دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا طالبان بغیر نظریاتی تبدیلی کے افغانستان کو معاشی طور پر تبدیل کر سکتے ہیں؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
افغانستان میں سعودی کمپنی ڈیلٹا انٹرنیشنل کے ساتھ ہونے والے حالیہ تیل و گیس معاہدے نے ایک ایسے سوال کو جنم دیا ہے جس کا تعلق صرف افغانستان کی معیشت سے نہیں بلکہ پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، سعودی عرب اور پورے خطے کے مستقبل سے ہے۔ اگر افغانستان میں تیل اور گیس کے ذخائر توقع کے مطابق نکل آئے اور یہ منصوبہ آنے والے برسوں میں پچاس ارب ڈالر تک پہنچ گیا تو کیا طالبان حکومت اس سرمایہ کاری کو سنبھال، محفوظ اور نتیجہ خیز بنا سکتی ہے؟ میری رائے میں اس سوال کا جواب افغانستان کی موجودہ سیاسی حقیقت، اس کے جغرافیے، قدرتی وسائل اور خطے کی طاقتوں کے مفادات کو ایک ساتھ دیکھے بغیر نہیں دیا جا سکتا۔
سب سے پہلے پچاس ارب ڈالر کی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ افغانستان کی وزارت معادن و پٹرولیم کے سرکاری بیان کے مطابق 7 ستمبر 2026 کو سعودی ڈیلٹا انٹرنیشنل کے ساتھ کشک، ترپل کے تیل و گیس کے علاقے کی تلاش اور استخراج کا معاہدہ ہوا اور ابتدائی طور پر کمپنی بیس کروڑ ڈالر خرچ کرے گی۔ سرکاری طور پر اس علاقے کا رقبہ تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ دوسری طرف کمپنی سے منسوب تفصیلات میں رقبہ 23,317 مربع کلومیٹر، 11 بلاکس اور مستقبل کے وسیع پروگرام کے لیے پچاس ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کا ذکر ہے۔ اس وسیع پروگرام میں تقریباً سات سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بھی شامل ہے، جو ہرات کے قریب گیس حاصل کرنے کے مقام سے سپن بولدک تک پہنچانے کی تجویز ہے۔ یہ پورا حجم ابھی یقینی سرمایہ کاری نہیں بلکہ تلاش، ذخائر کی تصدیق اور فنی و معاشی جائزوں سے مشروط ایک ممکنہ طویل المدتی منصوبہ ہے۔
لیکن اس منصوبے کو محض ایک بڑی رقم کے اعلان کے طور پر دیکھنا بھی غلطی ہوگی۔ افغانستان واقعی قدرتی وسائل سے خالی ملک نہیں۔ امریکی ارضیاتی سروے کی جون 2026 کی ایک نئی تحقیق کے مطابق امو دریا کے وسیع تیل و گیس کے حوض میں، جس میں افغانستان کا علاقہ بھی شامل ہے، غیر دریافت شدہ اور فنی طور پر قابلِ حصول گیس کا اوسط تخمینہ 82.9 کھرب مکعب فٹ اور تیل کا تخمینہ 51.9 کروڑ بیرل ہے۔ اس تحقیق کو کشک، ترپل کے ذخائر کا براہِ راست تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان اور اس سے متصل خطے کے زیرِ زمین ہائیڈروکاربن وسائل محض سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ سنجیدہ ارضیاتی امکان رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی سرمایہ کاری کو معمولی پیش رفت سمجھنا درست نہیں۔ اگر تلاش کامیاب ہوتی ہے، تجارتی مقدار میں گیس نکلتی ہے اور اسے افغانستان کے اندر بجلی، صنعت اور گھریلو ضروریات کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی منڈیوں تک پہنچانے کا راستہ بن جاتا ہے تو افغانستان کی معاشی حیثیت بدل سکتی ہے۔ ہرات میں گیس سے صنعتی پیداوار اور بجلی پیدا کرنے کی تجویز بھی اسی وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔
