سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے تو مارچ کا خرچہ کون اٹھائے گا؟
خالد خان۔ کالم نگار
پشاور ہائی کورٹ میں آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے اعلان کیا کہ یہ پرامن مارچ ہوگا، انتشار نہیں ہوگا، اسے شوقیہ مارچ نہ سمجھا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند یقین دہانی ہے، کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا احتجاج اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک وہ قانون کے دائرے میں رہے اور عوامی خزانے، سرکاری مشینری اور ریاستی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔
مگر بیرسٹر گوہر کے اس اعلان کے ساتھ ہی ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر واقعی سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے تو پھر 27 ستمبر کے اس بڑے مارچ کا خرچہ کون اٹھائے گا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پی ٹی آئی خود کو عام عوام کی جماعت قرار دیتی ہے۔ اس کے رہنما بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صوبے میں بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور حکومت عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو پھر 27 ستمبر کے مارچ کے مالی معاملات کو بھی اسی شفافیت کے اصول کے تحت عوام کے سامنے رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
مارچ ایک دن کی سرگرمی ہو یا لانگ مارچ کی شکل اختیار کرے، اس کے لیے ٹرانسپورٹ درکار ہوگی، کارکنوں کی آمد و رفت ہوگی، کھانے پینے کا انتظام ہوگا، تشہیری مواد ہوگا، سٹیج اور ساونڈ کا انتظام ہوگا اور دیگر بے شمار اخراجات ہوں گے۔ اگر مارچ واقعی ملک گیر سیاسی سرگرمی بننا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتوں سے بھی شرکت کی توقع کی جا رہی ہے تو اخراجات کی نوعیت مزید بڑھ جائے گی۔
تو سوال سادہ ہے: یہ سب کچھ کون فراہم کرے گا؟
اگر جواب یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی جماعتی سطح پر تمام اخراجات برداشت کرے گی تو پھر جماعت کو اپنے مالی ذرائع اور مارچ کے متوقع اخراجات کی تفصیل عوام کے سامنے رکھنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اگر کارکن اپنے خرچ پر آئیں گے تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ اگر مخیر حضرات یا جماعت کے حامی اخراجات برداشت کریں گے تو ان کا حساب بھی سامنے آنا چاہیے۔ اور اگر سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے تو صوبائی حکومت کو بھی واضح طور پر یہ بتانا چاہیے کہ سرکاری خزانے، سرکاری گاڑیوں، سرکاری ملازمین اور سرکاری انتظامی مشینری کو اس سیاسی سرگرمی سے مکمل طور پر الگ رکھنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ سوال اس لیے بھی اٹھتا ہے کہ آج پشاور ہائی کورٹ میں موجود رہتے ہوئے میں نے خود وہ ماحول دیکھا جس میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے مرکزی رہنما کے گرد سرکاری انتظامی اور حفاظتی مشینری موجود تھی۔ یہ ریاستی اور سرکاری انتظامات اپنی جگہ قانونی یا انتظامی ضرورت بھی ہوسکتے ہیں، لیکن جب یہی سیاسی جماعت بڑے پیمانے پر ایک سیاسی مارچ کا اعلان کرے اور ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائے کہ سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس وعدے کو عملی طور پر کیسے یقینی بنایا جائے گا۔
بات صرف 27 ستمبر کی نہیں۔ اصل مسئلہ اصول کا ہے۔
اگر کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو تو اسے اپنے سیاسی اجتماعات اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ہوگی۔ حکومت عوام کے ٹیکس سے چلتی ہے، کسی سیاسی جماعت کے چندے سے نہیں۔ سرکاری گاڑی، سرکاری اہلکار، سرکاری دفتر، سرکاری مشینری اور سرکاری خزانہ کسی جماعت کی سیاسی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ عوام کی امانت ہوتے ہیں۔
اسی لیے بیرسٹر گوہر کا یہ اعلان کہ ’’سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے‘‘ خوش آئند ضرور ہے، لیکن اب اسے ایک سیاسی نعرے کے بجائے ایک عملی وعدہ بنانا ہوگا۔
اور اس وعدے کا سب سے آسان امتحان شفافیت ہے۔
پی ٹی آئی اگر واقعی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ سرکاری وسائل کے بغیر ہوگا تو اسے پہلے ہی بتا دینا چاہیے کہ مارچ کے اخراجات کون اٹھائے گا، فنڈنگ کہاں سے آئے گی اور صوبائی حکومت کے وسائل کو اس سرگرمی سے الگ رکھنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
کیونکہ عوام سے یہ کہنا کہ ’’سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے‘‘ آسان ہے؛ عوام کو یہ بتانا مشکل ہے کہ پھر وسائل آئیں گے کہاں سے؟
اور اگر پی ٹی آئی واقعی خود کو عام عوام کی جماعت سمجھتی ہے تو پھر اس سوال کا جواب بھی عام عوام کو ضرور ملنا چاہیے۔
شفافیت کا دعویٰ صرف مخالفین کے احتساب سے ثابت نہیں ہوتا؛ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے حساب سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
واپس کریں