دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبرپختونخوا حکومت بڑے قانونی دنگل کے لیے تیار
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا حکومت ایک بار پھر پولیس کو اپنے سیاسی اختیار کے دائرے میں لانے کی تیاری کر رہی ہے اور اس مرتبہ اس کوشش کی معنویت صرف پولیس ایکٹ میں چند قانونی شقوں کی تبدیلی تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے مئی 9 کے مقدمات، نومبر 26 کی احتجاجی سیاست، 27 ستمبر کے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی اور گرفتاری کے وارنٹس، اور آنے والے دنوں میں پولیس کو ایسے سیاسی حالات سے نمٹنے کی ضرورت موجود ہے جن میں خود صوبائی حکومت کی سیاسی قیادت فریق بن سکتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں پولیس کے اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کو محض انتظامی اصلاح کہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یہ سوال بالکل بنیادی ہے کہ حکومت کو پولیس اپنے ماتحت کیوں چاہیے؟ امن و امان حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، پولیس کو وسائل دینا اور پالیسی بنانا بھی حکومت کا اختیار ہے، لیکن پولیس کی روزمرہ کمان، افسران کی تعیناتی اور تبادلے اور تفتیشی و عملی فیصلوں کو سیاسی اختیار کے تابع کرنا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ یہی فرق پشاور ہائی کورٹ نے فروری 2026 میں واضح کیا تھا اور اسی فیصلے کے بعد اب حکومت کی نئی کوشش ایک مرتبہ پھر بڑے قانونی دنگل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس کہانی کو سمجھنے کے لیے تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کا پورا فلسفہ ہی اس تصور پر کھڑا کیا گیا تھا کہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے حتی الامکان محفوظ رکھا جائے، تاکہ ایک پولیس افسر اپنی تعیناتی اور مستقبل کے بارے میں سیاسی آقاؤں کے بجائے قانون، میرٹ اور ادارہ جاتی کمان کو جواب دہ ہو۔ 2017 کے پولیس ایکٹ نے اسی سمت میں ایک نیا قانونی ڈھانچہ فراہم کیا۔ لیکن اکتوبر 2024 میں صوبائی حکومت نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کرکے اس ڈھانچے میں دوبارہ سیاسی اختیار کی گنجائش پیدا کی۔ صوبائی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 باقاعدہ درج ہے۔
ان ترامیم میں اہم پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے کو وزیراعلیٰ کی منظوری سے جوڑنے اور انسپکٹر جنرل پولیس کے قانونی اختیارات محدود کرنے والی تبدیلیاں شامل تھیں۔ خاص طور پر گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی پوسٹنگ و ٹرانسفر اور فیلڈ کمانڈرز، یعنی ایس ایس پیز، ایس پیز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی کے حوالے سے آئی جی کے اختیارات متاثر ہوئے۔
یہ معاملہ عدالت پہنچا اور پشاور ہائی کورٹ نے 6 فروری 2026 کے تفصیلی فیصلے میں ان ترامیم کے اہم حصوں کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کو وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور آئی جی سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی آپریشنل خود مختاری کو متاثر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ دراصل وزیراعلیٰ اور آئی جی کے درمیان اختیار کی معمولی کشمکش کا فیصلہ نہیں تھا۔ یہ اس بنیادی سوال کا فیصلہ تھا کہ پولیس ریاستی ادارہ ہے یا سیاسی حکومت کا محکمہ؟ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، وزیراعلیٰ آتے جاتے رہتے ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں داخل اور باہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن پولیس کو ہر حکومت کے سیاسی مفاد کے مطابق ڈھلنے والا ادارہ بنا دیا جائے تو قانون کی حکمرانی کا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔
اب چند ماہ بعد وہی حکومت ایک بار پھر پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم لانے جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فروری میں عدالت نے پولیس کے اختیارات سیاسی منظوری سے مشروط کرنے والی شقوں کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا تو حکومت کو دوبارہ اسی سمت میں جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
اس سوال کا جواب موجودہ سیاسی حالات میں تلاش کیا جائے تو تصویر مزید واضح ہوتی ہے۔
مئی 9 کے مقدمات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان میں پولیس کی تحقیقات، فرانزک شواہد، ویڈیوز، شناختی معلومات اور دیگر مواد عدالتوں کے سامنے زیر بحث آتا رہا ہے۔ لاہور کے مئی 9 مقدمات میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اگست میں انسداد دہشت گردی عدالت نے متعدد رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے پولیس کو مقدمات کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
لیکن معاملہ صرف مئی 9 تک محدود نہیں۔