اب آتا ہے اصل سوال کہ کیا طالبان یہ سب سنبھال سکتے ہیں؟ میرے خیال میں افغانستان کے بارے میں مغربی دنیا میں رائج ایک پرانا تصور یہاں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ طالبان حکومت کو تسلیم کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو، زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کا مرکزی اقتدار اس کے ہاتھ میں ہے۔ کسی بھی بڑے منصوبے کے لیے یہی مرکزی انتظامی اختیار ایک بنیادی ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ پچاس ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری طالبان کے لیے محض کسی غیر ملکی کمپنی کا منصوبہ نہیں ہوگی؛ یہ ان کی اپنی حکومت کے لیے روزگار، آمدنی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور معاشی استحکام کا سب سے بڑا ممکنہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ جس حکومت کے مفاد میں منصوبہ ہو، اس کے پاس اس کی حفاظت کے لیے غیر معمولی وسائل استعمال کرنے کی وجہ بھی موجود ہوتی ہے۔ اس لیے میں افغانستان کی موجودہ صورتحال میں سیکیورٹی کو اس منصوبے کی ناقابلِ عبور رکاوٹ نہیں سمجھتا۔ داعش خراسان یا دوسرے مسلح گروہوں کا خطرہ اپنی جگہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن کسی بڑے توانائی منصوبے کے بارے میں یہ فرض کر لینا کہ مسلح گروہ لازماً اسے تباہ کر دیں گے، زمینی سیاسی حقیقت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ طالبان حکومت کے لیے ایسی سرمایہ کاری کی حفاظت اپنی معاشی بقا اور ریاستی اختیار کے مفاد میں ہوگی۔
اصل خطرہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سات سو کلومیٹر پائپ لائن صرف افغانستان کے اندر بچھائی جانے والی ایک لوہے کی نالی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہزاروں ٹن فولاد، پائپ، مشینری، دباؤ برقرار رکھنے والے آلات، بجلی کا سامان، تعمیراتی مشینیں، ماہرین اور مسلسل رسد درکار ہوگی۔ افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ افغانستان زمین فراہم کر سکتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر سے آنے والا بھاری سامان افغانستان تک کس راستے سے، کتنی قیمت پر، کتنے وقت میں اور کتنی سیاسی ضمانت کے ساتھ پہنچے گا۔
یہاں پاکستان کی اہمیت اچانک بہت بڑھ جاتی ہے۔ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر افغانستان کے لیے صرف بندرگاہیں نہیں بلکہ سمندر تک رسائی کے دروازے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق کراچی، بن قاسم اور گوادر افغانستان اور وسطی ایشیا کی تجارت کے لیے مختصر اور نسبتاً کم لاگت والے سمندری راستے فراہم کرتے ہیں، جبکہ چمن، طورخم اور غلام خان اہم زمینی گزرگاہیں ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024-25 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حمل کے ذریعے ہونے والی افغان تجارتی آمدورفت کی مالیت تقریباً 5.439 ارب ڈالر رہی۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ افغانستان کی بھاری صنعتی ضروریات کے لیے پاکستان پہلے سے موجود ایک حقیقی تجارتی راستہ ہے۔
اور اگر سات سو کلومیٹر کی مجوزہ گیس پائپ لائن سپن بولدک تک پہنچتی ہے تو پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ سپن بولدک اور چمن کے درمیان جغرافیائی قربت اسے صرف تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ممکنہ توانائی کے علاقائی مرکز سے جوڑ دیتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں گوادر کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ گوادر افغانستان کے لیے محض ایک متبادل بندرگاہ نہیں۔ اس کی اہمیت اس وقت بڑھ سکتی ہے جب افغانستان کو مغربی حصے میں ہرات سے آنے والی صنعتی اور توانائی کی سرمایہ کاری کے لیے ایک نسبتاً مختصر جنوبی راستہ درکار ہو۔ کراچی کے مقابلے میں گوادر کا جغرافیائی محلِ وقوع بعض افغان اور وسطی ایشیائی تجارتی راستوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب چمن اور سپن بولدک کے ذریعے جنوبی افغانستان سے اس کا ربط مؤثر بنایا جائے۔ لیکن گوادر کو ہر صورت میں سب سے سستا یا بہترین راستہ قرار دینا بھی درست نہیں؛ اصل فیصلہ سامان، فاصلے، سرحدی سہولت، بندرگاہی استعداد، بیمہ، سیاسی حالات اور مجموعی لاگت کریں گے۔
ایران کی چابہار بھی اسی وجہ سے اہم ہے، مگر اسے کسی پرامن اور بے خطر متبادل کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔ ایران خود شدید علاقائی کشیدگی، امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی مشکلات کے درمیان کام کرتا ہے۔ چابہار افغانستان کو ایک اضافی سمندری راستہ ضرور دیتی ہے، لیکن مغربی سرمایہ، بینکاری، بیمہ اور حساس صنعتی سامان کے لیے ایرانی راستہ اپنی الگ پابندیاں اور سیاسی خطرات رکھتا ہے۔ اس لیے افغانستان کے لیے بہترین حکمت عملی شاید پاکستان یا ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں بلکہ دونوں راستوں کو اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرنا ہوگی۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ابھی باقی ہے جسے نظر انداز کرکے اس پورے منصوبے کی کامیابی کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں اور علاقائی سکیورٹی خطرات کے ہوتے ہوئے کیا اتنی بڑی معاشی سرگرمی واقعی پائیدار ہو سکتی ہے؟
داعش خراسان، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر مسلح قوتوں کا وجود صرف افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں۔ ان کی موجودگی پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چین اور ایران سمیت پورے خطے کے لیے سکیورٹی کا سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر افغانستان ایک بڑی توانائی اور تجارتی گزرگاہ بننا چاہتا ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف مسلح کارروائیوں، دہشت گردی یا سرحد پار تشدد کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاشی سرمایہ کاری براہِ راست علاقائی سکیورٹی سے جڑ جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ سب سے زیادہ حساس ہے۔ اگر افغانستان میں گیس، تیل، سڑکوں، ریل اور صنعتی منصوبوں پر دسیوں ارب ڈالر لگتے ہیں لیکن اسی وقت افغانستان سے ٹی ٹی پی یا کسی دوسرے مسلح گروہ کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل خطرہ بنی رہتی ہیں تو اسلام آباد کے لیے ایسے معاشی منصوبوں کی حمایت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری طرف اگر افغانستان اپنی سرزمین کو مسلح گروہوں سے پاک کرنے، سرحدی امن یقینی بنانے اور پاکستان کے ساتھ قابلِ اعتماد سکیورٹی میکنزم قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان افغانستان کا سب سے اہم معاشی شراکت دار بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا کردار اس پورے منصوبے میں محض بندرگاہ فراہم کرنے والے ملک کا نہیں ہوگا۔ پاکستان افغانستان کے لیے سمندر تک رسائی، بھاری مشینری کی درآمد، صنعتی خام مال، تعمیراتی سامان، خوراک، تکنیکی خدمات، بینکاری اور ممکنہ توانائی کی ترسیل کا قدرتی دروازہ بن سکتا ہے۔ چمن اور سپن بولدک کا مختصر جغرافیائی فاصلہ افغانستان کے مغربی اور جنوبی حصوں کو پاکستان کے بندرگاہی نظام سے جوڑ سکتا ہے۔ اگر گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم کو مؤثر زمینی راستوں، کسٹمز سہولت، ریلوے اور محفوظ ٹرانزٹ نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے تو پاکستان افغانستان کے لیے صرف ایک ٹرانزٹ ملک نہیں بلکہ اس کی پوری صنعتی سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس میں ایک غیر معمولی موقع بھی پوشیدہ ہے۔ افغانستان اگر واقعی توانائی پیدا کرنے والا ملک بننے کی طرف جاتا ہے تو پاکستان صرف افغان گیس کا ممکنہ خریدار نہیں بلکہ اس گیس کی جنوبی منڈیوں تک رسائی کا راستہ بھی بن سکتا ہے۔ افغانستان کی گیس اگر سپن بولدک تک پہنچتی ہے تو وہاں سے پاکستان کے بلوچستان اور پھر ملک کے بڑے صنعتی مراکز تک مستقبل کے مختلف امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح افغان تیل اور گیس سے پیدا ہونے والی مصنوعات، معدنیات اور صنعتی سامان پاکستان کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوں پاکستان افغانستان کی معاشی بحالی کا صرف پڑوسی نہیں بلکہ ایک بنیادی انفراسٹرکچر پارٹنر بن سکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے پاکستان کو بھی اپنی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ افغانستان کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے ایک ممکنہ معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ٹی ٹی پی یا کسی دوسرے مسلح گروہ کے مسئلے پر سمجھوتہ کرے؛ اس کے برعکس پاکستان کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ پائیدار معاشی تعلق کی بنیاد ہی سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے، قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتوں اور ریاستی سطح پر ذمہ دارانہ رویے پر ہوگی۔ یعنی پاکستان کی اصل طاقت صرف بندرگاہ نہیں بلکہ سکیورٹی، جغرافیہ، ٹرانزٹ، صنعت اور توانائی کا مجموعہ ہوگی۔
یہاں ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے اور وہ اس منصوبے کا سب سے بڑا خطرہ شاید افغانستان کے اندر نہیں بلکہ افغانستان کے باہر موجود مفادات کے ٹکراؤ میں ہو سکتا ہے۔ افغانستان اگر اپنی گیس پیدا کرکے اسے پاکستان تک پہنچاتا ہے تو وہ پاکستان کے لیے توانائی کا ممکنہ ذریعہ بنے گا۔ اگر یہی افغانستان اپنی تجارت کے لیے گوادر استعمال کرتا ہے تو پاکستان کی علاقائی اہمیت بڑھتی ہے۔ اگر چابہار استعمال کرتا ہے تو ایران کو فائدہ ہوتا ہے۔ اگر وسطی ایشیا کے راستے کھلتے ہیں تو ترکمانستان اور دوسرے شمالی ممالک کی اہمیت بڑھتی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری سے خلیجی اثر و رسوخ بڑھتا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی مالیاتی نظام کے لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کتنی اقتصادی گنجائش پیدا کی جائے۔
یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو صرف تیل اور گیس کا منصوبہ سمجھنا بہت محدود سوچ ہوگی۔ یہ دراصل افغانستان کے جغرافیے کی نئی قیمت لگانے کا منصوبہ بھی بن سکتا ہے۔
لیکن خطرات صرف بیرونی نہیں ہیں۔ سب سے بڑا داخلی خطرہ خود منصوبے کی ناکامی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ابتدائی تلاش کے بعد ذخائر توقع کے مطابق نہ نکلے، اگر گیس نکالنے کی لاگت بہت زیادہ ثابت ہوئی، اگر پائپ لائن کی تعمیر معاشی طور پر غیر موزوں نکلی یا اگر پیدا ہونے والی گیس کے لیے قابلِ اعتماد خریدار نہ ملے تو پچاس ارب ڈالر کا تصور صرف کاغذی حجم رہ جائے گا۔
