دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دوا ساز ادارے: موت کے سوداگر یا صحت کے پیامبر؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
دنیا میں شاید ہی کوئی انسان بیماری سے محفوظ ہو۔ بیماری انسان کے لیے مصیبت ہے، ڈاکٹر کے لیے ایک طبی مسئلہ، ریاست کے لیے صحت عامہ کا چیلنج اور دوا ساز اداروں کے لیے ایک ایسی وسیع منڈی جس کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: جب انسانی صحت ایک بہت بڑی تجارتی منڈی بن جائے تو مریض کا مفاد، ڈاکٹر کا فیصلہ اور دوا ساز ادارے کا منافع کیا ہمیشہ ایک ہی سمت میں رہتے ہیں یا کہیں نہ کہیں ان کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ بھی پیدا ہوتا ہے؟
یہ سوال دوا ساز صنعت کے خلاف کوئی عمومی فردِ جرم نہیں۔ جدید طب نے انسانیت کو ایسی ویکسینیں، اینٹی بایوٹکس، کینسر کی ادویات، انسولین، دل کے علاج اور بے شمار جان بچانے والی مصنوعات دی ہیں جن سے کروڑوں انسان مستفید ہوئے ہیں۔ دوا ساز اداروں نے ایسی بیماریوں کے علاج میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے جو کبھی موت کا یقینی پیغام سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے پوری صنعت کو یکسر موت کا سوداگر قرار دینا نہ انصاف ہے نہ حقیقت۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صحت ایک بہت بڑی کاروباری منڈی بن چکی ہے اور جہاں اربوں ڈالر کا کاروبار ہو وہاں منافع، مفاد اور انسانی ضرورت کے درمیان تعلق کو جانچنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تجارتی قوتیں صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ مصنوعات کی قیمتیں، مارکیٹنگ، تحقیق کے لیے مالی معاونت، لابنگ، دانشورانہ ملکیت، کاروباری پالیسیاں اور مختلف تجارتی سرگرمیاں لوگوں کی صحت اور صحت عامہ کی ترجیحات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اسی وسیع مسئلے کو ’’صحت کے تجارتی عوامل‘‘ کے عنوان سے باقاعدہ موضوع بنایا ہے۔
اصل بحث یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جو صنعت بیماری کا علاج بھی فراہم کرتی ہے، کیا اس کے معاشی مفادات کبھی ایسے نظام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جس میں بیماری پیدا ہوتی ہے، اس کی تشخیص ہوتی ہے، اس کا علاج ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں مریض برسوں بلکہ پوری زندگی علاج کا محتاج رہتا ہے؟
دنیا کا بڑا حصہ اب متعدی بیماریوں کے مقابلے میں دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ ذیابیطس، بلند فشارِ خون، دل کی بیماریاں، موٹاپا، سرطان اور گردوں کے امراض ایسے مسائل ہیں جن میں مریض کو طویل عرصے تک علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایک شدید بیماری کا مختصر علاج ایک تجارتی موقع ہو سکتا ہے، لیکن ایک دائمی بیماری کا مسلسل علاج ایک مستقل منڈی بھی بن سکتا ہے۔
یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ اس حقیقت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ دوا ساز ادارے جان بوجھ کر بیماریوں کو برقرار رکھتے ہیں یا ان کے خاتمے کو روکتے ہیں۔ ایسے عمومی الزام کے لیے بہت مضبوط اور براہ راست شواہد درکار ہوں گے۔ لیکن یہ سوال ضرور جائز ہے کہ جب کسی کاروبار کی آمدن کا تعلق مسلسل علاج، نئی ادویات، نئی تشخیص اور نئی طبی مصنوعات سے ہو تو بیماری سے بچاؤ اور بیماری کے علاج کے درمیان ترجیحات کس طرح تشکیل پاتی ہیں۔
یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
