دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا حکومت یا بنانا ریپبلک؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
بنوں سے سامنے آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ خیبر پختونخوا میں پولیس کمانڈ، انتظامی اختیار اور حکمرانی کے پورے نظام پر ایک ایسا سوال کھڑا کرتا ہے جسے محض محکمانہ معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر بنوں رحمت اللہ خان کو مبینہ طور پر پانچ روز تک ایک سیل میں رکھا گیا، جس کے بعد حاجی شعیب ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالتی مداخلت ہوئی اور عدالتی بیلف نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کو وہاں سے بازیاب کر کے اپنی تحویل میں لے لیا۔
یہاں سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ رحمت اللہ خان کوئی ایسا پولیس افسر نہیں جن کے بارے میں عمومی طور پر بدعنوانی، بدکرداری یا غیر پیشہ ورانہ رویے کی شہرت پائی جاتی ہو۔ پولیس حلقوں میں انہیں ایک فرض شناس، شریف اور نیک نام افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے خلاف اگر کوئی الزامات ہیں تو ان کی قانونی حیثیت اور سچائی کا فیصلہ متعلقہ قانونی و محکمانہ فورم ہی کر سکتے ہیں، لیکن کسی افسر کے خلاف الزام عائد ہو جانا اسے قانون سے باہر حراست میں رکھنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
اصل سوال یہی ہے کہ ایک حاضر سروس اور نیک شہرت پولیس افسر کو پانچ روز تک سیل میں رکھنے کی نوبت کیوں آئی اور کس قانونی اختیار کے تحت آئی؟
اگر کسی پولیس افسر کے خلاف کوئی شکایت یا الزام موجود ہو تو قانون نے اس کے لیے واضح راستہ متعین کر رکھا ہے۔ محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے، تفتیش ہو سکتی ہے، مقدمہ درج ہو سکتا ہے اور عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ایک پولیس افسر کو مبینہ طور پر پانچ روز تک سیل میں رکھا جائے اور بالآخر عدالتی بیلف کو مداخلت کرکے اسے وہاں سے بازیاب کرانا پڑے تو معاملہ صرف ایک افسر کا نہیں رہتا بلکہ پورے پولیس کمانڈ اور انتظامی نظام کی قانونی حیثیت سوال بن جاتی ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ بنوں کوئی عام ضلع نہیں۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اس وقت دہشت گردی کے شدید دباؤ میں ہیں۔ بنوں، لکی مروت اور گرد و نواح کے علاقوں میں پولیس کو ہر وقت دہشت گردی کے ممکنہ حملوں، حساس تنصیبات کی حفاظت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے چوکس رہنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں پولیس کمانڈ کا ایک اہم افسر پانچ روز تک سیل میں رہے اور اس معاملے کو عدالتی مداخلت تک پہنچنا پڑے تو یہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
پولیس کے اندر پہلے ہی بے چینی کی کیفیت موجود ہے۔ سابقہ قبائلی اضلاع کی پولیس کے احتجاج اور کئی روز سے روزنامچہ بند ہونے کی اطلاعات نے پولیس کے بنیادی انتظامی نظام کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ لیکن یہ اس پوری کہانی کا مرکزی موضوع نہیں؛ اصل سوال بنوں کے ڈی ایس پی کا واقعہ ہے، جبکہ پولیس کا احتجاج اور روزنامچہ بندش اس پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ اس وقت صوبے کے پولیس نظام پر کس قدر دباؤ ہے۔
ایک طرف دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پولیس کو مضبوط کمانڈ اور واضح انتظامی قیادت درکار ہے، دوسری طرف اگر پولیس کے اندر ہی افسران کی حراست، کمانڈ کے اختلافات اور احتجاج جیسے معاملات جنم لینے لگیں تو پھر پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مورال دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
یہاں سوال صوبائی حکومت سے بھی بنتا ہے۔
پولیس صوبائی حکومت کے انتظامی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہے۔ اس کی کمانڈ، نظم و ضبط اور کارکردگی بالآخر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر بنوں جیسے حساس ضلع میں ایک ڈی ایس پی کو پانچ روز تک سیل میں رکھا جاتا ہے اور معاملہ عدالتی بیلف تک پہنچ جاتا ہے تو صوبائی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے اپنے انتظامی ڈھانچے میں کیا ہو رہا ہے، کس اختیار کے تحت ہو رہا ہے اور اس کی نگرانی کون کر رہا ہے۔
