نے قانون کی پاسداری کی، لیکن طاقتور افسر کو اس لیے عزت دے کہ وہ کسی کا کام کروا سکتا ہے، تو پھر معاشرہ دراصل کس چیز کی حوصلہ افزائی کررہا ہے؟ اگر لوگ کسی افسر سے مل کر یہ فخر کریں کہ ہمارے بڑے تعلقات ہیں، اگر شادی کی دعوت میں کسی طاقتور سرکاری عہدے دار کی موجودگی کو اعزاز سمجھا جائے، اگر ناجائز کام نکلوانے والا شخص کامیاب اور قانون کے مطابق کام کروانے والا شخص بے وقوف سمجھا جائے تو پھر بدعنوانی صرف سرکاری دفتر کی خرابی نہیں رہتی، وہ معاشرے کی مشترکہ نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں افسر شاہی کا مسئلہ ریاست سے نکل کر معاشرے تک پہنچتا ہے۔
ایک دفتر میں رشوت کا مطالبہ صرف ایک شہری کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ وہ اس شہری کو یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قانون سے زیادہ تعلق طاقتور ہے۔ اگر یہی تجربہ ہزاروں شہریوں کو بار بار ہو تو ایک پورا معاشرہ اسی سبق کو سیکھ لیتا ہے۔ پھر لوگ اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ قانون کے مطابق حق حاصل کرو؛ وہ انہیں یہ سکھانے لگتے ہیں کہ صحیح آدمی تلاش کرو، سفارش پیدا کرو، تعلق بناؤ اور کام نکالو۔
یوں ریاست صرف مالی وسائل نہیں کھوتی، معاشرے کی اخلاقی بنیاد بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔
میرے نزدیک پاکستان کی سب سے خطرناک خرابی یہی ہے کہ ہم نے بدعنوانی کو جرم سے زیادہ معمول بنا دیا ہے۔ ہم اس پر غصہ تو کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ جینا بھی سیکھ چکے ہیں۔ ہم رشوت دینے والے کو بھی کبھی مجبور سمجھتے ہیں، سفارش کروانے والے کو بھی سمجھدار کہتے ہیں اور اختیار رکھنے والے کے ناجائز فائدے کو بھی اکثر برداشت کرلیتے ہیں۔
یہ خاموش قبولیت بدعنوان نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
لیکن اس خرابی کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر شاید ہم نے کم غور کیا ہے۔ افسر شاہی صرف خود بدعنوانی میں مبتلا ہو تو مسئلہ ایک ادارے تک محدود رہتا، مگر جب اس کے اثرات سیاست، صحافت، کاروبار اور معاشرت تک پھیل جائیں تو پورا معاشرہ اس دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ سیاست دانوں کو بھی کئی مرتبہ یہی دفتری راستے سکھائے جاتے ہیں کہ اختیار کیسے استعمال کرنا ہے، کس طرح کسی معاملے کو آگے بڑھانا ہے، کس طرح کسی کام کو روکنا ہے اور کس طرح قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے ذمہ داری سے بچنا ہے۔ یوں سیاسی بدعنوانی اور انتظامی بدعنوانی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتیں۔
میڈیا بھی اس اثر سے محفوظ نہیں رہا۔ جب ریاستی اختیار رکھنے والے لوگ ذرائع، اشتہارات، سرکاری تعلقات، مراعات اور رسائی کے ذریعے صحافت کے ماحول پر اثرانداز ہونے لگیں تو خبر اور مفاد کے درمیان لکیر دھندلی پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں صحافت کی کمزوری کا الزام صرف صحافیوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ریاستی اختیار رکھنے والوں نے اطلاعات کے نظام اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ کس قسم کے تعلقات قائم کیے اور کس طرح طاقت، مفاد اور رسائی کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جس میں آزاد صحافت کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا گیا۔