دوا ساز صنعت تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔ ایک نئی دوا تیار کرنا آسان کام نہیں۔ ایک ممکنہ دوا کو دریافت، تجربات، حفاظت، مؤثریت اور منظوری کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہت سی تحقیقات ناکام بھی ہوتی ہیں اور ان پر خرچ ہونے والا سرمایہ واپس نہیں آتا۔ اسی لیے پیٹنٹ کا نظام دوا ساز ادارے کو ایک محدود مدت کے لیے خصوصی تجارتی حقوق دیتا ہے تاکہ تحقیق پر ہونے والی سرمایہ کاری واپس آ سکے اور نئی تحقیق کے لیے مالی محرک برقرار رہے۔
لیکن یہی نظام ایک دوسرا سوال بھی پیدا کرتا ہے: جب کسی دوا پر خصوصی حق حاصل ہو تو اس کی قیمت کون طے کرتا ہے اور وہ قیمت غریب اور امیر مریض کے درمیان کیا فرق پیدا کرتی ہے؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دانشورانہ ملکیت اور تجارتی نظام ادویات تک رسائی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیا کی دوا مارکیٹ کو صرف دولت مند ممالک کی قوتِ خرید کے مطابق چلنے کے بجائے عالمی صحت کی ضرورتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا مسئلہ آج بھی موجود ہے۔ پیٹنٹ، لازمی لائسنس اور ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث اسی مسئلے کا حصہ ہے۔
یہاں پھر وہی کشمکش سامنے آتی ہے: نئی دوا کی تحقیق کے لیے منافع ضروری ہے، لیکن مریض کے لیے دوا کی قابلِ برداشت قیمت بھی ضروری ہے۔ اگر قیمت اتنی زیادہ ہو کہ مریض دوا خرید ہی نہ سکے تو دنیا کی بہترین دوا بھی اس مریض کے لیے عملاً بے فائدہ ہے۔
دوسرا بڑا سوال دوا کی تشہیر اور ڈاکٹر کے ساتھ تعلق کا ہے۔ دوا صرف مریض تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کے راستے میں ڈاکٹر، طبی ادارے، نمائندے، کانفرنسیں، تحقیقی مقالے، طبی تعلیم اور مارکیٹنگ کا ایک پورا نظام موجود ہوتا ہے۔ یہاں مفادات کے ٹکراؤ کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
امریکی ادارۂ خوراک و دوا بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ طبی تحقیق کرنے والے ماہرین کے مالی مفادات تحقیق کے نتائج پر تعصب کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ میں طبی تحقیق سے وابستہ ماہرین کے بعض مالی مفادات ظاہر کرنے کے لیے باقاعدہ قواعد موجود ہیں۔
2013 سے 2022 کے درمیان امریکہ میں دوا ساز اور طبی صنعت کی طرف سے ڈاکٹروں کو تقریباً 8 کروڑ 51 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 12.13 ارب ڈالر تھی۔ اس عرصے میں تقریباً 14 لاکھ 46 ہزار اہل ڈاکٹروں کا جائزہ لیا گیا اور 93.8 فیصد ادائیگیاں ایک یا ایک سے زیادہ مارکیٹ میں موجود طبی مصنوعات سے منسلک تھیں۔
اس اعداد و شمار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ادائیگی رشوت تھی، ہر ڈاکٹر متاثر ہوا یا ہر دوا غیر ضروری تجویز کی گئی۔ ایسی تعبیر شواہد سے آگے نکل جائے گی۔ لیکن یہ اعداد ضرور بتاتے ہیں کہ طب اور دوا ساز صنعت کے درمیان مالی تعلقات کوئی معمولی یا غیر اہم مظہر نہیں ہیں۔
اسی لیے شفافیت ضروری ہے۔
اگر کوئی ڈاکٹر کسی دوا ساز ادارے سے مشاورتی فیس لیتا ہے، تحقیقی گرانٹ حاصل کرتا ہے، کسی کانفرنس کی معاونت لیتا ہے یا کسی طبی مصنوعات سے متعلق مالی تعلق رکھتا ہے تو مریض کو کم از کم یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا تعلق موجود ہے۔ اس کا مطلب ڈاکٹر پر عدم اعتماد نہیں بلکہ اعتماد کو شفافیت کے ذریعے مضبوط کرنا ہے۔
اب سوال بیماری سے بچاؤ اور بیماری کے علاج کا ہے۔
صحت کا بہترین نظام وہ ہونا چاہیے جو انسان کو بیمار ہونے سے پہلے بیماری کے خطرے کو کم کرے۔ متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی، تمباکو سے پرہیز، آلودگی میں کمی، محفوظ ماحول، مناسب نیند، بلڈ پریشر اور شوگر کی بروقت نگرانی اور ابتدائی تشخیص ایسی تدابیر ہیں جو بہت سی دائمی بیماریوں کے بوجھ کو کم کر سکتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت بھی غیر متعدی بیماریوں کے خلاف روک تھام، صحت مند طرزِ زندگی، مؤثر حکومتی پالیسیوں اور صحت کو متاثر کرنے والے تجارتی عوامل سے نمٹنے کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