مزید اہم سوال یہ ہے کہ اس وقت صوبے کا سیاسی اور انتظامی سربراہ کہاں ہے؟
صوبے میں سکیورٹی کے مسائل موجود ہیں، جنوبی اضلاع مسلسل دباؤ میں ہیں، پولیس کے اندر احتجاج اور انتظامی بے چینی ہے، اور ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کی حراست کا معاملہ عدالتی مداخلت تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں صوبائی چیف ایگزیکٹو کی بنیادی ترجیح صوبے کے اندر انتظامی نظم، پولیس کمانڈ اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔
لیکن اگر صوبائی قیادت اپنی توجہ صوبے کے انتظامی بحرانوں سے زیادہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور سیاسی طاقت کے مظاہرے کی منصوبہ بندی پر مرکوز رکھے تو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ صوبہ آخر کس کے انتظام میں چل رہا ہے؟
سیاسی احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے۔ اسلام آباد جانا بھی سیاسی حق ہو سکتا ہے۔ لیکن صوبائی حکومت کا منصب سیاسی جماعت کے لانگ مارچ کی تیاری کرنا نہیں، پورے صوبے کی حکومت چلانا ہے۔ وزیراعلیٰ کا منصب سیاسی جماعت کے کارکن کا منصب نہیں بلکہ آئینی چیف ایگزیکٹو کا منصب ہے۔
جب چیف ایگزیکٹو صوبے کے اندر موجود انتظامی بحرانوں کو نظرانداز کرکے سیاسی محاذ آرائی میں زیادہ مصروف دکھائی دے تو بیوروکریسی کے اندر جواب دہی کا احساس کمزور پڑ سکتا ہے۔ پولیس کمانڈ میں بھی اختیارات کے استعمال کے سوال پیدا ہو سکتے ہیں اور مختلف ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کو اپنی مرضی سے سمجھنے لگتے ہیں۔
جب اوپر سے نگرانی کمزور ہو جائے تو نیچے اختیار بے لگام ہونے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بنوں کا واقعہ ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاستی نظم کا مسئلہ ہے۔
اگر رحمت اللہ خان کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق ثابت کیا جائے۔ اگر محکمانہ خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر جرم ہوا ہے تو مقدمہ درج کیا جائے۔ لیکن ایک نیک شہرت رکھنے والے حاضر سروس پولیس افسر کو مبینہ طور پر پانچ روز تک سیل میں رکھنے اور پھر عدالتی بیلف کے ذریعے بازیاب کرانے کی نوبت کیوں آئی، اس کا جواب ضرور ملنا چاہیے۔
حاجی شعیب ایڈووکیٹ کی عدالتی مداخلت نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ کیونکہ جب کسی پولیس افسر کے معاملے میں عدالت کو مداخلت کرنا پڑے تو یہ صرف ایک شخص کی آزادی کا سوال نہیں رہتا، یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اپنے قانونی طریقۂ کار کا سوال بن جاتا ہے۔
ریاستی ادارے شخصی اختیار سے نہیں، قانون سے چلتے ہیں۔
بنوں اور لکی مروت جیسے اضلاع کو اس وقت مضبوط پولیس کمانڈ چاہیے۔ جنوبی اضلاع کو مستحکم انتظامیہ چاہیے۔ پولیس اہلکاروں کو واضح قیادت چاہیے۔ شہریوں کو تحفظ چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین چاہیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، خواہ وہ عام شہری ہو یا پولیس کا افسر۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت سیاسی مہم جوئی سے زیادہ حکمرانی کی ضرورت ہے؛ لانگ مارچ سے زیادہ قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے؛ سیاسی نعروں سے زیادہ پولیس کے مورال اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
گھر کا سربراہ گھر میں موجود ہو تو گھر کا نظام چلتا رہتا ہے۔ لیکن جب گھر کا سربراہ گھر کے مسائل حل کرنے کے بجائے باہر کی لڑائی میں مصروف ہو جائے تو پھر گھر کے اندر ہر شخص اپنی اپنی مرضی کرنے لگتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں آج سوال یہی ہے کہ جب صوبہ دہشت گردی، پولیس کے اندرونی بحران اور انتظامی بے چینی سے گزر رہا ہو تو اس گھر کا سربراہ کہاں ہے؟
اور اگر ایک نیک شہرت رکھنے والے پولیس افسر کو اپنے ہی ادارے کے سیل سے عدالتی بیلف بازیاب کرائے تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ وہاں کیا ہوا۔
اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ہے یا بنانا ریپبلک؟
واپس کریں