عدلیہ کے بارے میں بھی ہمیں احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔ میری نظر میں ہمارے عدالتی نظام کی بنیادی خرابی اس کی پوری عمارت کو بدعنوان قرار دینا نہیں بلکہ اس کی رفتار، پیچیدگی، کمزور عمل درآمد اور اصلاحات کی کمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام انصاف میں برسوں مقدمات چلتے رہیں، عام شہری نسلوں تک فیصلے کا انتظار کرے اور قوانین و طریقہ کار میں بنیادی اصلاح نہ ہو تو اس جمود کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟
یہاں پھر نگاہ افسر شاہی کی طرف جاتی ہے۔
قانون سازی پارلیمان کا کام ہے، مگر قانون سازی کے لیے مسودات، سفارشات، انتظامی تجربات اور دفتری رائے کہاں سے آتی ہے؟ اصلاحات کے لیے عملی خاکے کون تیار کرتا ہے؟ حکومتوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام میں کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن، یہ معلومات کس کے پاس ہوتی ہیں؟ اگر افسر شاہی کسی اصلاح کی مخالفت کرے یا اسے غیر ضروری پیچیدگیوں میں الجھائے تو ایک ناتجربہ کار سیاسی حکومت کے لیے اسے سمجھنا کتنا آسان ہے؟
یہ سوال بھی ہمیں پوچھنا ہوگا کہ اگر عدالتی اصلاحات سے ایسے راستے بند ہوجائیں جن سے برسوں سے دفتری اختیار کو فائدہ پہنچتا رہا ہے، تو کیا ہر انتظامی طبقہ اصلاحات کا یکساں خیرمقدم کرے گا؟
اسی لیے اصلاحات صرف پارلیمان کی ناکامی کا نام نہیں۔ اصلاحات کے راستے میں موجود انتظامی مفادات کو بھی سمجھنا ہوگا۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ افسر شاہی کا ایک عام رویہ بعض اوقات ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے جیسے اختیار عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ عوام پر برتری کے اظہار کے لیے ملا ہو۔ ایک معمولی عہدے پر بیٹھا شخص شہری کو گھنٹوں انتظار کروا سکتا ہے، اس کے سوال کا جواب دینا اپنی توہین سمجھ سکتا ہے اور اپنے دفتر کو ایسا مقام بنا سکتا ہے جہاں آنے والا شخص پہلے ہی احساس کمتری میں مبتلا ہوجائے۔
یہ رویہ صرف دفتری بدتمیزی نہیں، ریاستی فلسفے کی خرابی ہے۔
سرکاری افسر عوام کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتا ہے، عوام کے وسائل استعمال کرتا ہے اور عوام کی خدمت کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ اس کے منصب کی عزت دراصل اس امانت کی عزت ہے جو ریاست نے اسے سونپی ہے۔ اگر وہ اسی منصب کو عوام پر رعب ڈالنے، ذاتی مرتبہ بڑھانے یا اپنے مفاد کے لیے استعمال کریے تو وہ اپنے عہدے کی روح سے انحراف کرتا ہے۔
اسی لیے اگر پاکستان کو بدلنا ہے تو صرف احتساب کے چند مقدمات کافی نہیں ہوں گے۔ چند افسروں کو گرفتار کرنے سے بھی مسئلہ ختم نہیں ہوگا اور چند سیاست دانوں کو سزا دینے سے بھی نہیں۔ ہمیں اس پورے انتظامی ڈھانچے کو دیکھنا ہوگا جس میں اختیار پیدا ہوتا ہے، استعمال ہوتا ہے، منتقل ہوتا ہے اور کبھی کبھی ذاتی مفاد میں بدل جاتا ہے۔
ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں کسی افسر کی نیت پر انحصار کم اور نظام کی شفافیت پر اعتماد زیادہ ہو۔ ہر فیصلے کا راستہ واضح ہو، ہر تاخیر کی وجہ معلوم ہو، ہر تبدیلی کا ریکارڈ محفوظ ہو، ہر اختیار کی حد مقرر ہو اور ہر شہری کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جان سکے کہ اس کا جائز کام کہاں رکا اور کیوں رکا۔
