دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ضم شدہ اضلاع میں پولیس کا روزنامچہ کیوں بند ہے؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا حکومت اسلام آباد کو سیاسی طاقت سے فتح کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، مگر اس وقت صوبے کے ان علاقوں میں جہاں ریاست کو سب سے زیادہ مضبوط، منظم اور چوکس پولیس درکار ہے، پولیس کا بنیادی انتظامی نظام متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے مختلف تھانوں میں گزشتہ تقریباً چار روز سے روزنامچہ بند ہونے کی خبر اگر درست ہے تو یہ محض پولیس اہلکاروں کے سروس سٹرکچر کا تنازع نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ایک سنگین انتظامی ناکامی اور سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔
روزنامچہ کسی تھانے کی معمولی رجسٹر بک نہیں۔ یہ پولیس سٹیشن کا بنیادی قانونی اور انتظامی ریکارڈ ہوتا ہے جس میں پولیس کی روزمرہ کارروائیوں، واقعات، شکایات، گرفتاریوں، حوالات، پولیس اہلکاروں کی آمدورفت اور دیگر اہم امور کا اندراج ہوتا ہے۔ ایسے علاقے جہاں دہشت گردی کا خطرہ معمول کے اضلاع سے کہیں زیادہ ہو، وہاں اگر تھانے کا روزمرہ ریکارڈنگ نظام بھی احتجاج کے باعث متاثر ہونے لگے تو معاملہ صرف دفتری بے نظمی نہیں رہتا، یہ ریاستی پولیسنگ اور عوامی تحفظ کا سوال بن جاتا ہے۔
اس معاملے کا ایک بنیادی پس منظر بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سابقہ قبائلی علاقوں کے خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کیا جا چکا ہے۔ انہیں اب الگ خاصہ دار یا لیویز فورس قرار دینا موجودہ انتظامی حیثیت کی درست ترجمانی نہیں۔ ریاست نے ان اہلکاروں کو پولیس کا حصہ بنایا، انہیں تربیت دی، پولیس کے قواعد و ضوابط کے تحت لایا اور ان سے وہی ذمہ داریاں لینے کا فیصلہ کیا جو ایک باقاعدہ پولیس فورس سے لی جاتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انضمام کے عمل کے ساتھ ان کے سروس معاملات مکمل طور پر حل نہیں کیے گئے۔
سینارٹی، رینک، ترقی، کیریئر پروگریشن اور سروس سٹرکچر جیسے بنیادی معاملات برسوں سے زیر بحث رہے ہیں۔ خود سرکاری فورمز پر سابقہ خاصہ دار و لیویز اہلکاروں کے تصدیقی عمل، ترقی اور کیریئر پروگریشن کے مسائل کا اعتراف ہو چکا ہے۔ اگر ہزاروں اہلکاروں کو ایک فورس سے دوسری فورس میں منتقل کر دیا جائے لیکن ان کے مستقبل کا واضح سروس سٹرکچر نہ بنایا جائے تو اس انضمام کو انتظامی طور پر مکمل کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
یہاں اصل سوال احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں سے پہلے صوبائی حکومت اور پولیس کمانڈ سے پوچھا جانا چاہیے۔ اگر مسئلہ اتنا پرانا تھا تو اسے حل کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر حکومت کے پاس سروس سٹرکچر بنانے کا اختیار اور ذمہ داری تھی تو برسوں تک معاملہ کیوں لٹکا رہا؟ اور اگر اہلکاروں کے مطالبات جائز نہیں تھے تو انہیں بروقت قانونی اور انتظامی طریقے سے حل کرنے کے بجائے معاملہ اس مقام تک کیسے پہنچا کہ تھانوں کے روزنامچے بند ہونے کی اطلاعات سامنے آنے لگیں؟
پولیس کسی عام سرکاری محکمے کی طرح نہیں ہوتی۔ ایک استاد، کلرک یا کسی دوسرے سرکاری ملازم کے احتجاج اور پولیس اہلکار کے احتجاج کے انتظامی اثرات ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ پولیس کی غیر حاضری یا کام میں رکاوٹ براہ راست شہری کی جان و مال، جرم کی روک تھام، شکایت کے اندراج، گرفتاری، تفتیش اور امن و امان سے جڑی ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی منظم ریاستی نظام میں پولیس کو اپنے سروس مطالبات کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے یہ سوال ضرور دیکھنا پڑتا ہے کہ اس احتجاج کا نقصان کس کو ہوگا۔ اگر اس کا نتیجہ تھانے کے بنیادی ریکارڈ اور عوامی شکایات کے نظام کے متاثر ہونے کی صورت میں نکل رہا ہے تو یہ پولیس نظم و ضبط اور کمانڈ کا بھی امتحان ہے۔
ضم شدہ اضلاع میں اس معاملے کی حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ریاست ابھی تک دہشت گردی کے خلاف ایک مسلسل اور مشکل جنگ لڑ رہی ہے۔ پولیس اہلکار خود دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے ہیں، پولیس سٹیشن اور چیک پوسٹیں خطرے میں رہتی ہیں اور معمول کے امن و امان کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر پولیس کے اندر انتظامی بے چینی اس حد تک پہنچ جائے کہ تھانوں کا روزنامچہ بند ہونے لگے تو اسے کسی بھی صورت معمول کی ملازمتی شکایت سمجھنا خطرناک سادگی ہوگی۔