اسی طرح افغانستان کو اپنی کمزور مالیاتی اور صنعتی بنیادوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ دسیوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف کنویں کھودنے سے معیشت تبدیل نہیں کرتی۔ اس کے لیے سڑکیں، بجلی، پانی، مواصلات، تربیت یافتہ افرادی قوت، بینکاری، بیمہ، قانونی ضمانتیں، ماحولیاتی نگرانی اور شفاف معاہدے درکار ہوتے ہیں۔ اگر آمدنی کا بڑا حصہ بدعنوانی، غیر شفاف معاہدوں یا کمزور اداروں کی نذر ہوگیا تو قدرتی دولت معاشی نعمت کے بجائے نئی مشکل بن سکتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور چین کو بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر افغانستان میں واقعی بڑی توانائی اور معدنی سرمایہ کاری آتی ہے تو وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے افغانستان ایک خطرہ کم اور ایک رابطہ گاہ زیادہ بن سکتا ہے، لیکن اس کے لیے انہیں یقین چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین مسلح گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ چین کے لیے یہ مسئلہ مزید اہم ہے کیونکہ افغانستان کی بدامنی اس کے سنکیانگ اور علاقائی معاشی منصوبوں سے براہِ راست جڑ سکتی ہے۔ اسی لیے چین افغانستان میں سکیورٹی استحکام اور معاشی روابط دونوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ روس کے لیے افغانستان وسطی ایشیا کی سلامتی اور اپنے علاقائی اثر و رسوخ کا مسئلہ ہے، جبکہ تاجکستان اور ازبکستان کے لیے یہ براہِ راست سرحدی سکیورٹی کا معاملہ ہے۔
اس لیے اگر طالبان حکومت واقعی پچاس ارب ڈالر کے ممکنہ منصوبے کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو اسے صرف کمپنی کو سکیورٹی دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اسے اپنے ہمسایہ ممالک کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ افغانستان ایک ایسی ریاست بن رہا ہے جو دہشت گردی، منشیات، غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت اور مسلح گروہوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے گی۔ ورنہ کوئی بھی ملک طویل المدتی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو ایسے ماحول میں محفوظ نہیں سمجھے گا۔
بھارت کا ردعمل بھی اس منصوبے کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔ نئی دہلی افغانستان کو تاریخی طور پر پاکستان کے تناظر میں دیکھتا رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں بھارت نے بھی طالبان حکومت کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں اور افغانستان میں اپنے معاشی اور سفارتی مفادات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ اگر افغانستان پاکستان کے راستے عالمی منڈی سے جڑتا ہے تو بھارت اسے اپنے علاقائی مفادات کے لیے ایک نئی صورتحال کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ بھارت ایک طرف افغانستان میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر کو محدود کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، لیکن دوسری طرف وہ افغانستان کے وسائل، وسطی ایشیا تک رسائی اور چابہار کے ذریعے اپنے راستے کو بھی برقرار رکھنا چاہے گا۔ اس لیے بھارت کے لیے سب سے قابلِ قبول صورت شاید یہ ہوگی کہ افغانستان کسی ایک ملک کے معاشی اثر میں مکمل طور پر نہ جائے بلکہ پاکستان، ایران، وسطی ایشیا اور بھارت سب کے لیے مختلف معاشی راستے کھلے رکھے۔