نومبر 26 کی احتجاجی سیاست کے مقدمات بھی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ 9 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنیّد اکبر اور دیگر ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس برقرار رکھے اور پولیس کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے خلاف وارنٹس جاری کیے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔
یعنی جس شخص کے پاس خیبرپختونخوا کی حکومت کی آئینی اور انتظامی کمان ہے، اسی شخص کے خلاف اسلام آباد میں ایک فوجداری مقدمے کے سلسلے میں پولیس کے ذریعے گرفتاری کے وارنٹس موجود ہیں۔ اس کے ساتھ پی ٹی آئی کی قیادت 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کر رہی ہے اور خود وزیراعلیٰ اس احتجاج کی قیادت کا اعلان کر چکے ہیں۔
اب ذرا اس منظرنامے کو ایک لمحے کے لیے سامنے رکھیں۔
ایک صوبے کا وزیراعلیٰ خود احتجاجی سیاست کا مرکزی کردار بن رہا ہے۔ اسی وزیراعلیٰ کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق مقدمات موجود ہیں اور عدالت نے گرفتاری کے وارنٹس برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ایک بڑے احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر چکی ہے، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر ہو چکی ہے۔ عدالت نے معاملے کو حساس قرار دے کر بڑا بینچ تشکیل دیا ہے اور چاروں صوبوں کے آئی جیز سمیت متعلقہ حکام کو طلب کیا ہے۔
اور عین اسی ماحول میں خیبرپختونخوا حکومت پولیس کے کمانڈ ڈھانچے میں دوبارہ ایسی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے جس سے وزیراعلیٰ کا کردار بڑھ سکتا ہے۔
یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اتنا بڑا اتفاق عوامی سوال سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
اگر پولیس کے اختیارات وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں ہوں تو 27 ستمبر کے احتجاج کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کی پہلی وفاداری کس کے ساتھ ہوگی؟ صوبائی حکومت کے ساتھ، وزیراعلیٰ کے سیاسی فیصلے کے ساتھ یا قانون کے ساتھ؟ اگر احتجاج خیبرپختونخوا کی حدود سے نکل کر اسلام آباد پہنچتا ہے تو صوبائی حکومت اور پولیس کے درمیان وہ فاصلہ کہاں ہوگا جو ایک ریاستی ادارے کو سیاسی جماعت کا حصہ بننے سے روکے گا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ خود اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل اور مشینری کو سیاسی سرگرمی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اسی تناظر میں متعلقہ صوبائی چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کو طلب کیا ہے۔
اس صورتحال میں پولیس کی ادارہ جاتی خودمختاری محض ایک قانونی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ براہ راست سیاسی بحران کا سوال بن جاتی ہے۔
اگر وزیراعلیٰ احتجاج کی قیادت کر رہے ہوں، ان کی جماعت ریاستی اداروں کے خلاف سیاسی دباؤ کی تحریک چلا رہی ہو، ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات اور وارنٹس عدالتوں میں موجود ہوں اور اسی وقت وزیراعلیٰ پولیس کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے تو عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں حکومت پولیس کو اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کی تیاری تو نہیں کر رہی؟
اس سوال کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
یہاں ایک اور بنیادی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ پولیس کو سیاسی حکومت سے مکمل طور پر الگ کوئی خودمختار ریاستی جزیرہ نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت کو پولیس سے جواب طلب کرنے کا حق ہے۔ امن و امان کی پالیسی حکومت بنائے گی۔ بجٹ حکومت دے گی۔ عوامی سلامتی کی ذمہ داری بھی حکومت ہی کی ہوگی۔ لیکن پولیس کے روزمرہ آپریشنل معاملات اور افسران کی تعیناتی و تبادلے کو سیاسی اختیار کے تابع کرنا اس اصول سے مختلف چیز ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے فروری میں اسی فرق کو قانونی تحفظ دیا تھا۔
اب اگر حکومت دوبارہ ایسی قانون سازی کرتی ہے جو عدالت کے اسی فیصلے کے بنیادی اصول کو کمزور کرے تو یہ صرف ایک نیا پولیس ترمیمی ایکٹ نہیں ہوگا بلکہ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان ایک نیا قانونی معرکہ بھی کھڑا کر سکتا ہے۔ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے، لیکن پارلیمانی اکثریت ہر قانون کو آئینی نہیں بنا دیتی۔ قانون اگر آئین سے متصادم ہو تو عدالت کے دروازے دوبارہ کھل جاتے ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ کوشش کو معمول کی قانون سازی سمجھنا خطرناک سادگی ہوگی۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پولیس کوئی کنیز فورس نہیں۔ پولیس کسی وزیراعلیٰ، کسی جماعت، کسی حکومت یا کسی اپوزیشن کی ذاتی فورس نہیں۔ یہ عوام کی فورس ہے، ریاست کی فورس ہے اور قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ پولیس اہلکار دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جان دیتے ہیں، سیاسی جلسوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں، عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں اور جرائم کی تفتیش کرتے ہیں۔ اگر ان کے افسران کو یہ خوف ہو کہ ایک سیاسی حکومت کی ناراضی ان کی پوسٹنگ، تبادلے یا ترقی پر اثر انداز ہو سکتی ہے تو ادارہ جاتی غیر جانب داری کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا جیسے صوبے میں، جہاں پولیس پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کر رہی ہے، اسے سیاسی کشمکش کا آلہ بنانا صرف سیاسی طور پر خطرناک نہیں بلکہ انتظامی طور پر بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ سرکاری پولیس ویب سائٹ بھی خود پولیس کے بنیادی اصولوں میں قانون کی حکمرانی، شفافیت، میرٹ پر مبنی فیصلے اور صاف ستھرے طرز عمل کو ترجیح قرار دیتی ہے۔
پھر سوال یہ بھی ہے کہ اگر موجودہ پولیس نظام اتنا ناقص تھا کہ وزیراعلیٰ کو دوبارہ براہ راست اختیارات دینا ناگزیر ہوگیا ہے تو حکومت اس کی وجوہات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھتی؟ کون سا انتظامی بحران پیدا ہوا؟ کون سا جرائم کا مسئلہ آئی جی کے موجودہ اختیارات سے حل نہیں ہو رہا؟ کون سی پوسٹنگ یا ٹرانسفر ایسی ہے جس میں سیاسی منظوری ضروری ہے؟ اور اگر سیاسی منظوری ضروری ہے تو اس کا غلط استعمال روکنے کا طریقہ کیا ہوگا؟
محض یہ کہنا کافی نہیں کہ حکومت منتخب ہے، اس لیے پولیس بھی حکومت کے ماتحت ہونی چاہیے۔ منتخب حکومت کا اختیار آئین سے آتا ہے، اور آئین ہی حکومت کے اختیار کی حدود بھی متعین کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مئی 9 اور نومبر 26 دونوں واقعات ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ اگر پولیس سیاسی احتجاج کے مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے، اگر ان مقدمات میں حکمران جماعت کے رہنماؤں کے نام آ رہے ہیں، اگر وزیراعلیٰ خود احتجاجی سیاست کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر انہی حالات میں پولیس کے کمانڈ اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ کے قریب لائے جا رہے ہیں تو حکومت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو مطمئن کرے کہ قانون سازی کا مقصد پولیس کو سیاسی تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ واقعی پولیس اصلاحات ہے۔
ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ حکومت کو پولیس اس لیے آزاد نہیں چاہیے کہ پولیس قانون کے مطابق کام کرے، بلکہ اسے ایسی پولیس چاہیے جو حکومت کے حکم کے مطابق کام کرے۔
اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے فروری میں جو اصول قائم کیا تھا وہ دراصل کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھا۔ وہ آنے والی ہر حکومت کے لیے ایک حفاظتی دیوار تھا۔ آج اگر پی ٹی آئی کی حکومت پولیس پر زیادہ سیاسی اختیار حاصل کرتی ہے تو کل کوئی دوسری حکومت اسی قانون کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گی۔ سیاسی جماعتیں بدلتی ہیں، لیکن خراب قانون باقی رہتا ہے۔
اسی لیے اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ پولیس وزیراعلیٰ کے ماتحت ہونی چاہیے یا آئی جی کے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پولیس قانون کے ماتحت ہونی چاہیے یا حکومت کے سیاسی ارادے کے ماتحت۔
اگر خیبرپختونخوا حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ پولیس ایکٹ میں نئی ترمیم عوامی مفاد، امن و امان اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے تو اسے مجوزہ قانون کا مکمل متن عوام کے سامنے رکھنا چاہیے، ہر تبدیل کی جانے والی شق کی وضاحت کرنی چاہیے اور یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ فروری 2026 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بنیادی اصولوں کو پامال نہیں کیا جائے گا۔
لیکن اگر مقصد یہ ہے کہ جب احتجاجی سیاست سڑکوں سے عدالتوں تک پہنچے، جب وزیراعلیٰ خود احتجاج کی قیادت کرے، جب پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس برقرار ہوں اور جب مئی 9 اور نومبر 26 جیسے مقدمات ابھی قانونی انجام تک نہ پہنچے ہوں، تو پولیس کی کمان سیاسی حکومت کے ہاتھ میں زیادہ مضبوط ہو، تو پھر یہ محض پولیس ایکٹ میں ترمیم نہیں ہوگی۔
یہ ریاستی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش ہوگی۔
اور ایسی کوشش کا جواب بھی سڑک پر نہیں بلکہ آئین، عدالت اور قانون کے اندر ہی دیا جانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا حکومت اگر واقعی خود کو قانون کی حکمرانی کی علمبردار سمجھتی ہے تو اسے سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پولیس کو اپنی کنیز فورس نہیں بلکہ قانون کی فورس سمجھتی ہے۔
کیونکہ سیاسی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، احتجاج ختم ہو جاتے ہیں، مقدمات بھی ایک دن ختم ہو جاتے ہیں، لیکن اگر پولیس کی ادارہ جاتی خودمختاری ختم ہوگئی تو اس کا نقصان صرف ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کو نہیں، پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
واپس کریں