اس خبر میں ایک اور دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر کسی تھانے کے ایس ایچ او کی جانب سے ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس دعوے کی سرکاری دستاویز سامنے آنا ضروری ہے۔ اگر واقعی ایسا کوئی تحریری حکم موجود ہے تو اس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پھر سوال یہ ہوگا کہ کس اتھارٹی نے ایسا حکم جاری کیا، کس قانونی اختیار کے تحت جاری کیا اور پولیس سٹیشن کے سربراہ کو اس نوعیت کی سزا دینے کا طریقہ کار کیا ہے۔ محض ذرائع کے حوالے سے اس دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت اس وقت اپنی سیاسی توجہ اسلام آباد کی طرف مرکوز کیے ہوئے ہے۔ صوبے کے وسائل، سیاسی توانائی اور حکومتی مشینری کا بڑا حصہ وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی اور اسلام آباد میں احتجاج کے لیے استعمال کرنے کی تیاریوں میں دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف اپنے ہی صوبے کے حساس ترین علاقوں میں پولیس کے بنیادی انتظامی مسائل حل نہیں ہو رہے۔
یہ ترجیحات کا سوال ہے۔ اسلام آباد کی سیاست چند دن یا چند ہفتوں کا سیاسی معرکہ ہو سکتی ہے، لیکن ضم شدہ اضلاع میں پولیس کی کمزوری کا اثر ہر روز عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ شاید حکومت کے لیے سیاسی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر وزیرستان، خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند اور دیگر ضم شدہ اضلاع میں ایک مضبوط اور مطمئن پولیس فورس ریاست کی روزمرہ موجودگی کی علامت ہے۔ وہاں پولیس کمزور ہوگی تو ریاست کمزور دکھائی دے گی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس اہلکاروں کے جائز سروس حقوق دینا حکومت کا احسان نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر انضمام کے وقت وعدے کیے گئے تھے تو انہیں پورا کرنا چاہیے۔ اگر رینک اور سینارٹی کے مسائل ہیں تو انہیں قواعد کے مطابق حل کیا جائے۔ اگر ترقی کا راستہ واضح نہیں تو سروس سٹرکچر دیا جائے۔ اگر مالی یا قانونی رکاوٹ ہے تو اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ پولیس فورس کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تھانے کا روزنامچہ بند کرنا، اگر واقعی ایسا کیا جا رہا ہے، اپنے ہی ادارے کے بنیادی قانونی نظام کو متاثر کرنے کے مترادف ہے اور اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو پہنچتا ہے۔
اس معاملے میں فوری طور پر خیبر پختونخوا حکومت، محکمہ داخلہ اور پولیس کمانڈ کو واضح اور غیر مبہم موقف دینا چاہیے۔ کتنے تھانے متاثر ہیں؟ روزنامچہ کب سے بند ہے؟ کیا ایف آئی آر کا اندراج متاثر ہوا ہے؟ پولیس اہلکاروں کے اصل مطالبات کیا ہیں؟ سروس سٹرکچر کے لیے اب تک کتنے اجلاس اور فیصلے ہوئے؟ کون سا معاملہ حل ہوا اور کون سا باقی ہے؟ اور اگر پانچ لاکھ روپے جرمانے کا حکم واقعی موجود ہے تو اس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی ضروری ہیں کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ایک ایسی ریاست درکار ہے جو ہر وقت موجود ہو، نہ کہ ایسی حکومت جو ایک طرف اسلام آباد فتح کرنے کے لیے سیاسی لشکر تیار کر رہی ہو اور دوسری طرف اپنے حساس ترین علاقوں میں پولیس کے بنیادی انتظامی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے۔
ریاست کی اصل طاقت دارالحکومت کی سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں، دور افتادہ تھانے میں موجود اس پولیس اہلکار سے ظاہر ہوتی ہے جو خطرے کے باوجود اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے، شہری کی شکایت سنتا ہے، جرم کا مقدمہ درج کرتا ہے، روزنامچہ لکھتا ہے اور ریاست کی قانونی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔ اگر وہی نظام احتجاج، انتظامی غفلت یا سیاسی ترجیحات کی نذر ہو جائے تو اسلام آباد پر قبضے کی کوئی بھی سیاسی کامیابی اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ اپنے صوبے کو کون سنبھال رہا ہے؟
واپس کریں