اس سے اسرائیل کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیل کا افغانستان کے ساتھ براہِ راست معاشی تعلق اس منصوبے کا بنیادی عنصر نہیں ہوگا، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب، ایران، امریکہ اور چین کے بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں افغانستان کی بڑھتی ہوئی جیو اکنامک اہمیت کو اسرائیل بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اگر سعودی سرمایہ کاری افغانستان میں ایک بڑے توانائی اور انفراسٹرکچر نیٹ ورک کی بنیاد بنتی ہے تو اس کے اثرات سعودی عرب کے علاقائی کردار اور ایران کے مقابلے میں خلیجی طاقتوں کی پوزیشن سے بھی جڑ سکتے ہیں۔ تاہم اسے افغانستان میں کسی براہِ راست اسرائیلی مداخلت یا مخالفت کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ افغانستان کا معاشی وزن بڑھنے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقتیں بھی اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے سرے سے دیکھیں گی۔
اب سب سے بڑا سوال امریکہ کا ہے۔ کیا امریکہ، روس اور چین کی مرضی کے بغیر افغانستان میں پچاس ارب ڈالر کا معاشی نظام بن سکتا ہے؟ تکنیکی طور پر کچھ سرمایہ کاری ممکن ہے، لیکن اتنے بڑے منصوبے کے لیے عالمی مالیاتی نظام، بینکاری، بیمہ، ٹیکنالوجی، شپنگ اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شرکت ضروری ہوگی۔ اس لیے کسی نہ کسی مرحلے پر واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو کے مفادات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔
امریکہ اگر افغانستان کے خلاف سخت مالیاتی یا ثانوی پابندیاں استعمال کرتا ہے تو بین الاقوامی بینک اور بڑی کمپنیاں افغانستان میں سرمایہ کاری سے گریز کرسکتی ہیں، چاہے منصوبہ زمینی اعتبار سے کتنا ہی منافع بخش کیوں نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی مثال افغانستان کے لیے ایک سنجیدہ سبق بن جاتی ہے۔ ایران کے پاس تیل، گیس، صنعتی بنیاد اور عالمی تجارت کا وسیع تجربہ موجود ہے، اس کے باوجود امریکی پابندیوں نے اس کی بینکاری، تیل کی فروخت، شپنگ اور بین الاقوامی مالیاتی روابط کو شدید پیچیدہ بنایا ہے۔
لہٰذا افغانستان کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ گیس کس قیمت پر نکلے گی؛ سوال یہ بھی ہے کہ اسے کون خریدے گا، کس کرنسی میں ادائیگی ہوگی، کون بینکنگ کرے گا، کون بیمہ فراہم کرے گا، کون جہاز بھیجے گا اور کون اس منصوبے کو امریکی یا دوسرے بین الاقوامی دباؤ سے محفوظ رکھے گا۔ اگر افغانستان کو عالمی مالیاتی نظام سے بڑے پیمانے پر کاٹ دیا جاتا ہے تو روس، چین، ایران یا چند علاقائی ممالک کے ذریعے تجارت ممکن تو ہوسکتی ہے، لیکن پچاس ارب ڈالر کے منصوبے کو اس طرح چلانا بہت مشکل ہوگا۔
یہاں یورپ اور دیگر بااثر ممالک کا سوال بھی اہم ہے۔ کیا وہ اس منصوبے کی قبولیت کو صرف معاشی مفاد تک محدود رکھیں گے؟ غالباً نہیں۔ یورپی ممالک اور مغربی مالیاتی ادارے افغانستان میں قانون کی حکمرانی، خواتین کی تعلیم، خواتین کی معاشی شرکت، انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق، سیاسی شمولیت اور انتخابات جیسے سوالات کو بھی دیکھیں گے۔ طالبان حکومت کے ساتھ بڑے معاشی تعلقات قائم کرنے میں یہ معاملات ایک نہ ایک مرحلے پر ضرور سامنے آئیں گے۔