برقی نظام کا مقصد صرف کاغذ ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا مقصد اختیار کے چھپے ہوئے راستے ختم کرنا ہونا چاہیے۔ فائل کا مقصد صرف دستخط جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے؛ فائل کو عوامی حق کے سفر کا قابلِ جانچ ریکارڈ بنانا چاہیے۔ افسر کا منصب صرف مراعات کا ذریعہ نہیں بلکہ قابلِ احتساب امانت ہونا چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں افسر شاہی کے بارے میں اپنا تصور بدلنا ہوگا۔
افسر عوام کا حاکم نہیں، خادم ہے۔
سرکاری دفتر افسر کی جاگیر نہیں، عوام کی ملکیت ہے۔
سرکاری وسائل افسر کے ذاتی وسائل نہیں، قوم کی امانت ہیں۔
فائل افسر کی ملکیت نہیں، ریاست کا ریکارڈ ہے۔
اختیار افسر کا ذاتی حق نہیں، آئین اور قانون کی طرف سے دیا گیا ایک عارضی امانت ہے۔
جب تک یہ بنیادی شعور پیدا نہیں ہوگا، اصلاحات صرف کاغذ پر لکھی جاتی رہیں گی۔
پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کی اصلاح ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ اپنے انتظامی نظام کا بھی بے رحمانہ مگر منصفانہ احتساب کرنا ہوگا۔ ہمیں جامعات میں افسر شاہی کی تاریخ، اس کے اختیارات، اس کے فیصلوں، اس کی فائلوں، اس کے معاشی اثرات اور معاشرے پر اس کے اثرات پر باقاعدہ تحقیق کرنی ہوگی۔ ہزاروں سرکاری فائلیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان میں پاکستان کی ریاست کی ایک ایسی تاریخ چھپی ہوئی ہے جسے ہم نے ابھی پوری طرح پڑھا ہی نہیں۔
ہمیں یہ تحقیق اس لیے نہیں کرنی کہ کسی ایک طبقے کو مجرم ثابت کیا جائے، بلکہ اس لیے کرنی ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہماری ریاست کہاں کمزور ہوئی، اختیار کہاں بے قابو ہوا، عوام کا حق کہاں پیچھے گیا اور بدعنوانی کس طرح ایک معمول بنتی گئی۔
کیونکہ اگر بیماری کی تشخیص ہی غلط ہو تو علاج بھی غلط ہوگا۔
ہم پچھتر، اسی برس سے حکومتیں بدل رہے ہیں، مگر ریاستی رویے کی بہت سی پرانی عادتیں نہیں بدل سکیں۔ ہم سیاسی نعروں سے تبدیلی تلاش کرتے رہے، حالانکہ تبدیلی کا ایک بڑا میدان ان سرکاری دفتروں کے اندر بھی موجود ہے جہاں روزانہ کروڑوں لوگوں کے حقوق اور اربوں روپے کے وسائل سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں۔
اس لیے آج ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے حکمران خراب رہے ہیں یا یہ بھی ہے کہ حکمرانوں کے پیچھے موجود مستقل انتظامی ڈھانچے نے ریاست کو کس طرح تشکیل دیا؟
میرا خیال ہے کہ اس سوال سے بھاگنے کا وقت گزر چکا ہے۔
سیاست دان آتے جاتے رہیں گے۔ حکومتیں بنتی ٹوٹتی رہیں گی۔ انتخابات ہوتے رہیں گے۔ نعرے بدلتے رہیں گے۔ مگر جب تک ریاست کے مستقل انتظامی ڈھانچے کو قانون، شفافیت، عوامی نگرانی اور حقیقی جواب دہی کے تابع نہیں کیا جائے گا، پاکستان کی تبدیلی ادھوری رہے گی۔
کیونکہ قومیں صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں بدلتیں، ریاست کے چلنے کا طریقہ بدلنے سے بدلتی ہیں۔
اور اگر ہمیں واقعی پاکستان بدلنا ہے تو ہمیں صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے چہروں کو نہیں دیکھنا ہوگا؛ ہمیں ان دفتری کمروں میں بھی جھانکنا ہوگا جہاں فائلیں خاموشی سے پڑی ہوتی ہیں، مگر انہی فائلوں میں کبھی کسی شہری کا حق، کبھی کسی ادارے کا اختیار، کبھی قومی خزانے کا پیسہ اور کبھی پورے ملک کا مستقبل دفن ہوتا ہے۔
شاید پاکستان کی اصل کہانی وہ نہیں جو ہم اسمبلیوں کے شور میں سنتے ہیں۔
شاید اصل کہانی ان خاموش فائلوں میں لکھی ہوئی ہے۔
اور اب وقت آگیا ہے کہ قوم ان فائلوں کو پڑھنا شروع کرے۔
واپس کریں