لیکن روک تھام ہمیشہ کسی صنعت کے مفاد میں نہیں ہوتی۔
ایک ایسا مریض جو بیماری سے بچ گیا، اسے برسوں کی دوا، تشخیص یا پیچیدہ علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔ معاشرے کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ مگر بازار کے نقطۂ نظر سے یہ ایک ایسا ممکنہ صارف ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا۔
یہاں ایک حساس سوال پیدا ہوتا ہے: کیا صحت کے معاشی پیمانے کبھی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بیماری کا علاج کیا جائے، بجائے اس کے کہ بیماری پیدا ہی نہ ہو؟
اس سوال کا جواب ہر بیماری اور ہر دوا کے لیے ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ بہت سی ادویات نے زندگی بچائی ہے، عمر میں اضافہ کیا ہے اور تکلیف کم کی ہے۔ بعض دائمی بیماریوں میں طویل مدتی دوا ہی مریض کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ اس لیے مسلسل علاج کو محض کاروبار کہنا بھی غلط ہوگا۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علاج کی ضرورت، تجارتی مفاد اور طبی فیصلہ اس طرح ایک دوسرے سے جڑ جائیں کہ مریض کا مفاد پس منظر میں چلا جائے۔
یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے: کون سی بیماری پر تحقیق ہوتی ہے؟
نجی تحقیق عموماً وہاں زیادہ پرکشش ہوتی ہے جہاں ممکنہ منڈی بڑی ہو اور سرمایہ کاری کی واپسی کا امکان موجود ہو۔ ایسی بیماریاں جو غریب ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہوں لیکن مریضوں کی قوتِ خرید کم ہو، ان پر نجی سرمایہ کاری نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔
اسی لیے عالمی صحت میں ایک معروف مسئلہ یہ ہے کہ بازار کی طاقت اور دنیا کی صحت کی ضرورت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض شعبوں میں حکومتیں، جامعات، غیر منافع بخش ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار نجی صنعت کے ساتھ مل کر ایسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہیں جو صرف تجارتی منافع کے ذریعے پوری نہیں ہو سکتی۔
اب اس نظریے کی طرف آتے ہیں جسے میتھیاس راتھ نے دوا ساز صنعت کے بارے میں پیش کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جدید دوا ساز نظام میں بیماری ایک کاروباری منڈی بن چکی ہے اور بعض بیماریوں کے بنیادی اسباب کو ختم کرنے کے بجائے ان کے طویل مدتی علاج میں زیادہ تجارتی مفاد پیدا ہو سکتا ہے۔ وہ وٹامن سی اور قلبی بیماریوں کے حوالے سے بھی ایک مختلف سائنسی موقف پیش کرتے ہیں۔
لیکن یہاں بھی وہی اصول برقرار رہنا چاہیے: راتھ کا نظریہ تاریخی یا سائنسی حقیقت کے برابر نہیں رکھا جا سکتا جب تک اس کے دعوے آزاد اور مضبوط شواہد سے ثابت نہ ہوں۔
مثلاً وٹامن سی کے بارے میں دل کی بیماریوں سے متعلق دستیاب شواہد نے اس دعوے کو ثابت نہیں کیا کہ عام آبادی میں وٹامن سی کے استعمال سے دل کے بڑے واقعات واضح طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ پہلے مضمون میں زیرِ بحث کوکرین جائزے میں آٹھ آزمائشوں اور 15,445 شرکا کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تھا اور بڑے قلبی واقعات میں واضح کمی کا ثبوت نہیں ملا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وٹامن سی بے فائدہ ہے۔ وٹامن سی جسم کے لیے ضروری غذائی جزو ہے اور اس کی کمی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ کسی مخصوص بیماری کے علاج یا روک تھام کے بارے میں دعویٰ الگ سائنسی ثبوت مانگتا ہے۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے۔