یہاں طالبان حکومت کے سامنے شاید سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ کیا وہ نظریاتی جمود کے ساتھ معاشی تبدیلی لا سکتی ہے؟ میرے خیال میں محدود سطح پر ممکن ہے، لیکن پائیدار اور عالمی سطح کی معاشی تبدیلی کے لیے صرف قدرتی وسائل کافی نہیں ہوں گے۔ اگر طالبان ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور دوسری طرف دنیا کے بڑے حصے کے لیے قابلِ قبول قانونی، تعلیمی، مالیاتی اور انسانی حقوق کا ماحول پیدا نہیں کرتے تو سرمایہ کاری کی ایک حد ضرور قائم رہے گی۔
چین، روس، ایران اور بعض علاقائی ممالک مختلف شرائط کے ساتھ طالبان کے ساتھ کام کرسکتے ہیں، لیکن دسیوں ارب ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کے لیے صرف علاقائی قبولیت کافی نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طالبان کو لازماً مغربی سیاسی نظام اختیار کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ اس سے زیادہ عملی ہے۔ انہیں ایسا معاشی اور قانونی ماحول بنانا ہوگا جس میں ایک غیر ملکی سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے، معاہدہ نافذ ہوگا، عدالت یا ثالثی کا راستہ موجود ہوگا، بینکنگ ممکن ہوگی، خواتین سمیت تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہوگی اور حکومت اچانک اپنے قوانین تبدیل کرکے سرمایہ کاری کو خطرے میں نہیں ڈالے گی۔
معاشی جدیدیت کے لیے کسی مخصوص مغربی نظریے کی نقل ضروری نہیں، لیکن ادارہ جاتی قابلِ اعتماد ہونا ضروری ہے۔
اس کے باوجود میں اس منصوبے کو افغانستان کے لیے ایک حقیقی موقع سمجھتا ہوں۔ طالبان حکومت کو اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ اسی صورت میں ہوگا جب وہ اسے محض بیرونی سرمایہ کاری کے طور پر نہیں بلکہ افغانستان کی معاشی خود کفالت کے منصوبے کے طور پر چلائے۔ مقامی صنعت کو گیس ملے، ہرات میں بجلی اور صنعتی پیداوار بڑھے، افغان شہریوں کو روزگار ملے، ریاست کو شفاف آمدنی حاصل ہو، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہوں اور پھر بچنے والی گیس علاقائی منڈیوں تک پہنچے تو اس منصوبے کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے۔
میرے نزدیک اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ افغانستان کے پاس پہلی مرتبہ اپنے جغرافیے کو دوسروں کے خلاف جنگ کے میدان کے بجائے معاشی راستے میں تبدیل کرنے کا موقع موجود ہے۔
پچاس ارب ڈالر ابھی افغانستان کے خزانے میں نہیں آئے۔ پچاس ارب ڈالر کی ضمانت بھی موجود نہیں۔ آج کی یقینی حقیقت بیس کروڑ ڈالر کا ابتدائی معاہدہ ہے۔ باقی سب تلاش، ذخائر، فنی کامیابی، مالی انتظام، علاقائی سیاست اور تجارتی امکانات سے مشروط ہے۔
لیکن اگر کشک اور ترپل کے زیرِ زمین ذخائر توقع کے مطابق نکل آئے، طالبان حکومت نے سرمایہ کاری کو محفوظ رکھا، پاکستان نے اپنی بندرگاہوں اور زمینی راستوں کو مؤثر بنایا، گوادر اور چابہار دونوں نے مسابقتی راستے فراہم کیے، اور علاقائی طاقتوں نے اس منصوبے کو اپنے مفادات کے اندر جگہ دے دی تو افغانستان محض ایک جنگ زدہ ملک نہیں رہے گا۔ وہ ایک ایسی توانائی کی گزرگاہ بن سکتا ہے جس کے راستے سے سعودی سرمایہ، افغان وسائل، پاکستانی بندرگاہ، ایرانی متبادل راستہ اور علاقائی توانائی کی منڈی ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔
لیکن اس منظرنامے میں پاکستان کا کردار محض ایک راستہ فراہم کرنے والے ملک کا نہیں ہوگا۔ پاکستان افغانستان کے لیے سمندر تک رسائی، جنوبی ایشیا کی بڑی منڈی، تعمیراتی اور صنعتی سامان کی فراہمی، ممکنہ توانائی کی خرید، ٹرانزٹ انفراسٹرکچر اور خلیج تک رسائی کا سب سے اہم جغرافیائی پل بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان سکیورٹی کے مسئلے کو حل کرلیتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد محض سرحد، تجارت یا سیاسی رابطے پر نہیں بلکہ ایک مشترکہ جیو اکنامک مفاد پر قائم ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اصل موقع یہ ہوگا کہ وہ افغانستان کو صرف ایک سکیورٹی چیلنج سمجھنے کے بجائے اسے اپنی معاشی توسیع کے ایک ممکنہ دروازے کے طور پر دیکھے۔ افغانستان کی توانائی، معدنیات اور صنعتی پیداوار اگر پاکستان کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے تو پاکستان کو ٹرانزٹ، توانائی، بندرگاہ، تعمیرات، بینکاری، انشورنس، لاجسٹکس اور برآمدات کے متعدد شعبوں میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ فائدہ اسی وقت پائیدار ہوگا جب پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی سلامتی اور معاشی مفاد کو باہم مربوط سمجھیں۔
یعنی افغانستان کی معاشی ترقی پاکستان کی سلامتی کی قیمت پر نہیں، بلکہ پاکستان کی سلامتی کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اگر طالبان یہ ضمانت دے سکیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ تجارت، ٹرانزٹ اور توانائی کے راستوں کو مستقل اور قابلِ اعتماد بنائے تو دونوں ممالک ایک ایسے تعلق کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس میں سکیورٹی اور معیشت ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضمانت بن جائیں۔
تب تاجکستان کو افغانستان میں خطرہ کم اور وسطی ایشیا تک راستہ زیادہ نظر آئے گا، چین کو سکیورٹی خطرے کے بجائے معاشی رابطہ دکھائی دے گا، ایران کو چابہار کے ذریعے اپنا کردار برقرار رکھنے کا موقع ملے گا، بھارت کو ایک متبادل علاقائی راستہ مل سکتا ہے، روس کو وسطی ایشیا کے استحکام میں اپنا مفاد نظر آئے گا اور سعودی عرب کو اپنی سرمایہ کاری کے لیے ایک وسیع تر علاقائی مارکیٹ مل سکتی ہے۔
لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب افغانستان اپنی سرزمین کو جنگ اور مسابقت کا میدان بنانے کے بجائے تعاون کا میدان بنائے۔ طالبان کے سامنے اس لیے اصل امتحان پچاس ارب ڈالر حاصل کرنا نہیں بلکہ پچاس ارب ڈالر کے لیے قابلِ قبول افغانستان بنانا ہے۔
اور شاید یہی اس پورے منصوبے کا سب سے بڑا سوال ہے۔ کیا طالبان افغانستان کو صرف اپنی نظریاتی حکومت کے تحت چلنے والی ریاست رکھیں گے، یا اسے ایسی معاشی ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے طرزِ حکمرانی میں وہ عملی تبدیلیاں لائیں گے جن کے بغیر عالمی سرمایہ کاری، علاقائی اعتماد اور طویل المدتی معاشی انضمام ممکن نہیں؟
اگر وہ یہ تبدیلی لے آئے تو پاکستان اس تبدیلی کا سب سے اہم پڑوسی اور ممکنہ سب سے بڑا جغرافیائی فائدہ اٹھانے والا ملک ہوسکتا ہے۔ اگر وہ یہ تبدیلی نہ لاسکے تو پچاس ارب ڈالر کی کہانی شاید تیل اور گیس کے ذخائر سے زیادہ سیاسی دعووں، محدود علاقائی تجارت اور متبادل مالیاتی نظاموں تک محدود رہ جائے۔
تب اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ افغانستان پچاس ارب ڈالر سنبھال سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا پاکستان، ایران، سعودی عرب، وسطی ایشیا، چین، روس اور افغانستان ایک ایسے معاشی نقشے پر اتفاق کر سکتے ہیں جس میں کسی ایک ملک کی بالادستی کے بجائے سب کا مفاد وابستہ ہو؟ اور یہی وہ سوال ہے جس پر اس منصوبے کا مستقبل ٹکا ہوا ہے۔
واپس کریں