اگر ہم دوا ساز صنعت پر تنقید کرتے ہوئے ہر متبادل نظریے کو سچ مان لیں تو ہم ایک تجارتی مفاد سے نکل کر دوسرے غیر ثابت شدہ دعوے کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔
اصل راستہ آزاد تحقیق ہے۔
یہی اصول دوا ساز صنعت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی کمپنی ایک نئی دوا تیار کرتی ہے تو اسے اپنے دعوے کے ثبوت دینے چاہئیں۔ اگر ڈاکٹر کوئی دوا تجویز کرتا ہے تو اس کے پیچھے طبی ضرورت ہونی چاہیے۔ اگر حکومت کوئی پالیسی بناتی ہے تو اس کے پیچھے عوامی مفاد ہونا چاہیے۔ اور اگر تحقیق میں صنعت کا پیسہ شامل ہے تو اس مالی تعلق کو چھپایا نہیں جانا چاہیے۔
صحت کے میدان میں سب سے خطرناک چیز دوا نہیں، مفاد کا چھپ جانا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت اب تجارتی عواملِ صحت پر باقاعدہ عالمی رپورٹ بھی تیار کر رہا ہے اور اس کا مقصد یہی ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے صحت پر اثرات، مفادات کے ٹکراؤ اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے شواہد کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوال محض کسی ایک مصنف یا ناقد کا پیدا کردہ نہیں رہا۔ اب خود عالمی صحت کا ادارہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ صحت اور تجارت کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔
لہٰذا بحث کا درست سوال یہ نہیں کہ ’’کیا دوا ساز ادارے برے ہیں؟‘‘
یہ سوال ہی غلط ہے۔
صحیح سوال یہ ہے کہ کیا ایسا صحت کا نظام بنایا جا سکتا ہے جس میں دوا ساز ادارے کو نئی اور مؤثر دوا بنانے کا مناسب مالی محرک بھی ملے، مریض کو دوا مناسب قیمت پر بھی دستیاب ہو، ڈاکٹر کا فیصلہ مالی اثر سے آزاد بھی رہے، تحقیق شفاف بھی ہو، پیٹنٹ نظام جدت کو بھی تحفظ دے اور غریب مریض علاج سے محروم بھی نہ ہو؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر ریاست، طبی اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور خود دوا ساز صنعت سب کو اس نظام کے لیے جواب دہ ہونا ہوگا۔
کیونکہ بیماری صرف ایک طبی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے، ایک سماجی مسئلہ بھی، ایک سیاسی مسئلہ بھی اور جب صحت کی عالمی منڈی اربوں ڈالر کی ہو تو یہ طاقت کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔
پہلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ دنیا کی طاقت صرف حکومتوں کے پاس نہیں بلکہ توانائی، جنگ، مالیات، ٹیکنالوجی اور صحت کے بڑے نظاموں میں بھی تقسیم ہے۔ دوسرے مضمون میں آئی جی فاربن کی تاریخ نے دکھایا کہ ریاستی طاقت اور صنعتی طاقت کا ملاپ کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔ تیسرا سوال اسی پوری کڑی کو انسان کے جسم تک لے آتا ہے۔
اگر جنگ کی صنعت جنگ سے، مالیاتی صنعت قرض اور سرمایہ سے، توانائی کی صنعت ایندھن سے اور دوا ساز صنعت صحت سے معاشی طاقت حاصل کرتی ہے تو پھر انسانی صحت کے بازار میں مریض آخر ہے کیا؟
مریض صرف ایک انسان ہے یا ایک مستقل صارف بھی؟
یہ سوال آسان نہیں، مگر اس سے فرار بھی ممکن نہیں۔
کیونکہ صحت کا اصل مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان ہمیشہ دوا خریدتا رہے۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ صحت مند، زیادہ محفوظ اور زیادہ باوقار زندگی گزار سکے۔
اور اگر کبھی منافع اور صحت کے درمیان انتخاب کی نوبت آئے تو آخری سوال صرف یہی ہونا چاہیے:
ہم نے صحت کا نظام کس کے لیے بنایا تھا — مریض کے لیے یا مارکیٹ کے لیے؟
واپس کریں